مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · ایران و وسطی ایشیا

سلطنتِ صفویہ

الدولة الصفوية

1501ء (906ھ) – 1736ء (1149ھ)235 برس

آغاز1501ء (906ھ)
اختتام1736ء (1149ھ)
مدت235 برس
خطہایران و وسطی ایشیا
بانیشاہ اسماعیل صفوی
دارالحکومتتبریز، پھر اصفہان

ایک صوفی سلسلے سے نکل کر قائم ہونے والی ایرانی سلطنت، جس نے شیعہ اثنا عشری مسلک کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا۔ عثمانی اور مغلیہ سلطنتوں کے ساتھ 'تین بارود سلطنتوں' میں شمار ہوتی ہے۔

تاریخی تسلسل

  1. سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
  2. سلطنتِ تیموریہ 1370ء–1507ء
  3. سلطنتِ صفویہ
  4. سلطنتِ افشاریہ 1736ء–1796ء

عروج کے اسباب

شاہ اسماعیل صفوی نے صفوی صوفی سلسلے کی مذہبی و عسکری قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے 1501ء میں تبریز فتح کیا اور ایران کو ایک متحد ریاست میں تبدیل کر دیا۔

زوال کے اسباب

اٹھارہویں صدی کے اوائل میں کمزور حکمرانوں، درباری زوال اور افغان قبائل کے 1722ء کے حملے (سقوطِ اصفہان) نے سلطنت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، اگرچہ برائے نام سلطنت 1736ء تک برقرار رہی۔

حکمران (11)

  1. سلطنت کی بنیاد رکھی اور شیعہ مسلک کو سرکاری حیثیت دی۔

  2. شاہ طہماسپ اول

    1524ء – 1576ء

    عثمانیوں کے ساتھ طویل جنگوں کے باوجود سلطنت کو مستحکم رکھا۔

  3. شاہ اسماعیل ثانی

    1576ء – 1577ء

    مختصر اور پرتشدد دور۔

  4. شاہ محمد خدابندہ

    1578ء – 1587ء

    کمزور نظر کے باعث اقتدار عملاً امرا کے ہاتھ میں رہا۔

  5. شاہ عباس اعظم

    1588ء – 1629ء

    سلطنت کے عروج کا دور، اصفہان کو دارالحکومت بنا کر فنِ تعمیر اور تجارت کو فروغ دیا۔

  6. شاہ صفی

    1629ء – 1642ء

    قندھار اور بغداد جیسے علاقے کھو دیے۔

  7. شاہ عباس دوم

    1642ء – 1666ء

    قندھار دوبارہ فتح کیا اور اصفہان میں تعمیرات جاری رکھیں۔

  8. شاہ سلیمان اول (صفی ثانی)

    1666ء – 1694ء

    نسبتاً پرامن مگر انتظامی زوال کا دور۔

  9. شاہ سلطان حسین اول

    1694ء – 1722ء

    1722ء میں افغان قبائل کے ہاتھوں سقوطِ اصفہان کے دور کے حکمران۔

  10. شاہ طہماسپ ثانی

    1722ء – 1732ء

    افغان تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامتی قیادت کی۔

  11. شاہ عباس ثالث

    1732ء – 1736ء

    آخری صفوی شاہ — نادر شاہ کی سرپرستی میں برائے نام حکمران رہے، جس کے بعد صفوی خاندان کا خاتمہ ہوا۔

متعلقہ واقعات