تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تحریر ہے جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے فروری 1957ء کے اجتماع عام کے موقع پر پیش کردہ قرارداد، اس کی وضاحتی تقریر، اور منظور شدہ پروگرام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تنظیمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور عملی راہنمائی ہے جو اسلامی تحریک کے مقصد، طریقۂ کار، اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح، متوازن، اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس کتاب کا بنیادی تھیسس یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا مقصد صرف عقائد یا اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی نصب العین نظامِ حیات کی تبدیلی ہے—یعنی غیر اللہ کی حاکمیت کو ختم کر کے حاکمیت الٰہی کو تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب کرنا۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ مقصد جماعتِ اسلامی کے وجود کے آغاز سے ہی اس کا بنیادی محور رہا ہے، اور تقسیمِ ہند کے بعد حالات کی تبدیلی نے اس مقصد کے حصول کے لیے نئے آئینی اور سیاسی مواقع فراہم کیے، جن کا استحصال ضروری ہے۔
کتاب کا آغاز ناشر کے عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو اس تاریخی اجلاس کی اہمیت، مقصد، اور نتائج کا ذکر کرتا ہے، جس میں 98 فیصد سے زائد اکثریت نے مولانا مودودی کی قرارداد کی منظوری دی۔ اس کے بعد "قرارداد" کے تحت لائحہ عمل کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جو چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہے: (1) تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار، (2) صالح افراد کی تلاش، تنظیم و تربیت، (3) اجتماعی اصلاح کی سعی، اور (4) نظامِ حکومت کی اصلاح۔
اس مختصر خلاصے کے بعد مولانا کی تفصیلی تقریر دس نکات میں تقسیم ہے۔ ابتدائی نکات جماعتِ اسلامی کے اصل نصب العین اور 1951ء کے چار نکاتی لائحہ عمل کی وضاحت کے بعد علمی و فکری کام اور عوامی اصلاح و تربیت کے پروگرام کی تفصیل دیتے ہیں، جبکہ اگلے نکات تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی سیاسی جدوجہد کے چار مراحل اور اس دوران حالات کی تبدیلی کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ آخری نکات ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو جماعت کے اندر اور باہر سے اٹھائے جا رہے تھے: کیا حالات میں 'خود بخود تبدیلی' کا انتظار کافی ہے، کیا سیاسی جدوجہد اور علمی و اخلاقی تربیت میں توازن برقرار ہے، اور سب سے اہم یہ کہ کیا انتخابات میں حصہ لینا اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ مولانا انتخابات سے گریز کے تمام دلائل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل نہ صرف تبدیلیِ قیادت کا واحد پرامن راستہ ہے بلکہ خود اصلاحِ معاشرہ کے کام کا ایک پیمانہ بھی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مخصوص داخلی خطاب دوبارہ پیش کرتی ہے، جو انہوں نے جماعتِ اسلامی کے اپنے ارکان سے کیا، ایک قرارداد کے نکتہ بہ نکتہ جواب میں — جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں مکمل طور پر شامل ہے — جسے جماعت کے اندر ایک حلقے نے حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی دلیل دیتے ہوئے پیش کیا تھا: جماعت کی سیاسی و انتخابی سرگرمی کو معطل یا کم اہمیت دے کر ایک خالصتاً فکری، اخلاقی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام اپنانا، اس نظریے کی بنیاد پر کہ معاشرے میں حقیقی اسلامی تبدیلی "خود بخود" رونما ہوتی ہے، بغیر انتخابات لڑنے یا براہِ راست ریاستی اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت کے۔ یہ مولانا کا سب سے براہِ راست دفاع ہے جو جماعت کی اپنی صفوں کے اندر سے اٹھنے والے اختلاف کے خلاف انتخابی سیاست میں مسلسل شرکت کے حق میں پیش کیا گیا۔
خطاب قرارداد کا جواب دس گنے ہوئے نکات میں دیتا ہے: سب سے پہلے یہ دہرایا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا بانی نصب العین دراصل کیا تھا، اور 1951ء کا چار نکاتی لائحہ عمل جس کا جماعت نے عہد کیا تھا؛ یہ حقیقی تاریخی تفصیل کے ساتھ تقسیمِ ہند سے پہلے جماعت کی سیاسی سرگرمی کو اس کے "تدریجی مراحل" کے ذریعے 1947ء تک بیان کرتا ہے، اس تاریخ کی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے؛ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تقسیم کے بعد حالات کیسے بدلے — صوبوں کی نئی تشکیل، لادینی دستور کا عارضی تسلسل، قومی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا، اور اسلامی دستور کے مطالبے کے گرد جماعت کی نئی پوزیشن؛ خطاب کا مرکزی رد "خود بخود تبدیلی" کے نظریے کی طرف ہے — مولانا سیاسی جزو کو معطل کرنے کے نتائج سے دلیل دیتے ہیں، اور اس کی وجوہات کو ایک ایک کر کے رد کرتے ہیں؛ ایک اور نکتہ اس دعوے کا جواب دیتا ہے کہ جماعت کا کام غیر متوازن ہو گیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ عدم توازن سرگرمیوں کے امتزاج کو درست کرنے کی دلیل ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں؛ اور خطاب کا سب سے طویل حصہ انتخابات کا دفاع کرتا ہے — نہ صرف اقتدار کے حصول کے آلے کے طور پر، بلکہ خود بذاتِ خود معاشرتی اصلاح کے ذریعے اور پیمانے کے طور پر، کیونکہ ووٹروں کو اخلاقی معیار پر امیدواروں کو جانچنے کے لیے تیار کرنا، مولانا کے مطابق، عوامی اخلاقی تعلیم کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ دستاویز اسلام پسند سیاست کی تاریخ کے سب سے اہم داخلی مباحث میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے بنیادی مأخذ ہے: کیا ایک دینی تحریک کو موجودہ انتخابی اداروں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہیے، یا ایک ناقص نظام میں شرکت کو رد کر کے نچلی سطح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے — ایک ایسی بحث جو ان تنظیموں تک میں بار بار سامنے آتی ہے جو بالکل اسی سوال پر جماعتِ اسلامی سے الگ ہوئیں۔ مولانا کا یہاں دیا گیا جواب — کہ انتخابات بذاتِ خود ایک اصلاحی طریقہ کار ہیں — وہ طے شدہ موقف بن گیا جس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں جماعتِ اسلامی کی مسلسل انتخابی شرکت کو تشکیل دیا۔ مطالعاتی حلقے کو اس دلیل کو مذہبی جماعتوں کے حقیقی انتخابی ریکارڈ کے ساتھ تولنا چاہیے، جو دہائیوں کی شرکت کے باوجود بیلٹ باکس پر معمولی رہا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- انتخابات بطور اصلاح بمقابلہ حکمتِ عملی: مولانا دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات بذاتِ خود اخلاقی تعلیم کا آلہ ہیں۔ کیا یہ قابلِ قبول ہے، یا یہ انتخابی شرکت کے حصول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے؟
- "خود بخود تبدیلی" کا نظریہ: سیاسی شمولیت کے بغیر صرف اخلاقی اصلاح سے تبدیلی کا یقین رکھنے کی دلیل کیا ہے؟ کیا مولانا کا جواب اس کے مضبوط ترین ورژن سے مکالمہ کرتا ہے؟
- سیاست اور اصلاح میں توازن: مولانا کے مطابق عدم توازن امتزاج کو درست کرنے کی وجہ ہے، سیاست ترک کرنے کی نہیں۔ کیا مسلسل عدم توازن خود اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی درکار ہے؟
- تاریخی ریکارڈ: جماعتِ اسلامی اور ہم خیال جماعتوں نے دہائیوں سے انتخابات میں حصہ لیا، عموماً معمولی نتائج کے ساتھ۔ کیا یہ مولانا کی امید کی تصدیق کرتا ہے یا اسے کمزور کرتا ہے؟
- داخلی اختلاف: یہ خطاب مولانا کی اپنی تحریک کے اندر سے آنے والی قرارداد کا جواب دیتا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے کہ "درست" حکمتِ عملی پرعزم ارکان کے درمیان بھی کتنی متنازعہ ہے؟
- علیحدہ تنظیمیں: کچھ افراد جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی سے متفق نہ ہو کر الگ تنظیمیں قائم کر گئے۔ کیا مولانا کا جواب بنیادی اختلاف کو واقعی حل کر سکا؟
- تدریج اور مراحل: خطاب جماعت کی تاریخ کو "تدریجی مراحل" کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہ بیانیہ اچانک حکمتِ عملی کی تبدیلی کے خلاف دلیل کی حمایت میں کیسے کام کرتا ہے؟
- جماعت سے باہر اطلاق: کیا یہ بنیادی مخمصہ — ایک ناقص نظام میں شرکت، یا الگ ہو کر ایک متوازی تحریک بنانا — کسی بھی اصلاحی تحریک کے لیے ایک عمومی مسئلہ ہے؟
تیسری وجہ
ایک اور وجہ اس تجویز کے لیے یہ بیان کی جاتی ہے کہ ابھی تو ہم نے علمی میدان میں اس درجے اور پیمانے کا کوئی کام کیا ہی نہیں ہے جو فکری ونظری قیادت بدلنے کے لیے کافی ہو سکے۔ اور فکری ونظری قیادت بدلے بغیر سیاسی قیادت بدلنا نہ تو ممکن ہی ہے اور نہ مفید۔ اس لیے ہمیں سیاسی قیادت کی تبدیلی کاخیال چھوڑ کر اپنی پوری قوت علمی کام پر صرف کرنی چاہیے۔ آخر کار جب ہم علوم وفنون کی وہ ساری بنیادیں ڈھا دیں گے جو موجودہ لادینی تہذیب کی اساس بنی ہوئی ہیں اور اس سے خود بخود ایک انقلاب رونما ہو گا جو سیاست سمیت ہر شعبہِ زندگی میں قیادت کو تبدیل کر دے گا۔
یہ دراصل ایک دوسری ہی نوعیت کا نقشہِ کار ہے جسے اگر اختیار کرنا ہو تو آپ کو اپنی تحریک کے لائحہ عمل سے اس کا صرف چوتھا جز ہی خارج نہیں کرنا ہو گا، بلکہ باقی تینوں اجزا کو بھی ختم کر دینا ہو گا۔ کیوں کہ اس نقشے کی رو سے تو دعوتِ عام، تنظیم افراد صالح اور اصلاحِ معاشرہ کا کام بھی قبل از وقت اور محض لاحاصل ہے۔ یہی نہیں، بلکہ پچھلے پندرہ بیس سال میں ہم اپنے نصب العین کے لیے جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں وہ سب فضول تھا اور محض ناسمجھی کی وجہ سے ہم ایک غلط راستے پر پڑ گئے تھے۔ اس کے بجائے جو کچھ ہمیں کرنا چاہتے تھا اور جو کچھ اب کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ایک عظیم الشان اکیڈیمی قائم کریں جو علوم کی تحقیق وتنقید اور تدوینِ جدید کا کام شروع کرے، پھر جب یہ اکیڈیمی اپنے نتائجِ عمل سے ہم کو اس حد تک مسلح کر دے کہ ہم ایک یونی ورسٹی قائم کر سکیں تو ہمیں دوسرا قدم اس کی تاسیس کا اٹھانا چاہیے۔ اس کے بعد جو کچھ کرنا ہو گا اسے ابھی سے سوچنے کی کوئی حاجت نہیں، کیوں کہ ۶۰۔۷۰ برس تک کے لیے تو یہ پروگرام ہمارے پاس موجود ہی ہے! رہی یہ بات کہ ایک نظام کی گود میں بیٹھ کر دوسرے نظام کے لیے یہ انقلاب انگیز تعمیری ادارے کہاں اور کن وسائل سے قائم ہوں گے اور غالب نظام کا ہمہ گیر استیلا ان کو کام کرنے کا موقع کس حد تک دے گا اور خود اس نظام غالب کے اپنے وسیع وعمیق علمی وفکری اثرات اس مدت میں کس پیمانے پر اپنا کام کر چکے ہوں گے، تو یہ دو سوالات ہیں جو اس عالمِ خیال میں سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے جہاں بیٹھ کر یہ نقشہ کار سوچا گیا ہے۔
دراصل یہ محض ایک سرسری تخیل ہے جسے اچھی طرح سمجھے بغیر اور پھر غور وفکر کی زحمت اٹھائے بغیر ناپختہ حالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ میں چند الفاظ میں اس پر تنقید کرکے بتاؤں گا کہ اس میں خامی کیا ہے’ اور جس چیز کی ضرورت کا اس میں اظہار کیا جا رہا ہے وہ ہماری تحریک میں پہلے ہی کس طریقے سے پوری ہو رہی ہے۔
اس میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ کسی نظریہ حیات کے مطابق سیاسی انقلاب رونما ہونے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس سے پہلے اس نظریّے کے مطابق فکری انقلاب رونما ہو جائے۔ حالانکہ ایسا ہونا کچھ ضروری نہیں ہے۔ خود ہمارے ملک میں انگریزوں نے آ کر پہلے خالص سیاسی تدبیروں سے اقتدار پر قبضہ کیا، پھر اسی ملک کے ذرائع ووسائل سے کام لے کر اپنے نظریہِ حیات کے مطابق افکار، اَخلاق، اطوار، تہذیب، تمدن، ہر چیز کی دنیا بدل ڈالی۔ یہاں یہ فکری وتہذیبی انقلاب سیاسی انقلاب کی علّت نہیں بلکہ اس کا نتیجہ تھا۔ اِسلام کی اپنی تاریخ بتاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداً صرف ایک مٹھی بھر جماعت، اِسلامی طرزِ فکر کی حامل تیار کی تھی۔ اس کے بعد سیاسی انقلاب فکری واَخلاقی انقلاب کے ساتھ اس طرح متوازی چلتا رہا کہ دونوں کی تکمیل ایک ساتھ واقع ہوئی۔ وہاں ان دونوں قسم کی مساعی کو ہم ایک دوسرے کا ایسا مددگار پاتے ہیں کہ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا سیاسی انقلاب، فکری واَخلاقی انقلاب کا نتیجہ تھا یا فکری واَخلاقی انقلاب، سیاسی انقلاب کا نتیجہ۔ اس لیے یہ بات ایک کلیہ کے طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ سیاسی انقلاب کے لیے فکری انقلاب لازماً ایک شرط مقدّم ہے۔ درحقیقت جس چیز کو شرط مقدم کہا جا سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ایک ایسا منظم گروہ موجود ہو یا پیدا ہو جائے جو ایک فکر کا حامل بھی ہو اور اس فکر کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ ایسا گروہ جب وجود میں آ جائے تو پھر یہ امر حالات اور مواقع پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مقصود کی طرف کس راستے سے بڑھے۔ اگر سیاسی تغیر ممکن ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ محض ایک خیالی نظریہ کی بنا پر وہ اس امکان سے فائدہ اٹھانے میں تامل کرے۔ وہ ایسا کر سکتا ہے کہ اقتدار اور وسائل کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد پورے نظامِ زندگی کو اپنے نقطہِ نظر کے رخ پر موڑنے کی ویسی ہی کوشش کرے جیسی انگریز یہاں بڑی کام یابی کے ساتھ کرکے دکھا چکے ہیں اور انبیائے کرام میں بھی اس طریق کار کی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ میں ملتی ہے اسی طرح وہ یہ بھی کر سکتا ہے کہ فکری انقلاب اور سیاسی تغیر کی ایک ساتھ کوشش کرے، یعنی جس قدر فکری طاقت دعوت پھیلانے سے حاصل ہو اسے سیاسی تغیر کے لیے استعمال کرے اور جتنی طاقت سیاسی تغیر کی سعی وجہد سے حاصل ہو اس سے فکری انقلاب کو اور زیادہ وسیع وعمیق کرنے کی کوشش کرتا چلا جائے۔ یہ وہ طریقِ کار ہے جو ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا۔
دوسری ایک غلط بات اس خیالی نقشہِ کار میں یہ فرض کی گئی ہے کہ فکری انقلاب برپا کرنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم تحقیق وتدوینِ علوم کے ادارے قائم کرکے اپنے نظریہ حیات کے مطابق ایک پورا نظام فکر تفصیلاً مرتب کر دیں، پھر اپنے تعلیمی ادارے قائم کرکے ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی پیدا کریں جو اس نظامِ فکر کے مطابق ذہنی تربیت پائے ہوئے ہوں۔ حالانکہ اس مقصد کے حصول کا یہی ایک طریقہ نہیں ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم جس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں اس کی خرابیاں اور جس نظام کو لانا چاہتے ہیں اس کے امتیازی خدوخال مجمل مگر واضح اور مدلل وموثر طریقے سے پیش کرکے ایک عملی جدوجہد کا آغاز کر دیں۔ پھر زندگی کے تمام اہم مسائل، جو وقتاً فوقتاً ملک کو درپیش ہوں، بروقت دخل دے کر اپنے نقطۂ نظر کی ترجمانی کریں اور اسی بنیاد پر مخالف نظریات کے مقابلے میں اپنے نظریّے کو غالب کرنے کی کوشش کرتے چلے جائیں، یہاں تک کہ یہ کش مکش اس قدر عام، اس قدر سنجیدہ اور اس قدر نمایاں ہو جائے کہ معاشرے کا کوئی طبقہ اس کی طرف توجہ کئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس طریقے سے لازماً ایک عام فکری حرکت رونما ہو گی جس سے معاشرے کے دوسرے طبقات کی طرح اہل علم، اہل قلم، اصحاب درس وتدریس اور زیر تعلیم نوجوان بھی متاثر ہوں گے۔ یہ حرکت جہاں کچھ لوگوں کو ہماری مخالفت پر ابھارے گی، کچھ دوسرے لوگوں کا زاویہ فکر ونظر ہماری موافقت میں بھی تبدیل کرے گی۔ اور یہی بدلے ہوئے ذہن آخر کار خود اپنی افتاد طبع سے وہ علمی اور تعلیمی خدمت انجام دینا شروع کر دیں گے جس کی ضرورت ظاہر کی جا رہی ہے۔
ان میں سے جو جس شعبہ علم سے متعلق ہو گا اور جس پوزیشن میں بھی کام کر رہا ہو گا، وہاں اس کی قابلیتیں اسی سمت میں کام کریں گی جس پر ایک ابتدائی فکری حرکت اسے موڑ چکی ہو گی، اس کے بعد جب یہ کش مکش اور زیادہ ترقی کرکے ملک کے سیاسی نظام میں تغیر پیدا کرنا شروع کر دے گی تو ہمیں اپنے ادارے الگ قائم کرنے کی حاجت نہ رہے گی۔ یہی محکمہ تعلیم یہی مدرسے، یہی کالج، یہی یونی ورسٹیاں اور مختلف قسم کی تربیتوں کے یہی سرکاری ادارے جو آج موجودہیں وہ کام کرنے لگیں گے جس کے لیے ایک ادارہِ تحقیقات اور ایک درس گاہ کی ضرورت ظاہر کی جا رہی ہے۔اب یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ ہم کئی سال سے اسی دوسرے طریقے پر فکری انقلاب لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہماری یہ کوشش ایک طرف عمومی اصلاح اور دوسری طرف سیاسی تغیر کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ متوازی چل رہی ہے۔ اگر عملاً یہ ممکن ہوتا اور اس کے لیے ذرائع ووسائل بہم پہنچتے تو ہم ضرور ایک نہیں، متعدد تحقیقی اور تعلیمی ادارے اب تک قائم کر چکے ہوتے۔ آج بھی اس کے مواقع ہمیں مل جائیں تو ہم یہ کام کرنے میں ایک لمحہ کے لیے بھی تامّل نہ کریں۔ کیوں کہ یہ کام ہماری اسکیم میں شامل ہے اور اس کی ضرورت اور اس کے فائدے سے ہم نہ کبھی غافل تھے، نہ اب غافل ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ کام اسی صورت میں مفید ہے جبکہ یہ اس ہمہ گیر اصلاح وتغیر کی جدوجہد کے ساتھ چلے جس میں ہم کئی سال سے منہمک ہیں۔ اس کو روک کر صرف ایک علمی کام ہی پر اپنی مساعی کو مرکوز کر دینا ہماری نگاہ میں ایک بڑی نادانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ اگر کچھ ہو سکتا ہے تو وہ صرف یہ کہ جو کچھ ہم نے اب تک کیا ہے وہ بھی ضائع ہو اور جو کچھ ہم آگے بنانا چاہیں وہ بھی شاید نہ بنا سکیں۔
یہ ہے ان وجوہ ودلائل کی کل کائنات جو تحریک اِسلامی کے لائحہ عمل میں سے اس کے سیاسی جز کو خارج یا سردست ملتوی رکھنے کے حق میں اب تک مجھے معلوم ہو سکے ہیں۔ ان کے سوا اگر اور بھی کچھ وجوہ ہوں تو ہم سب ضرور ان کو معلوم کرنا چاہیں گے اور ٹھنڈے دل سے ان پر غور کریں گے۔ لیکن یہ وجوہ جن پر ابھی میں نے آپ کے سامنے تبصرہ کیا ہے، ایسی کسی تجویز کے لیے میرے نزدیک کسی پہلو سے بھی کافی نہیں ہیں۔ بہرحال آخری فیصلہ اجتماع ارکان کے اختیار میں ہے کہ وہ انھیں کافی تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔……٭٭٭……