مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔

کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔

اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔

خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
  2. "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
  3. سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
  4. تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
  5. داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
  6. علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
  7. تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
  8. جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟

انتخابات سے الگ رہنے کے نتائج

ان غلط مفروضات پر جس تجویز کی بِنا رکھی گئی ہے، اب ذرا خود اس کا جائزہ لے کر دیکھیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

انتخابات کے موقع پر اگر ہم خودمیدانِ مقابلہ میں آ کر ووٹر کی عملی راہ نُمائی نہ کریں تو ہماری محض تبلیغ اور اَخلاقی تلقین اس کے لیے بے معنی ہو گی۔ اس کے سامنے تو اس وقت یہ عملی سوال درپیش ہو گا اور یہی سوال وہ ہمارے سامنے بھی رکھے گا کہ ’’میں ووٹ استعمال کروں یا نہ کروں اور کروں تو کس کے حق میں؟‘‘ اس کے جواب میں ہمارا صرف یہ کَہ کر رہ جانا کہ تم ایمان داری کے ساتھ صالح آدمی کو ووٹ دو اور غیر صالح کو نہ دو، اس کے سوال کا درحقیقت کوئی جواب نہ ہو گا۔ وہ تو یہ کہے گا کہ کوئی صالح آدمی ہے تو اسے سامنے لاو۔ یا جو لوگ انتخاب کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ان میں سے کسی کا بتاو کہ میں اس کو ووٹ دوں۔ اگر ہم اس کے مسئلے کو حل نہیں کرتے تو وہ ہم سے مایوس ہوجائے گا۔ وہ سمجھ لے گا کہ یہ اس وقت میرے کسی کام نہیں آ سکے۔ ہماری تبلیغ وتلقین اس پر بے اثر ہو گی اور بالعموم اس کا ووٹ غلط جگہ ہی استعمال ہو گا۔ یا حد سے حد اگر اس تبلیغ کا کوئی اثر اس نے قبول کیا بھی تو وہ اس شکل میں ہو گا کہ وہ سرے سے کہیں ووٹ ہی نہ دے گا، یعنی محض ایک منفی اثر۔ جو طاقت مثبت طور پر ایک صحیح مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی وہ صرف رائیگاں چلی جائے گی اور انتخاب پر کچھ بھی اثر انداز نہ ہو گی۔

یہ معاملہ تو عام ووٹر کے ساتھ پیش آئے گا۔ رہے جماعتِ اِسلامی کے ارکان، متفقین، متاثرین اور وہ لوگ جو راہ نُمائی کے لیے اس کی طرف دیکھتے ہیں، تو یقینا ان کی بہت بڑی اکثریت کو انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال کرنے سے احتراز ہی کرنا پڑے گا، کیوں کہ اس ملک کے طول وعرض میں کم ہی مقامات ایسے ہوں گے جہاں کسی شخص کو ووٹ دینے کا فیصلہ ہم کر سکیں۔

اب ذرا حساب لگا کر دیکھیے کہ جماعتِ اِسلامی کے اپنے حلقہ اثر کے ووٹ پورے پاکستان میں کس قدر ہیں اور عوام میں اپنی تبلیغ اور جدوجہد سے وہ کتنے ووٹروں کو بالفعل متاثر کر سکتی ہے۔ آپ کسی مبالغہ کے بغیر یہ تسلیم کریں گے کہ مجموعی طور پر یہ تعداد کئی لاکھ تک پہنچتی ہے [واضح رہے کہ چھ سال پہلے جبکہ ہماری تحریک عوام میں کام کرنے کی ابتدا کر رہی تھی اور پہلی بار ہم انتخاب کے میدان میں آئے تھے ہم نے صرف پنجاب میں دو لاکھ سترہ ہزار آدمیوں سے ووٹ حاصل کئے تھے‛ اور ان کے مجموعی ووٹ چار لاکھ کے قریب تھے] اس چیز کو نگاہ میں رکھ کر آپ خود اندازہ کیجئے کہ یہ منفی پالیسی اختیارکرکے ہم کتنی بڑی طاقت ضائع کریں گے۔ یہ وزن ہے جو خیر کے پلڑے میں ڈالا جا سکتا ہے اور جسے کسی شر کا پلڑا ہلکا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آخرکیا معقول وجہ ہے کہ ہم اس کو یوںضائع کریں۔

اس پالیسی کا نقصان صرف یہی نہ ہو گا کہ ہم خیر کے لیے کام آنے والی ایک طاقت کو معطّل کریں گے، بلکہ درحقیقت یہ پالیسی متعدّد وجوہ سے شر کے لیے مثبت طور پر مددگار ہو گی۔

اس کی بدولت انتخابات کا یہ نتیجہ تو بہرحال سارے ملک کے سامنے آئے گا کہ یہاں غیر اِسلامی نظریات سے متاثر ہونے والے، یا تعصبات اور خوف اور لالچ کے زیر اثر رائے دینے والے کتنے ہیں۔ لیکن یہ بات مبہم ہی رہے گی کہ اس آبادی میں کتنے لوگ اِسلامی نظامِ زندگی کے حامی ہیں اور اس کی خاطر ایمان داری کے ساتھ اپنا ووٹ دے سکتے ہیں۔ یہ چیز بگاڑ کی طاقتوں کے لیے حوصلہ افزا اور اصلاح کی کوشش کرنے والوں کے لیے ہمت شکن ہو گی اور عام طور پر پبلک کے نفسیات پر بھی اس کا تباہ کن اثر پڑے گا۔

اس سے عام لوگوں میں مایوسی پیدا ہو جائے گی کہ موجودہ قیادت سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہے، اس لیے وہ دل چھوڑ کر اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے۔

لوگ اس بات سے بھی مایوس ہو جائیں گے کہ یہاں اِسلامی نظامِ زندگی قائم کرنے کے لیے عملاًکچھ کیا جا سکتا ہے۔ وہ دیکھیں گے کہ جو لوگ اسی کام کا بیڑا اٹھا کر نکلے تھے وہ فیصلے کے وقت پیچھے ہٹ گئے۔ اس سے یقینا عام ذہن یہی اثر لے گا کہ اِسلامی نظام کی باتیں محض وعظوں کے لیے ہیں، کرکے دکھا دینے والا کوئی نہیں ہے۔

میدان میں صرف وہ عناصر رہ جائیں گے جو معاشرے کے ذہن اور اَخلاق کو بگاڑنے والے اور فاسد قیادتوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ اس ملک کی پوری بالغ آبادی میں اپنی فکری اور اَخلاقی گمراہیاں پھیلائیں گے اور ایک ایک ووٹر تک اپنے ناپاک اثرات پہنچا دیں گے۔ جواب میں کوئی طاقت ایسی نہ ہو گی جو اس زہر کا مداوا کر سکے۔ جماعتِ اِسلامی، انتخابات میں محض بھلائی کا وعظ کہنے کے لیے خواہ کتنا ہی بڑا پروگرام بنائے‘ میدانِ مقابلہ میں اترے بغیر فطرتاً یہ کسی طرح ممکن نہ ہو گا کہ کارکن ہر ووٹر تک پہنچیں اور ہر انتخابی حلقے میں برائی کے بالمقابل بھلائی کا عملی مظاہرہ کر سکیں۔

ووٹر کوعملاً صرف فاسد ومفسد عناصر ہی سے سابقہ ہو گا۔ اس کے سامنے ان کا کوئی بدل سرے سے ہو گا ہی نہیں کہ وہ اس کے سوا کسی اور کو ووٹ دینے کی سوچ سکے۔ جو شخص بھی اپنا ووٹ استعمال کرے گا اس کا ووٹ لامحالہ انھی میں سے کسی کو جائے گا۔ اور جو نہ کرے گا اس کا وزن کسی پلڑے میں پڑے گا ہی نہیں کہ اس کا کوئی اچھا یا بُرا اثر مرتب ہو۔

اس طرح ہم یہاں غیر اِسلامی اور غیر اَخلاقی طاقتوں کو چھا جانے کا کھلا موقع دے دیں گے۔ وہ ایوان حکومت کے اندر بھی اس طرح چھائیں گی کہ کوئی دینی عنصر ان کو اور ان کی باتوں کو چیلنج کرنے والا نہ ہو گا۔ اور باہر پبلک کے ذہن پر بھی مسلّط ہو جائیں گی، کیوں کہ اِسلامی نظام زندگی کی حمایت کرنے والا عنصر اس کو عملاً مایوس کر چکا ہو گا۔

یہ ہیں اس پالیسی کے لازمی نتائج جن سے ہم کسی طرح نہیں بچ سکتے، اب جو شخص ہم سے یہ کہنا چاہتا ہو کہ ہمیں پھر بھی انتخابات سے الگ ہی رہنا چاہیے؟ اسے یہ بتانا ہو گا کہ انتخابات میں حصہ لینے کے وہ کون سے نقصانات ہیں اور الگ رہنے کے وقت کون سے فوائد ہیں جنھیں وہ ان نتائج کے مقابلے میں زیادہ وزنی ثابت کر سکتا ہو۔