موصل کے ترک اتابک خاندان نے شام کو صلیبیوں کے خلاف متحد کیا۔ سب سے نمایاں حکمران نور الدین محمود زنگیؒ (1146ء–1174ء) نے دمشق و حلب کو یکجا کیا اور صلاح الدین ایوبی جیسے سپہ سالار تیار کیے، جنہوں نے بعد میں مصر میں ایوبی سلطنت قائم کی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ سلاجقہ 1038ء–1194ء
- اتابکانِ زنگی
- سلطنتِ ایوبیہ 1172ء–1307ء
- سلطنتِ مملوکیہ 1251ء–1517ء
- سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
عماد الدین زنگی نے موصل کی گورنری سے آغاز کر کے شام کے متحارب مسلم امرا کو ایک جھنڈے تلے اکٹھا کیا؛ ان کے بیٹے نور الدین زنگی نے دمشق فتح کر کے صلیبی ریاستوں کے خلاف باقاعدہ جہاد کی تحریک منظم کی۔
زوال کے اسباب
نور الدین زنگی کی وفات (1174ء) کے بعد ان کے سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے مصر و شام میں اپنا اقتدار قائم کر لیا؛ زنگی خاندان کی موصل شاخ کمزور اتابک کی حیثیت سے تقریباً 1250ء تک برقرار رہی۔
حکمران (8)
موصل و حلب کو یکجا کیا اور 1144ء میں صلیبی ریاست الرہا فتح کی۔
دمشق و حلب کو متحد کیا اور صلاح الدین ایوبی جیسے سپہ سالار تیار کیے۔
سیف الدین غازی اول (موصل)
1146ء – 1149ءموصل شاخنور الدین کے بھائی، موصل شاخ کے اتابک بنے۔
قطب الدین موددؔ (موصل)
1149ء – 1170ءموصل شاخموصل شاخ کو نور الدین کی سرپرستی میں برقرار رکھا۔
سیف الدین غازی دوم (موصل)
1170ء – 1180ءموصل شاخموصل شاخ کے اتابک، نور الدین کی وفات کے بعد خودمختار ہوئے۔
عز الدین مسعود اول (موصل)
1180ء – 1193ءموصل شاخصلاح الدین ایوبی کے ساتھ تعلقات کو سنبھالا۔
نور الدین ارسلان شاہ اول (موصل)
1193ء – 1211ءموصل شاخموصل شاخ کو ایوبی دباؤ میں بھی برقرار رکھا۔
بدر الدین لولو (اتابک، موصل)
1234ء – 1259ءموصل شاخزنگی خاندان کے آخری برائے نام حکمرانوں کے پیچھے حقیقی اقتدار سنبھالا اور بالآخر خود موصل کا حکمران بن گیا۔
ماخذ و وضاحت
خاندان کی حلب شاخ 1181ء میں صلاح الدین ایوبی کے قبضے میں آئی، جبکہ موصل کی شاخ تقریباً 1250ء تک اتابک کے طور پر برقرار رہی — یہ اندراج پورے خاندان کا احاطہ کرتا ہے، خصوصاً نور الدین زنگی کے دور (1146ء–1174ء) پر مرکوز۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔