مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · خلافتِ راشدہ (632ء – 661ء)

خلافتِ عثمانِ غنیؓ — قرآنِ مجید کی یکجا تدوین

650ء30 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ650ء
ہجری تاریخ30 ہجری
دورخلافتِ راشدہ

حضرت ابوبکرؓ کے دور میں مرتب کیے گئے مصحف کی بنیاد پر حضرت عثمانؓ نے قرآنِ مجید کا ایک معیاری، متفقہ نسخہ تیار کروایا اور مختلف علاقوں میں اس کی نقول بھجوائیں، تاکہ قراءت کے اختلافات ختم ہو سکیں۔

حضرت ابوبکرؓ کے دور میں قرآنِ مجید ایک مصحف کی صورت میں جمع کیا جا چکا تھا، جو ام المومنین حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ تھا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں جب اسلام آرمینیا اور آذربائیجان تک پھیلا تو مختلف علاقوں کے لوگ قراءتوں کے اختلاف پر ایک دوسرے کی تصحیح کرنے لگے۔ حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے یہ صورتِ حال دیکھ کر خلیفہ کو توجہ دلائی۔

حضرت عثمانؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی، جس نے حفصہؓ کے پاس محفوظ مصحف کی بنیاد پر، قریش کے لہجے کے مطابق، ایک معیاری نسخہ تیار کیا۔ اس کی نقول مکہ، شام، بصرہ اور کوفہ جیسے مراکز کو بھیجی گئیں، اور اختلاف پیدا کرنے والے انفرادی نسخے جلا دیے گئے۔

اسی مصحف کو 'مصحفِ عثمانی' کہا جاتا ہے، اور آج تک قرآنِ مجید کا متن اسی رسم الخط و ترتیب پر متفق چلا آ رہا ہے۔ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت کے آخری حصے میں سیاسی اختلافات نے شدت پکڑی اور ذی الحجہ 35 ہجری میں آپ باغیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

خلافتِ راشدہتدوینِ قرآن

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں