1919ء میں تیسری اینگلو افغان جنگ اور معاہدۂ راولپنڈی کے بعد خارجہ امور میں برطانوی اختیار سے مکمل آزاد ہونے والی ریاست۔ جدید افغان ریاست کی بنیاد عموماً احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت (1747ء) سے جوڑی جاتی ہے۔
تاریخی تسلسل
- سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
- سلطنتِ تیموریہ 1370ء–1507ء
- سلطنتِ صفویہ 1501ء–1736ء
- سلطنتِ افشاریہ 1736ء–1796ء
- درانی سلطنت 1747ء–1826ء
- امارتِ افغانستان (بارکزئی خاندان) 1826ء–1919ء
- افغانستان (آزاد ریاست)
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
عروج کے اسباب
انیسویں صدی میں برطانیہ اور روس کی «گریٹ گیم» کے دوران افغانستان ایک حائل ریاست رہا اور اس کے خارجہ امور برطانیہ کے پاس تھے؛ 1919ء کی جنگ کے بعد یہ اختیار واپس ملا۔
حکمران (7)
امان اللہ خان
1919ء – 1929ءمکمل آزادی حاصل کی اور جدید اصلاحات شروع کیں؛ 1929ء میں بغاوت کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا۔
محمد ظاہر شاہ
1933ء – 1973ءچالیس سالہ پُرامن دور؛ 1964ء میں آئینی بادشاہت قائم کی۔
سردار محمد داؤد خان (صدر)
1973ء – 1978ء1973ء میں بادشاہت ختم کر کے جمہوریہ کا اعلان کیا؛ 1978ء کے کمیونسٹ انقلاب میں قتل ہوئے۔
ملا محمد عمر (امارتِ اسلامیہ، پہلا دور)
1996ء – 2001ءطالبان کی پہلی حکومت؛ 2001ء میں امریکی حملے سے ختم ہوئی۔
حامد کرزئی (صدر)
2001ء – 2014ء2001ء کے بعد عبوری اور پھر منتخب صدر۔
اشرف غنی (صدر)
2014ء – 2021ءاگست 2021ء میں طالبان کی واپسی پر ملک چھوڑ گئے۔
ہیبت اللہ اخوندزادہ (امارتِ اسلامیہ، دوسرا دور)
2021ء – 2026ء2021ء سے طالبان حکومت کے امیر (تاحال)۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
1978ء کا کمیونسٹ انقلاب، 1979ء–1989ء کی سوویت مداخلت اور اس کے بعد کی خانہ جنگی کے حکمران فہرست میں شامل نہیں۔ درانی سلطنت (1747ء–1826ء) ابھی الگ پٹی کے طور پر شامل نہیں۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔ مدت 2026ء تک شمار کی گئی ہے۔