مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سید مودودی کے خطوط

اشاعت: 2019ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

بیسویں صدی کے اُس تاریخی اور فکری بحران میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی ذلت، اخلاقی انحطاط اور فکری الجھاؤ کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند عظیم شخصیات کو جلا دیا، جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ ان کی تحریریں، خصوصاً خطوط، نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا آئینہ ہیں بلکہ اسلامی احیا کے اس عظیم فکری و عملی منصوبے کی زندہ تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی سوچ، نئی جہت اور نئی ذمہ داری سے روشناس کرایا۔ کتاب "سید مودودیؒ کے خطوط" ان ہی خطوط کا ایک جامع، منظم اور تحقیق شدہ مجموعہ ہے جو ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی محنتِ طویلہ کا ثمر ہے۔

اس کتاب کا بنیادی مقصد مولانا مودودیؒ کے فکری سفر، تنظیمی رویّے، علمی گہرائی اور ذاتی مزاج کو ان کے ہی الفاظ میں محفوظ کرنا ہے۔ مولانا کے خطوط محض جوابی کلام تک محدود نہیں؛ ہر خط ایک مختصر رسالہ، ایک فکری تقریر یا ایک عملی ہدایت نامہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چاہے موضوع قرآنی تفسیر ہو، فقہی مسئلہ ہو، جماعتی اختلاف ہو یا بین الاقوامی امور، مولانا ہر معاملے میں اصول پرستی، علمی حوالہ جات، عملی بصیرت اور ادبی شائستگی کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔

بابِ تقدیم میں مصنف نے مولانا کی شخصیت کی ابلاغی صلاحیت، ان کے خط لکھنے کے انداز، اور ان کی بے پناہ ذمہ داری کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا کبھی خط کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ آخری علالت کے دوران بھی وہ زبانی املا کروا کر خطوط روانہ کرتے رہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

چودھری غلام محمد

چودھری غلام محمد (یکم اکتوبر ۱۹۱۶ء - ۲۹ جنوری ۱۹۷۰ء) نے میٹرک کرنے (۱۹۳۳ء) کے بعد معاشی مجبوریوں کے سبب ریلوے میں بطور بکنگ کلرک ملازمت اختیار کر لی۔ ابتدا میں خاکسار تحریک سے متاثر تھے، لیکن بہت جلد اس سے قطع تعلق کر لیا۔ ۱۹۴۴ء میں جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کی۔ ۱۹۴۶ء میں صوبہ سندھ جماعت اسلامی کے قیم اور ۱۹۵۳ء میں صوبہ سندھ و حلقۂ کراچی کے امیر منتخب ہوئے۔ ۱۹۵۷ء میں دو ماہ کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں ایک عرصے تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر رہے۔ مختلف اوقات میں نظر بند رہے، نیز ۱۹۶۲ء میں جماعت پر پابندی لگی تو پابند سلاسل ہوئے۔ چودھری صاحب نے جماعت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور مولانا مودودی کے ذاتی نمائندے کی حیثیت سے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں شمولیت کی۔ اسلامک فاؤنڈیشن، لیسٹر (برطانیہ) اور اسلامک فاؤنڈیشن نیروبی کے قیام میں چودھری صاحب کی منصوبہ سازی کو دخل ہے۔

۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد ڈاکٹر محمد ناصر (سابق وزیر اعظم، انڈونیشیا) کے ہمراہ مسلم ملکوں کا وسیع دورہ کیا۔ علاوہ ازیں شاہ ولی اللہ اورینٹل کالج منصورہ، صوبہ سندھ (۱۵ نومبر ۱۹۵۹ء) ادارہ معارفِ اسلامی، کراچی (۱۹۶۳ء) روزنامہ جسارت ملتان، کراچی (۱۹۷۰ء) بنگلہ روزنامہ سنگرام ڈھاکہ (۱۹۷۰ء) اور ماہنامہ چراغِ راہ کراچی کے اجرا اور قیام واستحکام میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔ ان کی نگرانی میں سواحلی اور لوگانڈا (یوگنڈا کی زبان) میں قرآن کریم کے تراجم شائع ہوئے۔ عمر کے آخری حصے میں سرطان کا شکار ہو گئے۔ بیماری کے باوجود خدمت دین کے لیے آخری دم تک حتی الوسع جدوجہد کرتے رہے۔ متفرق کتابچوں کے علاوہ انگریزی کتاب The Middle East Crisis ان کی تصنیفی یادگار ہے۔ (سوانح چودھری غلام محمد، مرتب: محمد موسیٰ بھٹو)

غلام محمد مرحوم کے جنازے میں شرکت کے لیے مولانا مودودی لاہور سے کراچی پہنچے اور نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد فرمایا: ”چودھری غلام محمد مرحوم نے جس جوش، محنت اور وقت و مال کی قربانی کے ساتھ دین کی خدمت کی ہے، اس کی میں تعریف نہیں کرسکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں اور اس ملک کے لاکھوں باشندے گواہ ہیں کہ چودھری صاحب نے دین کی خدمت میں دانستہ کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اپنی حیات کا خطرہ مول لے کر انھوں نے یہ کام کیا۔ خرابی صحت کے باوجود انھوں نے بیرونی ملکوں کے سفر کیے۔ ان کی کوششوں سے افریقہ میں اسلامی مرکز قائم ہوا۔ چودھری صاحب فلسطین کے مسئلے پر تمام اسلامی ممالک میں رائے عامہ ہموار کرتے رہے۔ خدا کے یہاں اُس کے بندوں کی گواہی مقبول ہوتی ہے اور آپ سب گواہ ہیں کہ چودھری صاحب نے حتی الوسع دین کی خدمت کی۔ میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی خدمات کو قبول کرے اور اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو وہ اُنھیں معاف کر دے۔‘‘

۸

اچھرہ، لاہور

مارچ ۱۹۵۹ء

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کے ارسال کردہ تحائف پہنچے۔ بہت بہت شکریہ، مگر تحفۂ اکبر [ریڈیو] کے ساتھ عجیب معاملہ پیش آیا۔ میرے کمرے میں بجلی ڈی سی ہے اور آپ کا ارسال کردہ ریڈیو اے سی کا تھا۔ آپ نے خط میں متنبہ نہیں کیا کہ یہ اے سی کا ہے۔ میں نے اس حسنِ ظن کی بنا پر کہ آپ میرے کمرے کی بجلی سے واقف ہوں گے یہ سمجھا کہ اگر یہ ڈی سی کا نہ ہوتا تو آپ خط میں مجھے پہلے ہی آگاہ کر دیتے۔ بہرحال اس غلط فہمی کی وجہ سے میں نے اسے اپنے کمرے کی بجلی سے مواصلت کرا ڈالی اور نتیجہ یہ ہوا کہ وصل کے پہلے ہی صدمے نے ریڈیو غریب کی جان پر بنا دی۔ اب ان شاء اللہ اس کا علاج کرواؤں گا۔

میں نے خورشید صاحب کے مضمون پر اپنی تجاویز نوٹ کر کے بھیج دی ہیں۔[دینیات کا ترجمہ پہلے ڈاکٹر عبدالغنی جلال پوری نے کیا تھا، جو قیام پاکستان سے پہلے پٹھان کوٹ سے چھپا تھا۔ دوسرا ترجمہ پروفیسر خورشید احمد نے کیا، جسے (International Federation of Students Organization) (Iffso) نے چھاپا، پھر مزید ۲۴ زبانوں میں تراجم ہوئے۔ اس حوالے سے مولانا کی درج ذیل تحریر برمحل ہے:]

پھر رسالہ دینیات کا انگریزی ترجمہ[<<بسم اللہ الرحمن الرحیم>> ( دیباچہ) یہ میری کتاب: رسالہ دینیات کا محض نیا ترجمہ ہی نہیں ہے، بلکہ نیا ایڈیشن بھی ہے۔ پہلا ایڈیشن نسبتاً بہت مختصر تھا اور اس کا ترجمہ ۱۹۳۹ء میں مرحوم ڈاکٹر عبدالغنی (سابق ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن افغانستان) نے کیا تھا۔ اس ترجمے کے تھوڑی مدت بعد ہی افسوس ہے کہ مرحوم کا انتقال ہو گیا اور بعد میں کوئی اصلاح و نظر ثانی وہ نہ کر سکے۔ اب میں نے اس کتاب میں بہت سے اضافے کر دیے ہیں اور یہ بالکل نیا ترجمہ مسٹر خورشید احمد نے بڑی محنت سے کیا ہے، جس کے لیے وہ میرے دلی شکریے کے مستحق ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ کتاب لکھی گئی ہے، اس کے لیے اب یہ نئی صورت میں پہلے سے زیادہ مفید پائی جائے گی۔ اس کتاب میں جو چیز میرے پیشِ نظر ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے وہ سب لوگ: مسلم اور غیر مسلم جو اصل مآخذ اسلام تک رسائی نہیں رکھتے، ایک مختصر مجموعے میں اسلام کی ایک جامع تصویر دیکھ لیں۔ اس میں، میں نے تفصیلات کو چھوڑ کر زیادہ تر مجموعی تصور کو بیک نظر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ علاوہ بریں میں نے صرف یہ بتانے پر اکتفا نہیں کیا ہے کہ ہم مسلمان کیا کچھ مانتے ہیں، بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ جو کچھ مانتے ہیں اسے کیوں مانتے ہیں۔ اسی طرح اسلامی عبادات اور قوانین حیات کو میں نے صرف بیان کر دینے پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے پیچھے حکمت کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ چیز ہمارے مسلم نوجوانوں کے لیے اطمینان بخش اور غیر مسلموں کے لیے ہماری حقیقی پوزیشن کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ (ابوالاعلیٰ) کراچی: ۳؍ نومبر ۱۹۵۹ء] بھی اپنی تجویزات کے ساتھ بھیجا تھا، لیکن معلوم نہ ہو سکا کہ یہ دونوں چیزیں آپ کو مل گئی ہیں یا نہیں۔

اشاعتی کمپنی [- ۱۹۵۸ء میں مارشل لا لگا تو مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے نام سے کتابیں چھاپنا ممکن نہ رہا تو اشاعتی کمپنی کے نام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ غالباً اسی پس منظر میں ادارہ اسلامک پبلی کیشنز لاہور وجود میں آیا تھا۔] کے قیام میں کیا دیر ہے؟ اس وقت سب سے بڑا نقصان کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ رک جانے سے پہنچ رہا ہے، اگر کتابیں ملنی شروع ہو جائیں تو تحریک پر وہ

مردنی کی کیفیت نہیں رہے گی، جو اب پائی جاتی ہے۔ میں نے سکھر والے محمد علی صاحب[محمد علی (م: ۲۰۱۶ء) جماعت کے پرانے رفیق تھے۔ زندگی کے آخری ایام انھوں نے اسلام آباد میں گزارے۔ اُن کے بڑے بھائی میاں شوکت علی جماعت اسلامی حیدرآباد کے امیر اور مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔] کے ہاتھ آپ کو کچھ پیغامات بھجوائے تھے۔ امید ہے کہ وہ آپ تک پہنچ گئے ہوں گے۔ میری صحت ابھی تک خراب ہے، بلکہ خراب تر ہوگئی ہے۔ شانے کے ساتھ گھٹنے میں بھی درد شروع ہوگیا ہے اور ان دونوں تکلیفوں نے سخت مضمحل کردیا ہے۔ خیال یہ ہے کہ یہ وجع مفاصل (گٹھیا) کی قسم کی تکلیف ہے۔ گردوں کی خرابی نے آخر کار اب یہ رنگ دکھایا ہے۔ اس حالت میں رمضان شریف تشریف لے آئے ہیں اور اب روزوں نے اضمحلال اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس لیے آج کل کوئی دماغی محنت نہیں کرسکتا۔ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ جب تک زندہ

رکھے قابلِ کار رکھے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۹

بسم اللہ

اچھرہ، لاہور

۱۶؍ مئی ۱۹۶۰ء

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ صحیح بات جو تاریخی طور پر ثابت ہے وہ یہی ہے کہ عہد نبویؐ میں ہیکل سلیمانیؑ[ہیکل سلیمانی: کلام مجید میں مسجدِ اقصیٰ کا تذکرہ یوں آیا ہے: ’’پاک ہے وہ رب، جو لے گیا اپنے بندے کو] کی عمارت مکمل تو موجود نہ تھی لیکن عمارت کی بنیادیں اور کھنڈرات موجود تھے۔ قرآن میں اِنہی کو مسجد اقصیٰ کہا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں اِنہی کو صاف کرکے اس جگہ مسجد تعمیر کی گئی۔ ملبہ اٹھانے والوں میں خود حضرت عمرؓ بھی شامل تھے۔ [( ’رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف) جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے یہودی روایات کے مطابق اُس مقام پر کبھی حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ ہیکل (Solomon's Temple) واقع تھا، جسے بابل کے بادشاہ نبوکدنصر نے چھٹی صدی قبل مسیح میں تباہ کردیا تھا۔ ہیر وڈ اعظم نے اس ہیکل کو ازسرِ نو تعمیر کروایا، لیکن ۷۰ء میں رومی حکمران ٹیٹس (Titus) نے اسے بھی پیوند خاک کر دیا۔ ۶۳۸ء میں حضرت عمرؓ کے دور میں جب بیت المقدس فتح ہوا تھا تو یہاں یہودیوں کا کوئی معبد نہ تھا۔ اس جگہ پر ملبے اور غلاظت کے ڈھیر تھے۔ حضرت عمرؓ نے وہ مقام تلاش کیا، جہاں سے آنحضورؐ معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ اُنھوں نے خود گندگی کے اس ڈھیر کو اٹھانا شروع کردیا اور فرمایا: ”آؤ! اسے مسجد کی جگہ بنائیں“۔ اس حکم پر حضرت بلالؓ نے پہلی اذان دی اور حضرت عمرؓ نے نماز پڑھائی اور پھر حضرت عمرؓ نے یہاں ایک سادہ سی مستطیل شکل کی مسجد تعمیر کروائی۔ اس مقام پر جہاں سے آنحضورؐ معراج کے لیے تشریف لے کر گئے تھے۔ گنبد صخرہ تعمیر ہوا۔ اکثر مغربی مصنفین گنبد صخرہ ہی کو مسجد عمر کا نام دیتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی موجودہ عمارت کی تعمیر پانچویں اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے ۷۲ھ/ ۶۹۰ء میں شروع کروائی۔ اس کے ادھورے کام کو اس کے بیٹے ولید نے مکمل کرایا۔ ۷۴۶ء کے زلزلے سے عمارت کو نقصان پہنچا۔ خلیفہ المنصور نے اسے دوبارہ تعمیر کروایا۔ اس کے بعد ایک اور زلزلے کے بعد یہ عمارت زمین بوس ہوگئی تو منصور کے جانشین المہدی نے اسے تعمیر کروایا۔ ۱۴/ جولائی ۱۰۹۹ء میں جب مسجد اقصیٰ عیسائیوں کے قبضے میں چلی گئی تو اُنھوں نے صحنِ مسجد میں مسلمانوں اور یہودیوں کا بے تحاشا خون بہایا۔ اُنھوں نے مسجد اقصیٰ میں بہت سی تبدیلیاں کرنے کے بعد اسے رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ۱۱۸۷ء میں اسے عیسائیوں سے واگزار کرالیا۔ اس نے عمارت کو پہلی حالت میں درست کرایا اور مسلمانوں نے اسے سات روز تک پانی اور عرق گلاب سے دھویا اور قبۃ الصخرہ سے صلیب اُتار دی گئی۔ جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے پورے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور ۲۷/ جون کو اسے اسرائیل کا ایک جز قرار دے دیا۔۔ ۷/ جولائی کو ایک یہودی بریگیڈیئر شلومو غورین نے اعلان کیا کہ مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکلسلیمانی تعمیر کیا جائے گا۔ چناں چہ مسجد سے ملحقہ تمام عمارتوں کو مسمار کر دیا گیا۔ جب کہ ۱۴/ جولائی ۱۹۶۷ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی تھی کہ بیت المقدس کی سابقہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔

۲۱/ اگست ۱۹۶۹ء کو ایک المناک سانحہ پیش آیا۔ اس روز تقریباً چار گھنٹوں تک مسجد اقصیٰ میں آگ بھڑکتی رہی، اس سے مشرقی جانب چھت کا ایک حصہ گر گیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا یادگار منبر جل کر راکھ ہو گیا۔ مسجد اقصیٰ شہر کے مشرقی سمت ایک احاطہ میں واقع ہے۔ اسے مسلمان حرم شریف کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ بیت المقدس کا مقدس ترین حصہ ہے۔ وہ مقدس مقامات جن کی بدولت یہ مقدس شہر مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ اکثر و بیش تر حرم شریف ہی میں ہیں۔ حرم میں جگہ جگہ بلند مقامات ہیں، جنھیں مسلمان محراب کہتے ہیں اور ان کے سامنے نوافل ادا کرتے ہیں۔ حرم شریف میں چار حوض وضو کے لیے اور پانچ منبر واعظین کے لیے ہیں۔ مستورات کے لیے تین مقصورے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی دروازوں کی تعداد پچاس ہے۔ حرم شریف کا طول ۱۲۰۰ گز، عرض ۶۶۰ گز ہے اور چودہ دروازے ہیں۔ حرم کا کل رقبہ چھتیس ایکڑ ہے۔

احاطۂ حرم کے اندر جو زیارتیں ہیں، ان میں مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کے علاوہ مغارۃ الارواح، قبۃ السلسلہ، مہد مسیح، سلیمان کا مصلّٰی، روضہ سلیمان، دیوار براق، مزار مولانا محمد علی جوہر اور دیوار گریہ شامل ہیں۔ (محمد اسلم ڈوگر، طارق اسماعیل، ارشد جاوید: ”حرمین شریفین“، مشمولہ سیارہ ڈائجسٹ، چودہ صدیاں نمبر، فروری/ مارچ ۱۹۸۱ء، جلد ۳۲، شمارہ ۲۰، ص ۲۱۰، ۲۱۱)]

خاکسار

غلام علی

(حسب ارشاد مولانا ابوالاعلیٰ مودودی)

۱۰

اچھرہ، لاہور

مورخہ ۴/ اکتوبر ۶۰ء

مکرمی و محترمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

رجب علی صاحب [ رجب علی: دفتر جماعت کراچی کے ناظم۔]کے ہاتھ آپ کا خط ملا اور انہی کے ہاتھ یہ جواب بھیج رہا ہوں۔ میری صحت وسط ستمبر سے پھر خراب ہو رہی ہے۔ موسم بدلتے ہی دائیں شانے میں درد شروع ہو گیا ہے، جس کے اثر سے بعض اوقات انگلیوں تک پورا ہاتھ سُن ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی درد ایک طرف سینے تک اور دوسری طرف کہنی اور کلائی کے جوڑوں تک پھیل جاتا ہے۔ ڈاکٹر داؤد صاحب کے مشورے سے ایک دوا استعمال کر رہا ہوں، مگر اس سے صرف تخفیف ہو جاتی ہے۔ پوری طرح نہ [درد] دور ہوتا ہے اور نہ سُن ہونے کی کیفیت ختم ہوتی ہے اور مزید مصیبت یہ ہے کہ ایک دو وقت اگر دوا ناغہ ہو جائے تو شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔ یہ حالت تو اس وقت ہے جب کہ ابھی باقاعدہ سردی شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اس سال کا جاڑا مجھ پر ۵۸ء اور ۵۹ء کے جاڑے سے بھی زیادہ سخت گزر [ے گا]۔ بڑی مشکل سے تحریر و مطالعہ کا کام کر رہا ہوں، مگر اس حالت میں میرے لیے کوئی لمبا [سفر کرنا] اور تقریروں اور اجتما[عات] کی زحمت اٹھانا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے [اس] وقت آپ کسی سفر کا پروگرام نہ بنائیں۔ میرے پاس افریقہ سے براہ راست دعوت نامہ آیا ہوا ہے۔ نیز قاہرہ سے بھی وزارت اوقاف والوں نے [لکھا ہے کہ] ان کے قائم کردہ جس ادارے کی رکنیت میں نے قبول کی ہے اس کے پہلے [اجلاس] میں ضرور شرکت کروں کیوں کہ اس میں لائحہ عمل بننا [ہے] یہ نہیں [لکھا] کہ اُن کا یہ اجلاس کب ہوگا۔

...... اس سفر میں ...... آ جائے تو پہلے ہم اخبارات میں یہ خبر شائع کرا دیں کہ حکومت مصر کی وزارتِ اوقاف نے تبلیغِ اسلام کے لیے جو ادارہ قائم کیا ہے اس کے اجلاس میں شرکت کی دعوت میرے نام آئی ہے اور اس سلسلے میں، میں تبلیغ کے نقطۂ نظر سے حا[لات کا مطالعہ] کرنے کے لیے افریقہ بھی جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اس کے بعد توسیع کے لیے پاسپورٹ پیش کیا جائے۔ اس صورت میں ان حضرات کے لیے انکار کرنا یا پاسپورٹ ضبط کرنا مشکل ہو جائے گا۔ سرِ دست آپ اسے اپنے پاس محفوظ رکھیں۔

اسلامک پبلی کیشنز سے اب تک مجھے کتابوں کی رائلٹی صرف ۲۱۲ روپے ملی ہے اور وہ بیت المال میں خرچ بھی ہو چکی ہے۔ آگے جو رائلٹی ملے گی وہ اُس کام کے لیے آپ کو بھیج دوں گا جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔

اکیڈمی[اکیڈمی سے مراد ادارۂ معارف اسلامی کراچی ہے۔] کے رجسٹریشن کی فکر میں ہوں۔ مشکل یہ ہے کہ میرے پاس اب میرے کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لیے آدمی بہت ہی کم رہ گئے ہیں۔ طفیل صاحب کا سارا وقت کمپنی میں صرف ہو جاتا ہے۔ صبح ساڑھے ...... بجے وہ جاتے ہیں اور رات کو ۸۔۹ بجے واپس آتے ہیں۔ فقیر حسین صاحب [شیخ فقیر حسین (۱۹۱۹ء - ۱۹۸۳ء): ان کا شمار جماعت کے ابتدائی ۷۵ ارکان میں ہوتا تھا۔ ۱۹۵۲ء میں وفات سے کچھ عرصہ پہلے تک وہ جماعتِ اسلامی پاکستان کے ناظم مالیات رہے۔ ان کا شمار مولانا مودودی کے اُن قریبی احباب میں ہوتا تھا، جن سے کسی حد تک مولانا بے تکلف گفتگو بھی فرماتے تھے۔ عبدالغنی فاروق (مرتب): تحریکِ اسلامی کی ۴۹ مثالی شخصیات، لاہور: کتابِ سرائے ۱۹۹۱ء، ص ۱۹۱] بھی اب صرف دو گھنٹوں کے لیے پارٹ ٹائم ورکر ہیں ۔ ...... کوشش کروں گا کہ اس مہینے یہ کام ہو جائے۔ چودھری محمد علی صاحب [چودھری محمد علی (۱۵/جولائی ۱۹۰۵- یکم دسمبر ۱۹۸۰ء کراچی)۔ ۱۹۲۱ء میں گورنمنٹ ہائی سکول جالندھر سے میٹرک، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے بی ایس سی اور ۱۹۲۷ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ایس سی کیا۔ انڈین آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کا امتحان پاس کر کے اکاؤنٹس کے شعبے میں ملازم ہو گئے۔ بعد ازاں مختلف اوقات میں ریاست بہاول پور کے اکاؤنٹنٹ جنرل، حکومتِ ہند کے انڈر سیکریٹری اور ڈپٹی فنانس ایڈوائزر رہے۔ ۱۹۴۷ء میں برطانوی حکومتِ ہند کے پہلے ہندوستانی مشیر مالیات مقرر ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کے سیکریٹری جنرل (۱۹۴۷ء-۱۹۵۱ء) مقرر ہوئے۔ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم ان کی صلاحیتوں کے کھلے دل سے معترف تھے۔ چودھری صاحب وزیر خزانہ (۱۹۵۱-۱۹۵۵ء) اور پھر وزیر اعظم پاکستان (۱۱/اگست ۱۹۵۵ - ۱۲/ستمبر ۱۹۵۶ء) رہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پہلا دستور (۱۹۵۶ء) اُنھی کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں منظور ہوا۔ آزادیِ ہند پر ان کی کتاب The Emergence of Pakistan اہم ہے۔ مولانا مودودی اور چودھری محمد علی کے باہمی دوستانہ تعلقات، تاسیسِ جماعت (۱۹۴۱ء) کے پہلے سے تھے۔ مولانا دہلی جاتے تو اکثر اوقات چودھری صاحب ہی کے ہاں قیام کرتے۔ شخصی سطح پر یہ روابط قیامِ پاکستان کے بعد بھی رہے۔ ’نظام اسلام پارٹی‘ کے سربراہ کی حیثیت سے بھی بحالی جمہوریت کی مختلف تحریکوں میں مولانا کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے۔ (خطوطِ مودودی (اوّل) رفیع الدین ہاشمی، سلیم منصور خالد، مرتبین، (لاہور: منشورات، طبع دوم ۲۰۱۱ء)، ص ۱۴۱] کی خبر رکھیں۔ وہ جب کراچی پہنچ جائیں تو ان سے مل کر اکیڈمی کی گورننگ باڈی میں شرکت کے متعلق بات کر لیجیے۔ مولانا ناظم صاحب [محمد ناظم ندوی (۱۹۱۳ء - ۱۰/جون ۲۰۰۰ء) مدرسہ عزیزیہ بہار شریف اور ندوۃ العلماء لکھنؤ میں مسعود عالم صاحب کے ہم مکتب تھے۔ بعد ازاں انھوں نے اعظم گڑھ میں سید سلیمان ندوی سے بھی استفادہ کیا۔ مسعود عالم صاحب کے جاری کردہ الضیاء کے مستقل لکھنے والوں میں سے تھے۔ سند فراغت پانے کے بعد جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں مدرس ہو گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جامعہ عباسیہ بہاول پور کے شیخ الجامعہ (۱۹۶۰-۱۹۶۳ء) مقرر ہوئے۔ عربی زبان و ادب کے بہت بڑے عالم تھے۔ عربی میں اُن کا مجموعۂ کلام بھی شائع ہوا ہے۔ ادارہ معارفِ اسلامی کراچی کے نائب صدر رہے۔ مولانا مسعود عالم سے متعلق یادوں پر مبنی ان کا مضمون ”دن ...... جو گزر گئے“ چراغِ راہ: مسعود عالم ندوی نمبر مارچ ۱۹۵۵ء میں شامل ہے۔ (خطوط مودودی (اوّل)، ص ۱۵۷)] کو میں خط لکھ رہا ہوں۔ ...... جماعت کی تاریخ کا بقیہ حصہ لکھنے کے لیے میں نے طفیل صاحب سے کہا تھا اور انھوں نے ...... تھا، مگر اب کمپنی کا کام ان کے پاس کوئی وقت

خالی ...... کی تکمیل سے ...... کر شاید وہ ...... وقت ......

کتاب الخراج[ امام ابو یوسف کی کتاب الخراج: کا اُردو ترجمہ پروفیسر نجات اللہ صدیقی نے کیا تھا اور مکتبہ چراغ راہ

کراچی اسے شائع کر رہا تھا۔ غالباً مولانا سے اس پر مقدمہ وغیرہ لکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔] پر کچھ لکھنا اب میرے لیے مشکل ہے۔ تفہیم القرآن جلد سوم کو ......

صحت کی موجودہ حالت میں یہ کام پورا ہونا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ ...... عبدالحمید صاحب پروفیسر عبدالحمید صدیقی: (۲۱ مئی ۱۹۲۳- ۱۸ اپریل ۱۹۷۸ء)۔ میٹرک اسلامیہ ہائی اسکول راولپنڈی اور بی اے، ڈی اے وی کالج راولپنڈی سے کیا۔ والد صاحب فوت ہو گئے تو معاش کی فکر دامن گیر ہوئی۔ اسلامیہ ہائی اسکول گوجرانوالہ میں انگریزی کے اُستاد مقرر ہوئے۔ اسی اثنا میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بطور پرائیویٹ امیدوار ایم اے معاشیات کیا۔ کچھ عرصہ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں پڑھایا، پھر اسلامیہ کالج لاہور آگئے۔ قیامِ پاکستان سے قبل ہی مولانا مودودی کی تحریروں کا گہرا اثر لے کر تحریکِ اسلامی کے مؤید و معاون بن گئے تھے۔ ۱۹۵۸ء میں ماہنامہ ترجمان القرآن سے باقاعدہ وابستہ ہوئے اور آخری عمر تک اُس کے مدیر رہے۔ پروفیسر صدیقی صاحب بہترین اُستاد، اعلیٰ درجے کے مصنف، محقق، مترجم اور انتہائی پُرخلوص اور درویش منش انسان تھے۔ قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ و تفسیر ان کی سب سے بڑی خواہش تھی، لیکن دس پاروں سے زیادہ کی مہلت نہ مل سکی۔

تصانیف و تراجم: اسلام کا فلسفۂ تاریخ، ایمان اور اخلاق، اسلام اور تھیا کریسی، مذہب اور تجدید مذہب، عقیدۂ ختم نبوت کے چند عمرانی پہلو، انسانیت کی تعمیر نو اور اسلام، انگریزی نظام تعلیم کا اساسی تخیل، اسلام کا روشن مستقبل، ایمان اور زندگی، اسلام اور معاشی تحفظ (عبدالغنی فاروق، ڈاکٹر، مرتب: کاروانِ عزیمت، لاہور: ادارۂ معارف اسلامی، ص ۴۱۲) کو

سردست ...... [ترجمان القرآن] میں ہمہ وقتی کارکن کی حیثیت سے منتقل کر دیا جائے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۱۱

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اچھرہ، لاہور

۲۳ نومبر ۱۹۶۰ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

عزیزی احمد فاروق کے ہاتھ آپ کا خط ملا۔ اسی کے ساتھ مجھے سعودی عرب کے سفارت خانے کا بھی ایک خط ملا جس میں لکھا گیا تھا کہ مدینہ یونیورسٹی کی اسکیم بنانے کے سلسلے میں شاہ سعود کی خواہش ہے کہ میں بھی حصہ لوں۔ اس لیے انھوں نے دعوت دی ہے کہ یکم رجب کو ریاض میں اس کا خاکہ بنانے کے لیے جو مجلس منعقد ہو رہی ہے، اس میں، میں شریک ہوں۔ میں نے سفارت خانے کو لکھ دیا ہے کہ اس مبارک کام میں حصہ لینا میرے نزدیک بڑی سعادت ہے‘ اس لیے صحت کی خرابی کے باوجود میں ریاض پہنچنے کی پوری کوشش کروں گا۔ آپ مجھے مطلع فرمائیں کہ کس تاریخ کے ہوائی جہاز سے مجھے جانا چاہیے تاکہ تاریخ مقررہ سے ایک دن پہلے میں ریاض پہنچ سکوں۔ اس جواب کا مجھے انتظار ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ اس سفر میں خلیل صاحب[خلیل احمد حامدی: (۲۳؍ جون ۱۹۲۹ - ۲۵؍ نومبر ۱۹۹۴ء) جماعت اسلامی کے ایک تاسیسی رکن مولانا محمد علی (م: ۲۰؍ اپریل ۱۹۸۲ء) کے توسط سے ۱۹۴۳ء میں جماعت سے متعارف ہوئے۔ پہلے کل ہند اجتماع (۱۹؍ اپریل ۱۹۴۵ء دارالاسلام) میں شریک ہوئے۔ مارچ ۱۹۴۹ء میں رکنیت اختیار کی اور جماعت اسلامی لاہور کے دفتر سے وابستہ ہو گئے۔ بعد ازاں مولانا امین احسن اصلاحی کے علمی معاون رہے۔ ۱۹۵۲ء میں انجمن حمایت اسلام کے ایک سکول میں استاد مقرر ہوئے۔ مارچ ۱۹۵۵ء میں جماعت اسلامی کے عربی شعبے دارالعروبہ للدعوۃ الاسلامیہ سے منسلک ہوئے۔ اس زمانے میں محمد عاصم الحداد ناظم دارالعروبہ تھے۔ دسمبر ۱۹۶۰ تا ستمبر ۱۹۶۹ء مولانا مودودی کے افریقی اور عرب ممالک کے دوروں میں ان کے شریک سفر رہے۔ بعد میں دارالعروبہ کے ناظم، ادارہ معارف اسلامی منصورہ، لاہور کے ڈائریکٹر جنرل اور سید مودودی انٹرنیشنل اسلامک انسٹی ٹیوٹ لاہور کے چیئرمین بھی رہے۔ چند تصانیف اور تراجم: جہاد اسلامی، ترکی قدیم وجدید، اخوان المسلمون: تاریخ، دعوت، خدمات، نظام اسلامی: مشاہیر کی نظر میں، تحریک اور کارکن،عصرِ حاضر میں امّتِ مسلمہ کے مسائل، جادہ و منزل (سیّد قطب)، رودادِ ابتلا (احمد رائف مصری)، حسن البنا کی ڈائری، رودادِ قفس (زینب الغزالی)۔ حامدی صاحب نے مولانا مودودی کی چھوٹی بڑی ۲۶ کتب کو عربی زبان میں منتقل کیا ہے۔ (خطوطِ مودودی ۲، ص ۴۰۰)] کو ساتھ لے جاؤں، بشرطیکہ ان کا پاسپورٹ بن جائے، لیکن اگر ان کا پاسپورٹ اس وقت تک بننے کی توقع نہ ہو تو آپ مجھے لکھ دیں تاکہ پھر عاصم صاحب [ محمد عاصم الحداد (۴ ستمبر ۱۹۲۸-۱۹۸۹ء) اسلامیہ ہائی سکول ملیر کوٹلہ سے میٹرک امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اسی دوران میں مولانا عبدالغفار حسن کے درسِ قرآن میں شریک ہونے لگے اور اُنھی کی ترغیب پر عربی پڑھنا شروع کی۔ اسی زمانے میں مولانا مودودی کی تحریروں سے متعارف ہوئے۔ عربی زبان کی تحصیل میں رفتہ رفتہ ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ چناں چہ اکتوبر ۱۹۴۶ء میں مولانا مسعود عالم کے پاس چلے آئے اور مستقلاً دارالعروبہ سے وابستہ ہوگئے۔ یہ وابستگی مسعود عالم کی وفات کے بعد بھی کئی سال تک برقرار رہی۔ مسعود عالم صاحب کی نگرانی میں انھوں نے عربی سے اردو ترجمے میں اتنی مہارت اور مشق بہم پہنچائی کہ خود اعتمادی کے ساتھ تراجم کرنے لگے۔ مسعود عالم صاحب کے سفرِ دیارِ عرب (۲۸/ اپریل، ۱۴/ دسمبر ۱۹۴۹ء میں ان کے شریکِ سفر رہے۔ مولانا مسعود عالم کے انتقال پر دارالعروبہ کی تمام تر ذمہ داریاں وہی انجام دینے لگے، جن میں عربی ترجمے کے ساتھ دنیائے عرب سے مراسلت کا اہم کام بھی شامل تھا۔ مولانا مودودی کے سفرِ ارض القرآن (نومبر ۱۹۵۹- مارچ ۱۹۶۰ء) میں عاصم صاحب ان کے ہمراہ تھے۔ اس

تاریخی سفر کی روداد انھوں نے سفرنامۂ ارض القرآن کے نام سے مرتب کی (جو مولانا مودودی کی نظر ثانی کے بعد شائع ہوئی)۔ ایک عرصے تک رابطہ عالم اسلامی مکہ میں ناظم شعبۂ ”مسلم اقلیات“ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ دارالعروبہ سے وابستہ ہونے پر انھوں نے اپنا خاندانی نام (نصرت اللہ) ترک کر کے مولانا مسعود عالم کا تجویز کردہ نام محمد عاصم الحداد اختیار کیا۔ انھوں نے مولانا مودودی کی بعض کتب کے عربی تراجم بھی کیے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: خطوطِ مودودی (اوّل)، ص ۲۳۳)] کو ہی تیار ہونے کے لیے کہہ دوں۔

افریقہ اور کویت کے معاملے میں آپ کو اُن لوگوں کے خطوط سے کچھ غلط فہمی ہوگئی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ مصر کی وزارتِ اوقاف نے مجھے لکھا تھا کہ ہمارے ادارے کی گورننگ باڈی کا پہلا اجلاس اس غرض کے لیے منعقد ہوگا کہ کام کی اسکیم اس میں تیار کی جائے۔ اس اجلاس میں آپ کی شرکت ضروری ہے، تاکہ اسکیم بنانے میں آپ کا مشورہ شامل ہو سکے۔ بعد میں تو مراسلت سے ہی کام چلتا رہے گا۔ انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ابھی ہم نے پہلے اجلاس کی تاریخیں مقرر نہیں کی ہیں۔ ہم بعد میں آپ کو اطلاع دے دیں گے کہ ...... ان کو لکھا ہے کہ آپ کی طرف سے تاریخیں معلوم ہونے کے بعد میں عرض کرسکوں گا کہ میرے لیے [جانا] ممکن ہوگا یا نہیں، لیکن میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا کہ اس مبارک اور مفید کام میں جو خدمت بھی میں انجام دے سکوں، [اس] میں میری طرف سے کوئی کوتاہی نہ ہو۔ اسی سلسلے میں، میں نے مشرقی افریقہ کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ویسے تو میری صحت اس وقت سفر کی اجازت نہیں دیتی، لیکن مصر میں ایک ضروری کام درپیش آگیا ہے [کذا]، اگر میرا وہاں جانا ہوا تو ان شاء اللہ وہیں سے مشرقی افریقہ بھی حاضر ہو جاؤں گا، لیکن ابھی میرے وہاں جانے کی کوئی تاریخیں مقرر نہیں ہوئی ہیں۔ اسی زمانے میں حاجی غلام معصوم صاحب [حاجی غلام معصوم (وفات: ۱۹۹۶ء غالباً): دینہ ضلع جہلم کے رہنے والے تھے۔ ان کی پیدائش قلعہ روہتاس میں ہوئی۔ دسمبر ۱۹۴۷ء میں اپنے تین بھائیوں کے ہمراہ کویت چلے گئے۔ اس وقت کویت برطانیہ کے زیر قبضہ تھا، انھوں نے ویزہ برطانوی سفارت خانے سے لیا۔ کویت میں انھوں نے فرنیچر کا کاروبار شروع کیا جس میں خوب ترقی ہوئی۔ وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے عقیدت مند تھے۔ انھیں جب معلوم ہوا کہ مولانا مصر جا رہے ہیں تو انھوں نے مولانا کو کویت میں قیام کی دعوت دی تھی۔]کا خط کویت سے آ گیا۔ ان کو بھی میں نے لکھ دیا تا کہ اگر میرا مصر جانا ہوا تو راستے میں کویت پر آپ لوگوں سے ان شاء اللہ ملاقات ہوگی۔

ریڈیو کی مرمت کے سلسلے میں جو سوال آپ نے کیا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ مرمت کے سلسلے میں ٹسٹ کرنے کے لیے اگر مختلف اسٹیشنوں کی آوازیں سننے کی ضرورت ہو اور اس وقت وہاں گانا ہو رہا ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ اصل مقصود گانا سننا نہیں بل کہ ریڈیو سیٹ کی درستی کا اندازہ کرنا ہے۔ البتہ اس میں اتنی احتیاط ملحوظ رکھیں کہ امتحان کرتے ہوئے آواز پست رکھیں تا کہ دکان سے باہر آواز نہ پھیلے۔ میری صحت اب پہلے سے کچھ بہتر ہے۔ علاج سے اتنا فائدہ ہوا ہے کہ دن کو جوڑوں میں تکلیف نہیں ہوتی البتہ رات کو سوتے وقت تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور نیند سکون کے ساتھ نہیں آتی۔ گردے کی تکلیف میں بھی اب کمی ہے۔

سلیمان یوسف صاحب یہاں آئے تھے۔ میں نے ان کو بتا دیا کہ میری شرائط کا ابتدائی خاکہ چودھری غلام [محمد] صاحب کے پاس ہے۔ آپ ان سے بات کر لیں۔ ترجمان [القرآن] کی اشاعت خدا کے فضل سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب [اس] مہینے ۵۶۰۰ کی تعداد میں چھپے گا۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۱۲

اچھره، لاہور

مورخہ ۳/دسمبر ۶۰ء

محترمی و مکرمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آج خلیل صاحب کو بھیج رہا ہوں تاکہ ان کے لیے جو کچھ کوشش ہو سکتی ہے وہ کر لی جائے، اگر دس تک ان کا کام نہ بنے تو پھر آپ مجھے تار دے دیجیے گا تاکہ میں عاصم صاحب کو ساتھ لیتا آؤں۔ ان سے میں نے تیار رہنے کے لیے کہہ دیا ہے۔ میرا ارادہ ۱۲/ کو میل سے روانہ ہونے کا ہے۔[ کراچی میں چند روز قیام کے بعد مولانا اس سفر پر ۱۷/ دسمبر ۱۹۶۰ء کو رات ۳ بجے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے۔ بحرین اور ظہران سے ہوتے ہوئے ۲۰/ دسمبر کو ریاض پہنچے۔ اُن کے ہمراہ مولانا خلیل حامدی اور چودھری غلام محمد بھی تھے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بین الاقوامی اسفار، مرتبہ: نور ورجان]

اپنا پاسپورٹ، ٹیکسوں کا سرٹیفیکیٹ اور فوٹو مع نیگیٹو بھیج رہا ہوں۔ آپ احتیاطاً بحرین کا ویزا بھی لے لیجیے گا تاکہ واپسی پر اگر ظہران سے ہوائی جہاز وقت پر نہ مل سکے تو ہم بحرین کے راستے آجائیں۔ عاصم صاحب کا پاسپورٹ بھی بھیج رہا ہوں تاکہ ان کے کاغذات بھی تیار رہیں۔

اس کے علاوہ ایکسچینج کے لیے بھی میری طرف سے درخواست دے دیجیے۔ میرے خیال میں سات سو روپے کا ایکسچینج مانگنا چاہیے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ درخواست کس کو دینی ہے اور کس طرح دی جائے۔ آپ خلیل صاحب کے پہنچتے ہی درخواست ٹائپ کرا کے مجھے Express Delivery سے بھیج دیجیے، میں دستخط کر کے واپس کردوں گا۔ روپے کا انتظام آپ [کر لیجیے] گا۔ میں اپنے ساتھ روپیہ لیتا آؤں گا اور جو رقم آپ نے اس غرض کے لیے [......] گا۔

[......] اپنے ساتھ تیار کردوں گا۔ باقی رہی یونی ورسٹی کی۔۔۔ اس کے۔۔۔ انتظامی۔۔۔ تو آپ وہیں خورشید صاحب سے اس کو تیار کرا لیجیے اور خلیل صاحب سے ترجمہ کرا لیجیے ۔ میں کراچی پہنچ کر اس پر ایک نظر ڈال لوں گا، اگر کسی ترمیم کی ضرورت ہوئی تو وہیں کرلوں گا۔ میری اسکیم اور آپ کی مرتب کردہ اسکیم وہیں ٹائپ کرا کے سائیکلو اسٹائل کرالی جائی گی۔ ۱۳/ اور ۱۴/ کے دو دن ان شاء اللہ اس کے لیے کافی ہوجائیں گے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۱۳

اچھرہ لاہور

مورخہ: ۲۴/ مارچ ۱۹۶۱ء

مکرمی و محترمی چودھری صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا ۱۴/ جنوری ۶۱ء کا خط مجھے فروری میں ملا تھا۔ احمد فاروق نے اپنی ممانی کو خط دیا تھا، لیکن وہ کراچی سے سیدھی جہلم اپنی کسی رشتہ دار کے ہاں چلی گئیں۔ واپسی پر فروری کے پہلے ہفتے میں یہاں آئیں، تب وہ آپ کا خط ان کے ذریعے ملا۔ اس کے بعد سے مسلسل میری صحت بھی خراب رہی اور مصروفیت بھی مسلسل رہی، اس لیے جواب نہیں لکھ سکا۔ اب ۲۲ دن سے میرے ہاتھ میں دائیں جانب کے شانے میں مسلسل درد رہتا ہے، نہ کچھ کام کرسکتا ہوں اور نہ رات اور دن چین ملتا ہے۔ اس لیے جواب خود لکھنے کے بجائے لکھوا رہا ہوں۔ کل ڈیپ ایکسرے کا علاج شروع ہو رہا ہے۔ خیال یہ ہے کہ ریڑھ کی ہڈی میں سے کوئی چیز بڑھنی شروع ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے اعصاب پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ دعا کیجیے، اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے نجات دے۔

اکیڈمی کے معاملے میں مناسب یہی ہے کہ چودھری محمد علی صاحب کو چھوڑ دیا جائے۔ ان کی جگہ [مولانا] منتخب الحق صاحب[پروفیسر مولانا سید منتخب الحق، جن کا انتقال ۲۹ مئی ۱۹۸۸ء کو ہوا، کراچی یونیورسٹی کی کلیہ اسلامی تعلیمات کے ڈین تھے۔ اس کلیہ کی بنیاد انھوں نے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں رکھی۔ وہ بھارت کے شہر گورکھ پور میں ۱۹۱۱ء میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے زیادہ تر تعلیم اجمیر سے تعلق رکھنے والے علامہ معین الدین کی سرپرستی میں حاصل کی اور معقولات کے خیر آبادی مکتب فکر (جو مولانا فضل امام اور اُن کے صاحب زادے مولانا فضل حق خیر آبادی کے خاندان کے تلامذہ کی نسبت سے معروف ہے) کے نمایاں عالم تھے۔ کراچی یونیورسٹی کے ان سابق ڈین کو کم عمری ہی میں نامور جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (سورت) میں تعینات کیا گیا جہاں انھیں مولانا حسین احمد مدنی چیئر سنبھالنے کے قابل سمجھا گیا۔ انھیں راجستھان کی ریاست ٹونک میں خلیلیہ تعلیمی نیٹ ورک میں بھی اعلیٰ سطح کا عہدہ دیا گیا، جہاں ان کا تعلیمی ورثہ آج بھی موجود ہے۔ پروفیسر خورشید احمد، ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری اور ڈاکٹر ممتاز احمد ان کے شاگردوں میں شامل تھے۔ (اُن کے بیٹے ڈاکٹر نعمان الحق نے یہ معلومات فراہم کیں۔)] کو لے لیا جائے۔ آپ اُن سے بات کرلیں۔ اندازہ ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے ساتھ پوری طرح تعاون کرسکیں۔ اکیڈمی کی مجلس انتظامیہ کے حلقے کو وسیع کرنے کے فوائد تو ہیں مگر [مسائل] زیادہ ہیں۔

مدینہ یونیورسٹی کے معاملے میں اب ...... کیوں کہ ...... جاری ...... مجلس میں میرا کوئی دخل ہوا تو یہاں سے بھی ...... جائے گی ...... ترجمہ میں محمد بن ...... صاحب سے کہہ دیا ہے۔ ان شاء اللہ اس کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

کتابوں کی نئی ترتیب کے بارے میں، میں نے خورشید صاحب سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں اس کے [لیے] تیار ہوں۔ خود میرے لیے اب کچھ کرنا مشکل ہے۔ جتنی کچھ طاقت باقی ہے، وہ آگے کے کام کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں۔ پچھلا جو کچھ بھی ذخیرہ ہے، اس پر اچھی طور غور کر لیا جائے اور جو مناسب ترین ترتیب نظر آئے، اُس کے مطابق تمام مضامین کو نئے سرے سے مرتب کر ڈالا جائے۔ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو ابھی تک ترجمان ہی میں ہیں اور کسی کتاب میں نہیں آئیں۔ اس پورے ذخیرے کا انڈکس مکمل طور پر بنا لیا جائے تو ترتیب دینے میں آسانی ہوگی۔ بہتر یہ ہوگا کہ دو تین آدمی مل کر اس کام کو کریں۔

ڈاکٹر عبدالودود صاحب [ ڈاکٹر عبدالودود (۱۹۰۸ء-۲۰۰۱ء) نے میٹرک پھگواڑ (ہندوستان) اور ایف ایس سی کپور تھلہ اور ایم بی بی ایس کنگ ایڈورڈ کالج لاہور سے پاس کیا۔ ۱۹۳۵ء میں جالندھر میں پریکٹس شروع کی۔ ۱۹۴۰ء میں انڈین میڈیکل سروس کے لیے منتخب ہوئے۔ وہ عرصہ دراز تک خاکسار تحریک سے وابستہ رہے اور علامہ مشرقی کے ساتھ گرفتار بھی ہوئے۔ ۱۹۵۰ء کے قریب غلام احمد پرویز صاحب کی فکر سے متاثر ہوئے اور وفات تک اُن کے ساتھ وابستگی رہی۔ Phenomena of Nature and the Quran اُن کی تصنیف ہے۔ (طلوع اسلام: جنوری ۲۰۰۲، ص ۵)]کی مراسلت [ یہ مراسلت پہلے ترجمان القرآن کے ”منصب رسالت نمبر“ میں شائع ہوئی۔ ازاں بعد سنت کی آئینی حیثیت کے نام سے ۱۹۶۳ء میں کتابی صورت میں شائع ہوئی، اب تک اس کے بیسیوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔] ان شاء اللہ کتابی صورت میں جلدی نکال دی جائے گی۔ پچھلے دنوں صحت کی خرابی کی وجہ سے سارے کام رُکے رہے ہیں۔ ذرا کچھ کام کرنے کے قابل ہو جاؤں تو ان شاء اللہ ان کاموں کو جلدی نمٹا دوں گا۔

اخوان [کے] کارکنوں کے لیے ہدایات مرتب کرنے کا خیال تو...... میں...... لیکن اب قوتِ کار اس قدر کم ہوگئی ہے کہ...... کو محفوظ رکھنے...... چارہ نہیں...... میری بچی کھچی قوت...... کرتے رہتے ہیں......

تفہیم القرآن...... ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اس کاغذ کی قیمت...... ناشر سے اس کا روپیہ لے لیا جائے اور اکیڈمی کے فنڈ میں اُس کو شامل کر دیا جائے۔

۱۴

اچھرہ لاہور

۱۵؍مارچ ۱۹۶۳ء

۱۸ شوال ۱۳۸۲ھ

مکرمی و محترمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

امید ہے آپ بعافیت ہوں گے۔ مولانا محترم نے ”اسلام ٹوڈے“ کے موضوع پر کراچی میں جو تقریر[مولانا نے راولپنڈی کے don't agree club میں یہ تقریر کی تھی اور کلب کے مجلے میں شائع ہوئی تھی۔] کی تھی، اس کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ ٹیپ ریکارڈ سے نقل کر لی گئی ہے۔ اس کی ایک نقل مولانا محترم کو بھیج دیجیے۔ اس تقریر کو اور راولپنڈی والی تقریر کو ملا کر مولانا محترم ایک مضمون کی شکل میں لانا چاہتے ہیں۔

احباب کی خدمت میں سلام پہنچے۔

خاکسار

غلام علی

معاون خصوصی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

۱۵

اچھرہ، لاہور

۲۴ ربیع الاوّل ۸۳ھ، ۵/ اگست ۱۹۶۳ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

۱۰/ اگست کو جو خط آپ کے نام بھیجا گیا تھا، جس کا آپ کو صرف لفافہ...... کے ملا ہے، اس کی نقل درج ذیل ہے۔

۳۰/ جولائی کا خط بروقت مل گیا تھا، مگر مسلسل مصروفیت کے باعث جواب آج دے رہا ہوں۔

ادارہ دارالاسلام [ دارالاسلام کی روداد ترجمان القرآن ستمبر ۱۹۳۸ء میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی: ”الحمدللہ کہ ۱۹/ شعبان ۱۳۵۷ھ (۱۴/ اکتوبر ۱۹۳۸ء) کو بروز جمعہ ادارۂ دارالاسلام کی تاسیس باقاعدہ عمل میں آئی اور پانچ ارکان سے کام کاآغاز کر دیا گیا۔ اس موقع پر یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس عملِ تاسیس کی مختصر روداد بیان کر دی جائے۔ محرم سے رجب تک کامل چھ مہینے غور و خوض اور حالات کا مطالعہ اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے بعد پیش نظر کام کی اسکیم اور دستور العمل کا ایک خاکہ مرتب کیا گیا اور اس کی نقلیں تقریباً چالیس اصحاب کے پاس استصواب کے لیے بھیج دی گئیں۔ یہ اصحاب زیادہ تر وہ تھے، جنھوں نے گذشتہ ایک سال کی مدت میں دارالاسلام کی تجویز کے ساتھ خاص طور پر دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور ان میں بعض ایسے لوگ بھی تھے، جن کے علم و فضل اور اصابت رائے سے استفادہ کرنا ضروری سمجھا گیا۔ مثال کے طور پر چند نام حسب ذیل ہیں: مولانا عبدالماجد صاحب دریابادی، مولانا محمد منظور صاحب نعمانی مدیر الفرقان، مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، مولانا احمد علی صاحب، مولانا امین احسن اصلاحی صاحب، ڈاکٹر سید ظفر الحسن صاحب، سید نذیر نیازی صاحب، مولوی سید محفوظ علی صاحب بدایونی، چودھری غلام احمد صاحب پرویز، مولوی سید عبدالرؤف شاہ صاحب ایم ایل اے (برار) مولوی عبدالرحمن خان صاحب ایم ایل اے (برار)، جناب راغب احسن صاحب ایم اے وغیرہم۔ ان حضرات میں سے اکثر کو دعوت دی گئی کہ ۱۷ شعبان (اکتوبر) کو مجوزہ ادارے کے صدر مقام میں تشریف لا کر مجلس مشاورت میں شریک ہوں اور بعض حضرات کی مشغولیتوں کا لحاظ کرکے صرف تفصیلی اظہار رائے کی تکلیف دی گئی۔ تاریخِ مقررہ پر حسب ذیل حضرات مجلس مشاورت میں شریک ہوئے: (۱) مولانا محمد منظور صاحب (بریلی)، (۲) جناب نذیر احمد صاحب قریشی (دہلی)، (۳) جناب عبدالعزیز شرقی صاحب (جالندھر)، (۴) جناب مستری محمد صدیق صاحب (سلطان پور لودھی، ریاست کپور تھلہ)، (۵) جناب شیخ محمد نصیب صاحب بار ایٹ لا (گورداسپور)، (۶) جناب چودھری رحمت علی صاحب (دینا نگر)، (۷) جناب شیخ محمد شریف صاحب طوسی بی اے (وزیر آباد)، (۸) جناب منظور احمد صاحب بی اے (وزیر آباد)، (۹) جناب چودھری نیاز علی خاں صاحب، (۱۰) جناب سیّد محمد شاہ صاحب ایم اے، (۱۱) مولوی صدرالدین صاحب اصلاحی، (۱۲) ابوالاعلیٰ مودودی۔ حسب ذیل اصحاب نے باہر سے اپنی آرا بہ صورت تحریر ارسال فرمائیں: (۱) جناب محمد اشرف صاحب ایم اے (وزیر آباد)، (۲) ڈاکٹر سید ظفر الحسن صاحب (علی گڑھ)، (۳) چودھری غلام احمد صاحب پرویز (شملہ)، (۴) جناب محمد یوسف صاحب (سیتا پور۔ اودھ)، (۵) مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی، (۶) جناب راغب احسن صاحب ایم اے (کلکتہ)، (۷) جناب محمد اکبر خان صاحب (کیمبل پور)، (۸) جناب حافظ مظفر حسن صاحب (مغل پورہ)، (۹) جناب محمد شفیع صاحب بازی (دہلی)۔]...... اگر وہ ادارہ ہے، جو ہم نے قیامِ جماعت سے پہلے قائم کیا

تھا تو اُس کے متعلق ساری معلومات ۱۹۳۸ء کے ترجمان القرآن میں موجود ہیں۔ [ ۱۷ سے ۱۹/ شعبان تک تین روز مسلسل اجتماع رہا، جس میں اسکیم اور دستورالعمل پر ہر ممکن پہلو سے تنقید کر کے زیادہ سے زیادہ صحیح اور منتج چیز حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں بیرونی اصحاب کی آرا سے بھی پورا استفادہ کیا گیا۔ بالآخر کافی ترمیم و اصلاح کے بعد دونوں مسودات اس شکل میں منظور کیے گئے، جس میں اب وہ شائع کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد پانچ اشخاص نے اپنے آپ کو رکنیت کے لیے پیش کر کے با قاعدہ حلف لیا، جن کے نام یہ ہیں: (۱) مستری محمد صدیق صاحب، (۲) سید محمد شاہ صاحب، (۳) عبدالعزیز شرقی صاحب، (۴) صدر الدین اصلاحی صاحب، (۵) ابوالاعلیٰ مودودی۔ انھی پانچ ارکان سے مجلسِ شوریٰ کی ترکیب عمل میں آئی اور مجلس نے بالاتفاق طے کیا کہ جب تک چالیس ارکان فراہم نہ ہوں اس وقت تک عارضی طور پر ابوالاعلیٰ مودودی فرائضِ صدارت انجام دیں۔ مستقل صدر کا انتخاب تعدادِ مقررہ کی فراہمی کے بعد عمل میں آئے گا۔ (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۳۸ء)]اس وقت صرف پانچ آدمی اس میں شامل تھے۔ میں ابوالاعلیٰ مودودی، محمد شاہ، [سید محمد شاہ: ادارۂ دارالاسلام کے تاسیسی رکن تھے۔ وہ ترجمان القرآن اور مکتبے کے مہتمم تھے۔ تاسیس جماعت کے بعد کچھ حضرات کی جانب سے ایک مخالفانہ طرزِ عمل سامنے آیا، جن میں مولانا محمد منظور نعمانی اور قمر الدین صاحب (پہلے قیم جماعت) کا کردار بہت نمایاں تھا، جن کے بارے میں مولانا مودودی کے الفاظ ہیں: ”قمرالدین خاں صاحب، جو اِس فتنے میں Chief Actor ہیں۔“ تفصیل کے لیے دیکھیے: خطوطِ مودودی جلد اوّل، ص ۱۱۶)۔ درج ذیل اقتباس کچھ چشم کشا حقائق کی طرف مزید اشارہ کرتا ہے: ”دارالاسلام میں جماعت اسلامی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے مولانا محمد منظور نعمانی صاحب اور مولانا جعفر شاہ پھلواروی صاحب تشریف لائے اور دارالاسلام میں چند ہفتوں کے لیے قیام پذیر ہوئے۔ ابا جان نے اُنھیں اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا اور احتیاط برتتے ہوئے اماں جان کو ہدایت کی کہ تانبے کی جن پلیٹوں میں ہم روزانہ کھانا کھاتے ہیں، مہمانوں کے لیے بھی بس انھی برتنوں کو دسترخوان پر چنا جائے۔ اُنھوں نے اماں جان کو ہدایت کہ: ’نہ اپنے شادی کے ڈنرسیٹ میں کھانا لگانا اور نہ گلاسوں کو موتیوں والے رومالوں سے ڈھکنا۔‘ اماں جان نے اصرار کیا کہ: ’اتنے بڑے علمائے دین گھر آئیں اور میں ان کی عزت افزائی اور اکرام کے لیے اپنے اچھے برتن نہ نکالوں اور بس تانبے کے برتنوں میں اُنھیں کھانا کھلا دوں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے!‘ اسی طرح ابا جان نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ زیادہ پُر تکلف کھانا نہ تیار کرنا، بس وہی دال دلیا دسترخوان پر پیش کر دینا، جو ہم روزانہ کھاتے ہیں۔ اماں جان پھر تڑپ اٹھیں: ’اگر ہم بھی اپنے دینی حلقوں کو عزت نہیں دیں گے تو عام لوگوں سے اس کی کیسے توقع کریں گے؟‘ الغرض بہت پُر تکلف کھانا پکایا گیا اور اماں جان نے اپنے بہترین برتنوں سے دسترخوان سجایا...... مہمان تشریف لائے، کھانا کھایا اور چند روز بعد کھسر پھسر شروع ہو گئی، جس کا انجام جماعت اسلامی سے ان بزرگوں کے استعفا کی صورت میں سامنے آیا۔ ان حضراتِ گرامی قدر نے اپنے دائیں بائیں ملنے والوں سے کہنا شروع کیا: مولانا مودودی دین داری کے پردے میں دنیا دار آدمی ہیں۔ مولانا کے گھر میں خانساماں کھانا پکاتا ہے، بچے آیا پالتی ہے۔ آیا، مولانا کے بچوں کو بچہ گاڑی میں سیر کرانے لے جاتی ہے۔ یہ بیوی آخر کس مرض کی دوا ہے؟ سنا ہے کہ مولانا کی بیوی ساڑھی پہنتی ہیں اور کبھی غرارہ۔ پان لگانے کے لیے مولانا کا پان دان چاندی کا ہے۔ پان جس ڈبیا میں رکھے جاتے ہیں، وہ بھی چاندی کی ہے (حالاں کہ یہ چاندی کی نہیں، تانبے کی تھی، جس پر قلعی کی ہوئی تھی)۔ یہ سب دین داری کے نام پر دھوکا نہیں تو اور کیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ دادی اماں (محترمہ رقیہ بیگم: ۱۸۷۳۔ ۱۹۵۷ء) نے یہ باتیں سنیں تو چھوٹتے ہی کہا: اللہ تعالیٰ بھی تو قد کے مطابق جامہ دیتا ہے، بس اتنا ظرف ہے ان لوگوں میں۔ اس واقعے کے بعد سے اماں جان نے کبھی ابا جان سے اختلاف کر کے اپنی بات نہیں منوائی۔ انھیں ہمیشہ اس بات کا پچھتاوا رہا کہ اگر میں ان کی ہدایت کے مطابق سیدھا سادا کھانا پکواتی اور تانبے کی پلیٹیں دستر خوان پر رکھتی تو نہ یوں بات کا بتنگڑ بنتا۔ (شجر ہائے سایہ دار، سیّدہ حمیرا مودودی، ص ۲۰۔۲۱)۔ اصل میں قمر الدین خان صاحب یہ ذہن رکھتے تھے کہ جماعت سے وابستہ سب افراد کا معیار زندگی یکساں ہو، قطع نظر اس کے کہ اُن کی آمدنی کے ذرائع میں فرق ہے۔ قمر الدین خان صاحب وہ فتنہ گر تھے، جنھوں نے دارالاسلام میں کھسر پھسر شروع کر رکھی تھی اور غالباً یہی شخص تھا جس نے اولاً مولانا نعمانی وغیرہ کو بدگمان کیا تھا۔ سیّدہ حمیرا مودودی کے بیان کردہ واقعے سے قمر الدین خان کے پروپیگنڈے کی ایک طرح کی تائید ہوگئی تھی۔]شرقی صاحب،[ عبدالعزیز شرقی: (م: ۱۹۹۵ء، مدینہ منورہ) جماعت اسلامی کے تاسیسی رکن تھے اور جالندھر سے تعلق تھا۔ آزادی کے بعد ملتان اور پھر مدینہ منورہ میں رہائش پذیر رہے۔ اُن کے شعری نعتیہ مجموعے: فیوض الحرمین کا پیش لفظ مولانا مودودی نے لکھا تھا۔] صدر الدین اصلاحی صاحب [ صدر الدین اصلاحی: (۱۹۱۷-۱۹۹۸ء) تاسیسی رکن جماعت، صدر ادارۂ تصنیف و تالیف۔ تقسیم ہند کے بعد جماعت اسلامی ہندوستان سے وابستہ رہے۔ ۱۹۹۶ء تک جماعت اسلامی ہند کی مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ ۲۵ کتابیں اور سیکڑوں مقالات لکھے۔ چند تصانیف: دین کا قرآنی تصور، معرکۂ اسلام و جاہلیت، حقیقت نفاق، اسلام ایک نظر میں، اسلام اور اجتماعیت، اسلامی تحریک کے قائدین کی صفات، نکاح کے اسلامی قوانین۔ تفہیم القرآن کا اختصار بھی کیا ہے۔] اور مستری محمد صدیق صاحب ۔ [مستری محمد صدیق: (۱۸۷۵۔ ۱۹۵۲ء) ایک مخلص دینی کارکن، صالح ذہن کے مالک اور معمولی پڑھے لکھے شخص تھے۔ خلافتِ الہیہ کے تصور نے انھیں مولانا آزاد کے قریب کیا اور جب مولانا کانگریس کو پیارے ہو گئے تو جماعت میں شامل ہو گئے اور ہر اس طبقے کے قریب رہے، جو عدل و انصاف کا پرچار کرتا تھا۔]

آپ غضب کر رہے ہیں کہ اکیڈمی کی میٹنگ کراچی میں رکھ رہے ہیں اور اوپر سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہاں اسلام قانون پر تقریروں کا سلسلہ بھی شروع کروں۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ میرے اوپر اس وقت کام کا کتنا بار ہے اور کس مشکل سے میں دو چار ہوں۔ اس وقت قانون پر تقریریں تیار کرنے کے لیے کہاں وقت ہے اور کراچی کا سفر کیسے کروں؟

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۱۶

اچھرہ، لاہور

۲۷/ ربیع الاوّل ۸۳ھ، مورخہ ۱۸/ اگست ۶۳ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا ایک خط اخلاق صاحب [اسلامی پبلی کیشنز لاہور کے ڈائریکٹر] کے ذریعے ملا تھا۔ دوسرا خط آج ڈاک سے ملا ہے۔ دونوں کا جواب اکٹھا دے رہا ہوں۔

(۱) کشمیر سے متعلق ان شاء اللہ مناسب موقع دیکھ کر پھر ایک بیان دوں گا۔ اخبارات کی خبروں کو غور سے دیکھ رہا ہوں، انھی میں سے موقع تلاش کروں گا۔ اندرونی خبروں پر بیان دینا مناسب نہیں ہے۔

(۲) زین العابدین صاحب کو روپیہ ادا کرنے کے لیے میں نے کئی [دفعہ ہندوستان والوں] کو لکھ دیا ہے، وہاں سے آج تک حساب نہیں آیا کہ میں یہ جان سکتا کہ وہاں روپیہ ادا...... میں مجھے کوئی ادائیگی نہیں کی ہے۔ اب یہی ہوسکتا ہے کہ جتنی رقم آپ...... چاہتے ہیں وہ مجھ کو یہاں دے دیں اور مجھ سے ایک پرچہ لکھوا کر خود ہی وہاں ادائیگی...... کرلیں۔ جن ذرائع سے میں اب تک ان لوگوں کو لکھتا رہا ہوں اُن سے مجھے یہ معلو[م]...... وہاں پرچہ پہنچا ہے یا نہیں اور [اگر] پہنچ گیا ہے [تو] رقم ادا ہوئی یا نہیں۔ میرے پاس جو یادداشت ...... میں یہ نوٹ ہے کہ زین العابدین صاحب کو ۲۲۵ روپے ادا کرنے کے لیے لکھا گیا [ہے]......۔

(۳) اکیڈمی کا اجلاس کراچی ہی میں رکھ لیجیے، [میں] آجاؤں گا۔

(۴) اسلامی قانون پر تقریر ...... کرنے کے لیے ...... تیاری کرنی ہوگی۔ سر دست اِس کے کوئی آثار ...... سکے گا۔ ...... اس کی تعلیم کے اخراجات ...... آپ یہ ...... کر سکتے ہیں کہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو یہ رقم وہاں سے ناظم صاحب کو بھجوا دیا کریں اور میں ہر مہینے یہاں یہ رقم بیت المال میں بحساب جماعت اسلامی کراچی جمع کرا دیا کروں؟

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۱۷

اچھرہ، لاہور

۲۲ ربیع الثانی ۸۳ھ، ۱۱ ستمبر ۱۹۶۳ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا خط مورخہ ۱۷ ربیع الثانی ملا۔ سلیم اقبال کی وفات پر آپ کی تعزیت کا بہت شکرگزار ہوں۔ [اللہ] تعالیٰ کی مرضی کے آگے سر جھکا دینے اور راضی برضا ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اُس کے [فیصلے] کن کن حکمتوں اور مصلحتوں کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں یہی سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ اس نے کیا اسی میں بہتری ہے۔ مولوی ظفر اقبال صاحب کے لیے تو یہ حادثۂ جانکاہ ناقابلِ تصور صدمے کا موجب ہوا ہی ہے، لیکن ہمارے لیے بھی یہ کچھ کم صدمہ نہیں ہے۔ بڑی خوشی کے ساتھ ہم آئندہ نومبر میں بچی کی شادی کرنے کی تیاریاں کر رہے [تھے]، یکا یک یہ حادثہ پیش آگیا۔ نہایت نیک اور ہونہار لڑکا تھا۔

بڑے شریف اور دین دار خاندان [سے] تعلق رکھتا تھا۔ برسوں سے یہ لوگ ہمارے دیکھے بھالے ہیں۔ اِس قدر قابلِ اطمینان رشتے موجودہ زمانے میں آسانی سے نہیں ملتے، لیکن ہم صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خیر و مصلحت جس چیز میں تھی، وہی پیش آگئی۔ اُسی سے امید ہے کہ ہمارے حق میں جو کچھ خیر ہوگی، اس کا فیصلہ فرما دے گا۔

میں اکیڈمی کے اجلاس میں تو ضرور آؤں گا، مگر اچھا ہو کہ آپ جلسے کا پروگرام ملتوی کردیں۔ [میری] صحت آج کل بہت خراب ہے۔ بہت دنوں سے مثانے میں پتھری کی جو تکلیف تھی وہ پچھلی جمعرات [سے پوری] شدت اختیار کرگئی ہے۔ اب تک کئی پتھریاں خارج ہوچکی ہیں اور ہر پتھری کے خارج ہونے کے بعد ایک اور ٹکڑا آکر پیشاب کے راستے میں اٹک جاتا ہے اور تکلیف جوں کی توں باقی رہتی ہے۔ نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک چلے۔ اس کی وجہ سے میرے اعصاب بری طرح مضمحل ہورہے ہیں اور میں کوئی مشقت برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا ہوں۔

[مصیبت] یہ ہے کہ جماعت کے لوگ میری اس کیفیت کو نہ محسوس کرتے ہیں، نہ اس کا لحاظ [کرتے ہیں]۔ اُنھوں نے سخت اصرار کرکے کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ رکھ دیا [ہے] جس میں سارا سفر موٹر پر کرنا ہوگا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اِس حالت میں یہ دورہ پورا کرسکوں گا یا نہیں اور پورا کر بھی دوں تو اس کے بعد کتنے دن میرے اعصاب بحال ہونے میں لگیں گے۔

ہماری طرف [سے] انکم ٹیکس والوں کو یہ درخواست دی جارہی ہے کہ وہ نئے قانون کے تحت کتابوں کی رائلٹی میں ہمیں انکم ٹیکس سے استثنا عطا کریں۔ یہ درخواست سنٹرل بورڈ آف ریونیو کو دی جارہی ہے اور انھیں لکھا جارہا ہے کہ آپ جب طلب کریں گے، ہماری طرف سے چودھری غلام محمد صاحب کراچی میں آپ کے سامنے وہ کتابیں پیش کردیں گے۔ جن [کتابوں پر] ہم استثنا کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آپ اِس کا خود بھی خیال رکھیں، ...... میں، یا اکیڈمی والوں کو بھی ہدایت کردیں کہ اگر آپ کی غیر موجودگی میں وہاں [ ] کوئی آئے تو تفہیم القرآن کی تینوں جلدیں، الجہاد فی الاسلام، حقوق الزوجین...... اُردو و، انگریزی لے جا کر انھیں دکھا دیں۔

میری بھانجی بیگم اشفاق احمد زاہدی مرحوم (سولجر بازار) کو...... بھجوا دیں اور مجھے اطلاع دے دیں۔ میں یہاں آپ کے حساب میں جمع کرا دوں گا...... کہ اے روپے آپ نے ناظم شمسی صاحب کو بھجوا دیے ہوں گے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۱۸

اچھِرہ، لاہور

محترمی چودھری صاحب! السلام علیکم

آپ نے اسٹیٹ بینک کے نام جو درخواست بھیجی ہے اس پر دستخط کر کے واپس کر رہا ہوں۔ میرے پیشِ نظر تو کوئی آدمی نہیں تھا جسے ساتھ لے جاؤں۔ میں نے تو یہ بات آپ ہی لوگوں پر چھوڑی تھی کہ کوئی آدمی تجویز کریں، بل کہ غالباً خورشید صاحب نے آپ کے سامنے ہی مجھ سے کہا تھا کہ ہم تمھارے ساتھ جانے کے لیے کوئی آدمی تجویز کر لیں گے۔ اس لیے یہ آپ ہی لوگوں کی مرضی پر موقوف ہے، چاہے آپ خود چلیں یا بعد میں کوئی دوسرا آدمی تجویز کر لیں، جس کے پاس پاسپورٹ موجود ہو۔ ڈاکٹر ابوبکر صاحب اگر جائیں بھی تو ان کو میرے ساتھی کی حیثیت سے نہیں جانا چاہیے، کیوں کہ اوّل تو میرے ساتھ کوئی آدمی ایسا ہونا چاہیے، جو مشقت بھی اُٹھائے، دوسرے سرکاری ملازم ہونے کی بنا پر ان کا اس حیثیت سے جانا مناسب نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ان کے لیے الگ انتظام کیا جائے تاکہ یہ ظاہر ہی نہ ہو کہ وہ میری خاطر جا رہے ہیں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

19

اچھره، لاہور

مکرمی و محترمی! السلام علیکم رحمۃ اللہ

آپ کا ارسال کردہ ڈرافٹ مل گیا تھا۔ یہ تفصیل معلوم نہ ہوئی کہ میرے ذمہ آپ کے جس قدر مختلف حسابات تھے وہ سب صاف ہوگئے ہیں یا نہیں۔

حج پر جانے کا اس سال موقع نہیں مل سکا۔ میرا خیال تھا کہ میری اہلیہ کے ماموں صاحب جائیں گے اور وہ ان کے ساتھ جدہ پہنچ جائیں گی۔ اس طرح میں افریقہ سے سیدھا حجاز جا سکتا تھا، لیکن ان کو چھٹی نہ مل سکی۔ اب یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ میں افریقہ سے یہاں آ کر پھر انھیں حج کے لیے لے جا سکوں۔ اس لیے مجبوراً آئندہ سال پر ملتوی کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آئندہ سال ضرور موقع نصیب ہو جائے۔

اکیڈمی کے لیے طفیل صاحب کے آنے پر کچھ کروں گا۔ آپ چودھری محمد علی صاحب سے بات کر لیں۔ بزمی صاحب[عبدالرحمن بزمی: (م: ۱۴ نومبر ۲۰۰۶ء) تحریک اسلامی کے ایک مخلص کارکن، شاعر، ادیب، پہلے کینیا میں رہے پھر لندن منتقل ہوئے اور وہیں وفات پائی۔] سے بات ہو گئی ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ مفصل پروگرام مجھے بتائیں تاکہ میں یہ بھی اندازہ کر لوں کہ کہاں کہاں جانا ہوگا اور کتنا وقت صرف ہوگا اور یہ بھی کہ کام کیا کیا کرنے ہیں۔

شاہ ولی اللہ کالج[شاہ ولی اللہ کالج: ۱۹۵۴ء میں ادارۂ تعمیر ملت منصورہ ٹرسٹ کی بنیاد رکھی گئی، جس کے تاحیات صدر چودھری غلام محمد تھے۔ اس ٹرسٹ کے تحت منصورہ (ہالہ سندھ) میں ۱۵ نومبر ۱۹۵۹ء میں مولانا وصی مظہر ندوی کی کوششوں سے شاہ ولی اللہ اورینٹل کالج کا قیام عمل میں آیا۔ پروفیسر سید محمد سلیم کو کالج کا بانی پرنسپل مقرر کیا گیا۔ کالج میں بی اے اور مولوی فاضل کی تدریس کا انتظام تھا، جس کے امتحانات سندھ یونیورسٹی میں دلائے جاتے تھے۔ اس کالج میں غیر ملکی طلبہ کے علاوہ خیبر پختون خواہ اور مشرقی پاکستان کے طلبہ بھی زیر تعلیمتھے، جن کے لیے قیام و طعام کا بہترین انتظام تھا۔ ستمبر ۱۹۷۲ء میں بھٹو حکومت نے کالج کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔ اُس وقت ہاسٹل میں ۲۵۰ کے قریب طلبہ رہائش پذیر تھے۔] کے متعلق اپنی رائے بعد میں لکھوں گا۔ ترجمان میں تعارف مفید سے زیادہ مضر ہوگا، مقصد یہ ہے کہ کام کرنے دیجیے اور خواہ مخواہ تو جہات اس طرح منعطف نہ کرائیے۔ ...... بہت سی معلومات حاصل ہو گئیں۔ ان شاء اللہ احتیاط برتی جائے گی۔

......(آزاد کشمیر والے) کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ اگر ...... تو بہتر ہے۔ مولانا سید مظفر حسین شاہ صاحب ندوی[اس بات کی مزید وضاحت مولانا مظفر حسین شاہ ندوی (۱۹۲۰ء-۲۰۰۱ء) کے بیٹے ڈاکٹر عبد الماجد صاحب نے کی: ”والد صاحب نے ۱۹۴۹ء میں محکمہ تعلیم آزاد کشمیر میں باضابطہ ملازمت شروع کی۔ اُس سے قبل انھوں نے ایک سال رضا کارانہ طور پر شعبۂ تعلیم سکولز کو اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ جب کے ایچ خورشید (۱۹۲۴-۱۹۸۸ء) آزاد کشمیر کے صدر ہوئے تو اُن کے اور والد صاحب کے درمیان بعض امور پر اختلاف رائے ہوا تو والد صاحب کو انسپکٹر آف سکولز کے انتظامی عہدے سے ہٹا کر گورنمنٹ کالج میرپور میں تبدیل کر دیا گیا۔ ندوی صاحب کا ایم اے نہ ہونا محض ایک بہانہ تھا، وگرنہ وہ دارالعلوم ندوہ سے فارغ التحصیل قدیم و جدید علوم کے بہت بڑے عالم تھے۔ ۱۹۸۳ء میں وہ بطور ڈائریکٹر امور دینیہ (B-20) ریٹائر ہوئے۔“ ندوی صاحب اپنے فکری پس منظر کے اعتبار سے اس نوزائیدہ ریاست کے شعبۂ تعلیم کی سمت اسلامی روایت کے ساتھ جوڑنے کے پُر جوش داعی تھے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے پہلی سے آٹھویں جماعت تک دینیات کا ایک نصاب بھی ترتیب دیا تھا، جو ۱۹۵۳ء میں باضابطہ آزاد کشمیر کے نصاب میں شامل ہوا۔ بہرحال ایک سال میرپور رہنے کے بعد اُن کا دوبارہ تبادلہ مظفرآباد کر دیا گیا تھا۔]، مولانا مسعود عالم صاحب کے شاگردوں میں سے ہیں۔ شاید آپ بھی انھیں جانتے ہیں۔ انھیں آزاد کشمیر کی ملازمت میں بارہ برس ہو چکے ہیں۔ کئی سال تک وہ تعلیم دینیات کے انسپکٹر رہے ہیں۔ خورشید صاحب [کے ایچ خورشید: (۱۹۲۴۔۱۹۸۸ء) سری نگر (کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ ایس پی کالج سری نگر سے میٹرک اور ایف ایس سی کرنے کے بعد امر سنگھ کالج سری نگر سے بی اے کیا۔ انھوں نے ۱۹۴۲ء میں مسلم سٹوڈنٹس یونین کی بنیاد رکھی۔ نومبر ۱۹۴۴ء میں جالندھر کے مقام پر ایم ایس ایف کے سالانہ اجلاس میں قائد اعظم نے انھیں حسنِ کارکردگی کا پرچم عطا کیا اور ۱۹۴۴ء میں قائد اعظم نے انھیں اپنا پرائیویٹ سیکریٹری مقرر کیا۔ اُس وقت اُن کی عمر صرف بیس سال تھی۔ انھوں نے ۱۹۵۴ء میں برطانیہ سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور پہلے کراچی اور پھر لاہور میں وکالت کرتے رہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں ساری زندگی سرگرم رہے۔ ۱۹۶۲ء میں جموں و کشمیر لبریشن لیگ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنائی، جس کے تاحیات صدر رہے۔ وہ (۱۹۵۹ - ۱۹۶۴ء) آزاد کشمیر کے صدر اور ۱۹۸۵ - ۱۹۸۷ء آزاد کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے۔]کے دور میں پہلا کام تو یہ ہوا کہ اُن کو انسپکٹر سے ہٹا کر ایک ایسے صاحب کو مدارس میں دینیات کی تعلیم کی نگرانی پر مقرر کیا گیا، جو مشہور ملحد ہیں، جنہوں نے کبھی اپنا ملحد ہونا چھپایا بھی نہیں ہے اور جن کا ملحد ہونا کسی سے چھپا ہوا بھی نہیں ہے۔ شاہ صاحب کو اس جگہ سے ہٹا کر میر پور کالج میں معلم دینیات مقرر کر دیا گیا۔ پھر یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ وہ ایم اے نہیں ہیں، اس لیے کالج میں مقرر نہیں کیے جا سکتے۔ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے صدر صاحب سے اس معاملے پر بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ اس طرح کے تقررات آزاد کشمیر میں پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور وہاں کے محکمۂ تعلیمات کی طرف سے جب سفارش کی جاتی ہے تو ہم اس قاعدے کو نظر انداز کر کے منظوری دے دیتے ہیں۔ شاہ صاحب کے معاملے میں، اگر وہاں سے سفارش آجائے تو ہم ان کے معاملے میں بھی قاعدے کے اعتراض کو نظر انداز کر دیں گے، لیکن اب خود آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر تعلیمات نے (جو غالباً لاہوری پارٹی کے آدمی ہیں) [- غالباً ڈاکٹر نذیر شاہ مراد ہیں جو آزاد کشمیر کے کئی کالجوں کے پرنسپل اور تعلیمی بورڈ میر پور کے چیئرمین بھی رہے۔]سفارش بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے، حالاں کہ وہ اس سے پہلے غیر ایم اے استادوں کے تقرر کی متعدد مواقع پر سفارش بھیج چکے ہیں اور بورڈ آف ایجوکیشن اس کو منظور کر چکا ہے۔ اس کے بعد شاہ صاحب بے چاروں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ یا تو کسی ہائی اسکول کی ٹیچری پر تنزل قبول کریں یا ۱۲/ برس کی ملازمت سے علیحدگی اختیار کریں۔ یہ ایک صریح [نا انصافی] ہے جو ان بے چاروں کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ خورشید صاحب سے میرے [تعلقات] نہیں ہیں ورنہ میں خود ان کو اس طرف تو[جہ دلاتا]......

مشرقی افریقہ کے لیے (خورشید صاحب) کی جگہ کوئی اور آدمی سوچا ہے؟ قافلے میں تین آدمی......

خاکسار

ابوالاعلیٰ