مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔

کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔

اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔

خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
  2. "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
  3. سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
  4. تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
  5. داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
  6. علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
  7. تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
  8. جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟

مطالبہ دستور کے متعلق ایک عجیب غلط فہمی

اس مطالبہ ِدستورِ اِسلامی پر آج دس سال کے بعد ہمارے بعض پرانے رفقا یہ اعتراض لے کر اٹھے ہیں کہ ہم نے اس طرح فطری طریقِ انقلاب کو چھوڑ کر مصنوعی طریقے سے ایک اِسلامی ریاست بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ برسوں اس کام کے خود علمبردار رہنے کے بعد وہ اس کو ایسے عجیب وغریب معنی پہنا رہے ہیں جو کبھی نہ ان کی زبان سے سنے گئے تھے، نہ کسی کو یہ توقع تھی کہ جماعت کے حلقوں میں وہ سنے جائیں گے۔ ان کی تعبیر کے مطابق ہماری اس جدوجہد کا منشا بس یہ تھا کہ دستور ساز اسمبلی ہمارے بتائے ہوئے چند اِسلامی اصولوں پر ملک کا ایک دستور بنا دے اور جب وہ ایسا کر دے گی تو وہ مطلوب چیز وجود میں آ جائے گی جسے ہم اِسلامی ریاست وحکومت کہتے ہیں، خواہ معاشرہ اسی جاہلیت میں مبتلا رہے جس میں وہ پہلے مبتلا تھا۔ اس غلط تعبیر کی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس موقع پر نظامِ حکومت کی اصلاح کے لیے جو قدم اٹھایا وہ بالکل غلط سمت میں تھا اور طریقِ انقلاب کے بھی خلاف تھا جو ہم خود تقسیم سے پہلے بیان کیا کرتے تھے۔ اس طریقِ انقلاب کے مطابق تو نظامِ حکومت کی صحیح اور حقیقی تبدیلی صرف وہی ہو سکتی تھی جو معاشرے کی ذہنی واَخلاقی تبدیلی کے نتیجہ میں رونما ہو۔ لیکن اب ہم معاشرے کی تبدیلی کے بغیر ہی نظامِ حکومت محض ایک دستور ساز اسمبلی کے ذریعہ سے تبدیل کرانے پر آمادہ ہو گئے، حالانکہ یہ اسمبلی معاشرے کے بگاڑ کی نمائندہ تھی اور ان بگڑے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں کسی اصلاح کا امکان نہ تھا، نہ اس امر کا کوئی امکان تھا کہ اس جمہوری نظام میں فاسد معاشرے سے صالح لوگ منتخب ہو کر آئیں اور اصلاح کا کوئی کام کر سکیں۔

یہ بعینہٖ وہی اعتراض ہے جس کا ہمیں مطالبہ نظامِ اِسلامی کے آغاز میں لادینی ریاست کے حامیوں کی طرف سے سابقہ پیش آیا تھا۔ ۱۹۴۸ء کے اوائل میں جب پہلی مرتبہ یہ آواز اٹھائی گئی کہ پاکستان کو ایک اِسلامی ریاست ہونا چاہیے، تو ان سب لوگوں نے جو اسے ایک لادینی ریاست دیکھنا اور بنانا چاہتے تھے، طرح طرح کے بہانوں اور اعتراضات سے اس آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ اگر یہاں اِسلامی قانون جاری ہو گا تو لاکھوں آدمیوں کے ہاتھ کٹ جائیں گے، اگر یہاں ہم اپنی مذہبی حکومت قائم کریں گے تو ہندوستان میں ہندو بھی اپنی مذہبی حکومت قائم کر دیں گے، اگر یہاں ہم نے ایک مذہبی حکومت قائم کی تو ہم دنیا بھر میں نکوبن جائیں گے۔ لیکن سب سے زیادہ زور دار بہانہ جو لوگ بنا کر لائے تھے، وہ یہ تھا کہ، پہلے معاشرہ تو اِسلامی ہو، پھر حکومت بھی آپ سے آپ اِسلامی ہو جائے گی، اس بگڑے ہوئے معاشرے میں تم اِسلامی حکومت کہاں قائم کرنے چلے ہو، اس موقع پر میں آپ کو وہ مکالمہ یاد دلاؤں گا جو مئی ۴۸ء میں خود مجھ سے ریڈیو پر کیا گیا۔ اس میں لادینی نظریے کا استدلال یہ تھا۔

’’ہر ملک کا سیاسی نظام اس کے باشندوں کے رسم ورواج، اَخلاق، عادات، خصائل اور اعتقادات وتوہمات کا پرتو ہوتا ہے۔ ریاستی نظام بجائے خود کسی فلسفے یا مذہب کا حامل نہیں ہو سکتا۔ اگر اسے ایسا بنانے کی کوشش کی جائے تو وہ ایک مصنوعی اور عارضی کوشش ہو گی… اگر ہم اِسلامی ریاست کی تعمیر چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ پاکستان کے باشندوں میں صحیح اِسلامی اسپرٹ پیدا کریں اور انھیں دین کی اصلی اقدار سے روشناس کرائیں۔ جب یہ اقدار مضبوط ہو جائیں گی اور ہمارے قومی کریکٹر میں اِسلامی تصورات پوری طرح سرایت کرجائیں گے، اس وقت ہمارا سیاسی نظام خود بخود اِسلامی رنگ اختیار کرے گا۔ ہم اس وقت تک اِسلامی ریاست کی داغ بیل نہیں ڈال سکتے جب تک ہماری روحانی، شخصی اور سماجی زندگی میں اِسلامی روایات پوری تابندگی سے جلوہ گرنہ ہوں۔ میری نظر میں وہ وقت ابھی بہت دور ہے جب ہم مکمل اِسلامی تصورات قبول کر لیں گے۔ اس لیے اِسلامی ریاست کو قائم کرنے کی کوششیں پیش از وقت ہیں۔‘‘ [ترجمان القرآن جون 48ء]

یہ وہ سب سے زیادہ دلفریب پھندا تھا جس میں ہمیں پھانسنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ۴۰ء میں ان لوگوں کا استدلال یہ تھا کہ پہلے مسلمانوں کی ایک قومی ریاست قائم ہو جانے دو، پھر اسے اِسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کر لینا۔ اس دلیل سے انھوں نے فطری انقلاب کے اس راستے کو قبول کرنے سے انکار کیا جس پر چل کر مسلمانوں کی قومی ریاست کا قیام اور اِسلامی ریاست کا قیام آپ سے آپ ایک ساتھ واقع ہوتا۔ اب جبکہ وہ قومی ریاست قائم ہو گئی تو ان کا دوسرا استدلال یہ تھا کہ اس وقت چوں کہ معاشرہ اِسلامی نہیں ہے، اس لیے یہاں ایک لادینی جمہوری ریاست ہی قائم ہونی چاہیے۔ تم اِسلامی ریاست چاہتے ہو تو معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرو۔ جب وہ بدل جائے گا تو ریاست بھی بدل جائے گی۔ بالفاظ دیگر ان کا مطلب یہ تھا کہ اس قومی ریاست کو تو معاشرے کی تعمیر لادینی اصولوں پرکرنے دو اور تم اسی طرح اختیارات اور وسائل کے بغیر اِسلامی معاشرہ تیار کرتے رہو جس طرح قومی ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے اجنبی تسلّط کے دَور میں کر رہے تھے۔ تعجب یہ ہے کہ اس وقت تو لادینی کے حامی ہمیں اس پھندے میں پھانسنا چاہتے تھے۔ مگر اب خود دینی نظام کے بعض حامی ہم سے کہتے ہیں کہ تم اس پھندے میں پھنس کیوں نہ گئے؟ تم اِسلامی دستور کا ایک مصنوعی مطالبہ لے کر کیوں کھڑے ہو گئے؟ تم نے یہاں ایک لادینی ریاست کیوں نہ قائم ہو جانے دی؟ تم کو تو اپنی ساری کوشش صرف ذہنی انقلاب اور اصلاحِ معاشرہ پر صرف کرنی چاہیے تھی۔ جب یہ کا م پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا تو ریاست خود بخود اِسلامی ہو جاتی۔

اس معاملے میں ساری غلط فہمیوں کی بنیاد یہ ہے کہ یہ لوگ نہ تقسیم سے پہلے کی پوزیشن اچھی طرح سمجھتے ہیں ،نہ تقسیم کے بعد کی پوزیشن اور نہ یہی جانتے ہیں کہ ان دونوں زمانوں میں ہم نے جو کچھ کہا اور کیا اس کا حاصل اور مدعا کیا تھا۔

تقسیم سے پہلے ہم نے فطری انقلاب کا راستہ ایک ایسی مسلمان قوم کے سامنے پیش کیا تھا جو حکومت کے اختیارات نہیں رکھتی تھی، بلکہ حصولِ اختیار کے لیے کوشش کرنے اٹھ رہی تھی۔ نیز وہ اپنی منزلِ مقصود اِسلامی ریاست بتاتی تھی مگر غلط راستے سے اس کی طرف جانا چاہتی تھی۔ ہم نے اسے بتایا کہ اس منزل تک جانے کا فطری راستہ یہ ہے۔ اس راستے سے آگے بڑھو گے تو اختیارات کا حصول اور اِسلامی ریاست کا قیام، دونوں بیک وقت واقع ہوں گے، بالکل اسی طرح جیسے درخت کا بلوغ اور اس میں پھل آنا، دونوں ایک ساتھ طبیعی نتیجے کے طور پر واقع ہوتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے اس وقت ہماری یہ تجویز مقبول نہ ہو سکی، مسلمان اپنی پوری اجتماعی طاقت صرف حصول اختیار کی کوشش پر صرف کرتے رہے اور بس ہم چند آدمی ہی اس فطری راستے سے انقلاب لانے کی سعی کے لیے رہ گئے۔

تقسیم کے بعد جس چیز سے ہم دوچار ہوئے وہ یہ تھی کہ وہی بے اختیار قوم، جسے ہم نے فطری انقلاب کا وہ راستہ دکھانا چاہا تھا، ایک مصنوعی انقلاب کے ذریعہ سے یک لخت بااختیار ہو گئی بغیر اس کے کہ اس کے سامنے کوئی واضح نصب العین ہوتا اور اس نصب العین کے مطابق سیاسی انقلاب کے ساتھ کوئی ذہنی، اَخلاقی اور اجتماعی انقلاب بھی رونما ہوا ہوتا۔ اب لامحالہ بااختیار ہو جانے کے بعد اس قوم کواپنے لیے ایک نظریہِ زندگی اختیارکرنا تھا جس پر وہ اپنی تعمیر نو کا آغاز کرتی، جس کے مطابق وہ اپنی تعمیر کے کام میں ملک کے وسائل اور حکومت کے اختیارات استعمال کرتی، جس کے لحاظ سے مردانِ کار تیار کرنے کے لیے وہ تعلیم وتربیت کا انتظام کرتی، جس کے نقشے پر وہ اپنی حیاتِ اجتماعی کی تشکیل اور معاملاتِ زندگی کی انجام دہی کے لیے قوانین بناتی۔ یہ اس قوم کے استعمالِ اختیارات کا وقتِ آغاز تھا اور اسے طے کرنا تھا کہ وہ اپنے ان اختیارات کو کس مقصد کے لیے کس چیز کی تعمیر اور کس چیز کی تخریب میں استعمال کرے۔

اس وقت دو طرح کے امکانات قریب قریب مساوی حیثیت میں موجود تھے۔ ایک امکان اس امر کا تھا کہ یہ مسلمان قوم لادینی قومی ریاست کے راستے پر مڑ جائے اور اس مصنوعی انقلاب کی تکمیل اس بدترین شکل میں ہو جس کا نقشہ کھینچ کھینچ کر ہم تقسیم سے پہلے اپنی قوم کو اس راستے کے خطرات سے آگاہ کیا کرتے تھے۔ ایک طاقت ور گروہ جس کے ہاتھ میں اختیارات کی کنجیاں بھی تھیں، اس قوم کو اسی راستے پر ڈالنے کے لیے زور لگا رہا تھا اور اس کوشش میں تھا کہ جس طرح بھی ہو سکے، دوسرے امکان کے دروازے جلدی سے جلدی بند کر دئیے جائیں۔ دوسرا امکان یہ تھا اور اس کے لیے اچھے خاصے مواقع موجود تھے کہ اس قوم کو اِسلامی ریاست کے راستے پر ڈالا جائے اور لادینی کی جڑیں اس کے معاشرے میں نہ جمنے دی جائیں۔

اس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر اب ملاحظہ فرمائیے کہ جس وقت ہم ۴۸ء میں دستور اِسلامی کی جدوجہد کے لیے اٹھ رہے تھے اس وقت ہم نے ان لوگوں کے استدلال کا کیا جواب دیا تھا جو کہتے تھے کہ سرِدست تو ایک لادینی جمہوری ریاست بن جانے دو، پھر جوں جوں معاشرہ اِسلامی بنتا جائے گا، ریاست بھی اِسلامی ہوتی چلی جائے گی۔ ابھی ریڈیو کے جس مکالمے کا میں نے ذکر کیا ہے، اس میں جانبِ مخالف کی بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے عرض کیا تھا:

’’آپ نے سچ فرمایا کہ ایک ملک کا نظام اس کے باشندوں کی اَخلاقی و ذہنی حالت کا پرتو ہوتا ہے۔ اب اگر پاکستان کے باشندے اِسلام کی طرف ایک پرزور میلان رکھتے ہیں اور ان کے اندر اِسلام کے راستے پر آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے تو آخر ان کی قومی ریاست ان کے اس میلان اور خواہش کا پرتو کیوں نہ ہو؟ آپ کا یہ ارشاد بھی بالکل درست ہے کہ اگر ہم پاکستان کو ایک اِسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے باشندوں میں اِسلامی شعور، اِسلامی ذہنیت اور اِسلامی اَخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مگر میں نہیں سمجھا کہ آپ اس کوشش میں حصہ لینے سے خود ریاست کو کیوں مستثنیٰ رکھنا چاہتے ہیں۔ ۱۵ ؍ اگست ۴۷ء سے پہلے کی صورت حال تو یہ تھی کہ ہمارے اوپر ایک غیر مسلم اقتدار مسلّط تھا، اس وجہ سے ہم اِسلامی خطوط پر اپنی ملت کی تعمیر میں ریاست اور اس کی طاقتوں اور اس کے ذرائع سے کوئی مدد نہیں پا رہے تھے، بلکہ درحقیقت اس وقت ریاست کا پورا ادارہ اپنے زور سے ہمیں دوسری طرف کھینچے لیے جا رہا تھا اور ہم انتہائی ناسازگار حالات میں اِسلامی زندگی کی تعمیر کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اب جو سیاسی انقلاب ۱۵؍ اگست کو رونما ہوا ہے اس کے بعد ہمارے سامنے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا ہماری قومی ریاست اِسلامی زندگی کی تعمیر میں وہ حصہ لے گی جو ایک معمار کا حصہ ہوتا ہے، یا وہ طرز عمل اختیار کرے گی جو ایک بے نیاز غیر جانبدار کا ہوا کرتا ہے، یا اب بھی وہی پچھلی صورت حال برقرار رہے گی کہ ہمیں حکومت کی مدد کے بغیر بلکہ اس کی مزاحمت کے باوجود اِسلامی تعمیر کا کام کرنا ہو گا‘؟ اس وقت چوں کہ پاکستان کا آیندہ نظام زیر تشکیل ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایسی ریاست بن جائے جو اِسلامی زندگی کی معمار بن سکے۔ ہماری یہ خواہش اگر پوری ہو گئی تو ریاست کے وسیع ذرائع اور طاقتوں کو استعمال کرکے پاکستان کے باشندوں میں ذہنی اور اَخلاقی انقلاب برپا کرنا بہت زیادہ آسان ہو جائے گا۔ پھر جس نسبت سے ہمارا معاشرہ بدلتا جائے گا اسی نسبت سے ہماری ریاست بھی ایک مکمل اِسلامی ریاست بنتی چلی جائے گی۔‘‘

اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اس کا جواب میں نے اپنی اس تقریر میں دیا تھا جو فروری ۴۸ء میں لا کالج لاہور میں کی گئی تھی۔ میں نے اس میں کہا تھا:

’’میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ ماحول (یعنی اِسلامی ماحول جس کے تیار ہونے پر اِسلامی ریاست کی بنا ڈالنا موقوف قرار دیا جاتا ہے)، تیار کون کرے گا؟ کیا ایک بے دین ریاست جس کی باگیں فرنگیت زدہ حکام اور لیڈروں کے ہاتھ میں ہوں؟…… اگر ان کا مطلب یہی ہے تو انسانی تاریخ میں یہ پہلا اور بالکل نرالا تجربہ ہو گا کہ بے دینی خود دین کو پروان چڑھا کر اپنی جگہ لینے کے لیے تیار کرے گی! اور اگر ان کا مطلب کچھ اور ہے تو وہ ذرا صاف صاف اس کی توضیح فرمائیں کہ اِسلامی ماحول کی تیاری کا کام کون، کس طاقت اورکن ذرائع سے کرے گا اور اس دوران میں بے دین ریاست اپنے ذرائع اور اقتدار کو کس چیز کی تعمیر میں صرف کرتی رہے گی؟…… اِسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر ہو یا غیر اِسلامی زندگی کی، اگرچہ وہ ہوتی تو بتدریج ہی ہے لیکن تدریجاً اس کی تعمیر صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب کہ ایک معمار طاقت اپنے سامنے ایک مقصد اور ایک نقشہ رکھ کر مسلسل اس کے لیے کام کرے… یہ پاکستان جب اِسلام کے نام سے اور اِسلام کے لیے مانگا گیا ہے اور اسی بنا پر ہماری یہ مستقل ریاست قائم ہوئی ہے، تو ہماری اس ریاست ہی کو وہ معمار طاقت بننا چاہیے جو اِسلامی زندگی کی تعمیر کرے۔ اور جب کہ یہ ریاست ہماری اپنی ریاست ہے اور ہم اپنے تمام قومی ذرائع ووسائل اس کے سپرد کر رہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس تعمیر کے لیے کہیں اور سے ذرائع اور معمار فراہم کرتے پھریں۔‘‘

’’یہ بات اگر صحیح ہے تو پھر اس تعمیر کی راہ میں پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس ریاست کو جو ابھی تک انگریز کی چھوڑی ہوئی کافرانہ بنیادوں پر قائم ہے، مسلمان بنائیں… اس کے بعد ہی صحیح طورپر ہمارے رائے دہندوں کو یہ معلوم ہو گا کہ اب انھیں کس مقصد اور کس کام کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے ہیں… دوسرا قدم یہ ہے کہ جمہوری انتخاب کے ذریعہ سے اس ریاست کی زمامِ کار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو جو اِسلام کو جانتے بھی ہوں اور اس کے مطابق ملک کے نظامِ زندگی کو ڈھالنا چاہتے بھی ہوں۔ اس کے بعد تیسرا قدم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ہمہ گیر اصلاح کا ایک منصوبہ بنایا جائے اور اسے عمل میں لانے کے لیے ریاست کے تمام ذرائع ووسائل استعمال کئے جائیں۔‘‘ [آزادی کے اسلامی تقاضے ص 36-39]

اسی زمانے میں مولانا امین احسن صاحب نے اپنی ایک تقریر میں وضاحت کے ساتھ یہ بتایا تھا کہ اگر پاکستان کی قومی ریاست ایک لادینی ریاست بن گئی تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ انھوں نے فرمایا تھا:

’’جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، ایک لادینی جمہوری ریاست کی طرف سے اس کے ساتھ دو ہی طرح کے سلوک کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یا تو وہ چشم پوشی اور اغماض کا سلوک کرے گی، یا عناد کی پالیسی اختیار کرے گی۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں طرح کے سلوک لادینی حکومتیں دو مختلف طرح کے حالات میں اختیار کرتی ہیں۔ جن ملکوں میں مذہبی احساس کم زور ہوتا ہے وہاں لادینی حکومتیں بالعموم چشم پوشی کی پالیسی اختیار کرے گی اور پیش نظریہ بات ہوتی ہے کہ نظامِ غالب کے تحت یہ خفیف مذہبی جڑیں اکھاڑ نہ دی جائیں، وہاں وہ پوری طاقت کے ساتھ اس بات کی کوشش کرتی ہے کہ مذہب کا نام ونشان بھی باقی نہ چھوڑے۔ میرا اندازہ ہے کہ پاکستان کے حالات اسی طرح کے ہیں۔ اس وجہ سے اگر اس ملک میں کسی لادینی ریاست کے قیام کا فیصلہ ہوا تو اس کی تعمیر مذہب کی تخریب کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی اور لادینیت کے آئمہ مجبور ہوں گے کہ اس سرزمین کو تمام مذہبی آثار اور محرکات سے اسی طرح صاف کر دیں جس طرح کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں نے ترکی کو تمام مذہبی باقیات سے صاف کر دیا تھا۔‘‘ [آزادی کے اسلامی تقاضے ص 26-27]

اس تشریح سے آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ جن حالات میں ہم نے اقامتِ دین کی جدوجہد کے لیے مطالبہ دستورِ اِسلامی کو نقطہ آغاز کی حیثیت سے منتخب کیا تھا ان حالات میں پیش قدمی کا یہی ایک راستہ صحیح تھا۔ فطری طریق انقلاب کا یہ تصوّر کہ وہ کوئی ایسا لگا بندھا طریقہ ہے جو ہر جگہ ہر طرح کے حالات میں ایک ہی ڈھنگ پر چلنا چاہیے، سراسر ایک غیر معقول تصور ہے۔ ایک نئی نئی آزاد ہونے والی مسلمان قوم کے اندر انقلاب لانے کا فطری اور معقول راستہ وہ نہ تھا جس پر قبل تقسیم کے حالات میں ہم کام کر رہے تھے، بلکہ یہ تھا کہ ہم آگے بڑھ کر اسے اپنی آزادی وخود مختاری کے استعمال کی صحیح صورت بتائیں، اس کو دوسری گمراہ کن تحریکوں کے اثر میں جانے سے روکیں، اس ملک میں ایک غلط اور تباہ کن نظام تعمیر نہ ہونے دیں اور اس امر کی پوری کوشش کریں کہ اس کے نئے اختیارات اور ذرائع ووسائل ایک تعمیر صالح میں صرف ہوں۔ ہمارے لیے قبل تقسیم کے طریق کار کی طرف پلٹنا اگر جائز ہو سکتا تھا تو صرف اسی صورت میں جب کہ ہم اپنے ان مقاصد میں ناکام ہو جاتے اور ہماری کوششوں کے باوجود ایک بے دین قیادت یہاں قدم جما کر ٹھیٹھ لادینی نظام قائم کر دیتی۔

اب اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہماری یہ جدوجہد بس حکمرانوں سے اِسلامی دستور بنا دینے کے مطالبے تک ہی محدود تھی اور اس کے ساتھ معاشرے کی تیاری کا کوئی عنصر شامل نہ تھا، تو یہ اس کے اپنے ہی فہم کا قصور ہے۔ وہ آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے نظر آ سکتا ہے کہ اس جدوجہد کے ذریعہ سے ہم نے پچھلے دس سال کے اندر معاشرے کو کس حد تک فاسد قیادتوں کے بالمقابل ایک صالح قیادت ابھارنے کے لیے تیار کیا ہے اور سلبی اور ایجابی دونوں حیثیتوں سے مخالف دین اثرات کی روک تھام اور موافق دین اثرات کو پھیلانے کی کتنی خدمت انجام دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مطالبہ دستور کی جدوجہد کے اصل مخاطب حکمران گروہ کے لوگ تھے ہی نہیں۔ اس کے مخاطب تو اس ملک کے عوام تھے اور انھی کی رائے کو نظام اِسلامی کے حق میں ہموار کرکے ہم لادینی کے ان طوفانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو آپ سب کی آنکھوں کے سامنے کیسی کیسی قوت کے ساتھ اٹھ کر اس ملک پر چھا جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اگر ملک کی رائے عام کو اس حد تک تیار کر دینا کہ بے دینی اپنی ساری سیاسی طاقت اور اپنے سارے ذرائع کے باوجود یہاں فیصلہ کن اقتدار حاصل نہ کر سکے اور اگر اقتدار کی ساری مزاحمتوں کے علی الرغم اِسلامی نظام کی حمایت میں ایک ایسی منظم طاقت پیدا کر دینا جو دفاع اور ہجوم دونوں کا بل بوتا رکھتی ہو اور جس کے ساتھ ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے عناصر وابستہ ہوں، اس کا نام معاشرے کی تیاری نہیں ہے تو میں اس طرح کے خیالات رکھنے والوں سے گزاش کروں گا کہ براہ کرم وہ ہمیں وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ معاشرے کی تیاری کا تصور ان کے ذہن میں آخر ہے کیا اور اس تصور کے لحاظ سے کس چیز کو معاشرے کی تیاری کہا جا سکتا ہے اور کسے نہیں کہا جا سکتا۔