تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔
کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔
اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔
خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
- "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
- سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
- تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
- داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
- علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
- تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
- جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟
اجتماعاتِ عام میں نصب العین کی توضیحات
دستور اور منشور کے بعد تیسری اہم ترین سند وہ تصریحات ہیں جو ارکانِ جماعت کے عام اجتماعات میں کی جاتی ہیں، خواہ وہ کسی جماعتی قرارداد کی صورت میں ہوں یا خطبہِ امارت کی شکل میں۔ کیوں کہ ایسے مواقع پر امیرِ جماعت جوکچھ کہتا ہے وہ کسی شخص کی ذاتی رائے نہیں ہوتی بلکہ پوری جماعت اسے سند قبول عطا کرتی ہے۔ میں آپ کے سامنے جماعت کی رودادوں سے نصب العین کی وہ توضیحات پیش کروں گا جو پے درپے اجتماعات عام میں کی گئی ہیں۔
اگست ۱۹۴۱ء کا اولین اجتماع جس سے اس جماعت کے وجود کا آغاز ہوا، اس میں مقصدِ سعی یہ بیان کیا گیا تھا کہ ’’دین کو ایک تحریک کی صورت میں جاری کیا جائے۔‘‘ اور اس کی تشریح یہ کی گئی تھی کہ’’ہماری زندگی میں دین داری محض ایک انفرادی رویے کی صورت میں جامد وساکن ہو کر نہ رہ جائے بلکہ ہم اجتماعی صورت میں نظامِ دینی کو عملاً نافذ وقائم کرنے اور مانع ومزاحم طاقتوں کو اس کے راستے سے ہٹانے کے لیے جدوجہد بھی کریں۔‘‘ آگے چل کر اسی سلسلے میں کہا گیا تھا:
’’یہ بات ہر اس شخص کو جو جماعتِ اِسلامی میں آئے، اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو کام اس جماعت کے پیشِ نظر ہے وہ کوئی ہلکا اور آسان کام نہیں ہے۔ اسے دنیا کے پورے نظام زندگی کو بدلنا ہے۔ اسے دنیا کے اَخلاق، سیاست، تمدن، معیشت، معاشرت ہر چیز کو بدل ڈالنا ہے۔ دنیا میں جو نظام حیات خدا سے بغاوت پر قائم ہے اسے بدل کر خدا کی اطاعت پر قائم کرنا ہے اور اس کام میں تمام شیطانی طاقتوں سے اس کی جنگ ہے۔ ‘‘ [روداد اجتماع اول]
۴۵ء کے اجتماع دارالاِسلام میں ’’دعوتِ اِسلامی اور ا س کے طریقِ کار‘‘ کے عنوان پر ایک مفصّل تقریرکی گئی تھی۔ ا س میں جماعتِ اِسلامی کا مقصد یہ بیان ہوا تھا:’’ہمارے پیشِ نظر صرف ایک سیاسی نظام کا قیام نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری انسانی زندگی… انفرادی اور اجتماعی… میں وہ ہمہ گیر انقلاب رونما ہو جو اِسلام رونما کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے اللہ نے اپنے انبیا کو معبوث کیا تھا اور جس کی دعوت دینے اور جدوجہد کرنے کے لیے ہمیشہ انبیا علیہم السلام کی امامت و راہ نُمائی میں امت مسلمہ کے نام سے ایک گروہ بنتا رہا ہے۔‘‘
پھر اس دعوت کا خلاصہ حسبِ ذیل تین نکات کی شکل میں پیش کیا گیا تھا:
۱۔ یہ کہ ہم بندگانِ خدا کو بالعموم اور جو پہلے سے مسلمان ہیں انھیں بالخصوص اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں۔
۲۔ یہ کہ جو شخص بھی اِسلام قبول کر لے، یا اس کو ماننے کا دعوٰی اور اظہار کرے، اس کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے منافقت اورتناقض کو خارج کرے اور جب وہ مسلمان ہے یا بنا ہے تو مخلص مسلمان بنے اور اِسلام کے رنگ میں رنگ کر یک رنگ ہو جائے۔
۳۔ یہ کہ زندگی کا نظام جو آج باطل پرستوں اور فساق وفجار کی راہ نُمائی میں چل رہا ہے اور معاملات دنیا کی زمامِ کار جو خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے، ہم دعوت دیتے ہیں کہ اسے بدلا جائے اور راہ نُمائی وامامت، نظری اور عملی دونوں حیثیتوں سے مومنین صالحین کے ہاتھوں میں منتقل ہو۔
اس کے بعد ان تینوں نکات کی تشریح کی گئی تھی۔ اللہ کی بندگی، جس کی طرف دعوت دینا جماعت کااوّلین کام بتایاگیا تھا، اس کا مطلب ان الفاظ میں بیان کیا گیا تھا:
’’انسان خدا کو پورے معنی میں الٰہ اور رب، معبود اور حاکم، آقا اور مالک، راہِ نما اور قانون ساز، محاسب اور مجازی (جزا دینے والا) تسلیم کرے اور اپنی پوری زندگی کو خواہ وہ شخصی ہو یا اجتماعی، اَخلاقی ہو یا مذہبی، تمدنی وسیاسی اور معاشی ہو یا علمی ونظری، اسی ایک خدا کی بندگی میں سپرد کر دے… بندگیِ حق کے اس مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سچے دل سے یہ چاہیں کہ جو طریقِ زندگی، جو قانونِ حیات، جو اصولِ تمدن واَخلاق، جو ضابطہ ومعاشرت وسیاست، جو نظامِ فکر و عمل اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا کے واسطے سے ہمیں دیا ہے، ہماری زندگی کا پورا کاروبار اسی کی پیروی میں چلے اور ہم ایک لمحے کے لیے بھی اپنی زندگی کے کسی چھوٹے سے چھوٹے شعبے کے اندر بھی، اس نظام حق کے خلاف کسی دوسرے نظام کے تسلط کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔‘‘
منافقت جسے زندگی سے خارج کرنا جماعتِ اِسلامی کی دعوت کا دوسرا نکتہ قرار دیا گیا تھا، اس کی تشریح یہ کی گئی تھی:
’’منافقانہ رویے سے ہماری مراد یہ ہے کہ آدمی جس دین کی پیروی کا دعوٰی کرے، اس کے بالکل برخلاف نظامِ زندگی کواپنے اوپر حاوی ومسلّط پا کر راضی اور مطمئن رہے، اس کو بدل کر اپنے دین کو اس کی جگہ قائم کرنے کی کوئی سعی نہ کرے، بلکہ اس کے برعکس اسی فاسقانہ وباغیانہ نظامِ زندگی کو اپنے لیے سازگار بنانے اور اس میں اپنے لیے آرام کی جگہ پیدا کرنے کی فکر کرتا رہے، یا اگر اس کو بدلنے کی کوشش بھی کرے تو اس کی غرض یہ نہ ہو کہ اس فاسقانہ نظامِ زندگی کی جگہ دین حق قائم ہو، بلکہ صرف یہ کوشش کرے کہ ایک فاسقانہ نظامِ زندگی کی جگہ دوسرا فاسقانہ نظام اسکی جگہ قائم ہو جائے… ہمارا ایک نظامِ زندگی پر ایمان رکھنا اور دوسرے نظامِ زندگی میں راضی رہنا بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مخلصانہ ایمان کا اولین تقاضا ہے کہ جس طریق زندگی پر ہم ایمان رکھتے ہیں اسی کو ہم اپنا قانونِ حیات دیکھنا چاہیں… ایمان تو اس میں کسی چھوٹی سے چھوٹی رکاوٹ کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا، کجا کہ پورا کا پورا دین کسی دوسرے نظامِ زندگی کا تابع مہمل بن کر رہ گیا ہو، دین کے کچھ اجزا پر عمل ہوتا بھی ہو تو صرف اس وجہ سے کہ غالب نظامِ زندگی نے اس کو بے ضرر سمجھ کر رعایتًا باقی رکھا ہو اور ان رعایات کے ماسِوا ساری زندگی کے معاملات دین کی بنیادوں سے ہٹ کر غالب نظامِ زندگی کی بنیادوں پر چل رہے ہوں اور پھر بھی ایمان اپنی جگہ نہ صرف خوش اور مطمئن ہو، بلکہ جو کچھ بھی سوچے، اِسی غلبہ ِکفر کو اصولِ موضوعہ کے طور پر تسلیم کرکے سوچے! اس قسم کا ایمان چاہے فقہی اعتبار سے معتبر ہو، لیکن دینی لحاظ سے تو اس میں اور نفاق میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘‘
اس کے بعد تیسرے نکتے، یعنی انقلابِ امامت، یا انقلابِ قیادت کی توضیح کرتے ہوئے کہا گیا تھا:
’’ہمارا اپنے آپ کو بندگی رب کے حوالے کر دینا اور اس حوالگی وسپردگی میں ہمارا منافق نہ ہونا بلکہ مخلص ہونا اور پھر ہمارا اپنی زندگی کو تناقضات سے پاک کرکے مسلم حنیف بننے کی کوشش کرنا لازمی طور پر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس نظامِ زندگی میں انقلاب چاہیں جو آج کفر ودہریت، فسق وفجور اور بداَخلاقی کی بنیادوں پر چل رہا ہے اور جس کے نقشے بنانے والے مفکرین اور جس کا انتظام کرنے والے مدبّرین سب کے سب خدا سے پھرے ہوئے اور اس کی شرائع کے قیود سے نکلے ہوئے لوگ ہیں۔ جب تک زمامِ کار ان لوگوں کے ہاتھ میں رہے گی، جب تک علوم وفنون، آرٹ اور ادب، تعلیم وتدریس، نشرواشاعت، قانون سازی اور تنفیذِ قانون، مالیات، صنعت وحرفت اور تجارت، انتظامِ ملکی اور تعلقات بین الاقوامی ہر چیز کی باگ ڈور یہ سنبھالے رہیں گے، کسی شخص کے لیے دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے زندگی بسر کرنا اور خدا کی بندگی کو اپنا ضابطہِ حیات بنا کر رہنا نہ صرف عملاً محال ہے، بلکہ اپنی آیندہ نسلوں کو اعتقاداً بھی اِسلام کا پیرو چھوڑ جانا غیرممکن ہے‘‘۔
’’اس کے علاوہ صحیح معنوں میں جو شخص بندہ رب ہو اس پر منجملہ دوسرے فرائض کے ایک اہم ترین فرض یہ بھی تو عائد ہوتا ہے کہ وہ خدا کی رضا کے مطابق دنیا کے انتظام کو فساد سے پاک اورصلاح پر قائم کرے۔ اور ظاہر بات ہے کہ یہ مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک زمامِ کار صالحین کے ہاتھ میں نہ ہو۔ فساق وفجار اور خدا کے باغی اور شیطان کے مطیع، دنیا کے امام وپیشوا اور منتظم بھی رہیں اور پھر دنیا میں ظلم وفساد اور بداَخلاقی وگمراہی کا دور دورہ بھی نہ ہو، یہ عقل اورفطرت کے خلاف ہے اور آج تجربہ ومشاہدہ سے کالشمس فی النہار یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایسا ہونا غیر ممکن ہے‘‘۔
پھر جماعتِ اِسلامی کی تنظیم کا مدعا اس طرح بیان کیا گیا تھا:
’’ہماری دعوت صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ دنیا کی زمامِ کار فساق وفجار کے ہاتھوں سے نکلے اور مومنین صالحین کے ہاتھوں میں آئے، بلکہ ایجاباً ہماری دعوت یہ ہے کہ اہلِ خیر وصلاح کا ایک ایسا گروہ منظم کیا جائے جو نہ صرف اپنے ایمان میں پختہ، نہ صرف اپنے اِسلام میں مخلص ویک رنگ، نہ صرف اپنے اَخلاق میں صالح وپاکیزہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ ان تمام اوصاف اور قابلیتوں سے بھی آراستہ ہو جو دنیا کی کارگاہ حیات کو بہترین طریقے پر چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ اور صرف آراستہ ہی نہ ہو بلکہ موجودہ کار فرماؤں اور کارکنوں سے ان اوصاف اور قابلیتوں میں اپنے آپ کو فائق تر ثابت کر دے۔‘‘ [روداد جماعت اسلامی حصہ سوم۔ یہ تقریر دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات میں بھی درج کی گئی ہے۔]
۴۵ء کے اسی اجتماع میں ایک دوسری تقریر بھی کی گئی تھی جو روداد جماعت حصہ سوم میں درج ہے اور ’’تحریک اِسلامی کی اَخلاقی بنیادیں‘‘ کے نام سے الگ بھی شائع ہو چکی ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ:
’’ہماری جدوجہد کا آخری مقصود انقلاب امامت ہے، یعنی دنیا میں ہم جس انتہائی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ فساق وفجار کی امامت وقیادت ختم ہو کر امامت صالحہ کا نظام قائم ہو اور اس سعی وجہد کو ہم رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں… دراصل فساق وفجار کی قیادت ہی نوعِ انسانی کے مصائب کی جڑ ہے اور انسان کی بھلائی کا سارا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ دنیا کے معاملات کی سربراہ کاری صالح لوگوں کے ہاتھوں میں ہو… اگر کوئی شخص دنیا کی اصلاح چاہتا ہو اور فساد کو صلاح سے، اضطراب کو امن سے‘ بد اَخلاقیوں کو اَخلاق صالحہ سے اور برائیوں کو بھلائیوں سے بدلنے کا خواہش مند ہو تو اس کے لیے محض نیکیوں کا وعظ اور خدا پرستی کی تلقین اور حسنِ اَخلاق کی ترغیب ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا فرض ہے کہ نوعِ انسانی میں جتنے صالح عناصر اس کو مل سکیں انھیں ملا کر وہ اجتماعی قوت بہم پہنچائے جس سے تمدن کی زمامِ کار فاسقوں سے چھینی جا سکے اور امامت کے نظام میں تغیر کیا جا سکے۔‘‘
’’انسانی معاملات کے بناؤ اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملاتِ انسانی کی زمامِ کار کس کے ہاتھ میں ہے۔ جس طرح گاڑی ہمیشہ اسی سمت میں چلا کرتی ہے جس میں ڈرائیور اس کو لے جانا چاہتا ہو اور دوسرے لوگ جو گاڑی میں بیٹھے ہوں خواستہ وناخواستہ اسی سمت میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جدھر گاڑی جا رہی ہو، اسی طرح انسانی تمدن کی گاڑی بھی اسی سمت پر سفر کیا کرتی ہے جس سمت وہ لوگ جانا چاہتے ہیں جن کے ہاتھ میں تمدن کی باگیں ہوتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ زمین کے سارے ذرائع جن کے قابو میں ہوں، قوت واقتدار جن کے ہاتھ میں ہو، عام انسانوں کی زندگی جن کے دامن سے وابستہ ہو، خیالات وافکار اور نظریات کو بنانے اور ڈھالنے کے وسائل جن کے قبضے میں ہوں، انفرادی سیرتوں کی تعمیر، اجتماعی نظام کی تشکیل اور اَخلاقی قدروں کی تعیین جن کے اختیار میں ہو، ان کی راہ نُمائی وفرماں روائی کے تحت رہتے ہوئے انسانیت بحیثیت مجموعی اس راہ پر چلنے سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتی جس پر وہ اسے چلانا چاہتے ہوں۔ یہ راہ نُما وفرماں روا اگر خدا پرست اور صالح لوگ ہوں تو لامحالہ زندگی کا سارا نظام خدا پرستی اور خیر وصلاح پر چلے گا، برے لوگ بھی اچھے بننے پر مجبور ہوں گے، بھلائیوں کو نشوونما ہو گا اور برائیاں اگر مٹیں گی نہیں تو پروان بھی نہ چڑھ سکیں گی۔ لیکن اگر راہ نُمائی وقیادت اور فرماں روائی کا یہ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہو جو خدا سے برگشتہ اور فسق وفجور میں سرگشتہ ہوں تو آپ سے آپ سارا نظامِ زندگی خدا سے بغاوت اور ظلم وبداَخلاقی پر چلے گا۔ خیالات ونظریات، علوم و آداب، سیاست ومعیشت، تہذیب ومعاشرت، اَخلاق ومعاملات، عدل وقانون، سب کے سب بحیثیت مجموعی بگڑ جائیں گے۔ برائیاں خوب نشوونما پائیں گی اور بھلائیوں کو زمین اپنے اندر جگہ دینے سے اور پانی انھیں غذا دینے سے انکار کر دیں گے اور خدا کی زمین ظلم وجور سے لبریز ہو کر رہے گی ایسے نظام میں برائی کی راہ چلنا۔ آسان اور بھلائی کی راہ چلنا کیا معنی، اس پر قائم رہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
اس کے بعد خود اسی ملک کی تاریخ کو مثال میں پیش کرکے بتایا گیا تھا کہ ’’جب انگریزوں کے ہاتھ میں زمامِ کار چلی گئی تو کس طرح ایک صدی کے اندر انھوں نے پورے ملک کے اَخلاق، اذہان، نفسیات، معاملات اور نظام تمدن کو بدل کر رکھ دیا۔ خیالات ونظریات بدلے، مذاق اور مزاج بدلے، سوچنے کے انداز اور دیکھنے کے زاویے بدلے، تہذیب واَخلاق کے معیار اور قدر وقیمت کے پیمانے بدلے، زندگی کے طور طریقے اور معاملات کے ڈھنگ بدلے، غرض کوئی چیز ایسی نہ رہ گئی جو بدل نہ گئی ہو اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ روز بروز پسپا، عاجز اور شکست خوردہ ہوتے چلے گئے جن کے ہاتھ میں زمامِ کار نہ تھی۔ حتّٰی کہ مقدس ترین مذہبی پیشواؤں کی نسل سے وہ لوگ اٹھنے لگے جنھیں خدا کے وجود اور وحی ورسالت کے امکان اورآخرت کے وقوع میں شک لاحق ہو گیا اور انھوں نے اپنے آپ ہی کو نہیں، اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو بھی اس تہذیب کے رنگ میں رنگ لیا جو اقتدار کے سرچشموں پر قابض ہو چکی تھی۔
اِسی سلسلے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ’’دین کا مقصود لوگوں سے اللہ کی اطاعت کرنا اور برائیوں کو مٹا کر بھلائیاں پھیلانا ہے اور یہ مقصد ایسی حالت میں کبھی پورا نہیں ہو سکتا جب کہ نوعِ انسانی کی قیادت وراہ نُمائی اور معاملات انسانی کی سربراہ کاری آئمہ کفر وضلال کے ہاتھوں میں ہو اور دین حق کے پیرومحض ان کے ماتحت رہ کر ان کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یاد خدا کرتے رہیں۔ اس لیے اِسلام کے نقطہِ نظر سے امامتِ صالحہ کا قیام مرکزی اور مقصدی اہمیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس دین پر ایمان لایا ہو اس کا کام صرف اتنے ہی پر ختم نہیں ہو جاتا کہ اپنی زندگی کو حتی الامکان اِسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے، بلکہ عین اس کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی تمام سعی وجہد کو اس ایک مقصد پر مرکوز کر دے کہ زمام کار کفار وفساق کے ہاتھ سے نکل کر صالحین کے ہاتھوں میں منتقل ہو اور وہ نظامِ حق قائم ہو جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق دنیا کے انتظام کو درست کر دے‘‘۔
یہی نصب العین ، قریب قریب اسی تشریح کے ساتھ مئی ۱۹۴۷ء کے اجتماع دارالاِسلام کی اس تقریر میں پیش کیا تھا جو ’’جماعتِ اِسلامی کی دعوت‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس میں جماعتِ اِسلامی کا مدعا واضح کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ’’موجودہ تہذیب، جس پر آج دنیا کا پورا فکری، اَخلاقی، تمدنی، سیاسی اور معاشی نظام چل رہا ہے، دراصل تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے:
لادینی، قوم پرستی اور جمہوریت، جماعتِ اِسلامی جس مقصد کے لیے کام کر رہی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ سارا نظامِ زندگی چلتا تو رہے انھی بنیادوں پر، مگر اس کے چلانے والے ہاتھ انگریز کے ہاتھ نہ رہیں بلکہ ہندوستانی یا مسلمان قوم کے ہاتھ ہو جائیں۔ اس کے برعکس جماعتِ اِسلامی یہ چاہتی ہے کہ اس پورے نظامِ زندگی کو ان بنیادوں سے اکھاڑ کر تین دوسری بنیادوں پر قائم کیا جائے: لادینی کے مقابلے میں خدا کی بندگی واطاعت، قوم پرستی کے مقابلے میں انسانیت اور جمہور کی حاکمیت کے مقابلے میں خدا کی حاکمیت اور جمہور کی خلافت، نیز یہ جماعت، نظام زندگی کو چلانے والے ہاتھ بدلنا تو ضرور چاہتی ہے، مگر مغربی ہاتھوں کے بجائے مشرقی ہاتھ نہیں، غیر ملکی ہاتھوں کے مقابلے میں ملکی ہاتھ بھی نہیں، بلکہ فاسق ہاتھوں کے مقابلے میں صالح ہاتھ۔ وہ چاہتی ہے کہ اس پورے نظام تمدن کی کارفرمائی اور اس کا انتظام ان لوگوں کے سپرد ہو جو خدا سے ڈرنے والے، اس کی اطاعت کرنے والے اور ہر کام میں اس کی رضا چاہنے والے ہوں، یہ نصب العین بیان کرنے کے بعد مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا تھا:
’’موجودہ زمانے کی بے دین قومی جمہوریت تمھارے دین وایمان کے قطعاً خلاف ہے۔ تم اس کے آگے سرتسلیم خم کرو گے تو قرآن سے پیٹھ پھیرو گے۔ اس کے قیام وبقا میں حصہ لو گے تو اپنے رسول سے غداری کرو گے۔ اس کا جھنڈا اڑانے کے لیے اٹھو گے تو اپنے خدا کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کرو گے۔ جس اِسلام کے نام پر تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو اس کی روح اس ناپاک نظام کی روح سے، اس کے بنیادی اصول اس کے بنیادی اصولوں سے اور اس کا ہر جز اس کے ہر جز سے برسر جنگ ہے۔ اِسلام اور یہ نظام کہیں ایک دوسرے سے مصالحت نہیں کرتے۔ جہاں یہ نظام برسر اقتدار ہو گا وہاں اِسلام نقش برآب رہے گا اور جہاں اِسلام برسر اقتدار ہو گا وہاں اس نظام کے لیے کوئی جگہ نہ ہو گی۔ تم اگر واقعی اسی اِسلام پر ایمان رکھتے ہو جسے قرآن اور محمد لائے تھے تو تمھارا فرض ہے کہ جہاں بھی تم ہو اس قوم پرستانہ لادینی جمہوریت کی مزاحمت کرو اور اس کے مقابلے خدا پرستانہ انسانی خلافت قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ خصوصیّت کے ساتھ جہاں تک بحیثیت ایک قوم کے برسر اقتدار ہو وہاں تو اگر تمھارے ہاتھوں سے اِسلام کے اصلی نظام کے بجائے یہ کافرانہ نظام بنے اورچلے توحیف ہے تمھاری اس مسلمانی پر جس کا نام لینے میں تم اتنے بلند آہنگ اور جس کا کام کرنے سے تم اس قدر بیزار ہو۔‘‘
اس تقریر کا خاتمہ اس اعلان پر ہوا تھا اور یاد رکھیے کہ یہ اعلان امیرِ جماعت نے ارکان جماعت کے اجتماعِ عام میں کیا اور ارکان نے اس کو قبول کیا تھا کہ:
’’اب یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ ملک تقسیم ہو جائے گا۔ ایک حصہ مسلمان اکثریت کے سپرد کیا جائے گا اور دوسرا حصہ غیر مسلم اکثریت کے زیر اثر ہو گا۔ پہلے حصے میں ہم کوشش کریں گے کہ رائے عام کو ہموار کرکے اس دستور وقانون پر ریاست کی بنیاد رکھیں جسے ہم مسلمان خدائی دستور وقانون مانتے ہیں۔‘‘
رفقائے عزیز! یہ تھا وہ نصب العین جو اوّل روز سے جماعتِ اِسلامی کے سامنے رکھا گیا تھا اور بار بار مختلف مواقع پر دہرایا جاتا رہا ہے۔ میں نے اس کو اتنی شرح و بسط کے ساتھ جماعت کے مستند ماخذ اور ہر دور کے ماخذ سے اس لیے نقل کیا ہے کہ آپ کے سامنے اس مقصد کی پوری تصویر اپنے تمام گوشوں سمیت آ جائے جس کے حصول کی جدوجہد کرنے کے لیے آپ اٹھے تھے۔ اب یہ آپ کا اپنا کام ہے کہ اس تصویر کو نگاہ میں رکھ کر اپنی جماعت کے پچھلے پانچ سالہ کام کو دیکھیں اور یہ رائے قائم کریں کہ آیا یہ کام اسی مقصد اور اسی نصب العین کی راہ میں تھا یا کسی اور چیز کی راہ میں۔ میں پوری دیانت کے ساتھ یہ رائے رکھتا ہوں کہ جماعتِ اِسلامی من حیث الجماعت اپنے نصب العین کے صحیح اور مکمل شعور سے کبھی غافل نہیں ہوئی ہے اور اس نے آج تک ایک ایک قدم، خوب سوچ سمجھ کر ٹھیک اپنی منزلِ مقصود کی سمت میں اٹھایا ہے۔ وہ صاف ذہن کے ساتھ سمجھتی رہی ہے کہ اس کا مطلوب ومقصود کیا ہے اور کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتی رہی ہے کہ حالات وواقعات کے جنگل میں سے اس کی منزلِ مقصود کی طرف جانے والا راستہ کون سا ہے۔ اس کا حال ان لوگوں کا سا نہیں رہا ہے جن کا ذہن اپنے مقصد کے فہم ہی میں الجھا ہوا ہوتا ہے۔ اور وہ تاریکی میں اٹکل سے کسی طرف کو چل پڑتے ہیں، پھر چلتے چلتے بار بار ٹھیر کر سوچنے لگتے ہیں کہ ہم ٹھیک بھی جا رہے ہیں یا نہیں۔ یہ جماعت آسانی کے ساتھ اس حالت میں مبتلا نہیں ہو سکتی کہ پندرہ سال ایک راستے پر چلنے کے بعد یکایک اسے یہ شبہ لاحق ہو جائے کہ ہم غلط سمت میں آ گئے اور اب ہمیں الٹے پاؤں پھر کر کسی اور طرف چلنا چاہیے۔ اپنے عمل کی کوتاہیاں اور خامیاں تو وہ جانتی اور مانتی ہے اور ان کی تلافی کے لیے کوشش کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے، لیکن اگر کوئی اسے اس بات کا قائل کرنا چاہے کہ وہ اپنے مقصد کے فہم ہی میں غلطی کر گئی ہے اور کسی غلط راستہ پر پڑ گئی ہے تو اسے مضبوط دلائل کے ساتھ اس کے فہم کی غلطی ثابت کرنی ہو گی اور یہ بھی دکھانا ہو گا کہ وہ صحیح راستہ کونسا تھا جسے چھوڑ کر جماعت غلط راستے پر آ نکلی۔