مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · مصر و شام

سلطنتِ مملوکیہ

دولة المماليك

1251ء (649ھ) – 1517ء (923ھ)266 برس

آغاز1251ء (649ھ)
اختتام1517ء (923ھ)
مدت266 برس
خطہمصر و شام
بانیعز الدین ایبک
دارالحکومتقاہرہ

مصر و شام میں غلام سپاہیوں (مملوکوں) کی قائم کردہ سلطنت، جس نے 1260ء میں عین جالوت کی جنگ میں منگولوں کو پہلی بار شکست دی اور خلافتِ عباسیہ کا نمائشی تسلسل قاہرہ میں برقرار رکھا۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  3. بنو امیہ 662ء–750ء
  4. بنو عباس 748ء–1258ء
  5. دولتِ اغالبہ 800ء–909ء
  6. خلافتِ فاطمیہ 910ء–1171ء
  7. سلطنتِ ایوبیہ 1172ء–1307ء
  8. سلطنتِ مملوکیہ
  9. سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء

عروج کے اسباب

مصر میں ایوبی سلطان کی ترک و قفقازی غلام (مملوک) فوج نے 1250ء میں اقتدار سنبھالا اور 1260ء میں عین جالوت کی جنگ میں منگولوں کو شکست دے کر خود کو اسلامی دنیا کے محافظ کے طور پر منوایا۔

زوال کے اسباب

اندرونی امرا کی رسّہ کشی اور فوجی طاقت پر انحصار نے سلطنت کو کمزور کیا؛ 1517ء میں سلطان سلیم اول کی قیادت میں عثمانی افواج نے مصر فتح کر لیا۔

حکمران (54)

  1. عز الدین ایبک

    1250ء – 1257ء

    شجرِ درّ سے شادی کر کے سلطنتِ مملوکیہ کی بنیاد رکھی۔

  2. المنصور علی

    1257ء – 1259ء

    نابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے، حقیقی اقتدار امرا کے ہاتھ میں رہا۔

  3. سیف الدین قطز

    1259ء – 1260ء

    عین جالوت کی جنگ میں منگولوں کو پہلی فیصلہ کن شکست دی۔

  4. الظاہر بیبرس

    1260ء – 1277ء

    سلطنت کو مستحکم کیا اور صلیبی ریاستوں کے خلاف مہمات جاری رکھیں۔

  5. السعید برکہ خان

    1277ء – 1279ء

    والد بیبرس کی پالیسیوں کا تسلسل رکھنے کی کوشش کی۔

  6. العادل سلامش

    1279ء

    نابالغ عمر میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  7. صلیبی و منگول دونوں خطرات کا مقابلہ کیا اور سلطنت کو استحکام دیا۔

  8. الاشرف خلیل

    1290ء – 1293ء

    1291ء میں عکہ فتح کر کے شام میں صلیبی ریاستوں کا مکمل خاتمہ کیا۔

  9. نابالغ عمر میں پہلی بار تخت نشین ہوئے۔

  10. العادل کتبغا

    1294ء – 1296ء

    منگول نژاد امیر، بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے۔

  11. المنصور لاجین

    1296ء – 1299ء

    زرعی نظام میں اصلاحات کی کوشش کی، بعد میں قتل ہوئے۔

  12. امرا کے دباؤ میں دوبارہ تخت پر بیٹھے۔

  13. المظفر بیبرس جاشنکیر

    1309ء – 1310ء

    مختصر عرصے کے لیے اقتدار پر قابض رہے۔

  14. سب سے طویل اور مستحکم دور — سلطنت اپنے تعمیراتی و اقتصادی عروج پر پہنچی۔

  15. المنصور ابوبکر

    1341ء

    والد کی وفات کے بعد چند ماہ کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  16. الاشرف کجک

    1341ء – 1342ء

    نابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے۔

  17. الناصر احمد

    1342ء

    مختصر اور غیر مستحکم دور۔

  18. الصالح اسماعیل

    1342ء – 1345ء

    امرا کی سرپرستی میں تخت نشین رہے۔

  19. الکامل شعبان

    1345ء – 1346ء

    امرا کی رسّہ کشی کے دور میں مختصر عرصہ حکومت کی۔

  20. المظفر حاجی

    1346ء – 1347ء

    جانشینی کے تسلسل میں ایک اور مختصر دور۔

  21. الناصر حسن (پہلا دور)

    1347ء – 1351ء

    نوعمری میں تخت نشین ہوئے، بعد میں معزول کیے گئے۔

  22. الصالح صالح

    1351ء – 1354ء

    امرا کے دباؤ میں تخت نشین ہوئے۔

  23. الناصر حسن (دوسرا دور)

    1354ء – 1361ء

    دوبارہ تخت نشین ہوئے، مگر امرا کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

  24. المنصور محمد

    1361ء – 1363ء

    مختصر دور کے بعد معزول ہوئے۔

  25. الاشرف شعبان

    1363ء – 1377ء

    نسبتاً طویل اور مستحکم دور۔

  26. المنصور علی دوم

    1377ء – 1381ء

    نابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے۔

  27. الصالح حاجی (پہلا دور)

    1381ء – 1382ء

    بحری دور کے آخری سلطان — برقوق کے ہاتھوں معزول ہوئے۔

  28. برجی مملوک دور کی بنیاد رکھی۔

  29. الصالح حاجی (دوسرا دور)

    1389ء – 1390ء

    برقوق کی مختصر معزولی کے دوران دوبارہ تخت پر لائے گئے۔

  30. دوبارہ اقتدار سنبھالا اور تیمور کے خطرے کا مقابلہ کیا۔

  31. الناصر فرج (پہلا دور)

    1399ء – 1405ء

    نوعمری میں تخت نشین ہوئے، تیمور کے حملے کا سامنا کیا۔

  32. المنصور عبدالعزیز

    1405ء

    مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  33. الناصر فرج (دوسرا دور)

    1405ء – 1412ء

    دوبارہ تخت نشین ہوئے، بعد میں امرا کی بغاوت میں قتل ہوئے۔

  34. العادل المستعین (خلیفہ و سلطان)

    1412ء

    عباسی خلیفہ ہوتے ہوئے مختصر عرصے کے لیے سلطان بھی بنے۔

  35. المؤید شیخ

    1412ء – 1421ء

    قاہرہ میں مسجد المؤید تعمیر کروائی۔

  36. المظفر احمد

    1421ء

    نابالغ عمر میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  37. الظاہر ططر

    1421ء

    مختصر دور کے بعد وفات پا گئے۔

  38. الصالح محمد

    1421ء – 1422ء

    نوعمری میں تخت نشین ہوئے۔

  39. الاشرف برسباے

    1422ء – 1438ء

    قبرص پر مہم بھیجی اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے خزانہ مستحکم کیا۔

  40. العزیز یوسف

    1438ء

    نابالغ عمر میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  41. الظاہر جقمق

    1438ء – 1453ء

    رودس کے خلاف بحری مہمات بھیجیں۔

  42. المنصور عثمان

    1453ء

    مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  43. الاشرف اینال

    1453ء – 1461ء

    عثمانی سلطنت کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے۔

  44. المؤید احمد

    1461ء

    مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  45. الظاہر خشقدم

    1461ء – 1467ء

    عثمانیوں کے ساتھ قراقویونلو تعلقات سنبھالے۔

  46. الظاہر یلباے

    1467ء

    مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  47. الظاہر تمربغا

    1467ء – 1468ء

    مختصر دور کے بعد قایتباے کے ہاتھوں معزول ہوئے۔

  48. طویل و مستحکم دور، وسیع تعمیراتی منصوبے اور عثمانیوں کے ساتھ جنگیں۔

  49. الناصر محمد بن قایتباے

    1496ء – 1498ء

    نوعمری میں تخت نشین ہوئے۔

  50. الظاہر قانصوہ

    1498ء – 1500ء

    مختصر اور غیر مستحکم دور۔

  51. الاشرف جانبلاط

    1500ء – 1501ء

    امرا کی رسّہ کشی کے دور میں تخت نشین رہے۔

  52. العادل طومان باے (پہلا دور)

    1501ء

    مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  53. طویل دور میں تعمیرات کیں، مگر 1516ء میں مرج دابق کی جنگ میں عثمانیوں کے ہاتھوں شکست کھا کر مارے گئے۔

  54. سلطنتِ مملوکیہ کے آخری سلطان — 1517ء میں سلطان سلیم اول کے ہاتھوں مصر کی فتح پر گرفتار اور پھانسی دی گئی۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

1341ء–1382ء کے درمیان الناصر محمد کے متعدد کمزور جانشینوں کے ادوار نہایت مختصر تھے — یہاں ہر ایک کو انفرادی طور پر درج کیا گیا ہے تاکہ سلسلہ مکمل رہے، مگر تفصیلی کارناموں کی بجائے محض دورِ حکومت دیا گیا ہے۔