صلاح الدین ایوبی کی قائم کردہ سلطنت، جس نے صلیبی جنگوں میں بیت المقدس دوبارہ فتح کیا اور مصر و شام پر حکومت کی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- دولتِ اغالبہ 800ء–909ء
- خلافتِ فاطمیہ 910ء–1171ء
- سلطنتِ ایوبیہ
- سلطنتِ مملوکیہ 1251ء–1517ء
- سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
نور الدین زنگی کے سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے فاطمی مصر میں اقتدار سنبھالا اور 1187ء میں جنگِ حطین میں صلیبیوں کو شکست دے کر بیت المقدس واپس فتح کیا۔
زوال کے اسباب
صلاح الدین کی وفات کے بعد سلطنت ان کے رشتہ داروں میں تقسیم ہو گئی؛ اندرونی رقابتوں نے فوجی مملوک غلاموں کو طاقتور بنا دیا، جنہوں نے بالآخر 1250ء میں مصر میں اقتدار سنبھال لیا۔
حکمران (9)
صلاح الدین ایوبی
1174ء – 1193ءفاطمی خلافت ختم کی، صلیبیوں کو شکست دی اور بیت المقدس فتح کیا۔
الملک العزیز عثمان
1193ء – 1198ءوالد صلاح الدین کی وفات کے بعد مصر کے حکمران بنے۔
الملک المنصور محمد
1198ء – 1200ءنابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے، جلد ہی چچا العادل کے ہاتھوں معزول ہوئے۔
الملک العادل اول (سیف الدین)
1200ء – 1218ءخاندان کے مختلف شہزادوں کے درمیان تصادم ختم کر کے سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔
الملک الکامل
1218ء – 1238ءیورپی صلیبیوں کے ساتھ سفارتی معاہدوں کے ذریعے امن قائم رکھنے کی کوشش کی۔
الملک العادل دوم
1238ء – 1240ءمختصر اور کمزور دور، امرا کی رسّہ کشی کا سامنا رہا۔
الملک الصالح ایوب
1240ء – 1249ءمملوک فوجی دستے کو منظم قوت میں تبدیل کیا، جو بعد میں خود سلطنت پر قابض ہوئے۔
الملک المعظم توران شاہ
1249ء – 1250ءآخری حکمران — ساتویں صلیبی جنگ میں فرانسیسی بادشاہ لوئی نہم کو شکست دی، مگر اپنے ہی مملوک امرا کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
شجرِ درّ (ملکہ)
1250ءتوران شاہ کے قتل کے بعد مختصر عرصے کے لیے مصر کی حکمران بنیں — سلطنتِ مملوکیہ کی راہ ہموار ہوئی۔
متعلقہ واقعات
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔