مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

شمال مغربی سرحد کی جانب ہجرت

جنوری 1826ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخجنوری 1826ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

سید احمد نے سکھ حکومت کے خلاف جہاد کے لیے رائے بریلی سے ہجرت کی۔ قافلہ راجپوتانہ، سندھ (حیدرآباد و شکارپور)، بولان، قندھار اور کابل سے ہوتا ہوا دسمبر 1826ء میں نوشہرہ پہنچا۔

جنوری 1826ء میں سید احمد نے سکھ حکمرانوں کے خلاف جہاد کے لیے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہجرت کی۔ سکھ حکومت (رنجیت سنگھ) اس وقت پنجاب اور پشاور کے قریب مسلمانوں پر پابندیاں لگا رہی تھی، جن میں اذان اور گائے ذبح کرنے پر پابندی جیسی شکایات شامل تھیں، اور اس لیے سرحدی مسلمان مدد کے منتظر تھے۔

براہِ راست پنجاب جانا ممکن نہیں تھا، اس لیے قافلہ رائے بریلی سے گوالیار، ٹونک، اجمیر، سندھ (حیدرآباد اور شکارپور)، بولان کا درہ، کوئٹہ، قندھار اور غزنی سے ہوتا ہوا کابل پہنچا، اور وہاں سے پشاور کے علاقے میں داخل ہوا۔ دسمبر 1826ء میں قافلہ نوشہرہ کے قریب پہنچ گیا۔ یہ سفر تقریباً ایک سال تک جاری رہا۔

سندھ اور بلوچستان کے راستے کی وجہ سے یہ ہجرت آج کے پاکستان کی تاریخ کا بھی حصہ ہے۔ راستے میں مقامی حکمرانوں اور قبائل نے کچھ نے تعاون کیا اور بعض نے بے رخی دکھائی، مگر اکثر لوگوں پر تحریک کے اخلاق اور مقصد کا اثر ہوا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیہجرتآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں