وسطی ایشیا سے اٹھنے والی ترک سلطنت، جس نے بغداد کی عباسی خلافت کی سرپرستی سنبھالی اور ایران و عراق پر حکومت کی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ سلاجقہ
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
ترک قبائل کے سردار طغرل بیگ نے 1055ء میں بغداد پر قبضہ کر کے عباسی خلیفہ کے محافظ (سلطان) کا خطاب حاصل کیا، اور سلطنت نے ایران، عراق اور شام تک اپنا اثر و رسوخ پھیلایا۔
زوال کے اسباب
1092ء میں سلطان ملک شاہ کی وفات کے بعد جانشینی کی کشمکش نے سلطنت کو کئی خودمختار شاخوں (بشمول سلاجقہ روم) میں تقسیم کر دیا۔
حکمران (16)
بغداد پر قبضہ کر کے سلطنت کی بنیاد رکھی۔
1071ء میں جنگِ ملازگرد میں بازنطینی سلطنت کو شکست دی۔
سلطنت اپنی جغرافیائی وسعت کے عروج پر پہنچی؛ نظام الملک ان کے وزیرِ اعظم رہے۔
محمود اول
1092ء – 1094ءعظیم سلجوقینابالغ عمر میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
برکیارق
1094ء – 1105ءعظیم سلجوقیبھائیوں کے ساتھ طویل خانہ جنگی کے دوران سلطنت پر حکومت کی۔
محمد اول طاپار
1105ء – 1118ءعظیم سلجوقیخانہ جنگی کے بعد مغربی سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔
خراسان میں طویل ترین دور کے مشرقی سلطان، بعد میں سلطنت کے مشرقی و مغربی حصوں کے مجموعی سربراہ بھی رہے۔
محمود دوم (عراق شاخ)
1118ء – 1131ءعراقی شاخسنجر کی سرپرستی میں مغربی (عراقی) سلطنت کے حکمران رہے۔
طغرل دوم (عراق شاخ)
1132ء – 1134ءعراقی شاخعراقی شاخ کے حکمران۔
مسعود (عراق شاخ)
1134ء – 1152ءعراقی شاخعراقی سلجوقی سلطنت کے طویل ترین حکمران۔
ملک شاہ سوم (عراق شاخ)
1152ء – 1153ءعراقی شاخمختصر دور۔
محمد دوم (عراق شاخ)
1153ء – 1159ءعراقی شاخعراقی شاخ کے حکمران۔
سلیمان شاہ (عراق شاخ)
1160ء – 1161ءعراقی شاخمختصر دور۔
ارسلان شاہ (عراق شاخ)
1161ء – 1176ءعراقی شاخاتابک ایلدگز کی سرپرستی میں برائے نام حکمران رہے۔
عظیم سلجوقی سلطنت کے آخری حکمران — 1194ء میں خوارزم شاہیوں کے ہاتھوں شکست و قتل پر ایران و عراق میں سلجوقی حکمرانی ختم ہوئی (اناطولیہ کی شاخ الگ سے جاری رہی)۔
نظام الملک
عظیم سلجوقیوزیر کی حیثیت سے نظامیہ مدارس کا جال قائم کیا۔
متعلقہ واقعات
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔