مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔

کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔

اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔

خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
  2. "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
  3. سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
  4. تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
  5. داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
  6. علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
  7. تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
  8. جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟

چوتھا دَور

لیکن جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے، وہ تحریک جو اس وقت قوم پرستی کے راستے پر چل پڑی تھی، اسی راستے پر بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ مسلمانوں کا سوادِ اعظم اس میں جذب ہو گیا اور اگست ۱۹۴۱ء میں جب اِسلامی تحریک کے نقشے پر منظم جدوجہد کرنے کے لیے دعوتِ عام دی گئی تو ۳۵ کروڑ انسانوں کی آبادی میں سے صرف ۷۵ آدمی اس کے لیے جمع ہوئے۔

یہاں سے ہماری تحریک کا چوتھا دور شروع ہوتا ہے، جب کہ وہ انفرادی سعی کے مراحل سے گزر کر اجتماعی سعی کے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس وقت سے ۱۹۴۷ء کے انقلاب تک ہم جن حالات میں اپنے نصب العین کے لیے کام کرتے رہے وہ مختصراً یہ تھے۔

ذرائع کے لحاظ سے دیکھیے تو ہماری قوت ۷۵، افراد سے شروع ہوئی اور ۶ سال میں ۶۲۵ افراد تک پہنچی۔ اس کے ساتھ اگر عملی ہم دردوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ ڈیڑھ دو ہزار سے زیادہ نہ تھے۔ اور یہ تمام تر غریب یا نیم خوشحال متوسط طبقے کے لوگ تھے۔

مواقع کے لحاظ سے دیکھیے تو اس وقت ملک پر انگریزی حکومت قائم تھی جس کے ہٹنے کے آثار ۱۹۴۶ء تک دور دور بھی کہیں نہ پائے جاتے تھے۔ ملک میں دو زبردست تحریکیں انگریزی اقتدار کی جانشینی کے لیے کش مکش کر رہی تھیں جنھوں نے پوری آبادی کی توجہ کو جذب کر لیا تھا۔ ملک کی تین چوتھائی آبادی اِسلام کی نہ صرف منکر بلکہ اس کے خلاف سخت تعصب میں مبتلا تھی جس میں مسلمانوں سے قومی لڑائی کے باعث روز بروز اضافہ ہو رہا تھا اور اس پر مزید یہ کہ وہ اس وقت قوم پرستی کے نشے میں چور ہو رہی تھی۔ اس لیے یہ ماحول اس کے سامنے اِسلام کو ایک آئیڈیالوجی کی حیثیت سے پیش کرنے کے لیے انتہائی ناسازگار تھا۔ رہا ملک کی آبادی کا بقیہ ۴؍۱ جو اِسلام کا اقرار کرنے والا تھا، تو اس وقت اس پر مسلم قوم پرستی کی تحریک کا پورا غلبہ تھا اور وہ اپنی ساری پونجی ایک قومی ریاست کے قیام کی کوشش میں اس اعتماد پر لگا چکا تھا کہ اسے اِسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کا کام بعد میں شروع کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ شرعی موانع بھی ہمارے راستے میں حائل تھے، کیوں کہ نظام حکومت خالص لادینی جمہوریت کے اصولوں پر قائم تھا جس میں انقلاب قیادت بواسطہ انتخاب کا دروازہ ہمارے لیے بند تھا۔ اور کسی مسلح انقلاب یا خفیہ تحریک کا راستہ بھی ہم نہ اختیار کر سکتے تھے، کیوں کہ ایک جمہوری وآئینی نظام کی موجودگی میں، جبکہ کھلے بندوں تبلیغ واشاعت کے ذریعہ سے رائے عام کو ہموار کرکے تبدیلی لائی جا سکتی ہو، ان طریقوں کے لیے کوئی شرعی جواز موجود نہ تھا۔

ان حالات میں جس نقشے پر ہم کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ توسیع دعوت کے جتنے وسائل بھی بہم پہنچیں انھیں استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہم خیال بنایا جائے، پھر ان میں سے جو لوگ بھی عملاً اس مقصد کے لیے کام کرنے پر آمادہ ہوں انھیں جمع کرکے اور تربیت دے کر ایک ایسا صالح گروہ منظم کر لیا جائے جو ایک متبادل قیادت کا بار اٹھانے کے لائق ہو سکے۔ اور آگے اس امر کا انتظار کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ منزلِ مقصود کی طرف پیش قدمی کے لیے مزید مواقع بہم پہنچائے۔

اس دَور میں سب سے زیادہ جو سوال سوچنے سمجھنے والے طبقے کو پریشان کرتا تھا وہ یہ تھا کہ آخر ایک ایسے ملک میں جہاں ایک منظم غیر اِسلامی ریاست… اور وہ بھی زمانہ ِجدید کی ریاست جس سے بڑھ کر زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی اور مسلّط ہونے والی ریاستیں کسی سابق دور میں نہ پائی جاتی تھیں… موجود ہے اور غالب آبادی غیر مسلم ہے، وہ انقلاب عملاً کیسے رونما ہو گا جو ہم برپا کرنا چاہتے ہیں؟ فرض کیجئے کہ ہم غالب حصہ آبادی کے خیالات، ذہنیتیں، اَخلاقی معیارات، سب کچھ بدل دینے میں کام یاب ہو جائیں، تب بھی کفر کا اقتدار آپ سے آپ تو ختم نہیں ہو جائے گا۔ اسے بدلنے کے لیے بہرحال کوئی عملی صورت ہی اختیار کرنی ہو گی۔ اب اگر ہم انتخابات کے ذریعہ سے انقلاب قیادت کا راستہ اختیار نہیں کر سکتے، کیوں کہ لادینی ریاست کے اندر انتخابات میں حصہ لینا ہمارے عقیدے کے خلاف ہے، تو کیا ہم مسلح انقلاب برپا کریں گے؟ یا کہیں ہجرت کرکے مدینہ طیبہ کے طرز کی کوئی ریاست قائم کریں گے اور پھر جہاد کرکے اس ملک کو دارالاِسلام بنائیں گے؟ یا پھر کیا پیروانِ مسیح کی طرح ہم دو تین سو برس تک اس انتظار میں تبلیغ واشاعت اور تحمل مصائب وشدائد کا طویل دور گزاریں گے کہ کوئی قسطنطین مسلمان ہو کر خود ہی یہاں اِسلامی حکمت قائم کر دے؟

یہ سوالات اس زمانے میں میرے سامنے بار بار پیش کیے جاتے تھے۔ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں میں نے ترجمان القرآن میں ایک دفعہ لکھا تھا۔

’’اصولی طریق کار یہی ہے کہ پہلے ہم اپنی دعوت پیش کریں گے۔ پھر ان لوگوں کو جو ہماری دعوت قبول کریں، منظم کرتے جائیں گے۔ پھر اگر رائے عام کی موافقت سے، یا حالات کی تبدیلی سے کسی مرحلے پر ایسے آثار پیدا ہو جائیں کہ موجود الوقت دستوری طریقوں ہی سے نظام حکومت کا ہمارے ہاتھوں میں آ جانا ممکن ہو اور ہمیں توقع ہو کہ ہم سوسائٹی کے اَخلاقی، تمدنی اور سیاسی ومعاشی نظام کو اپنے اصول پر ڈھال سکیں گے تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی تامل نہ ہو گا۔ اس لیے کہ ہمیں جو کچھ بھی واسطہ ہے اپنے مقصد سے ہے نہ کہ کسی خاص طریقے (Method) سے۔ لیکن اگر پرامن ذرائع سے جو ہر اقتدار (Substance of Power) ملنے کی توقع نہ ہو تو پھر ہم عام دعوت جاری رکھیں گے اور تمام جائز شرعی ذرائع سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ [رسائل و مسائل حصہ اول ص 509 در اصل یہ مضمون ستمبر و اکتوبر 25ء کے ترجمان میں شائع ہوا تھا۔]

اس سلسلے میں ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے اسی زمانے میں لکھا گیا تھا ’’الیکشن لڑنا اور اسمبلی میں جانا اگر اس غرض کے لیے ہو کہ ایک غیر اِسلامی دستور کے تحت ایک لادینی (Secular) جمہوری (Democratic) ریاست کے نظام کو چلایا جائے تو یہ ہمارے عقیدہِ توحید اور ہمارے دین کے خلاف ہے۔ لیکن اگر کسی وقت ہم ملک کی رائے عام کو اس حد تک اپنے عقیدہ ومسلک سے متفق پائیں کہ ہمیں یہ توقع ہو کہ عظیم اکثریت کی تائید سے ہم ملک کا دستورِ حکومت تبدیل کر سکیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس طریقے سے کام نہ لیں۔ جو چیز لڑے بھڑے بغیر سیدھے طریقے سے حاصل ہو سکتی ہو اس کو خواہ مخواہ ٹیڑھی انگلیوں ہی سے نکالنے کا ہم کو شریعت نے حکم نہیں دیا ہے۔ مگر خوب سمجھ لیجیے کہ یہ طریقِ کار ہم صرف اس صورت میں اختیار کریں گے جب کہ:

ا ولاً :ملک میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہوں کہ محض رائے عام کا کسی نظام کے لیے ہموار ہو جانا ہی عملاً اس نظام کے قائم ہونے کے لیے کافی ہو سکتا ہو۔

ثانیاً ، ہم اپنی دعوت وتبلیغ سے باشندگانِ ملک کی بہت بڑی اکثریت کو اپنا ہم خیال بنا چکے ہوں اور اِسلامی نظام قائم کرنے کے لیے ملک میں عام تقاضا پیدا ہو چکا ہو۔

ثالثاً، انتخابات غیر اِسلامی دستور کے تحت نہ ہو بلکہ بِنائے انتخاب ہی یہ مسئلہ ہو کہ ملک کا آیندہ نظام کس دستور پر قائم کیا جائے۔‘‘ [رسائل و مسائل حصہ اول ص 462 - 463 یہ مضمون دسمبر 1945ء کے ترجمان میں شائع ہوا تھا۔]

اس کے ساتھ ایک اور ضروری اقتباس جو ہماری اس دور کی پالیسی کو سمجھنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ ۱۹۴۳ء کی اس تقریر میں ملاحظہ فرمائیے جو اجتماع دربھنگہ میں کی گئی تھی۔ اس میں عرض کیا گیا تھا۔

’’ہمیں عوام میں ایک عمومی تحریک (Mass Movement) چلانے سے پہلے ایسے آدمیوں کو تیار کرنے کی فکر کرنی ہے جو بہترین اِسلامی سیرت کے حامل ہوں اور ایسی اعلیٰ درجے کی دماغی صلاحیتیں بھی رکھتے ہوں کہ تعمیرِ افکار کے ساتھ اجتماعی قیادت کے دہرے فرائض کو سنبھال سکیں، یہی وجہ ہے کہ میں عوام میں تحریک کو پھیلا دینے کے لیے جلدی نہیں کر رہا ہوں بلکہ میری تمام تر کوشش اس وقت یہ ہے کہ ملک کے اہلِ دماغ طبقوں کو متاثر کیا جائے اور انھیں کھنگال کر صالح ترین افراد کو چھانٹ لیا جائے جو آگے چل کر عوام کے لیڈر بھی بن سکیں اور تہذیبی وتمدنی معمار بھی۔ یہ کام چوں کہ ٹھنڈے دل سے کرنے کا ہے اور ایک عمومی تحریک کی طرح فوری ہلچل اس میں نظر نہیں آ سکتی ہے ، اس وجہ سے نہ صرف ہمارے ہم درد وہم خیال لوگ، بلکہ خود ہمارے ارکان تک بددل ہونے لگتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ارکان جماعت کام کے اس نقشے کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اپنی قوتیں بددلی کی نذر کرنے کے بجائے کسی مفید کام میں استعمال کریں۔ یہ اعتراض بجا ہے کہ کثیر تعداد عوام کو اس نقشے کے مطابق بلند سیرت بنانے کے لیے مدت مدید درکار ہے، مگر ہم اپنے انقلابی پروگرام کو عوام کی اصلاح ہو چکنے کے انتظار میں ملتوی کرنا نہیں چاہتے ہمارے پیشِ نظر صرف یہ نقشہ ہے کہ عوام کی سربراہ کاری کے لیے ایک ایسی مختصر جماعت فراہم کر لی جائے جس کا ایک ایک فرد اپنے بلند کریکٹر کی جاذبیت سے ایک ایک علاقے کے عوام کو سنبھال سکے۔ اس کی ذات عوام کا مرجع بن جائے اور بالکل فطری طریقے سے عوام کی لیڈر شپ کا منصب اسے حاصل ہو جائے۔ مگر صرف مرجعیت سے بھی کام نہیں چلتا۔ اس سے کام لینے کے لیے دماغی صلاحیتیں بھی ہونی چاہییں تاکہ ان مرکزی شخصیتوں کے ذریعے سے عوام کی قوتیں مجتمع اور منظم ہو کر اِسلامی انقلاب کی راہ میں صرف ہوں۔ ایک ٹھوس، پائدار اور ہمہ گیر انقلاب کا لازمی ابتدائی مرحلہ یہی ہے۔ اس مرحلے کو صبر سے طے کرنا ہی پڑے گا۔ ورنہ تحریک کی تباہی ناگزیر ہے۔ اگر موجودہ حالات میں عوام کو اکسا دیا جائے جب کہ انھیں سنبھال کر لے چلنے والے مقامی رہنما (Local Leaders) نہیں ہیں، تو عوام بالکل بے راہ روی پر اتر آئیں گے اور اپنے آپ کو نااہل لوگوں کے حوالے کر دیں۔‘‘ [روداد جماعت حصہ اول‘ ص 58‘59]

اس ساری بحث سے آپ یہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اقامت دین کے نصب العین کے ساتھ زمامِ کار کی تبدیلی اور انقلابِ امامت وقیادت توبالکل لازم وملزوم کی طرح آغاز ہی سے اس تحریک کے بنیادی تخیل میں شامل تھی اور اس کے لیے ہر زمانے میں ذرائع اور مواقع اور حالات کے لحاظ سے مسلسل جدوجہد بھی کی جاتی رہی۔ البتہ اس نوعیت کا اقدام، جیسا کہ تقسیم کے بعد پاکستان میں شروع کیا گیا، اس وقت عملاً ممکن نہ تھا، کیوں کہ اس کے لیے نہ ہمارے پاس ذرائع تھے، نہ وقت کے حالات میں اس کا کوئی موقع مل رہا تھا اور نہ شرعی موانع کے باعث ہم ایسا کر ہی سکتے تھے۔