1805ء میں عثمانی والی بننے والے محمد علی پاشا نے مصر میں جدید فوج، صنعت اور تعلیم کی بنیاد رکھی۔ ان کا خاندان نام کو عثمانی ماتحتی میں مگر عملاً خود مختار رہا؛ اسی دور میں 1869ء میں نہرِ سویز کھلی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ سلاجقہ 1038ء–1194ء
- سلاجقہ روم 1061ء–1307ء
- سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء
- مصر: محمد علی پاشا کا خاندان (خدیویت)
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
1798ء–1801ء کے فرانسیسی قبضے کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے خلا میں البانوی نژاد عثمانی فوجی افسر محمد علی نے علما اور عوام کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا؛ 1805ء میں سلطان نے انہیں والی تسلیم کیا اور 1811ء میں انہوں نے مملوک امرا کا خاتمہ کر دیا۔
زوال کے اسباب
قرضوں کا بحران اور نہرِ سویز کے حصص کی فروخت (1875ء) کے بعد 1882ء میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کر لیا، اور 1914ء میں مصر برطانوی محمیہ بنا۔
حکمران (5)
محمد علی پاشا
1805ء – 1848ءجدید مصر کے معمار؛ فوج، صنعت اور تعلیم کی جدید کاری کی۔
خدیو اسماعیل
1863ء – 1879ءنہرِ سویز (1869ء) کا افتتاح اور قاہرہ کی جدید تعمیر؛ قرضوں کے بحران میں معزول ہوئے۔
خدیو توفیق
1879ء – 1892ءان کے دور میں عرابی بغاوت کے بعد 1882ء میں برطانوی قبضہ ہوا۔
خدیو عباس حلمی دوم
1892ء – 1914ءآخری خدیو؛ 1914ء میں برطانیہ نے معزول کیا۔
سلطان فؤاد اول
1917ء – 1922ء1917ء میں سلطان بنے اور 1922ء کی آزادی کے بعد بادشاہ۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
1517ء–1805ء مصر سلطنتِ عثمانیہ کا صوبہ رہا (یہ دور عثمانی پٹی میں شامل ہے)۔ یہی خاندان 1922ء–1953ء میں آزاد مصر کا شاہی خاندان رہا۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔