نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ پہلے خلیفہ منتخب ہوئے اور خلافتِ راشدہ کا دور شروع ہوا۔
ربیع الاول 11 ہجری میں نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے اور مدینہ میں وفات پائی۔ صحابہ کے لیے یہ ایک عظیم صدمہ تھا؛ حضرت ابوبکرؓ نے لوگوں کو ٹھہرا کر فرمایا کہ جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ وہ وفات پا گئے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، اسے موت نہیں۔
آپ ﷺ کی تدفین سے پہلے ہی انصار سقیفۂ بنو ساعدہ میں جمع ہوئے تاکہ قیادت کا مسئلہ حل کریں۔ مباحثے کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، اور پھر مسلمانوں نے متفقہ طور پر انہیں پہلا خلیفہ منتخب کر لیا۔
اس انتخاب نے ثابت کیا کہ ریاستِ مدینہ نبی کریم ﷺ کی ذات پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک ادارے کے طور پر جاری رہے گی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے دو سالہ دورِ خلافت میں ارتداد کے فتنوں کو ختم کیا اور اسلامی ریاست کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا۔