حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی قیادت میں مسلمانوں نے ساسانی ایرانی فوج کو شکست دی، جس سے عراق فتح ہوا اور فارس کی سلطنت کا زوال شروع ہوا۔ (سنین کی تعیین میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔)
عراق کا وسیع علاقہ اس وقت ساسانی ایرانی سلطنت کے تحت تھا۔ حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو اسلامی لشکر کی قیادت سونپی۔ فریقین کا آمنا سامنا قادسیہ (کوفہ کے قریب) کے میدان میں ہوا، جہاں ایرانی سپہ سالار رستم کے پاس ہاتھیوں سمیت کہیں بڑی فوج تھی۔
کئی دنوں (روایات میں چار دن) تک جاری رہنے والی سخت لڑائی کے بعد ایرانی فوج ٹوٹ گئی اور رستم مارا گیا۔ فتح کے نتیجے میں ساسانی دارالحکومت مدائن (طیسفون) بھی مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا۔ جنگ کی صحیح تاریخ (14 یا 15 ہجری) پر مؤرخین میں اختلاف ہے۔
اس کے بعد عراق کا بڑا حصہ اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا اور کوفہ و بصرہ نئے علمی و فوجی مراکز کے طور پر ابھرے، جہاں سے مشرق کی طرف فتوحات کا سلسلہ آگے بڑھا۔