نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد کئی قبائل نے زکوٰۃ سے انکار کیا اور بعض نے جھوٹی نبوت کے دعوے اٹھائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فیصلہ کن مہمات کیں؛ یمامہ میں مسیلمہ کذاب مارا گیا۔
نبی کریم ﷺ کے وصال کے فوراً بعد عرب کے کئی قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور بعض علاقوں میں مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسدی اور اسود عنسی جیسے لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے۔ مدینہ خطرے میں تھا کیونکہ اسامہ بن زیدؓ کا لشکر شام کی طرف روانہ تھا۔ کئی بزرگ صحابہ کا مشورہ تھا کہ سختی نہ کی جائے، مگر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جو رسی کا ایک ٹکڑا بھی، جو رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے، دینے سے انکار کرے گا میں اس سے لڑوں گا۔
آپ نے مہمات کے لیے گیارہ دستے مرتب کیے، جن میں سب سے نمایاں قیادت حضرت خالد بن ولیدؓ کی تھی۔ یمامہ (نجد) میں مسیلمہ کے ہزاروں پیروکاروں کے ساتھ خونریز جنگ ہوئی، جس میں مسیلمہ مارا گیا۔ اس معرکے میں کئی حفاظِ قرآن بھی شہید ہوئے، جس کے بعد حضرت عمرؓ کے مشورے پر قرآنِ مجید کو ایک مصحف کی صورت میں جمع کیا گیا۔
ان مہمات نے ریاست کو ٹوٹنے سے بچایا، مرکزی حکومت کی رٹ قائم کی اور ختمِ نبوت کے عقیدے کو مضبوط کیا۔ اس کے بعد ہی خلافتِ راشدہ کی فتوحات کا راستہ کھلا۔