صلاح الدین ایوبیؒ نے حطین میں صلیبی افواج کو فیصلہ کن شکست دی اور اسی سال بیت المقدس دوبارہ فتح کیا۔ شہر کے باشندوں کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کیا گیا۔
صلاح الدین ایوبیؒ نے مصر اور شام کو ایک سلطنت کے تحت متحد کر لیا تھا۔ صلیبی حکمران رینالڈ آف شاتیلون کی حجاج کے قافلوں پر حملوں جیسی حرکتوں نے جنگ کو ناگزیر بنا دیا۔ 4 جولائی 1187ء کو طبریہ کے قریب حطین کے میدان میں صلاح الدین نے صلیبی فوج کو پانی سے محروم، گرمی اور دھوئیں کی حالت میں گھیر کر فیصلہ کن شکست دی اور بادشاہ گائے آف لوزینان قیدی بنا۔
اس کے بعد صلاح الدین نے شہر بہ شہر فتوحات کرتے ہوئے 2 اکتوبر 1187ء (27 رجب 583 ہجری) کو بیت المقدس فتح کر لیا۔ شہر کے باشندوں سے نہایت نرمی کا معاہدہ کیا گیا، فدیہ دے کر جانے والوں کو تحفظ دیا گیا اور 1099ء کے قتلِ عام کے برعکس کوئی عام خونریزی نہیں ہوئی۔ مسجدِ اقصیٰ کو صاف کیا گیا۔
اس فتح کے جواب میں یورپ میں تیسری صلیبی جنگ ہوئی جس میں رچرڈ شیر دل بھی شریک تھا، مگر بیت المقدس صلاح الدین کے پاس ہی رہا۔ 1192ء میں رملہ کے معاہدے میں ساحلی علاقے صلیبیوں کے پاس اور بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہا، اور صلاح الدین کا کردار آج تک رواداری اور جواں مردی کی مثال سمجھا جاتا ہے۔