سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد 29 اکتوبر 1923ء کو قائم ہونے والی جمہوریہ۔ 1924ء میں اسی کی اسمبلی نے خلافتِ عثمانیہ کا باضابطہ خاتمہ کیا، اور ریاست کو سیکولر خطوط پر استوار کیا گیا۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ سلاجقہ 1038ء–1194ء
- سلاجقہ روم 1061ء–1307ء
- سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء
- جمہوریہ ترکیہ
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
عروج کے اسباب
پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی شکست اور معاہدۂ سیورے کے بعد جنگِ آزادی (1919ء–1923ء) لڑی گئی، جس کے نتیجے میں معاہدۂ لوزان (1923ء) سے نئی ریاست کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا۔
حکمران (5)
مصطفیٰ کمال اتاترک (صدر)
1923ء – 1938ءجمہوریہ کے بانی اور پہلے صدر؛ خلافت کا خاتمہ، لاطینی رسم الخط اور سیکولر اصلاحات نافذ کیں۔
عصمت اینونو (صدر)
1938ء – 1950ءیک جماعتی دور کے دوسرے صدر؛ 1946ء میں کثیر جماعتی نظام کی راہ کھولی۔
عدنان میندریس (وزیرِ اعظم)
1950ء – 1960ءپہلی منتخب جمہوری حکومت؛ مذہبی پابندیوں میں نرمی کی، 1960ء کی فوجی بغاوت کے بعد پھانسی پائی۔
ترگت اوزال (وزیرِ اعظم و صدر)
1983ء – 1993ءمعاشی آزادی کی اصلاحات کیں۔
رجب طیب ایردوان (وزیرِ اعظم، پھر صدر)
2003ء – 2026ء2003ء سے وزیرِ اعظم اور 2014ء سے صدر (تاحال)۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
1960ء، 1971ء اور 1980ء کی فوجی مداخلتوں کے ادوار حکمرانوں کی فہرست میں الگ نہیں دکھائے گئے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔ مدت 2026ء تک شمار کی گئی ہے۔