ایک صوفی سلسلے سے نکل کر قائم ہونے والی ایرانی سلطنت، جس نے شیعہ اثنا عشری مسلک کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا۔ عثمانی اور مغلیہ سلطنتوں کے ساتھ 'تین بارود سلطنتوں' میں شمار ہوتی ہے۔
تاریخی تسلسل
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
شاہ اسماعیل صفوی نے صفوی صوفی سلسلے کی مذہبی و عسکری قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے 1501ء میں تبریز فتح کیا اور ایران کو ایک متحد ریاست میں تبدیل کر دیا۔
زوال کے اسباب
اٹھارہویں صدی کے اوائل میں کمزور حکمرانوں، درباری زوال اور افغان قبائل کے 1722ء کے حملے (سقوطِ اصفہان) نے سلطنت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، اگرچہ برائے نام سلطنت 1736ء تک برقرار رہی۔
حکمران (11)
شاہ اسماعیل صفوی
1501ء – 1524ءسلطنت کی بنیاد رکھی اور شیعہ مسلک کو سرکاری حیثیت دی۔
شاہ طہماسپ اول
1524ء – 1576ءعثمانیوں کے ساتھ طویل جنگوں کے باوجود سلطنت کو مستحکم رکھا۔
شاہ اسماعیل ثانی
1576ء – 1577ءمختصر اور پرتشدد دور۔
شاہ محمد خدابندہ
1578ء – 1587ءکمزور نظر کے باعث اقتدار عملاً امرا کے ہاتھ میں رہا۔
شاہ عباس اعظم
1588ء – 1629ءسلطنت کے عروج کا دور، اصفہان کو دارالحکومت بنا کر فنِ تعمیر اور تجارت کو فروغ دیا۔
شاہ صفی
1629ء – 1642ءقندھار اور بغداد جیسے علاقے کھو دیے۔
شاہ عباس دوم
1642ء – 1666ءقندھار دوبارہ فتح کیا اور اصفہان میں تعمیرات جاری رکھیں۔
شاہ سلیمان اول (صفی ثانی)
1666ء – 1694ءنسبتاً پرامن مگر انتظامی زوال کا دور۔
شاہ سلطان حسین اول
1694ء – 1722ء1722ء میں افغان قبائل کے ہاتھوں سقوطِ اصفہان کے دور کے حکمران۔
شاہ طہماسپ ثانی
1722ء – 1732ءافغان تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامتی قیادت کی۔
شاہ عباس ثالث
1732ء – 1736ءآخری صفوی شاہ — نادر شاہ کی سرپرستی میں برائے نام حکمران رہے، جس کے بعد صفوی خاندان کا خاتمہ ہوا۔
متعلقہ واقعات
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔