سید مودودی کے خطوط
اشاعت: 2019ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
بیسویں صدی کے اُس تاریخی اور فکری بحران میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی ذلت، اخلاقی انحطاط اور فکری الجھاؤ کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند عظیم شخصیات کو جلا دیا، جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ ان کی تحریریں، خصوصاً خطوط، نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا آئینہ ہیں بلکہ اسلامی احیا کے اس عظیم فکری و عملی منصوبے کی زندہ تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی سوچ، نئی جہت اور نئی ذمہ داری سے روشناس کرایا۔ کتاب "سید مودودیؒ کے خطوط" ان ہی خطوط کا ایک جامع، منظم اور تحقیق شدہ مجموعہ ہے جو ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی محنتِ طویلہ کا ثمر ہے۔
اس کتاب کا بنیادی مقصد مولانا مودودیؒ کے فکری سفر، تنظیمی رویّے، علمی گہرائی اور ذاتی مزاج کو ان کے ہی الفاظ میں محفوظ کرنا ہے۔ مولانا کے خطوط محض جوابی کلام تک محدود نہیں؛ ہر خط ایک مختصر رسالہ، ایک فکری تقریر یا ایک عملی ہدایت نامہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چاہے موضوع قرآنی تفسیر ہو، فقہی مسئلہ ہو، جماعتی اختلاف ہو یا بین الاقوامی امور، مولانا ہر معاملے میں اصول پرستی، علمی حوالہ جات، عملی بصیرت اور ادبی شائستگی کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔
بابِ تقدیم میں مصنف نے مولانا کی شخصیت کی ابلاغی صلاحیت، ان کے خط لکھنے کے انداز، اور ان کی بے پناہ ذمہ داری کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا کبھی خط کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ آخری علالت کے دوران بھی وہ زبانی املا کروا کر خطوط روانہ کرتے رہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
راجا محمد اسلم
راجا محمد اسلم ۱۲؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو بگڑالا (تحصیل سوہاوہ؍ضلع جہلم) گھکڑ برادری کی شاخ اسکندرال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی معروف صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر میاں محمد بخش (۱۸۳۰-۲۲؍ جنوری ۱۹۰۷ء) کے نہایت مقرب مرید تھے۔ وہ تاریخ کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔
راجا محمد اسلم یکم دسمبر ۱۹۵۴ء کو فوت ہوئے اور بگڑالہ میں ہی اپنے والد گرامی کے جوار میں ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔
یہ خط سیّد مودودی نے مراد علی کو املا کرایا۔ مکتوب ہذا، مکتوب الیہ کے بھتیجے راجا ظفر الحق کے پاس بگڑالہ؍جہلم میں محفوظ تھا اور اب مخدومہ امیر جان لائبریری ٹڑالی؍گوجرخان کے ذخیرۂ مکتوبات کا حصّہ ہے۔ اس خط میں سیّد مودودی نے ہندومت پہ مفصل اور سکھ مت پہ مجمل کلام کیا ہے۔ یہ جواب ماہ نامہ ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۴۶ء میں شائع ہو چکا ہے، جسے کلیات رسائل و مسائل ،صفحہ ۹۷۲ تا ۹۳۲ دیکھا جا سکتا ہے۔
۹۶
دارالاسلام، جمال پور
۲۶ نومبر ۱۹۴۵ء
مکرمی و محترمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ نے جو استفسارات کیے ہیں، ان میں سے ہر ایک مفصل بحث چاہتا ہے، لیکن میرے لیے اس وقت ان چیزوں پر تفصیلی بحث کرنا مشکل ہے۔
(۱)- ہندو مذہب کے متعلق میری معلومات اتنی زیادہ وسیع نہیں ہیں کہ میں اس کے کسی مسئلہ پر تحقیقی بحث کر سکوں اور بغیر کافی معلومات کے کسی چیز پر بحث و تنقید کرنا مناسب نہیں ہے، جو تھوڑی بہت واقفیت مجھے حاصل ہے، اس کی بنا پر میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ قدیم عہد میں جس کو ویدک عہد کہا جاتا ہے، گائے کی تقدیس کا عقیدہ موجود نہ تھا۔ یا اگر تھا تو بالکل ابتدائی حالت میں تھا۔ چنانچہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ اس دور میں ہندو گائے کی قربانی کیا کرتے تھے۔ اس وقت ہندوؤں میں گائے کی جو تقدیس پائی جاتی ہے، یہ بعد کی پیداوار ہے اور بعید نہیں کہ مصر اور مغربی ایشیا سے یہ ہندوستان میں آئی ہو، جہاں سے بنی اسرائیل کو گاؤ پرستی کی چھوت لگی تھی۔ جہاں تک گائے کی پوجا کا تعلق ہے وہ تو ہندوؤں کے ایک خاص طبقہ میں ہی پائی جاتی ہے، لیکن اس کی تقدیس پوری ہندو قوم میں ایک مشترک چیز ہے، بلکہ جو لوگ ہندوؤں سے نکل کر اسلام یا عیسائی مذہب میں داخل ہوئے ہیں، ان کے بھی ایک اچھے خاصے عنصر میں اس کا کچھ نہ کچھ اثر محض اس لیے پایا جاتا ہے کہ ان کی تبدیلیِ ذہن پوری طرح نہیں ہوئی۔ خاص طور پر اس عقیدہ کی تردید کے لیے کہنا غالباً کچھ مفید نہ ہوگا، کیونکہ ایک غلط عقیدہ بہت سے دوسرے غلط عقیدوں کے ساتھ ہم رشتہ ہوتا ہے، اور ایک ان سب کی اصل جڑ ہوا کرتی ہے۔ جب تک اصل اور اس کی شاخوں کے پورے سلسلہ کی اصلاح نہ کی جائے، محض کسی ایک شاخ کو درست کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوا کرتی۔ اس قسم کے تمام غلط عقائد کی جڑ یہ ہے کہ انسان اس کائنات کے نظام اور اس میں اپنے صحیح مقام اور مالک کائنات کے ساتھ اپنے اور دوسرے موجودات کے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے میں غلطی کرتا ہے۔ اس ابتدائی اور بنیادی غلط فہمی سے نتیجہ کے طور پر بے شمار غلط فہمیوں کا سلسلہ پیدا ہوتا ہے جو سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں، اور ایک پورا نظامِ فکر اور نظامِ زندگی پیدا کر دیتی ہیں، اگر کوئی شخص اس بات کو سمجھ لے کہ اس ساری کائنات کا ایک ہی خالق اور ایک ہی مالک و متصرف اور ایک ہی حاکم و مدبر ہے اور انسان دنیا میں اس کے خلیفہ و نائب کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، اور دنیا کی ساری چیزیں انسان کے لیے خادم بنائی گئی ہیں تو ایسا شخص شرک اور مخلوق پرستی اور مادی یا روحانی یا خیالی چیزوں کی تقدیس کے ہر شائبہ سے خود بخود پاک ہو جائے گا اور اس کے دل میں ایک خدا کے سوا کسی عبودیت اور کسی کی تقدیس کے لیے جگہ باقی نہیں رہے گی، پھر اگر کسی شخص میں صحیح قسم کا معقول پسندانہ رویہ (true rationalism) موجود ہو تو وہ موروثی تعصبات اور قومی و نسلی تعصبات اور شخصی و نفسانی تعصبات سے خود بخود خالی ہو جائے گا اور اپنی فکر اور اپنے عمل کو پوری بے لوثی کے ساتھ اس طریقہ پر قائم کرے گا، جو سراسر معقول ہے۔
آپ کو اس بات پر تعجب ہے کہ ہندوؤں میں بڑے بڑے معقول آدمی موجود ہیں، جو وسیع علم اور وسیع نظر رکھتے ہیں۔ مگر پھر بھی ان عقائد اور خیالات میں مبتلا ہیں، جو سرسری نظر میں بھی جاہلیت کے عقائد اور خیالات محسوس ہوتے ہیں۔ اس قسم کا تعجب آپ نے آگے ایک اور سوال کے سلسلہ میں بھی ظاہر کیا ہے، لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہ صورتِ حال محض کسی ایک قوم کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں بہ کثرت پھیلی ہوئی ہے۔ دنیا میں بہت سے غلط اعتقادی اور فکری نظام پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے پیروؤں میں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے، جو اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور نہایت ذکی و فہیم اور اپنے مسلک کی مخصوص گمراہیوں کے سوا دنیا کے دوسرے معاملات میں غایت درجہ معقول ہوں گے۔ اس کے باوجود ان لوگوں کا ایسی ایسی گمراہیوں میں مبتلا ہونا، جن میں سے بعض تو ان کے مخصوص مسلک کو ماننے والوں کے سوا دوسرے تمام لوگوں کو صریح غیر معقول معلوم ہوتی ہیں بہ ظاہر ایک حیران کن معاملہ نظر آتا ہے، مگر اس کی حقیقت پر غور کیا جائے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں رہتی۔ اس صورتِ حال کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ انسانوں میں سے کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے، جو اپنی عقل اور علم کے استعمال کو زیادہ تر اپنے دنیوی کاروبار اور اپنی زندگی کے معاملات و مسائل تک محدود رکھتے ہیں اور اس کی کوئی زیادہ پروا نہیں کرتے کہ جن فکری و اخلاقی بنیادوں پر انھوں نے اپنی زندگی کو تعمیر کر رکھا ہے، یا جن بنیادوں پر تعمیر شدہ زندگی انھوں نے پہلے سے پائی ہے۔ ان کے متعلق تحقیق کر لیں کہ وہ بہ جائے خود صحیح ہیں بھی یا نہیں اور ان سے بہتر بنیادیں کہیں ان کو مل سکتی ہیں یا نہیں؟ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسانوں میں بہت کم آدمی ایسے پائے جاتے ہیں،جو نسلی، قومی اور شخصی و نفسانی تعصبات سے آزاد ہو کر خالص علمی و تحقیقی اور خالص معقولیت پر اپنے طرز فکر و عمل کی بنا رکھنے کے لیے آمادہ ہوں۔ اگرچہ اس کے مدعی آپ کو بہت ملیں گے۔
تناسخ کا عقیدہ ہندوؤں کے سوا بعض دوسری قوموں میں بھی پایا گیا ہے اور اب بھی پایا جاتا ہے اور ہندوستان کے باہر بھی بعض فلسفیانہ نظاموں میں اس کا نشان ملتا ہے، لیکن ہندوستان میں جتنی زیادہ گہری جڑیں اس نے پکڑی ہیں، اس کی نظیر دوسری جگہ نہیں ملتی۔ اس عقیدہ کی اصل دو سوال ہیں، جن کو انسان نے ہمیشہ حل کرنے کی کوشش کی ہے اور جو اکثر اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں آدمی کے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ ان میں سے پہلا سوال یہ ہے کہ دنیا میں مصائب و آفات (جن میں موت بھی شامل ہے) کیوں پائے جاتے ہیں؟ سراسر راحت، لذت، خوشی، سلامتی و عافیت، اور ابدی زندگی کیوں نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ انسانی اعمال کے طبعی نتائج تو دنیا میں ایک مقرر ضابطہ کے تحت نکلتے نظر آتے ہیں، لیکن اخلاقی نتائج (جن کے ظاہر ہونے کا انسانی فطرت آپ سے آپ مطالبہ کرتی ہے) کیوں ایک مقرر ضابطہ کے مطابق اور مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتے؟ اگر وہ سب یا ان کا ایک جزو ظاہر ہونے کے لیے رکا ہوا ہے تو اس کے ظہور کی شکل کیا ہے؟ ان دونوں سوالات کے سبب سے مختلف جوابات مختلف فلسفیانہ نظاموں میں ہمیں ملتے ہیں، مگر ان سب پر اس مختصر جواب میں بحث نہیں کی جا سکتی۔ ہندوستان کے فلاسفہ نے جن کے تصورات نے آگے چل کر مذاہب کی شکل اختیار کر لی، ان سوالات کو کرم اور تناسخ کے عقیدہ کی شکل میں حل کیا ہے۔ وہ اس دنیا کو دارالامتحان کی بجائے ایک دارالعذاب اور ایک طرح کے جیل خانہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ حیاتِ جسمانی کو فی الاصل مصیبت قرار دیتے ہیں، جسم اور جسمانیات کے ساتھ انسان کے تعلق کو اس بات کا موجب قرار دیتے ہیں کہ روح اس قید سے چھوٹ چھوٹ کر بار بار اس قید خانہ میں واپس آتی ہے۔ مصائب، آفات اور آلام کو نیز خوشحالیوں اور کامیاب زندگیوں کو ان برے یا اچھے اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، جو روح نے اس وقت کئے تھے۔ جب وہ موجودہ زندگی سے پہلے قیدِ جسم میں تھی اور ان کے نزدیک اعمال کے اخلاقی نتائج جو ایک زندگی میں پوری طرح یا اپنی اصلی شکل میں ظاہر نہیں ہوتے، ان کے ظہور کی صورت یہی ہے کہ انسان اسی دنیا میں دوبارہ آ کر ان کو وصول کرے۔
یہ ایک وسیع نظام فکر ہے، جس کا محض ایک خلاصہ میں نے یہاں بیان کیا ہے اور یہ پوری زندگی کے متعلق انسان کے نقطہ نظر اور زندگی کے ہر پہلو کے متعلق اس کے رویہ کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے تمام فکری اور عملی نتائج پر یہاں بحث کرنا مشکل ہے۔ میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ یہ قیاسی فلسفوں (speculative philosophies) کی نوعیت کی چیز ہے اور تمام قیاسی فلسفوں کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کے سامنے جو مسائل آتے ہیں ان کو وہ محض تخیل اور منطق اور اٹکل سے کسی ایسے طور پر حل کر لینے کی کوشش کرتے ہیں، جن سے ان کو اپنی حد تک اپنے پیش نظر مسائل کا اطمینان بخش اور دل کو لگتا ہوا جواب مل جائے قطع نظر اس سے کہ علم، تجربہ، مشاہدہ اور آثار کائنات سے اس کی شہادت ملے یا نہ ملے۔ قیاسی فلسفی ایسی شہادت کی سرے سے کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ اسے فقط اپنے پیشِ نظر سوالات کا ایسا جواب درکار ہوتا ہے، جس پر وہ اور اس کی طرز پر سوچنے والے لوگ مطمئن ہو جائیں، مگر یہ ظاہر ہے کہ ایسے قیاسات کا امر واقعی اور حقیقت نفس الامری کے مطابق ہونا کچھ ضروری نہیں، بلکہ اس کی بہت کم توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ تو ایک تیر ہے جو اندھیرے میں اٹکل سے چلایا جاتا ہے۔ نشانہ پر لگے یا نہ لگے۔ تیر چلانے والے کو خود بھی اس کی پروا نہیں، بلکہ وہ اس کی بھی پروا نہیں کرتا کہ کسی جگہ اس کے لگنے سے کھٹ کی آواز آتی ہے یا نہیں۔ اس کو مطمئن کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ اپنے قیاس سے جس کو اس نے نشانہ کا صحیح رخ سمجھا ہے، ادھر اس نے اپنی حد تک ٹھیک ٹھیک شست باندھ کر تیر چلا دیا۔ ایسی تیر اندازی کا نشانے پر لگنا جتنا کچھ متوقع ہو سکتا ہے، اتنی ہی کچھ قیاسی فلسفوں کے مطابق حقیقت ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، بہت سے قائلین تناسخ خود بھی اپنے اس عقیدہ کی خامی کو محسوس کرتے ہیں اور یہ اسی کی تلافی کی کوشش ہے، جو کبھی کبھی اخبارات میں کسی ایسی بچی یا بچے کے ظہور کی اطلاع کی شکل میں رونما ہوتی رہتی ہے، جو اپنے پچھلے جنم کے حالات سناتی یا سناتا ہے، لیکن اول تو یہی ایک عجیب بات ہے کہ ایسے بچے صرف ہندوؤں میں ہی پیدا ہوتے ہیں اور ہندو اخبارات تک ہی ان کی خبر پہنچتی ہے۔
دوسری اس سے عجیب تر بات یہ ہے کہ یہ حضرات اپنے فلسفہ کی تائید میں تجربہ و مشاہدہ کی تلافی کے لیے کہیں ایک آدھ ایسے بچے کی پیدائش کو کس طرح کافی سمجھ لیتے ہیں، جن کے نظریہ کی صحت کے لیے تو ضروری ہے کہ سارے ہی بچے ایسے پیدا ہوں۔
اس کے برعکس جن لوگوں نے عقل اور اس کے مطالبات، فطرت اور اس کے تقاضوں، اور آثار کائنات اور ان کے اشاروں کو نظر انداز کرکے ٹھیٹھ ظاہر بینی کے ساتھ اور ایک بڑی حد تک مذہبی طرز فکر سے انکار کی خواہش کے ساتھ تجربہ و مشاہدہ پر اپنی رائے کی بنیاد رکھی ہے، انھوں نے پہلے سوال کی کنہ کو پہنچنے کی تو ضرورت ہی محسوس نہیں کی، بلکہ اپنی تحقیق و رائے کو ”کیوں ہے؟“ کے سوال کی بہ جائے بڑی حد تک صرف ”کیا ہے؟“ کے سوال تک محدود رکھنے کی کوشش کی۔ رہا دوسرا سوال تو اس کے متعلق انھوں نے کسی نہ کسی طرح اپنے نفس کو اس جواب ہی پر مطمئن کرنا چاہا ہے کہ سارے اخلاقی نتائج بس اس دنیا کی ایک ہی زندگی میں ظاہر ہو لیتے ہیں، جو موت پر ختم ہو جاتی ہے اور اگر وہ بالفرض ظاہر نہیں ہوتے، تب بھی بہرحال موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے، کیوں کہ وہ براہِ راست ہمارے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آئی۔ اب رہا یہ امر کہ انبیا علیہم السلام کے لائے ہوئے دین میں ان دونوں سوالات کا کیا جواب ہے؟ اور کن دلائل سے معقول ترین جواب ہے تو اس پر میں اپنے مضامین میں بہ کثرت مواقع پر بحث کر چکا ہوں؛ مثلاً : رسالہ دینیات [سید مودودی کی یہ تصنیف سب سے پہلے حیدرآباد دکن میں جماعت دہم کی نصابی کتاب کے طور پر شائع ہوئی۔ جدید تحقیق کے مطابق کتابی صورت میں اس کی پہلی باضابطہ اشاعت ۱۹۳۹ء متعین کی گئی ہے۔ (ہاشمی، ڈاکٹر رفیع الدین، تصانیف مودودی: اشاعتی اور کتابیاتی مطالعہ، مشمولہ، تذکرۂ سید مودودی، لاہور، ادارۂ معارف اسلامی، تدوین و ترتیب: جمیل احمد رانا، سلیم منصور خالد، ۱۹۹۸ء، ۳ / ۵۹۳-۵۹۵)]، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی [”یہ کتاب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے، جو انھوں نے ۳-۱۹۳۲ء میں لکھے تھے۔ اس مضمون کی اٹھارہ قسطیں ماہنامہ ترجمان القرآن میں شائع چکی تھیں کہ بوجہِ چند یہ سلسلہ رک گیا اور اس کتاب کے بقیہ دو باب مکمل نہ ہو سکے۔“ (عبد الوحید خان، تعارف، مشمولہ، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، لاہور، مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان، ۱۹۹۵ء، اول ص ۷)]، زندگی بعد موت [ ضمیمہ: اسلامی تہذیب اور اُس کے اصول و مبادی، مئی ۱۸۷۹ء، ص ۳۵۲ تا ۳۶۳]، اسلام اور جاہلیت [مولانا مودودی نے یہ تقریر ۲۳ فروری ۱۹۲۱ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں کی اور اپریل ۱۹۲۱ء کے ترجمان القرآن میں شائع ہوئی۔ ازاں بعد اسلامی نظامِ زندگی اور اُس کے بنیادی تصورات میں شامل کی گئی۔]، اور تفسیر سورۂ اعراف [تفہیم القرآن، جلد دوم]۔ البتہ یہ بات میں واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ تمام مابعد الطبیعیاتی مسائل میں یہ اصولی امر مشترک ہے کہ ان کا کوئی حل خواہ وہ نفی کی شکل میں ہو یا اثبات کی شکل میں ایسا قطعی الثبوت نہیں ہوسکتا، جیسے دو اور دو کا چار ہونا قطعی الثبوت ہے کہ اس کو مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ایسے مسائل کا زیادہ سے زیادہ معقول حل جس کے مطابق حقیقت ہونے کا اغلب گمان کیا جاسکتا ہے، صرف وہی ہوسکتا ہے جو عقل اور فطرت کے تمام مطالبوں اور تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ آثارِ کائنات اور تجربات و مشاہدات میں جس کی طرف واضح اشارات پائے جاتے ہوں، جس سے زندگی کے ان تمام مسائل کو حل کیا جا سکتا ہو جو کچھ خاص مسئلہ سے دور یا قریب کا تعلق رکھتے ہوں۔ جس پر عقلاً کسی اعتراض کی گنجائش نہ ہو۔ جس کے مان لینے سے کچھ دوسرے ناقابلِ حل سوال نہ پیدا ہوتے ہوں۔ جس کے نہ ماننے سے کچھ ایسی قباحتیں پیدا ہوتی ہوں، جنھیں کسی دوسرے طریقہ سے رفع کرنا ممکن نہ ہو اور جس کے خلاف کوئی ثبوت نہ دیا جا سکتا ہو۔ عقل زیادہ سے زیادہ ان صفات کے کسی حل کو اغلب (most probable) سمجھنے تک ہی لے جا سکتی ہے۔ اس کے آگے یقین کے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ ایسا حل پیش کرنے والوں کی زندگیوں اور ان کے پیش کردہ پورے نظامِ فکر و عمل کی معقولیت اور ان کے کام اور اس کے نتائج کو دیکھ کر ان پر ایمان بالغیب لایا جائے۔
گرنتھ صاحب [سکھ مت کی مقدس کتاب، جس میں سکھ مت گرووں اور مسلمان صوفیہ کا کلام شامل ہے۔] کا مطالعہ میں نے خود تو نہیں کیا ہے، لیکن جس حد تک میں نے مطالعہ کرنے والوں سے معلومات حاصل کی ہیں ان کی بنا پر میں آپ کے اس خیال سے متفق ہوں کہ سکھ مذہب محض ایک صوفیانہ مذہب ہے۔ اور اس میں انسان کی زندگی کے بڑے بڑے مسائل مثلاً: تمدن و معاشرت، سیاسیات، معاشیات، جنگ و صلح، وغیرہ کے متعلق کوئی ایسی ہدایات موجود نہیں ہیں، جن پر دنیا کی ایک سوسائٹی اور ایک اسٹیٹ کی تعمیر ہو سکے، لیکن جس وجہ سے سکھوں کا تعلیم یافتہ طبقہ اور صاحب فکر و فہم گروہ اب تک اپنی جستجوئے حق اور تلاش ہدایت کو معطل کئے ہوئے اس مذہب پر قانع ہے، اور کسی ایسی رہنمائی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، یا نظر بھی آتی ہو تو اختیار نہیں کرتا جو تمام مسائل زندگی میں اس کو صحیح اصول اور عملی ہدایات دینے والی ہے۔ وہ تقریباً وہی وجہ ہے جس کی تشریح میں نے آپ کے سوال نمبر -۱ کے جواب میں کی ہے۔ فقط، والسلام
بہ الفاظ: مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب
بہ قلم: مراد علی[ اب تک شائع ہونے والے مجموعہ ہائے مکتوبات میں صرف ایک خط (بہ نام: مولانا مسعود عالم ندوی، بہ تاریخ: ۱۱/اکتوبر ۱۹۴۵ء پٹھان کوٹ) کے کاتب مراد علی ہیں۔ (ہاشمی، رفیع الدین، سلیم منصور خالد، مرتبین، خطوطِ مودودی، لاہور، البدر پبلی کیشنز، اپریل ۱۹۸۳ء، اول، ۱/ ۱۲۳-۱۲۵) سید مراد علی بخاری ۲۰/جون ۱۹۲۰ء کو بہ مقام سوہاوہ ڈھلواں (تحصیل کامونکی/ضلع گوجراں والا) سید اصغر علی شاہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ۱۹۳۵ء میں گورنمنٹ ہائی سکول بدوملہی (ضلع نارووال) سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۳۹ء میں گورنمنٹ کالج دہلی سے گریجوایشن کی۔ بی اے کے فوراً بعد جماعت سے وابستہ ہو گئے اور پٹھان کوٹ میں نشر و اشاعت کے شعبے میں جسٹس ملک غلام علی (۴/اپریل ۱۹۲۰ء-م:۱۹۹۱ء) کی زیر نگرانی اپنی ذمے داریاں نبھانے لگے۔ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں رہائش اختیار کی اور ۵ دسمبر ۱۹۴۸ء کو صادق آباد کے رکن جماعت جناب عبدالعزیز خان کی دختر نیک اختر سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ازدواجی ذمے داریوں کا بوجھ بڑھا تو بأ جماعت کی اجازت سے ۱۹۵۱ء میں محکمہ شماریات میں ملازمت اختیار کی اور ۱۹۸۱ء کو ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ ملازمت سے فراغت کے بعد جماعت اسلامی کے شعبہ مالیات سے وابستہ ہو گئے اور کئی سال اپنی ذمے داری کو نبھایا۔ ۲۰۰۰ء کو اپنے آبائی گاؤں کے قریب نارنگ منڈی (ضلع شیخوپورہ) میں رہائش اختیار کی۔ ۲۴ جون ۲۰۰۶ء کو وفات پائی اور اپنے آبائی گاؤں سوہاوہ ڈھلواں میں ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔ ان کی نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد (۱۲ جنوری ۱۹۳۸ - ۶ جنوری ۲۰۱۳ء) نے پڑھائی۔ (آصف بخاری، سید، ٹیلی فونک مکالمہ از راقم، لاہور، ۹ جولائی ۲۰۱۸ء)]
معذرت: مکرمی! سلام مسنون، مولانا محترم نے یہ جواب بہت دنوں سے لکھوا دیا تھا، لیکن کاغذوں میں گم ہو جانے کی وجہ سے دیر سے بھیجا جا رہا ہے۔ مراد