مصر و شام میں غلام سپاہیوں (مملوکوں) کی قائم کردہ سلطنت، جس نے 1260ء میں عین جالوت کی جنگ میں منگولوں کو پہلی بار شکست دی اور خلافتِ عباسیہ کا نمائشی تسلسل قاہرہ میں برقرار رکھا۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- دولتِ اغالبہ 800ء–909ء
- خلافتِ فاطمیہ 910ء–1171ء
- سلطنتِ ایوبیہ 1172ء–1307ء
- سلطنتِ مملوکیہ
- سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
مصر میں ایوبی سلطان کی ترک و قفقازی غلام (مملوک) فوج نے 1250ء میں اقتدار سنبھالا اور 1260ء میں عین جالوت کی جنگ میں منگولوں کو شکست دے کر خود کو اسلامی دنیا کے محافظ کے طور پر منوایا۔
زوال کے اسباب
اندرونی امرا کی رسّہ کشی اور فوجی طاقت پر انحصار نے سلطنت کو کمزور کیا؛ 1517ء میں سلطان سلیم اول کی قیادت میں عثمانی افواج نے مصر فتح کر لیا۔
حکمران (54)
عز الدین ایبک
1250ء – 1257ءشجرِ درّ سے شادی کر کے سلطنتِ مملوکیہ کی بنیاد رکھی۔
المنصور علی
1257ء – 1259ءنابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے، حقیقی اقتدار امرا کے ہاتھ میں رہا۔
سیف الدین قطز
1259ء – 1260ءعین جالوت کی جنگ میں منگولوں کو پہلی فیصلہ کن شکست دی۔
الظاہر بیبرس
1260ء – 1277ءسلطنت کو مستحکم کیا اور صلیبی ریاستوں کے خلاف مہمات جاری رکھیں۔
السعید برکہ خان
1277ء – 1279ءوالد بیبرس کی پالیسیوں کا تسلسل رکھنے کی کوشش کی۔
العادل سلامش
1279ءنابالغ عمر میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
المنصور قلاوون
1279ء – 1290ءصلیبی و منگول دونوں خطرات کا مقابلہ کیا اور سلطنت کو استحکام دیا۔
الاشرف خلیل
1290ء – 1293ء1291ء میں عکہ فتح کر کے شام میں صلیبی ریاستوں کا مکمل خاتمہ کیا۔
الناصر محمد (پہلا دور)
1293ء – 1294ءنابالغ عمر میں پہلی بار تخت نشین ہوئے۔
العادل کتبغا
1294ء – 1296ءمنگول نژاد امیر، بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے۔
المنصور لاجین
1296ء – 1299ءزرعی نظام میں اصلاحات کی کوشش کی، بعد میں قتل ہوئے۔
الناصر محمد (دوسرا دور)
1299ء – 1309ءامرا کے دباؤ میں دوبارہ تخت پر بیٹھے۔
المظفر بیبرس جاشنکیر
1309ء – 1310ءمختصر عرصے کے لیے اقتدار پر قابض رہے۔
الناصر محمد (تیسرا دور)
1310ء – 1341ءسب سے طویل اور مستحکم دور — سلطنت اپنے تعمیراتی و اقتصادی عروج پر پہنچی۔
المنصور ابوبکر
1341ءوالد کی وفات کے بعد چند ماہ کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الاشرف کجک
1341ء – 1342ءنابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے۔
الناصر احمد
1342ءمختصر اور غیر مستحکم دور۔
الصالح اسماعیل
1342ء – 1345ءامرا کی سرپرستی میں تخت نشین رہے۔
الکامل شعبان
1345ء – 1346ءامرا کی رسّہ کشی کے دور میں مختصر عرصہ حکومت کی۔
المظفر حاجی
1346ء – 1347ءجانشینی کے تسلسل میں ایک اور مختصر دور۔
الناصر حسن (پہلا دور)
1347ء – 1351ءنوعمری میں تخت نشین ہوئے، بعد میں معزول کیے گئے۔
الصالح صالح
1351ء – 1354ءامرا کے دباؤ میں تخت نشین ہوئے۔
الناصر حسن (دوسرا دور)
1354ء – 1361ءدوبارہ تخت نشین ہوئے، مگر امرا کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
المنصور محمد
1361ء – 1363ءمختصر دور کے بعد معزول ہوئے۔
الاشرف شعبان
1363ء – 1377ءنسبتاً طویل اور مستحکم دور۔
المنصور علی دوم
1377ء – 1381ءنابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے۔
الصالح حاجی (پہلا دور)
1381ء – 1382ءبحری دور کے آخری سلطان — برقوق کے ہاتھوں معزول ہوئے۔
الظاہر برقوق (پہلا دور)
1382ء – 1389ءبرجی مملوک دور کی بنیاد رکھی۔
الصالح حاجی (دوسرا دور)
1389ء – 1390ءبرقوق کی مختصر معزولی کے دوران دوبارہ تخت پر لائے گئے۔
الظاہر برقوق (دوسرا دور)
1390ء – 1399ءدوبارہ اقتدار سنبھالا اور تیمور کے خطرے کا مقابلہ کیا۔
الناصر فرج (پہلا دور)
1399ء – 1405ءنوعمری میں تخت نشین ہوئے، تیمور کے حملے کا سامنا کیا۔
المنصور عبدالعزیز
1405ءمختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الناصر فرج (دوسرا دور)
1405ء – 1412ءدوبارہ تخت نشین ہوئے، بعد میں امرا کی بغاوت میں قتل ہوئے۔
العادل المستعین (خلیفہ و سلطان)
1412ءعباسی خلیفہ ہوتے ہوئے مختصر عرصے کے لیے سلطان بھی بنے۔
المؤید شیخ
1412ء – 1421ءقاہرہ میں مسجد المؤید تعمیر کروائی۔
المظفر احمد
1421ءنابالغ عمر میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الظاہر ططر
1421ءمختصر دور کے بعد وفات پا گئے۔
الصالح محمد
1421ء – 1422ءنوعمری میں تخت نشین ہوئے۔
الاشرف برسباے
1422ء – 1438ءقبرص پر مہم بھیجی اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے خزانہ مستحکم کیا۔
العزیز یوسف
1438ءنابالغ عمر میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الظاہر جقمق
1438ء – 1453ءرودس کے خلاف بحری مہمات بھیجیں۔
المنصور عثمان
1453ءمختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الاشرف اینال
1453ء – 1461ءعثمانی سلطنت کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے۔
المؤید احمد
1461ءمختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الظاہر خشقدم
1461ء – 1467ءعثمانیوں کے ساتھ قراقویونلو تعلقات سنبھالے۔
الظاہر یلباے
1467ءمختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الظاہر تمربغا
1467ء – 1468ءمختصر دور کے بعد قایتباے کے ہاتھوں معزول ہوئے۔
الاشرف قایتباے
1468ء – 1496ءطویل و مستحکم دور، وسیع تعمیراتی منصوبے اور عثمانیوں کے ساتھ جنگیں۔
الناصر محمد بن قایتباے
1496ء – 1498ءنوعمری میں تخت نشین ہوئے۔
الظاہر قانصوہ
1498ء – 1500ءمختصر اور غیر مستحکم دور۔
الاشرف جانبلاط
1500ء – 1501ءامرا کی رسّہ کشی کے دور میں تخت نشین رہے۔
العادل طومان باے (پہلا دور)
1501ءمختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
الاشرف قانصوہ الغوری
1501ء – 1516ءطویل دور میں تعمیرات کیں، مگر 1516ء میں مرج دابق کی جنگ میں عثمانیوں کے ہاتھوں شکست کھا کر مارے گئے۔
الاشرف طومان باے دوم
1516ء – 1517ءسلطنتِ مملوکیہ کے آخری سلطان — 1517ء میں سلطان سلیم اول کے ہاتھوں مصر کی فتح پر گرفتار اور پھانسی دی گئی۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
1341ء–1382ء کے درمیان الناصر محمد کے متعدد کمزور جانشینوں کے ادوار نہایت مختصر تھے — یہاں ہر ایک کو انفرادی طور پر درج کیا گیا ہے تاکہ سلسلہ مکمل رہے، مگر تفصیلی کارناموں کی بجائے محض دورِ حکومت دیا گیا ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔