مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔

کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔

اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔

خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
  2. "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
  3. سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
  4. تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
  5. داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
  6. علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
  7. تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
  8. جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟

تیسرا دور

اس کے بعد منزل مقصود کی طرف پیش قدمی کا وہ دور شروع ہوا جو ۱۹۳۹ء سے تشکیلِ جماعت (اگست ۴۱ء) تک رہا ہے۔ یہ جماعتِ اِسلامی کی تاریخ کا نہایت اَہم دَور، اس کا دور تاسیس ہے جس میں پوری طرح کھول کر وہ راستہ لوگوں کے سامنے پیش کر دیا گیا جو اصل اِسلامی نصب العین کی طرف جاتا ہے اور تمام دوسرے راستوں سے جن پر لوگ اس وقت دوڑ رہے تھے، اس کا فرق نمایاں کرکے رکھ دیا گیا۔ یہی چیز بالاخر اس کی موجب ہوئی کہ اس سخت ہنگامے کے دور میں ایک گروہ اس راستے پر چلنے کے لیے تیار ہو گیا اور اس امر کے امکانات پیدا ہو گئے کہ نظام زندگی میں اساسی تغیر کے لیے عملاً ایک منظم تحریک شروع ہو جائے۔

اس دَور کے کام کو سمجھنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ حالات آپ کی نگاہ میں ہوںجن میں یہ کام کیا گیا تھا۔ ۱۹۲۲ء کے بعد ہندوستان میں ایک ایسا دور شروع ہوا تھا جس میں ایک طرف اس برعظیم کے مسلمان سخت انتشار، پراگندہ خیالی اور زیاں کاری میں مبتلا ہوتے چلے گئے اور دوسری طرف گاندھی جی کی قیادت میں ہندو قوم پرستی روز بروز ایک زبردست طاقت بن کر اس قابل ہوتی چلی گئی کہ انگریزی اقتدار کی جانشین بن سکے۔ دونوں طاقتوں کا یہ فرق یوماً فیوماً بڑھتا چلا جا رہا تھا، یہاں تک کہ پندرہ برس بعد ۱۹۳۷ء میں اس کا یہ نتیجہ ایک بم کی طرح پھٹ کر ظاہر ہوا کہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے حصے پر کانگریس کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس وقت یہ بات علانیہ نظر آنے لگی کہ انگریزی اقتدار اس کے مقابلے میں زیادہ دیر تک نہیں ٹھیر سکے گا۔ یہ صورت حال دیکھ کر مسلمان سوتے سوتے یکایک ہڑبڑا کر اٹھے اور ان میں ایک نئی قومی تحریک پیدا ہوئی جس نے دو تین سال کے اندر ان کے بہت بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمیٹ لیا۔ یہ تحریک گھبراہٹ میں شروع ہوئی تھی۔ فوری ہیجان کا نتیجہ تھی۔ کسی منظم فکر، کسی واضح مقصد، کسی سوچے سمجھے نقشے کی رہین منت نہ تھی۔ طرح طرح کے متضاد عناصر، متضاد رجحانات اور مقاصد کے ساتھ ساتھ اس میں شامل ہو گئے تھے اور ہوتے چلے جا رہے تھے۔ عام لوگوں کو جو چیز اس کی طرف کھینچ کر لا رہی تھی وہ اِسلام سے ان کی محبت تھی جس کی بنا پر وہ اِسلامی تہذیب کا احیا اور اِسلامی حکومت کا قیام چاہتے تھے۔ لیکن دوسری طرف اس تحریک کی قیادت جس طرز پر کی جا رہی تھی وہ خالص قوم پرستانہ تھا جس میں مشکل ہی سے دینی رجحان کا کوئی شائبہ پایا جاتا تھا ۔ایسی تحریک کے نتیجے میں اس سے زیادہ کچھ ممکن نہ تھا کہ اگر ملک تقسیم ہو (جس کا پرزور مطالبہ ۱۹۳۹ء میں شروع ہو چکا تھا) تو ایک ایسی لادینی جمہوری قومی ریاست قائم ہو جائے جس میں مسلمان عنصر غالب ہوں۔ یعنی وہی ہندوستان کا سا کافرانہ نظام، صرف اس فرق کے ساتھ کہ ایک جگہ کوئی رام پرشاد اس کو چلائے تو دوسری جگہ کوئی عبداللہ اس کا منتظم ہو۔ ان دو رجحانات کے درمیان بہت سے جدید تعلیم یافتہ اور بہت سے دین دار لوگوں کا ایک گروہ ایسا تھا جو یہ استدلال کر رہا تھا کہ اِسلامی حکومت کے قیام کا راستہ یہی ہے کہ پہلے اس قوم پرستانہ تحریک کے ذریعہ سے مسلمانوں کی ایک قومی ریاست چاہے وہ لادینی ہی کیوں نہ ہو، بن جائے، پھر اسے اِسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس دلیل سے عام طور پر لوگ اطمینان کے ساتھ یہ سمجھ رہے تھے کہ واقعی اِسلامی نصب العین کی طرف یہی راستہ جاتا ہے۔اس کے ساتھ اس زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایک اچھا خاصا طاقتور عنصر ان لوگوں کا بھی موجود تھا جو کہتے تھے کہ ہم بھی اِسلامی حکومت ہی کا قیام چاہتے ہیں، مگر اس کا راستہ یہ ہے کہ پہلے ہندوستانی قوم پرستی کی تحریک میں شامل ہو کر انگریزی اقتدار سے آزادی حاصل کرو، پھر آزاد ہندوستان میں اس مقصد کے لیے جدوجہد شروع کرو۔ اس گروہ میں ملک کے نامور اور مقتدر علما کی موجودگی لوگوں کے لیے سخت فریب کا ذریعہ بنی ہوئی تھی۔

ایک اور تحریک بھی اس دور میں بڑے زور شور کے ساتھ چل رہی تھی جو اِسلامی حکومت ہی کو مقصود قرار دیتی تھی، مگر اس تک پہنچنے کے لیے صرف فوجی تنظیم کو کافی سمجھتی تھی۔ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اس کی بھی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ان حالات میں جو کام کیا گیا (اور یاد رکھئے کہ یہ کام بھی صرف ایک شخص کے ذاتی ذرائع کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اور مواقع کا حال یہ تھا کہ وقت کی تمام تحریکوں سے اختلاف کرنے کے باعث یہ زمانہ اس کام کے لیے انتہائی ناسازگار تھا) اسے ہم تین بڑے بڑے عنوانات پر تقسیم کر سکتے ہیں:

ایک کام یہ تھا کہ اِسلامی حکومت کے بنیادی نظریّے اور اس کے نمایاں خدوخال کو لوگوں کے سامنے کھول کر رکھا گیا تاکہ وہ اس چیز کی نوعیت اچھی طرح سمجھ لیں جس کی صرف طلب ان کے اندر پیدا ہوئی تھی۔ یہ کام اس زمانے کے متعدد مقالات اور تقریروں میں کیا گیا تھا، جن میں سے ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ (مئی ۱۹۳۹ء) ’’اِسلام کا نظریہ سیاسی‘‘ (دسمبر ۱۹۳۹ء) اور ’’سلامتی کا راستہ‘‘ (اپریل ۱۹۴۰ء) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ اوّل تو لوگ اپنی مطلوب شے کی صحیح نوعیت سمجھ کر اسے حاصل کرنے کے لیے وہ طریقہ اختیار کریں جو فی الواقع اس کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو عام طور پر لوگوں میں اس کی واقفیت اس حد تک پیدا کر دی جائے کہ کوئی قیادت کل کسی وقت کوئی مذہبی کھلونا دے کر انھیں اس دھوکے میں نہ ڈال دے کہ جو کچھ وہ چاہتے تھے وہ انھیں حاصل ہو گیا ہے۔

دوسرا کام یہ تھا کہ تہذیبِ اِسلامی کے احیا کی جو مبہم سی خواہش لوگوں میں اس وقت ابھر آئی تھی، اس کے متعلق انھیں وضاحت کے ساتھ یہ بتایا گیا کہ یہ تہذیب دراصل ہے کیا چیز، اس میں اور دوسری تہذیبوں میں اصولی فرق کیا ہے اور اس کا احیا کس وسعت کے ساتھ، زندگی کے کن گوشوں میں، کس کس نوعیت کی مساعی چاہتا ہے۔ نیز یہ کہ ایک حقیقی اِسلامی نظامِ حکومت کا قیام اس تہذیب کے احیا اور بقا کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔ اور اس کے برعکس مسلمانوں کی جاہلی حکومت اس میں کتنی بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ اس کام کے نشانات بھی اس دور کے متعدد مضامین اور تقریروں میں آپ کو ملیں گے۔ مگر خاص طور پر ’’تجدید واحیائے دین‘‘ (فروری ۱۹۴۰ء) اور ’’اِسلام اور جاہلیت‘‘ (فروری ۱۹۴۱ء) کا موضوع یہی تھا۔ اور اس سے مقصود یہ تھا کہ سنجیدہ اورمعاملہ فہم لوگ، جو خواہشات سے آگے بڑھ کر عملاً بھی کچھ کرنا چاہتے ہوں، یہ جان لیں کہ اگر واقعی یہی شے انھیں مطلوب ہے تو انھیں اس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

تیسرا کام یہ تھا کہ مسلم قوم پرستی اور اِسلام کا مخلوطہ، جس کی بے شمار صورتوں نے اس وقت ذہنوں میں سخت گھپلا ڈال رکھا تھا، اس کا پورا تجزیہ کرکے یہ حقیقت لوگوں کے سامنے بے نقاب کر دی گئی کہ اِسلامی نظامِ زندگی کا احیا اور قیام فی الواقع کس نوعیت کی تحریک چاہتا ہے اور جو تحریکیں مسلمانوں میں چل رہی ہیں وہ کیوں اس نصب العین تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ یہ کام اس سلسلہ مضامین کے ذریعہ سے کیا گیا جو جولائی ۳۹ء سے ۴۱ء کے آغاز تک مسلسل لکھے گئے تھے اور فروری ۴۱ء میں ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ حصہ سوم کے نام سے شائع ہوئے اور یہی کام اس تقریر میں بھی کیا گیا جو ستمبر ۴۰ء میں ’’اِسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘‘ کے عنوان پر علی گڑھ یونی ورسٹی میں کی گئی تھی۔ اس کام کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو یہ تھا کہ اس میں ان دو بڑی غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس میں مسلمان اس وقت شدت کے ساتھ مبتلا تھے۔ کانگریسی وطن پرستی سے بغاوت کرکے وہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز کر رہے تھے جس کا مقصد کم از کم عام مسلمانوں کے نزدیک اِسلامی حکومت کا قیام تھا۔ مگر پہلی غلط فہمی جس میں وہ پڑ گئے تھے وہ یہ تھی کہ کیاایک خالص قوم پرستانہ تحریک‘ جو مسلم قومیت سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں کو لے کر اٹھے اور دینی رجحانات ومحرکات کے بغیر محض نیشنلزم کے اصولوں پر چلے، وہ اِسلامی حکومت کے قیام کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ اور دوسری غلط فہمی انھیں یہ لاحق تھی کہ پہلے مسلمانوں کی ایک لادینی جمہوری قومی ریاست بن جائے، پھر اسے اِسلامی حکومت کے قیام کا ذریعہ بنا لیا جائیگا۔ اس کے جواب میں انھیں یہ بتایا گیا کہ اگر فی الواقع آپ کا مقصد ایک حقیقی اِسلامی ریاست کا قیام ہے تو اس تک پہنچنے کا راستہ وہ نہیں ہے جو آپ اختیار کر رہے ہیں، بلکہ اس کے لیے ایک دوسری نوعیت کی تحریک درکار ہے جس کی یہ اور یہ خصوصیات ہوں۔ اور یہ کہ مسلمانوں کی ایک بے دین قومی حکومت اگرچہ وہ جمہوری ہی کیوں نہ ہو، اس مقصد کی راہ میں مدد گار ہونے کے بجائے الٹی مزاحم بن جاتی ہے، اس لیے آپ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے یہ پھیر کا راستہ اختیار نہ کریں، بلکہ اس راہ سے اس کی طرف بڑھیں جو سیدھی اسی مقصود کی طرف جاتی ہے۔ ’’مسلمان اورموجودہ سیاسی کش مکش‘‘ حصہ سوم کا مضمون ’’اِسلام کی راہِ راست اور اس سے انحراف کی راہیں‘‘ اور ’’اِسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘‘ ان دونوں مقالات کا موضوع دراصل یہی تھا اور ان سے مقصود یہ تھا کہ آغاز ہی میں مسلمان جدوجہد کا صحیح رخ اختیار کریں۔