حضرت علیؓ کی خلافت کے دور میں داخلی خلفشار پیدا ہوا، جس کے بعد خلافتِ راشدہ کا دور اختتام پذیر ہوا۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد مدینہ میں باغیوں کا اثر تھا اور مسلمانوں نے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ نے سب سے پہلے امن کی بحالی اور قاتلوں کے معاملے میں عدل کے تقاضے پورے کرنے کی بات کی، مگر حالات مسلسل بگڑتے گئے اور صحابہ کرامؓ کے درمیان قصاصِ عثمانؓ اور نظمِ حکومت پر اختلاف پیدا ہو گیا۔
آپ نے دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا۔ جمل اور صفین کے معرکے اسی دور میں پیش آئے اور خوارج کا فتنہ بھی ابھرا، جن کے خلاف نہروان میں جنگ لڑنا پڑی۔ رمضان 40 ہجری میں ایک خارجی عبدالرحمٰن بن ملجم نے کوفہ میں آپ پر حملہ کیا اور آپ شہید ہو گئے۔
حضرت علیؓ علم، فصاحت اور عدل میں ممتاز تھے اور 'باب مدینۃ العلم' کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کے دور کو خلافتِ راشدہ کا آخری دور مانا جاتا ہے، اور کچھ عرصہ بعد حضرت حسنؓ کی صلح کے ساتھ امت اموی حکومت کے تحت متحد ہوئی۔