مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · خلافتِ راشدہ (632ء – 661ء)

خلافتِ عمر فاروقؓ — فتوحات اور بیت المال کا قیام

634ء13 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ634ء
ہجری تاریخ13 ہجری
دورخلافتِ راشدہ

حضرت عمرؓ کے دور میں فارس و روم کی سلطنتیں مفتوح ہوئیں، اور بیت المال، عدالتی نظام، اور مردم شماری جیسے انتظامی ادارے قائم ہوئے۔

حضرت عمر بن خطابؓ 13 ہجری (634ء) میں خلیفہ بنے اور دس برس تک حکومت کی۔ ان کے دور میں فارس کی ساسانی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور شام، فلسطین (بیت المقدس)، مصر اور عراق اسلامی ریاست میں شامل ہوئے۔ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر آپ خود تشریف لے گئے اور وہاں کے عیسائیوں کے ساتھ 'عہدِ عمری' کے نام سے امان کا معاہدہ کیا۔

انتظامی طور پر آپ کا دور نہایت زرخیز رہا۔ مفتوحہ علاقوں کو صوبوں میں تقسیم کیا گیا، گورنروں اور قاضیوں کا نظام بنا، فوجی چھاؤنیوں کے طور پر کوفہ، بصرہ اور فسطاط جیسے شہر آباد ہوئے۔ دیوان (رجسٹر) کے ذریعے وظائف کا نظام قائم ہوا اور بیت المال کو باقاعدہ ادارے کی شکل ملی۔ ہجری تقویم بھی آپ ہی کے دور میں رائج ہوئی۔

آپ کا نام عدل، احتساب اور سادگی کی مثال کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ذی الحجہ 23 ہجری میں ایک ایرانی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے نماز کے دوران آپ پر حملہ کیا اور آپ شہید ہو گئے۔

خلافتِ راشدہ

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں