مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔

کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔

اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔

خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
  2. "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
  3. سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
  4. تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
  5. داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
  6. علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
  7. تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
  8. جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟

پہلی وجہ

پہلی اور سب سے بڑی، بلکہ اصلی وجہ جو مختلف مواقع پر میں نے سنی ہے، یہ ہے کہ ان کے نزدیک جماعت کی دینی واَخلاقی حالت گر گئی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ پہلے سیاسی جدوجہد سے ہٹ کر کارکنوں کے اَخلاق بنائے جائیں، پھر اس میدان میں واپس آیا جائے۔

اس کے متعلق یہ عرض کروں گا کہ اگر ساری جماعت بحیثیت مجموعی بگڑ گئی ہے تو اسے توڑ دیجئے، کیوں کہ ہم بگاڑ کو سنوارنے کے لیے اٹھے تھے، بگڑی ہوئی جماعتوں میں ایک اور جماعت کا اضافہ کرنے کے لیے نہیں اٹھے تھے۔ لیکن اگر پورے مجموعے پر یہ ہمہ گیر حکم محض مبالغہ ہے اور امر واقعی صرف اس قدر ہے کہ جماعت میں کچھ افراد معیار سے گرے ہوئے پائے جاتے ہیں، تو اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ سارا قافلہ ان چند افراد کی خاطر رک کر کھڑا ہو جائے اور جب تک وہ درست نہ ہو جائیں، آگے کا سفر ملتوی رہے۔ بلکہ اسکا صحیح علاج یہ ہے کہ جماعت کے معروف طریقے کے مطابق ایسے ناکارہ لوگوں کو یا تو درست کیجئے یا پھر جماعت سے خارج کر دیجئے، مگر قافلہ کی راہ ایک لمحہ کے لیے بھی کھوٹی نہ کیجئے۔ جماعتِ اِسلامی کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ یہ جماعت آخر کب اس طریقے پر عامل رہی تھی کہ جو لوگ ایک دفعہ اس کے نظام میں آ گئے ہوں وہ خواہ معیار پر قائم رہیں یا اس سے گر جائیں، ان کو ہر حال میں اپنے سینے سے چمٹائے رکھا جائے اور ناکارہ لوگوں کو نکالنے کے بجائے جماعت اپنے پروگرام ان کی وجہ سے بدل دیا کرے؟ اس نے تو اول روز سے اپنے ہاں تنقید اور محاسبہ کا طریقہ اختیار کیا تھا، تاکہ ہمیشہ کارکنوں کی حالت کا جائزہ لے کر دیکھا جاتا رہے کہ وہ کم از کم معیار جو رکنیت کے لیے مطلوب ہے، ان میں پایا جاتا ہے یا نہیں، پھر جسے بھی معیار سے گرتے دیکھا جائے اس کے تمام رفقا اسے سنبھالنے کی فکر کریں اور اگر وہ نہ سنبھلے تو پھر بادلِ نخواستہ اسے رخصت کر دیا جائے۔ اس قاعدے کے مطابق ابتدا سے جماعت میں داخلے کا سلسلہ جس طرح چلتا رہا ہے اسی طرح اخراج کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے، حتّٰی کہ ۴۴۔۴۵؁ء میں ایک سال کے اندر تین سو ارکان کا اخراج تک عمل میں آ چکا ہے۔ [رودار جماعت حصہ سوم صفحہ 13-14 واضح رہے کہ اس سال کے آغاز میں ارکان کی کل تعداد ساڑھے سات سو تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ 40 فی صد ارکان ناکارہ پا کر خارج کیے گئے] یہ قاعدہ آج بھی آپ کی جماعت میں موجود ہے اور آپ اس پر عمل کرکے جماعت کو ایسے تمام عناصر سے خالی کر سکتے ہیں جن کی دینی واَخلاقی حالت گر گئی ہو۔ ایسے لوگ اگر آپ کے اندر آج پائے جا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی جماعت کے اس معروف قاعدے پر عمل کرنے میں کوتاہی کی ہے۔ اب یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسے تازہ کرنے اور اس پر ٹھیک ٹھیک عملدرآمد کرنے کے بجائے ہمارے سامنے الٹی یہ تجویز لائی جاتی ہے کہ جماعت ان لوگوں کو اپنے اندر رکھنے کی خاطر اس پروگرام میں ردّوبدل کر ڈالے جو اس کے نصب العین کا لازمی تقاضا ہے۔

پھر کہتا ہوں کہ اگر اس پروگرام کے سیاسی جز کومعطّل کرنا اس لیے ناگزیر ہو گیا ہے کہ جماعت میں کچھ عناصر دینی واَخلاقی حیثیت سے گر گئے ہیں تو اس سے زیادہ ناگزیر یہ ہے کہ دعوت وتبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ اور توسیعِ جماعت کے کام کو بھی معطّل کر دیا جائے، کیوں کہ گری ہوئی دینی واَخلاقی حالت کے ساتھ دعوتِ الی اللہ کیسی اور معاشرے کی اصلاح کے کیا معنی اور صالح افراد کی تلاش وتنظیم کا کیا موقع؟ اس دلیل سے تو جماعت کا پروگرام اب صرف اپنے موجودہ ارکان کی تربیت تک محدود رہنا چاہیے اور یہ طے ہو جانا چاہیے کہ جب تک سارے ارکان پورے معیاری رکن نہ ہو جائیں، پبلک میں جا کر کوئی دعوتی یا اصلاحی یا سیاسی کام نہ کیا جائے۔ نیز یہ بھی طے ہو جانا چاہیے کہ جب بھی ارکان کی حالت کا جائزہ لینے کے بعد یہ پتہ چلے کہ تربیت کی ساری کوششوں کے باوجود پھر کچھ لوگ جماعت میں دینی واَخلاقی حیثیت سے گرے ہوئے پائے جاتے ہیں تو پھر اسی طرح سارے پروگرام معطّل کرکے جماعت تربیت گاہوں کی طرف پلٹ جایا کریگی۔ اس کے بعد یہ سوال خارج از بحث فرما دیجیے کہ یہ جماعت کبھی کوئی کام کر بھی سکے گی یا نہیں۔ میرے علم میں ایسا کوئی طریق تربیت اب تک نہیں آیا ہے جو معیارِ مطلوب کے آدمی تیار کرنے کی سو فی صدی ضمانت دیتا ہو۔ اس کی آپ جتنی چاہیں کوشش کر دیکھیں، ہر جائزہ آپ کو یہی رپورٹ دے گا کہ آپ کے درمیان ایک ناقابلِ اطمینان عنصر موجود ہے۔ بلکہ بحیثیت مجموعی پوری جماعت کے متعلق بھی ہر پہلو سے کامل اطمینان کی رپورٹ شاید آپ کبھی نہ پا سکیں گے۔ اب اگر یہ بات آپ ایک دفعہ طے کر لیں کہ ایسے جائزوں کا نتیجہ ہمیشہ آپ کے پروگراموں کو معطل کرنے ہی کی صورت میں نکلنا چاہیے تو میرے نزدیک اس کے بعد عقلمندی یہ ہے کہ آپ نظامِ زندگی کے انقلاب کی داستان لپیٹ کر رکھ دیں اور خانقاہیں بنانے کی تجویزیں سوچیں۔ اس کروفر کے ساتھ آپ اجتماعی زندگی میں کبھی کوئی مؤثر کام نہیں کر سکتے۔

یہ تو ہے اس طرز فکر کا ایک کم زور پہلو۔ دوسرا اس سے بھی زیادہ کم زور پہلو یہ ہے کہ اس تجویز میں اَخلاق بنانے اور مردانِ کار تیار کرنے کا ایک ایسا تصوّر کام کر رہا ہے جو بنیادی طور پر غلط ہے اور میرے لیے یہ بات سخت حیرانی ہی کی نہیں، پریشانی کی موجب بھی ہے کہ سالہا سال سے ہم سیرت واَخلاق کی تیاری کے جس تصوّر کی اصلاح کے لیے کوشش کر رہے ہیں وہ ہمارے دائرے میں کیسے راہ پا گیا۔ یہ کہنا کہ جماعتِ اِسلامی سیاسی جدوجہد کے میدان سے ہٹ کر پہلے کارکنوں کا اَخلاق بنائے پھر اس میدان میں قدم رکھے، اپنے پیچھے اَخلاق کی تیاری کا یہ تصوّر رکھتا ہے کہ ایک کام کے لیے جس قسم کے اَخلاق کی ضرورت ہے وہ اس کام میں پڑے بغیر کہیں باہر سے تیار کر کے لائے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ تصوّر اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی آدمی پانی میں اترے بغیر بھی تیراک ہو سکتا ہے۔ عقل اس کو غلط کہتی ہے۔ بارہا کے تجربات اس کو غلط ثابت کر چکے ہیں۔ ہمارا شب وروز کا مشاہدہ اس کی تردید کر رہا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہر کام کے لیے جس قسم کے اَخلاق مطلوب ہوتے ہیں وہ اسی کام میں پڑ کر بنتے ہیں۔ دعوت وتبلیغ کے لیے جو اَخلاق درکار ہیں وہ دعوت وتبلیغ ہی میں بنیں گے اور تجارت کے لیے جو اخلاق درکار ہیں وہ دکان اور منڈی ہی میں تیار ہونگے۔ حجروں میں بیٹھ کر آپ دس برس بھی مشق وتمرین کر لیں، دعوت وتجارت کے میدان میں قدم رکھتے ہی آپ کو محسوس ہو گا کہ یہاں جن آزمائشوں سے سابقہ ہے ان کے مقابلے میں اَخلاقی حیثیت سے آپ بالکل مبتدی کے مقام پر ہیں۔ ایسا ہی معاملہ سیاست اور انتخابات کا بھی ہے۔ اس کام کی اَخلاقی مشکلات اور اس میں اترنے کے خطرات ونقصانات کو دیکھ کر آپ یہ فیصلہ کرنا چاہیں تو کر لیجیے کہ ہمیں اس میدان سے ہمیشہ کے لیے ہٹ جانا ہے۔ مگر یہ محض ایک خام خیالی ہے کہ آپ کا ارادہ تو اس میدان میں واپس آنے ہی کا ہو، لیکن آج آپ اس لیے ہٹ جائیں کہ چند سال تک آپ کہیں وہ اَخلاق تیار کرتے رہیں گے جو سیاسی کام اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے درکار ہیں۔

میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جتنے سال بھی آپ چاہیں اس میدان سے باہر تیاری کرتے رہیں۔ آخر کار جب آپ پلٹ کر ادھر آئیں گے تو اپنے آپ کو آج کی حالت سے کچھ بھی بہتر نہ پائیں گے۔ یہاں جو اَخلاقی قوت درکار ہے وہ باہر کسی جگہ سے بنا کر نہیں لائی جا سکتی۔ اس کا نشوونما اسی میدان میں شیطانی قوتوں سے نبرد آزمائی کرکے ہو سکتا ہے۔ اس کے ارتقا کی صورت صرف یہ ہے کہ آپ اپنے کارکنوں کو ایک نصب العین اور ایک ضابطہ اَخلاق دے کر سیاسی جدوجہد کے عرصہ کار زار میں لائیں اور پھر سخت سے سخت نازک مواقع پر انھیں اس نصب العین اور ضابطہ اَخلاق سے ہٹنے نہ دیں۔ انھیں انتخابی معرکے میں ان پارٹیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے بڑھائیں جو اَخلاق ودیانت کے سارے اصولوں کو توڑ کر بازی جیتنے کی کوشش کرتی ہیں اور پھر اس امر کی پوری نگرانی کرتی ہیں کہ انتخابی جنگ کی انتہائی گہما گہمی میں بھی آپ کے کارکن اَخلاق کے کسی ضابطے اور دیانت کی کسی حد کو توڑنے نہ پائیں۔ ان آزمائشوں میں جن لوگوں سے کسی لغزش کا صدور ہو، ان پر گرفت کیجئے، جو قابلِ اصلاح ہوں ان کی اصلاح کی کوشش کیجئے اوردیکھیے کہ بعد کی آزمائشوں میں وہ کیسے ثابت ہوتے ہیں اور جن کی حالت ناقابلِ اصلاح پائی جائے انھیں ہٹا کر پھینک دیجئے۔ یہ عملی تربیت اسی تربیت گاہ میں مل سکتی ہے۔ باہر کہاں آپ یہ تربیت دیں گے اور کیسے آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ اَخلاق جو اس کام کے لیے مطلوب ہیں، تیار ہوئے یا نہیں؟

جماعتِ اِسلامی کے لیے یہ کوئی نیا طریقِ تربیت نہیں ہے جو آج پہلی مرتبہ اس کے سامنے پیش کیا جا رہا ہو، بلکہ ۱۹۵۱ء کے انتخابات میں وہ اس کو آزما چکی ہے اور اس کے نتائج کا جائزہ بھی آپ کی مجلسِ شُورٰی نے لے کر جو تبصرہ ایک طویل قرارداد کی شکل میں جماعت کے انتخابی کام پرکیا تھا اس کے یہ فقرے ملاحظہ ہوں:

’’اس انتخابی جدوجہد کے دوران میں عام پبلک میں سے سترہ سو (۱۷۰۰) ایسے نئے آدمی اٹھ کھڑے ہوئے جنھوں نے ہمارے کارکنوں کا پوری طرح سے ہاتھ بٹایا اور بغیر کسی ذاتی غرض یا لالچ کے ان تمام اَخلاقی پابندیوں کے ساتھ جو ہم نے اپنے کارکنوں پر عائد کر رکھی تھیں، پوری طرح جان لڑا کر کام کیا‘‘۔

’’باوجودیکہ پنجاب کے اتنے وسیع رقبوں میں جماعت کے تین چار ہزار کارکنوں نے اتنے وسیع پیمانے پر انتخابی جدوجہد کی اور اس میں مخالف جماعتوں اور امیدواروں کی شدید بداَخلاقیوں اور بے ضابطگیوں کا ان کو مقابلہ کرنا پڑا، تاہم پولنگ کے انتہائی بحرانی زمانے میں بھی جماعت کے کارکنوں نے بحیثیت مجموعی اَخلاقی طہارت وضابطہ وقانون کی پابندی کا ایسا بے نظیر نمونہ پیش کیا جس کا اعتراف حکومت کے عمال اور مخالف پارٹیوں کے کارکنوں تک کو کرنا پڑا۔ الیکشن کے پورے کام کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ دو چار حلقوں کے سوا پورے پنجاب میں کہیں جماعت کے کارکنوں سے کسی اَخلاقی کم زوری، یا قانون وضابطہ کے خلاف ورزی کا ارتکاب نہیں ہوا اور ان دو چار حلقوں میں بھی جماعت کے کارکن بحیثیت مجموعی اس میں ملوث نہیں ہوئے بلکہ چند منفرد کارکنوں… اور زیادہ تر نئے کارکنوں… سے اس کا صدور ہوا۔‘‘

’’خصوصیّت کے ساتھ جو چیز ہمارے لیے قابلِ اطمینان ہے وہ یہ ہے کہ اس انتخابی جدوجہد میں جتنی خواتین نے پنچایتی نمائندوں کے لیے کام کیا، انھوں نے ہر جگہ شرعی پردے کے تمام حدود کی پوری طرح پابندی کی، درآنحالیکہ ایک آدھ پولنگ اسٹیشن کے سوا پورے پنجاب کا کوئی پولنگ اسٹیشن ایسا نہیں تھا جہاں زنانہ پولنگ کے وقت حکومت اور سیاسی پارٹیوں اور مخالف امیدواروں نے پردے کے حدود کا کچھ بھی لحاظ کیا ہو۔‘‘

’’جماعت کے کارکن پہلی مرتبہ انتخاب کے میدان میں اترے تھے۔ اکثر وبیشتر کو پہلے سے انتخاب کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ اور اَخلاقی قیود اور قانون وضابطہ کی پوری پابندی کے ساتھ الیکشن لڑنے کا تو موجودہ جمہوریت کی تاریخ میں شاید یہ پہلا تجربہ تھا۔‘‘ [روداد مجلس شوریٰ‛ اپریل 1951ء‛ صفحہ 1007]

’’آیندہ ہر انتخاب کے موقع پر یہ بات نہ صرف کارکنانِ جماعت پر، بلکہ جماعت کی حمایت میں جو لوگ کام کریں ان پر بھی اچھی طرح واضح کر دی جائے کہ جماعتِ اِسلامی انتخاب میں کوئی نشست جیتنے کی بہ نسبت زیادہ اور بدرجہا زیادہ اہمیت اس امر کودیتی ہے کہ انتخابات کو بداَخلاقیوں اور بے ضابطگیوں سے پاک کیا جائے اور انتخابی جنگ میں اَخلاقی حدود اور قانون وضابطے کی پوری پوری پابندی کا نمونہ پیش کیا جائے۔ کیوں کہ سیاست کو صداقت اور دیانت پر قائم کرنا جماعتِ اِسلامی کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے اور اس مقصد کو ہم کسی بڑے سے بڑے وقتی فائدے پر بھی قربان کرنے کے لیے تیارنہیں ہیں۔ اس بِنا پر مجلسِ شُورٰی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ آیندہ کسی ایسے رکن جماعت کو ہرگز معاف نہ کیا جائے جو کبھی انتخابی جدوجہد میں اَخلاق اور ضابطے کی حدود سے تجاوز کرے اور جماعت سے باہر کے جن لوگوں سے اس طرح کی حرکات کا صدور ہو آیندہ کے لیے ان کا تعاون قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے۔‘‘[روداد مجلس شوریٰ‛ اپریل 1951ء‛ صفحہ 22-23]

یہ ہے وہ طریقِ تربیت جس کا آپ پہلے تجربہ کر چکے ہیں اور یہ ہیں اس کے نتائج جو آپ کی مرکزی مجلسِ شُورٰی کے ۱۷، آدمیوں نے پورے انتخابی کام کا جائزہ لینے کے بعد ایک باقاعدہ قرارداد کی شکل میں بیان کیے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں، کیا یہ نتائج واقعی ایسے دل شکن اورمایوس کن ہیں کہ انھیں دیکھ کر آپ اس طریقے کو ناکام کَہ سکیں؟ اور کیا آپ سیاست اور انتخابات کے معرکے میں اترنے کے لیے یہ شرط لگانا چاہتے ہیں کہ تین چار ہزار آدمی اگر آپ میدان میں لائیں تو ان میں سے ایک کا کام بھی معیار سے گِرا ہوا نہ پایا جا سکے؟ اور کونسا دوسرا طریقہ آپ تجویز کرتے ہیں جو اس میدان سے باہر آدمی تیار کرتا ہو اور پھر اس امر کی ضمانت دے کر انھیں میدان میں لا سکتا ہو کہ ہزار میں ایک آدمی بھی عملی تجربے میں ناقص نہ نکلے گا؟

اس طرز فکر کا ایک کم زور پہلواور بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو حضرات یہ بات کہتے ہیں کہ اس وقت سیاست کے میدان سے ہٹ جائیے اور پھر چند سال اَخلاق بنانے میں صرف کرکے پوری تیاری کے ساتھ واپس آئیے، انھوں نے غالباً یہ فرض کر لیا ہے کہ ہم خلا میں کام کر رہے ہیں ا ور یہاں یہ بالکل آسان ہے کہ ہم جب چاہیں ایک جگہ سے ہٹ جائیں اور پھر جب چاہیں اسی جگہ آن کھڑے ہوں۔ حالانکہ امرِ واقعی جس سے ہم دوچار ہیں وہ یہ ہے کہ دس برس سے ہم سخت مزاحمتوں کے مقابلے میں اپنے نصب العین کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، بہت سی طاقتیں ہیں جن سے ایک ایک قدم پر کش مکش کرتے ہوئے ہم اپنے موجودہ مقام پر پہنچے ہیں اور وہ مخالف طاقتیں ہر وقت ہم کو ہٹانے اور دور پھینک دینے کے لیے زور لگا رہی ہیں۔ یہ کوئی خالی میدان نہیں ہے جس میں ہم ٹہلتے ہوئے آئے ہوں اور پھر ٹہلتے ہوئے ہی واپس آ سکتے ہوں۔ یہ تو مقابلے اور کش مکش کا میدان ہے جس میں ایک قدم بھی پیچھے ہٹ جائیے تو کھوئی ہوئی جگہ پر پلٹ کر آنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے یہاں سے عام پسپائی کا فیصلہ محض خیالات کی چند لہروں سے متاثر ہو کر رواداری میں نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اوّل تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سیاسی میدان میں کام کرنے سے وہ کونسا نقصانِ عظیم ہماری تحریک کو پہنچا ہے جس کے مقابلے میں یہ پورا میدان مخالف دین اور مخربِ اَخلاق طاقتوں کے لیے خالی چھوڑ دینا کم تر درجے کا نقصان سمجھا جا سکے اور اس نقصان کو گوارا کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ دوسری یہ بات ہمارے سامنے واضح ہونی چاہیے کہ یہاں سے ہٹ کر ہم پھر یہاں واپس آ بھی سکیں گے؟ اس لیے کہ جو چند سال ہم اَخلاقی تیاریوں میں صرف کریں گے، ان میں مخالف طاقتیں بے کار نہیں بیٹھی رہیں گی ، بلکہ یہی چند برس وہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے اور آپ کی واپسی کا دروازہ بند کرنے میں صرف کریں گی اور ان کی کوشش یہ ہو گی کہ اس ملک میں دینی نظام کے لیے جدوجہد کرنے کے مواقع حتی الامکان بالکل ختم کر دیے جائیں۔ ان دو سوالات کا کوئی اطمینان بخش جواب جب تک نہ ملے، سیاسی میدان سے پسپائی کی کوئی تجویز ہمارے لیے لائق غور بھی نہیں ہو سکتی، کجا کہ آنکھیں بند کرکے اسے صرف اس لیے قبول کر لیا جائے کہ جماعت کی اَخلاقی حالت گر جانے کا ایک خطرہ ہمارے سامنے پیش کر دیا گیا ہے جو بجائے خود واقع کے اعتبار سے بھی نہایت مبالغہ آمیز ہے۔