مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

پہلی اینگلو افغان جنگ

1839ء–1842ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1839ء–1842ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

برطانوی ہند کی فوج نے افغانستان پر حملہ کر کے شاہ شجاع کو تخت پر بٹھایا؛ 1842ء میں کابل سے پسپائی کرنے والی فوج تقریباً مکمل تباہ ہو گئی۔

انیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ کو خدشہ تھا کہ روس وسطی ایشیا کے راستے افغانستان اور ہندوستان کی طرف بڑھ سکتا ہے، جسے 'گریٹ گیم' کہا جاتا ہے۔ افغان امیر دوست محمد خان نے روس سے بھی رابطہ رکھا، جس پر کمپنی نے اس کی جگہ سابق شاہ شجاع الملک کو تخت پر بٹھانے کا فیصلہ کیا اور 1839ء میں بولان کے درے سے فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔

کابل پر قبضہ ہو گیا اور شاہ شجاع بحال ہوا، مگر برطانوی فوجی قبضے اور بھاری اخراجات کے خلاف عوام میں غصہ پھیلتا گیا۔ نومبر 1841ء میں کابل میں بغاوت ہوئی اور برطانوی نمائندہ الیگزینڈر برنز مارا گیا۔ جنوری 1842ء میں کابل سے جلال آباد کی طرف پسپا ہوتی ہوئی تقریباً سولہ ہزار افراد پر مشتمل فوج اور اس کے ساتھ چلنے والے شہری برفانی درّوں میں افغان قبائل کے حملوں سے تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

اس شکست نے ثابت کیا کہ افغانستان میں براہِ راست فوجی قبضہ کتنا مشکل ہے۔ اسی جنگ کے بعد کمپنی نے سندھ اور پنجاب پر توجہ مرکوز کی، جس کے نتیجے میں آج کے پاکستان کے علاقے کمپنی کی عملداری میں آئے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیجنگیں و معرکےایسٹ انڈیا کمپنی

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں