مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · ایران و وسطی ایشیا

امارتِ افغانستان (بارکزئی خاندان)

1826ء (1242ھ) – 1919ء (1338ھ)93 برس

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
آغاز1826ء (1242ھ)
اختتام1919ء (1338ھ)
مدت93 برس
خطہایران و وسطی ایشیا
بانیامیر دوست محمد خان
دارالحکومتکابل

دوست محمد خان نے 1826ء میں کابل میں بارکزئی حکومت قائم کی۔ انیسویں صدی میں برطانیہ سے دو جنگیں ہوئیں (1839ء–1842ء، 1878ء–1880ء)؛ دوسری جنگ کے بعد معاہدۂ گندمک (1879ء) کے تحت خارجہ امور برطانیہ کے پاس چلے گئے، اور 1893ء میں ڈیورنڈ لائن کھینچی گئی۔

تاریخی تسلسل

  1. سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
  2. سلطنتِ تیموریہ 1370ء–1507ء
  3. سلطنتِ صفویہ 1501ء–1736ء
  4. سلطنتِ افشاریہ 1736ء–1796ء
  5. درانی سلطنت 1747ء–1826ء
  6. امارتِ افغانستان (بارکزئی خاندان)
  7. افغانستان (آزاد ریاست) 1919ء–تاحال

عروج کے اسباب

درانی شہزادوں کی باہمی لڑائیوں میں بارکزئی قبیلے کے سردار — جو درانی دربار کے وزیر رہ چکے تھے — طاقتور ہوتے گئے؛ 1826ء میں دوست محمد خان نے کابل پر قبضہ کر کے نئی حکومت قائم کی۔

زوال کے اسباب

1919ء میں امیر امان اللہ خان نے مکمل آزادی کا اعلان کیا؛ تیسری اینگلو افغان جنگ کے بعد آزاد افغانستان کا دور شروع ہوا۔

حکمران (4)

  1. امیر دوست محمد خان

    1826ء – 1863ء

    بارکزئی حکومت کے بانی؛ 1839ء–1842ء میں برطانوی قبضے کے دوران معزول رہے۔

  2. امیر شیر علی خان

    1863ء – 1879ء

    دوسری اینگلو افغان جنگ کے دوران حکمران۔

  3. امیر عبدالرحمٰن خان

    1880ء – 1901ء

    «آہنی امیر»؛ مرکزی حکومت مضبوط کی، ان کے دور میں ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ہوا۔

  4. امیر حبیب اللہ خان

    1901ء – 1919ء

    پہلی جنگِ عظیم میں غیر جانبدار رہے؛ 1919ء میں قتل ہوئے۔

متعلقہ واقعات