مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · خلافتِ راشدہ (632ء – 661ء)

جنگِ جمل و صفین

656–657ء36–37 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ656–657ء
ہجری تاریخ36–37 ہجری
دورخلافتِ راشدہ

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد قصاص کے مسئلے پر صحابہ کرامؓ کے درمیان جمل (بصرہ) اور صفین (شام) کے معرکے پیش آئے۔ یہ امت کی پہلی بڑی داخلی آزمائش تھی۔

جنگِ جمل 36 ہجری میں بصرہ کے قریب حضرت علیؓ کے لشکر اور ام المومنین حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے لشکر کے درمیان ہوئی۔ یہ حضرات قاتلانِ عثمانؓ سے قصاص کے مطالبے پر نکلے تھے۔ روایات کے مطابق صلح قریب تھی مگر بعض شرپسندوں کی وجہ سے رات کو اچانک لڑائی چھڑ گئی، جس میں حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ شہید ہوئے۔ حضرت علیؓ نے حضرت عائشہؓ کو پورے احترام سے مدینہ واپس روانہ کیا۔

جنگِ صفین 37 ہجری میں دریائے فرات کے کنارے شام کے گورنر حضرت معاویہؓ کے لشکر اور حضرت علیؓ کے لشکر کے درمیان ہوئی۔ معاویہؓ کا مطالبہ بھی قاتلانِ عثمانؓ کے قصاص کا تھا۔ لڑائی کے دوران معاویہؓ کے لشکر نے قرآن کے نسخے نیزوں پر بلند کیے، جس پر جنگ روک کر تحکیم (ثالثی) پر اتفاق ہوا؛ اس معاملے پر حضرت علیؓ کے لشکر کا ایک گروہ ان سے الگ ہو کر خوارج کہلایا۔ حضرت عمار بن یاسرؓ اسی جنگ میں شہید ہوئے۔

اہلِ سنت کا موقف ہے کہ ان واقعات میں دونوں طرف کے صحابہؓ اجتہاد اور نیک نیتی پر تھے، اس لیے ان کے بارے میں زبان کھولنے میں احتیاط اور احترام لازم ہے۔ ان معرکوں کو امت کی پہلی بڑی داخلی آزمائش کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

خلافتِ راشدہجنگیں و معرکے

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں