تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔
کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔
اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔
خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
- "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
- سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
- تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
- داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
- علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
- تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
- جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟
ایک غلط فہمی کی اصلاح
آج بعض لوگ حالات کے سیاق وسباق کو نظر انداز کرکے ’’سیاسی کش مکش‘‘ حصہ سوم اور ’’اِسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘‘ کے بعض اقتباسات پیش کرکے ان سے چند بالکل غلط نتائج نکال رہے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ قبل تقسیم کے حالات کی بحث کے سلسلے ہی میں اس اصل غلط فہمی کو، جس میں وہ مبتلا ہیں، صاف کردوں تاکہ آگے کی بحثوں میں یہ ذہنی الجھن بار بار تنگ نہ کرے۔ یہ دونوں مضامین جن کا وہ حوالہ دیتے ہیں، ۱۹۴۰ء کے لکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت بحث یہ نہیں تھی کہ مسلمانوں کی لادینی قومی جمہوری ریاست تو وجود میں آ گئی ہے، اب اسے اِسلامی ریاست وحکومت میں تبدیل کیسے کیا جائے۔ بلکہ یہ بحث تھی کہ ہم داراالکفر میں رہتے ہوئے ایک اِسلامی نظام حکومت قائم کرنے کی جدوجہد کا آغاز کس طرح کریں۔ اس کے لیے ایک گروہ یہ راستہ تجویز کر رہا تھا کہ پہلے ایک قوم پرستانہ تحریک کے ذریعہ سے قوم پرستی ہی کے معروف اور چلتے ہوئے طریقوں پرکام کرکے مسلمانوں کی ایک لادینی ہی سہی، قومی وجمہوری ریاست قائم کر دینی چاہیے، پھر اسے ہم اِسلامی نظامِ حکومت کے قیام کا ذریعہ بنائیں گے اور جمہوری انتخابات کے واسطے سے اس کو اِسلامی ریاست و حکومت میں تبدیل کر لیں گے۔ میرا استدلال اس کے جواب میں یہ تھا کہ:
۱۔ یہ پھیر کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے آپ آغاز ہی میں براہ راست اِسلامی حکومت قائم کرنے کا وہ راستہ کیوں نہ اختیار کریں جو اس مقصد تک پہنچنے کا فطری راستہ ہے۔
۲۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قومی حکومت کا قیام اِسلامی نظامِ حکومت کے قیام میں مددگار ہو سکتا ہے، یا اس کا مفید ذریعہ بن سکتا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس یہ چیز الٹی مانع ومزاحم ہوتی ہے اور بسا اوقات کافروں کی حکومت سے زیادہ کام یاب مزاحمت کرتی ہے۔
۳۔ یہ خیال کرنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اس وقت انتخابات کے ذریعہ سے نظامِ حکومت کو تبدیل کرنا نسبتاً کوئی آسان کام ہو گا۔ دراصل اس وقت بھی اصلاح کے لیے وہی سارے پاپڑ بیلنے پڑیں گے جو آج یعنی ۴۰ء میں براہِ راست اِسلامی نظامِ حکومت کے قیام کی کوشش میں بیلنے ہوں گے اور اس وقت بھی اس راہ میں ویسی ہی مزاحمتیں ایک بگڑا ہوا مسلمان برسراقتدار طبقہ کرے گا جیسی آج کفار کر رہے ہیں۔ اس لیے اگر یہ سب کچھ اس وقت بھی پیش آنا ہے تو ہم آج ہی سے وہ اصل کام کیوں نہ شروع کر دیں جس سے دراصل اِسلامی حکومت قائم ہوا کرتی ہے اور اس درمیانی چیز کے قیام میں اپنی قوتیں کیوں صرف کریں جب کہ اسے مددگار نہیں بلکہ مزاحم ہی بننا ہے۔
ان تینوں نکات کو نگاہ میں رکھ کر آپ ’’اِسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘‘ اور ’’اِسلام کی راہِ راست اور اس سے انحرا ف کی راہیں‘‘ کا اور بغورمطالعہ کریں تو آپ کے سامنے وہ اصل مسئلہ واضح ہو جائے گا جو اس وقت زیر بحث تھا اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس وقت میرا موقف کیا تھا۔
خصوصیّت کے ساتھ مقدم الذکر مضمون کی یہ عبارت قابلِ توجہ ہے:
’’حکومت کا نظام اجتماعی زندگی میں بڑی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ جب تک اجتماعی زندگی میں تغیر واقع نہ ہو کسی مصنوعی تدبیر سے نظامِ حکومت میں کوئی مستقل تغیر پیدا نہیں کیا جا سکتا… میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو قومی اسٹیٹ جمہوری طرز پر تعمیر ہو گا وہ اس بنیادی اصلاح میں آخر کس طرح مددگار ہو سکتا ہے۔ جمہوری حکومت میں اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے جن کو ووٹروں کی پسندیدگی حاصل ہو۔ ووٹروں میں اگر اِسلامی ذہنیت اور اِسلامی فکر نہیں ہے، اگر وہ صحیح اِسلامی کیریکٹر کے عاشق نہیں ہیں اور اگر وہ اس بے لاگ عدل اور بے لچک اصولوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جن پر اِسلامی حکومت چلائی جاتی ہے، تو ان کے ووٹوں سے کبھی ’’مسلمان‘‘ قسم کے آدمی منتخب ہو کر پارلیمنٹ یا اسمبلی میں نہیں آ سکتے۔ اس ذریعہ سے تو اقتدار انھی لوگوں کو ملے گا جو مردم شماری کے رجسٹر میں چاہے مسلمان ہوں، مگر اپنے نظریات اور طریقِ کار کے اعتبار سے جن کو اِسلام کی ہوا بھی نہ لگی ہو۔ اس قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار کے آنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں جس مقام پر غیر مسلم حکومت میں تھے، بلکہ اس سے بھی بدتر مقام پر، کیوں کہ یہ قومی حکومت، جس پراِسلام کا نمائشی لیبل لگا ہو گا، اِسلامی انقلاب کا راستہ روکنے میں اس سے بھی زیادہ جری اور بے باک ہو گی جتنی غیر مسلم حکومت ہوتی ہے۔ غیر مسلم حکومت جن کاموں پر قید کی سزا دیتی ہے، وہ ’’مسلم قومی حکومت‘‘ ان کی سزا پھانسی اور جلاوطنی کی صورت میں دے گی اور پھر بھی اس حکومت کے لیڈر جیتے جی غازی اور مرنے پر رحمۃ اللہ علیہ ہی رہیں گے۔ پس یہ سمجھنا غلطی ہے کہ اس قسم کی قومی حکومت کسی معنی میں بھی اِسلامی انقلاب لانے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اگر ہم کو اس حکومت میں بھی اجتماعی زندگی کی بنیادیں بدلنے ہی کی کوشش کرنی پڑے گی اور اگر یہ کام حکومت کی مدد کے بغیر بلکہ اس کی مزاحمت کے باوجود اپنی قربانیوں ہی سے کرنا ہو گا، تو ہم آج ہی سے یہ راہِ عمل کیوں نہ اختیار کریں؟
‘‘اسی بات کو موخر الذکر مضمون میں یوں بیان کیا گیا تھا:
’’اس میں شک نہیں کہ عوام کی اَخلاقی وذہنی تربیت کرکے، ان کے نقطہِ نظر کو تبدیل کرکے اور ان کے نفسیات میں انقلاب برپا کرکے ایک جمہوری نظام کو الٰہی حکومت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس اَخلاقی ونفسیاتی انقلاب کے برپا کرنے میں کیا مسلمانوں کی کافرانہ حکومت کچھ بھی مددگار ہو گی؟ کیا وہ لوگ جو موجودہ بگڑی ہوئی سوسائٹی کے مادی مفاد سے اپیل کرکے اقتدار حاصل کرنے میں کام یاب ہوں گے ان سے آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ حکومت کا روپیہ، اس کے وسائل اور اس کے اختیارات کسی ایسی تحریک کی اعانت میں صرف کریں گے جس کا مقصد عوام کی ذہنیت تبدیل کرنا اور انھیں حکومت الٰہیہ کے لیے تیار کرنا ہو؟ اس کا جواب عقل اور تجربے کی روشنی میں نفی کے سوا کچھ نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ یہ لوگ اس انقلاب میں مدد دینے کے بجائے الٹی اس کی مزاحمت کریں گے۔ کیوں کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر عوام کے نفسیات میں تغیر واقع ہو گیا تو اس بدلی ہوئی سوسائٹی میں ان کا چراغ نہ جل سکے گا۔ یہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ نام کے مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ لوگ کفار کی بہ نسبت زیادہ جسارت وبے باکی کے ساتھ ایسی ہر کوشش کو کچلیں گے اور ان کے نام ان کے ظلم کی پردہ پوشی کے لیے کافی ہوں گے۔ جب صورت معاملہ یہ ہے تو کیا وہ شخص نادان نہیں ہے جو اِسلامی انقلاب کا نصب العین سامنے رکھ کر ایسی جمہوری حکومت کے قیام کی کوشش کرے جو ہر کافرانہ حکومت سے بڑھ کر اس کے مقصد کی راہ میں حائل ہو گی؟
‘‘اب یہ بات آخر آپ میں سے کسی سے چھپی ہوئی ہے کہ ۴۰ء سے ۴۷ء تک پہنچتے پہنچتے واقعات کی دنیا کسی قدر بدل گئی؟ ۴۰ء میں جو راستہ اِسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے میں نے پیش کیا تھا، مسلمانوں نے بحیثیت مجموعی اس کو اختیار نہ کیا۔ وہ اسی ’’درمیانی چیز‘‘ کے لیے کوشاں رہے جسے میں نے پھیر کا راستہ کہا تھا۔ حتی کہ بالآخر وہ لادینی جمہوری قومی ریاست پاکستان قائم ہو گئی جس کے متعلق میں نے یہ کہا تھا کہ وہ اِسلامی نظام حکومت کے قیام میں مددگار ہونے کے بجائے سخت مزاحم ہو گی اور اسے جمہوری طریقوں سے اِسلامی ریاست میں تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہ ہو گا۔ یہ سب کچھ پیش آ جانے کے بعد اگر کوئی شخص مجھ سے یہ کہے کہ اس کے پیش آنے سے پہلے جن خطرات کا میں نے ذکر کیا تھا، اب مجھے انھیں دفع کرنے کے بجائے انھیں سچ کر دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کی معاملہ فہمی کی داد دوں یا سخن فہمی کی۔ بے شک میں نے کہا تھا کہ جاہلیت کے اصول پر مسلمانوں کی قومی ریاست بن جانا اِسلامی حکومت کے قیام کا ذریعہ نہیں ہے اس لیے اس درمیانی چیز کے لیے کوشش کرنے کے بجائے اصل مقصد کے لیے براہ راست کوشش کرو۔ مگر کیا اس کا یہ مطلب تھا، یا اب لینا درست ہے، کہ وہ درمیانی چیز جب قائم ہو جائے تو ہمیں اس کو اِسلام کی راہ میں اتنا ہی اور ویسا ہی سخت مزاحم بن جانے دینا چاہیے جس کا خدشہ ہم نے ظاہر کیا تھا اور اسے اِسلامی نظام کے قیام کا ذریعہ بنانے کی کوشش نہ کرنی چاہیے؟ بے شک میں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمانوں کی قومی جمہوری ریاست کو اِسلامی ریاست میں بدلنا سخت مشکل کام ہو گا، کیوں کہ عام رائے دہندوں کو گمراہ کرکے نہایت بدکردار لوگ برسر اقتدار آ جائیں گے اور وہ کفار سے بھی زیادہ جسارت کے ساتھ اِسلام کی راہ روکنے کی کوشش کریں گے۔ مگر کیا اس سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ جب اس طرح کی ریاست وجود میں آ جائے تو ہمیں بدکرداروں ہی کے ہاتھ میں اسے چھوڑ دینا چاہیے اور جمہوری طریقوں سے اس کی قیادت تبدیل کرنے کی کوشش کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے؟ بے شک میں نے ۱۹۴۰ء میں اِسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے ایک طریق کار پیش کیا تھا، مگر کیا یہ کوئی عقلمندی ہوتی کہ ۴۷ء تک پہنچتے پہنچتے حالات میں جو عظیم تغیر رونما ہو گیا تھا اس کا ہم کوئی نوٹس نہ لیتے اوربدلے ہوئے حالات کوسمجھ کر اپنے ابتدائی طریق کار میں کوئی ردّوبدل نہ کرتے؟ بے شک میں نے اس طریقِ کار کو انبیا کا طریقہ کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں، مگر کسی صاحب ِعقل آدمی سے میں یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ ایک طریقِ کار کے بنیادی اصولوں اور حالات پر ان کے عملی انطباق کی مختلف اشکال کے درمیان فرق نہ کرے گا۔ اس طریقِ کار کے بنیادی اصول ہم نے کبھی نہ بدلے، نہ انھیں بدلنے کے ہم قائل ہیں۔ لیکن جو شخص حالات اور مواقع اور ذرائع کی تبدیلی کے ساتھ ان اصولوں پر عملدرآمد کی شکلیں نہ بدل سکے اس کی مثال میرے نزدیک اس عطائی طبیب کی سی ہے جو کسی حکیم کی بیاض کا ایک نسخہ لے کر بیٹھ جائے اور آنکھیں بند کرکے تمام مریضوں پر اسے جوں کا توں استعمال کرتا چلا جائے۔