اردن میں یرموک کے مقام پر حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں مسلم افواج نے بازنطینی سلطنت کی بڑی فوج کو شکست دی، جس کے بعد شام مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا۔
حضرت ابوبکرؓ کے آخری دور اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دور میں شام کی مہمات جاری تھیں۔ بازنطینی شہنشاہ ہرقل نے شام واپس لینے کے لیے بہت بڑا لشکر (بعض روایات میں مسلمانوں سے کئی گنا بڑا) روانہ کیا۔ مسلم افواج نے مختلف محاذوں سے سمٹ کر دریائے یرموک کے قریب پڑاؤ ڈالا۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے، جنہیں حضرت ابو عبیدہؓ نے عملی قیادت سونپی تھی، فوج کو نئے انداز سے مرتب کیا اور بازنطینی فوج کو دریا کے کنارے ایک ایسی جگہ گھیرے میں لے لیا جہاں پسپائی مشکل تھی۔ چھ دن کی لڑائی کے بعد بازنطینی فوج بکھر گئی۔
اس فتح نے شام پر بازنطینی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور ہرقل شام سے نکل گیا۔ مؤرخین اسے تاریخِ عالم کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار کرتے ہیں کیونکہ اس نے مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ بدل دیا۔