سید مودودی کے خطوط
اشاعت: 2019ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
بیسویں صدی کے اُس تاریخی اور فکری بحران میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی ذلت، اخلاقی انحطاط اور فکری الجھاؤ کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند عظیم شخصیات کو جلا دیا، جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ ان کی تحریریں، خصوصاً خطوط، نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا آئینہ ہیں بلکہ اسلامی احیا کے اس عظیم فکری و عملی منصوبے کی زندہ تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی سوچ، نئی جہت اور نئی ذمہ داری سے روشناس کرایا۔ کتاب "سید مودودیؒ کے خطوط" ان ہی خطوط کا ایک جامع، منظم اور تحقیق شدہ مجموعہ ہے جو ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی محنتِ طویلہ کا ثمر ہے۔
اس کتاب کا بنیادی مقصد مولانا مودودیؒ کے فکری سفر، تنظیمی رویّے، علمی گہرائی اور ذاتی مزاج کو ان کے ہی الفاظ میں محفوظ کرنا ہے۔ مولانا کے خطوط محض جوابی کلام تک محدود نہیں؛ ہر خط ایک مختصر رسالہ، ایک فکری تقریر یا ایک عملی ہدایت نامہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چاہے موضوع قرآنی تفسیر ہو، فقہی مسئلہ ہو، جماعتی اختلاف ہو یا بین الاقوامی امور، مولانا ہر معاملے میں اصول پرستی، علمی حوالہ جات، عملی بصیرت اور ادبی شائستگی کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔
بابِ تقدیم میں مصنف نے مولانا کی شخصیت کی ابلاغی صلاحیت، ان کے خط لکھنے کے انداز، اور ان کی بے پناہ ذمہ داری کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا کبھی خط کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ آخری علالت کے دوران بھی وہ زبانی املا کروا کر خطوط روانہ کرتے رہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد
ڈاکٹر انیس احمد (پ: ۱۹۴۴ء) معروف اسلامی سکالر ہیں۔ مطالعہ تقابلِ ادیان، اسلامی احیا، بین المذاہب مکالمہ اور ہم آہنگی اُن کی تحقیق کے خصوصی میدان ہیں۔ گزشتہ تین عشروں میں بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی ملائیشیا، ایپالاشین سٹیٹ (Appalachian State) یونی ورسٹی نارتھ کیرولینا امریکہ، لینزو (Lanzho) یونی ورسٹی چین، ٹیمپل یونی ورسٹی فلاڈلفیا امریکہ، انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد اور جامعہ کراچی میں پڑھا چکے ہیں۔ آج کل وہ رفاہ انٹرنیشنل یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ہیں، اس سے قبل دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر صاحب کے ۱۰۰ کے قریب مقالے بین الاقوامی معیار کے جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمی ناروں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
۸۴
اچھرہ، لاہور
۱۶ مئی ۷۴ء
عزیزم انیس میاں! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا خط مجھے کل ملا۔ پہلے تو آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے نہ صرف مجھے یہاں تک پہنچانے کی زحمت اٹھائی اور چودھری رحمت الہی صاحب کو خط بھی فوراً لکھ دیا، اگرچہ میں نے بھی یہاں پہنچنے کے دو تین دن بعد انھیں خط لکھا ہے، لیکن امید ہے کہ آپ کا خط میرے خط سے پہلے ہی انھیں مل جائے گا۔
میری کتابوں کے متعلق پوزیشن یہ ہے کہ میں نے ۵۹ کتابیں تو اکیڈمی کے لیے وقف کی ہیں اور اکیڈمی کی طرف سے ان کے حقوق اشاعت اسلامک پبلی کیشنز [ اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ لاہور، جولائی ۱۹۵۹ء میں قائم کیا گیا۔ اس کے پہلے منیجنگ ڈائریکٹر میاں طفیل محمد تھے۔]کو دے رکھے ہیں اور آٹھ کتابیں اپنے لیے رکھی ہیں، جن میں تفہیم القرآن کے علاوہ الجہاد فی الاسلام، رسالہ دینیات (مع تراجم)، حقوق الزوجین، خلافت و ملوکیت وغیرہ شامل ہیں۔ مؤخر الذکر کتابوں میں سے باقی سب کتابوں کے حقوقِ اشاعت پہلے اسلامک پبلی کیشنز کو حاصل تھے، مگر اب میں نے انھیں واپس لے کر ادارۂ ترجمان القرآن کو ان کے حقوق اشاعت دے دیے ہیں اور اس ادارہ کو ایک فرم میں تبدیل کر دیا ہے، جو میری اہلیہ اور میرے بچوں پر مشتمل ہے۔ ان کتابوں کا کوئی تعلق نہ اکیڈمی سے ہے اور نہ اسلامک پبلی کیشنز سے۔ پچھلے دنوں جب خورشید صاحب لاہور آئے تھے تو ان کو یہ پوزیشن بتا دی گئی تھی تا کہ لندن کی اسلامک فاؤنڈیشن [ اسلامک فاؤنڈیشن: یو کے اسلامک مشن لندن، قیام: ۱۹۶۲ء]ان میں سے کسی کتاب کے ترجمہ و اشاعت کا اگر بندوبست کرے یا اس کی کسی کو اجازت دے تو اس فرق کو ملحوظ رکھے اور میری ذاتی کتابوں کا معاملہ ان کتابوں کے ساتھ خلط ملط نہ کرے، جو میں نے اکیڈمی کو دی ہیں۔ اس لیے آپ الاسلام [ الاسلام: یہ اشاعتی ادارہ واشنگٹن میں تھا۔ مظفر الدین یوسف حامد ایک امریکی نو مسلم اس کے بانی تھے۔] والوں کو صرف اتنی بات لکھ دیں کہ مودودی نے یورپ اور امریکہ میں اپنی کتابوں کے تراجم شائع کرنے یا ان کے ترجمے کی کسی کو اجازت دینے کے اختیارات اسلامک فاؤنڈیشن لندن کو دے رکھے ہیں۔ لہٰذا آپ جو ترجمہ شائع کر رہے ہیں اس کے سلسلے میں باقاعدہ اجازت حاصل کریں۔ ترجمان [القرآن] میں میرا جو نوٹ [ مئی ۱۹۷۴ء کے ترجمان القرآن میں مولانا کا درج ذیل نوٹ شائع ہوا:”افسوس ہے کہ بعض ناشرین میری اجازت اور علم و اطلاع کے بغیر میرے نام سے مختلف چیزیں چھاپ رہے ہیں، جن میں سے بعض سرے سے میری لکھی ہوئی بھی نہیں ہوتیں۔ ابھی حال ہی میں لاہور کے ایک مکتبے نے ایک کتابچہ ’’حضرت بایزید بسطامیؒ کی علمی کرامت‘‘ میرے نام سے شائع کیا ہے اور اس پر ماہنامہ پیغام حق لاہور بابت ماہ اپریل، مئی، جون ۱۹۴۶ء کا حوالہ درج کر دیا ہے، لیکن نہ یہ مضمون میرا ہے نہ میرے علم میں یہ بات آئی کہ ۱۹۴۶ء میں مذکورہ بالا ماہ نامے نے میرے نام سے شائع کیا تھا اور نہ اُس کتابچے کی صورت میں شائع کرنے سے پہلے مجھ سے کوئی اجازت لی گئی۔ یہ طریقہ سخت قابلِ اعتراض ہے۔ تمام ناشرین سے گزارش ہے کہ وہ میرے نام سے کوئی کتاب یا کتابچہ میرے علم میں لائے بغیر اور مجھ سے تحریری اجازت لیے بغیر شائع نہ کریں۔‘‘ ابوالاعلیٰ مودودی]شائع ہوا ہے اس کا ترجمہ کسی اضافے کے ساتھ یہاں یا یورپ کے اسلامی رسائل میں شائع کرانے کی سر دست ضرورت نہیں محسوس ہوتی اور اگر ضرورت محسوس ہو تو صرف فاؤنڈیشن کا نام لکھ دیں اور فاؤنڈیشن کے منتظمین کو بتا دیں کہ میری ذاتی کتابوں کے معاملے میں اگر کسی کو اجازت دینی ہو تو پہلے ادارۂ ترجمان القرآن سے مشورہ کر لیں۔
یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ حلقہ احبابِ اسلامی[ حلقہ احباب اسلامی: حلقۂ احباب اسلامی کے ارکان و معاونین نے مولانا سے یکم، دو، تین جون ۱۹۷۴ء کو بفیلو میں ملاقاتیں کیں اور تینوں ملاقاتیں ڈاکٹر احمد فاروق کے گھر پر ہوئیں۔ (سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بین الاقوامی اسفار، ص ۶۱۴)۔ ۱۶؍ اپریل تا ۲۱؍ اگست ۱۹۷۴ء ۱۳۸ دنوں کا یہ دورانیہ ہے، جس میں سفر کے علاوہ مولانا بفیلو میں اپنے بیٹے ڈاکٹر احمد فاروق کے پاس مقیم رہے۔] کی شوریٰ کا اجلاس ۳۱ مئی سے ۳ جون تک رکھ رہے ہیں۔ اس سے فارغ ہو کر اگر آپ حضرات یہاں آنا چاہیں تو بخوشی آئیں۔ بس پہلے یہ مطلع کر دیجیے گا کہ کب آئیں گے اور کتنے حضرات آئیں گے۔ امریکہ کے مسلمانوں کے جو حالات آپ نے لکھے ہیں ان سے آگاہ ہونا میرے لیے بہت مفید ثابت ہوا۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۸۵
اچھره، لاہور
۱۶؍ جون ۱۹۷۴ء
عزیزم انیس میاں! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۹ جون ملا۔ سردست میں نے جولائی کے آغاز میں جانے کے بجائے آخری ہفتے میں جانے کا ارادہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ۲۳ کی شام کو کسی جہاز سے نیویارک پہنچوں اور ۲۴-۲۵ وہاں گزار کر جمعہ کے روز ۲۶ کو ۱۰ بجے صبح BOAC/PANAM کے جہاز پر لندن کے لیے روانہ ہو جاؤں جو مجھے ۹:۵۰ پر شام کو وہاں پہنچا دے گا۔ پھر ہفتہ اور اتوار وہاں گزار کر پیر کے روز ۲۹ جولائی کو کراچی کے لیے روانہ ہو کر اگلے روز دوپہر کو کراچی پہنچ جاؤں۔ پھر کراچی ایک دن ٹھہر کر بدھ کے روز ۳۱ جولائی کو لاہور کے لیے روانہ ہوں۔ یہ فی الحال میرا پروگرام ہے۔ والسعی منی والاتمام من اللہ۔
اس پروگرام کو پختہ کرنے کے بعد میں آپ کو یہ تکلیف دوں گا کہ نیویارک کے لیے سیراکیوز (Syracuse) کے بجائے بفیلو کا ٹکٹ تبدیل کرائیں اور جمعہ کے روز کے لیے پان امریکن سے میری اور میری اہلیہ کی سیٹ کنفرم کرائیں اور پان امریکن کو لکھ دیں کہ ہم دونوں کو یا تو ویجیٹرین ڈائٹ دیں یا پھر کوثر (Kosher)۔[ یہودی ذبیحہ] بس اتنی تکلیف آپ کے [لیے] کافی ہے۔ لندن تک میرے ساتھ جانے کی تکلیف آپ نہ کریں، اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خورشید صاحب سے میری فون پر بات ہوئی تھی اور انھوں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ آپ کا لندن تک میرے ساتھ جانا غیر ضروری ہے۔
نیویارک اترنے اور پھر لندن کے [لیے] سوار ہونے اور لندن پر اترنے کے لیے وہیل چیئر کا انتظام بھی پہلے ہی سے کرنے کی درخواست کر دی جائے تو بہتر ہے تاکہ کسی جگہ اترنے یا چڑھنے میں دقت نہ ہو۔ نیویارک کے لیے میں نے جو وقت تجویز کیا ہے، اس کے اندر جو جو پروگرام بھی آپ رکھنا چاہیں رکھ لیں۔ بس میری صحت اور طاقت سے زیادہ میرے اوپر بوجھ نہ ڈالا جائے اور نہ خوب تھکا کر لندن کے لیے روانہ کیا جائے۔
خطوط کے جوابات میں خود بر وقت دیتا جا رہا ہوں۔ آپ ہر ویک انڈ [Weekend] پر آ کر میرے سیکرٹری کے فرائض انجام دینے کی زحمت نہ کریں۔
لندن ایئرپورٹ پر بلاشبہ مجھے کسی مددگار کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ جو امیگریشن، کسٹم اور سامان کے لیے میری مدد کرے۔ اس کا ذکر میں نے خورشید صاحب سے فون پر کیا تھا۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس کا ہم انتظام کرلیں گے۔ یٰسین صاحب [جماعت کے ایک ہمدرد رفیق، تاجر، لندن میں مقیم تھے۔]کو بھی لکھ دوں گا، ان کے لیے اس کا انتظام کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے گی۔
میری اہلیہ آپ کو بہت بہت دعا کہتی ہیں اور آپ کی سعادت مندی سے بہت خوش ہیں۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۸۶
اچھرہ، لاہور
۲۴ / جون ۱۹۷۴ء
عزیزم انیس میاں! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ نے لکھا تھا کہ میں ۲۳ کو خود آؤں گا اس لیے میں نے آپ کے خطوط جواب دینے کے لیے روک رکھے تھے، اب چونکہ آپ ۲۳ کو نہیں پہنچے اس لیے یہ خط لکھ رہا ہوں۔
میرا ارادہ جولائی کے آخر میں جانے کا تھا اس لیے میں نے روانگی کی وہی تاریخیں آپ کو لکھی تھیں اور آپ نے اس کے مطابق بکنگ کرالی تھی، لیکن یہاں میری اہلیہ اور میرے بیٹے کا، اور لاہور سے مرکز والوں کا اصرار ہے کہ میں اگست کے آخر میں جاؤں اس لیے میں نے سابق پروگرام منسوخ کر دیا ہے اور اواخر اگست کا قطعی پروگرام جب بنے گا تو میں آپ کو کافی پہلے لکھ دوں گا۔
میرے ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی تاریخ ۱۴ اگست کو ختم ہو رہی ہے، اس لیے اب میں پی آئی اے کی نیو یارک برانچ کو لکھ رہا ہوں کہ یا تو میرے انھی ٹکٹوں میں مدت کی توسیع کر دیں یا ان کو واپس لے کر نئے ٹکٹ جاری کر دیں اور وہ بفلیو سے ہوں، جو زائد رقم ہمارے ذمہ واجب آتی ہو وہ ہم ادا کر دیں گے۔ یہ ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد ان شاء اللہ کافی مدت پہلے سے بکنگ کرالی جائے گی۔
آپ مجھے لندن تک پہنچانے کی فکر نہ کریں، نہ بفلیو سے مجھے نیویارک تک لے جانے کی زحمت کریں۔ احمد فاروق [ڈاکٹر احمد فاروق عرف امن میاں (پ: ۱۱ مئی ۱۹۳۹ء): مولانا کے صاحبزادے، ایم بی بی ایس ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے کیا اور ایم ڈی امریکہ سے مکمل کیا۔ مولانا نے زندگی کے آخری ایام بفلیو (امریکہ) میں اُن کے ساتھ گزارے۔] میرے ساتھ بفلیو سے نیویارک اور پھر وہاں سے لندن تک جارہے ہیں۔ آپ نے اپنی محبت اور سعادت مندی کی بنا پر یہ زحمت اٹھانے کی جو کوشش کی، اس کا اجر عنداللہ آپ کے حق میں واجب ہوگیا۔
نیویارک کے لیے آپ نے جو پروگرام بنایا ہے، وہ مناسب ہے۔ بس یہ خیال رہے کہ میری قیام گاہ کا علم زیادہ لوگوں کو نہ ہو۔ کچھ وقت خاص خاص لوگوں کو دینے کی ضرورت ہو تو وہ قیام گاہ پر بھی دے سکتے ہیں، مگر یہ ملاقاتیں طویل نہ ہوں اور زیادہ دماغ پر بوجھ ڈالنے والی نہ ہوں کیوں کہ آگے لندن تک کا کٹھن سفر درپیش ہے۔ تھک تھکا کر، اگر اس سفر پر روانہ ہوا تو سخت زحمت ہوگی۔
کوکب صدیق صاحب [کوکب صدیق: جامعہ کراچی میں انگریزی کے لیکچرر رہے۔ ایک رسالے Criterion کے مدیر تھے اور اس رسالے کا ڈیکلریشن بھی اُن کے نام تھا۔ ادارۂ معارف اسلامی کراچی (قیام: ۱۹۶۳ء) نے یہ ڈیکلریشن اُن سے حاصل کیا اور پھر یہ رسالہ ادارہ معارف اسلامی کا ترجمان بن گیا۔ اِس رسالے میں مولانا کی تحریروں کے تراجم شائع ہوئے۔ ستر کے عشرے کے شروع میں کینیڈا چلے گئے۔ اور حلقہ اسلامی کے ساتھ وابستہ بھی رہے۔ ازاں بعد پالیسی پر اختلاف کے باعث الگ ہوگئے، ان دنوں New Trend نکالتے ہیں۔] کے خط کی دوسری نقل جو آپ نے بھیجی ہے، وہ صاف ہے اور اس سے مدعا سمجھ میں آگیا۔ آپ کوکب صاحب کو لکھیے کہ لاہور سے جو جواب آپ کے پاس آئے اسے مسجد الائمہ کو پہنچانے سے پہلے مجھے دکھا لیں، اگر اس میں کوئی چیز نامناسب ہوئی تو میں اس کی اصلاح کرا دوں گا۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۸۷
اچھرہ، لاہور
۲۲/ نومبر ۱۹۷۶ء
عزیزم انیس احمد صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط اور جمی کارٹر[جمی کارٹر: (۱۹۲۴-۲۰۱۶ء) امریکی سیاستدان اور امریکہ کے انتالیسویں صدر (۱۹۷۷ء-۱۹۸۱ء) ۲۰۰۲ء میں انھیں امن کا نوبل انعام بھی ملا۔] کا پورا انٹرویو ملا۔ اس سے پہلے ٹائم[ ٹائم: امریکی ہفت روزہ میگزین، نیویارک سے نکلتا ہے۔ ۱۹۲۳ء میں جاری ہوا، بانی Henry Luce، آج کل ایڈیٹر Nancy Gibbs ہیں، سرکولیشن : ۳۰۲۳۵۸۱ (۲۰۱۶ء)] اور نیوز ویک[ نیوز ویک: Jim Impoco، اجرا ۱۹۳۳ء، نیویارک سٹی، امریکہ کا دوسرا بڑا ہفت روزہ میگزین، سرکولیشن ۱۵۲۸۰۸۱]میں اس کے کچھ حصے دیکھے تھے۔ آپ کا کوئی خط اس سے پہلے مجھے نہیں ملا جس سے معلوم ہوتا کہ آپ کا حلقہ[ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (Islamic Circle of North America)] ایک خبر نامہ جاری کر رہا ہے۔ اب شعبہ نشر و اشاعت کو نوٹ کرا دیا گیا ہے کہ وقتاً فوقتاً یہاں سے مضامین اس کو بھیجے جاتے رہیں، نیز جماعت کے بیانات اور قراردادیں بھی اس کے لیے بھیجی جاتی رہیں۔
میرے پاس اخلاق حسین صاحب آئے تھے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ میں پبلسٹی کا کوئی کام انھیں مل جائے۔ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ آپ انیس میاں سے اس سلسلے میں خط کتابت کریں۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۸۸
اچھہرہ، لاہور
۱۶؍دسمبر ۱۹۷۶ء
عزیزم انیس میاں! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے خطوط مورخہ ۳؍نومبر، ۲۲؍نومبر اور یکم دسمبر مل گئے ہیں۔ مصروفیت کے باعث جواب تاخیر سے دے رہا ہوں۔ دفتر ترجمان القرآن کو جو ہدایات دینی تھیں وہ میں نے دے دی ہیں۔ حسین فاروق [ حسین فاروق مودودی: (پ: ۱۵؍ فروری ۱۹۴۵ء) پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ چند سال ”ادارہ ترجمان القرآن“ کے تحت اشاعتی کاروبار کرتے رہے۔ مولانا مودودی کے چوتھے بیٹے ہیں۔ ان دنوں بسلسلہ ملازمت ہیوسٹن، امریکہ میں مقیم ہیں۔]اپنی اہلیہ کے ساتھ حج پر گئے ہوئے ہیں، اس لیے آپ کا خط انھیں نہیں دیا جا سکا۔ آپ نے کارٹر کے بارے میں جن مضامین کی نقلیں بھجوائی ہیں وہ مل گئی ہیں اور ان کو میں نے پڑھ لیا ہے۔ اس کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔
آپ نے ایم ایس اے کے پرچے میں میرا ایک ہی خط شائع کرایا ہے۔ دوسرا خط جو میں نے ”حق تنقید“ کے بارے میں لکھا تھا وہ شائع نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے وہاں بعض حلقوں میں اعتراضات ہو رہے ہیں۔
ایم ایس اے والے اگر میری وہ کتابیں جو اکیڈمی کے لیے مخصوص ہیں شائع کرنا چاہتے ہیں تو اس معاملے میں اکیڈمی ہی سے بات کر لیں۔ مجھے اس وقت کچھ یاد نہیں کہ اسلامک پبلی کیشنز اور اکیڈمی اور اسلامک فاؤنڈیشن کے درمیان معاملات کس طرح طے ہوئے ہیں۔ البتہ میری کتابیں جو میں نے اپنے لیے مخصوص کی ہیں ان کی وہاں اشاعت کے لیے ادارۂ ترجمان القرآن سے بات طے کریں۔ بہرحال دونوں اداروں کو اس صورت میں نقصان پہنچے گا کہ انھیں باہر سے جو آرڈر ملتے ہیں وہ بند ہو جائیں گے۔ اس لیے کوئی نہ کوئی معاوضہ انھیں دینا چاہیے۔ اخلاق صاحب نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا وہ میں نے آپ کو لکھ دیا ہے اور ان سے کہہ دیا تھا کہ وہ آپ سے مراسلت کریں۔
مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کا حلقۂ احباب امریکہ سے تحریک [ تحریک: اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ۱۹۷۰ (ICNA)ء میں قائم ہوا، ماہنامہ تحریک اس تنظیم کا ترجمان تھا۔ شروع میں فوٹوسٹیٹ کروایا جاتا تھا، بعد میں باضابطہ رسالے کی شکل میں ۱۹۸۰ء تک شائع ہوتا رہا۔]نامی ایک خبرنامہ شائع کر رہا ہے۔ یہ ایک بڑی ضرورت ہے، جسے یہ پرچہ پورا کرے گا۔ وہاں پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کے حالات، مسائل اور اسلامی دعوت کے بارے میں بروقت ضروری معلومات کا بہم پہنچتے رہنا نہایت مفید ہے۔ اسی طرح اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت کے لیے مختلف اہم مضامین کی اشاعت بھی ان شاء اللہ فائدہ مند ثابت ہوگی۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کام میں برکت عطا فرمائے۔
ناظم شعبہ نشر و اشاعت کو میں بھی ہدایت کر چکا ہوں اور آپ بھی انھیں لکھیں کہ یہاں سے ضروری معلومات بھی آپ کو بھیجتے رہا کریں اور مضامین بھی۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۸۹
اچھرہ، لاہور
۳ اگست ۱۹۷۷ء
عزیزم انیس میاں السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کے ارسال کردہ پرچے الاتحاد[ الاتحاد: مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا ششماہی علمی جریدہ، ۱۹۶۳ء میں آغاز ہوا۔ سال میں اس کے دو شمارے نکلتے تھے۔ جمال بدوی اور ڈاکٹر انیس احمد مدیر رہے۔ غالباً ۱۹۸۱ء تک اس کی اشاعت جاری رہی۔] اور تحریک دونوں مل گئے ہیں۔ دونوں قابلِ تعریف ہیں اور امید ہے کہ ان سے وہاں کام آگے بڑھے گا۔ میری طرف سے اجازت ہے کہ میری جس چیز کو آپ چاہیں ان پرچوں میں شائع کر سکتے ہیں۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۹۰
اچھرہ، لاہور
۲۱؍ ستمبر ۱۹۷۷ء
محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ
عید الفطر کی تقریب سعید پر آپ کا تہنیت نامہ ملا جس کے لیے بہت شکر گزار ہوں۔ جواب میں میری طرف سے بھی گزشتہ عید کی مبارک باد قبول فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عید کو حقیقی اور دیر پا خوشیوں کا پیش خیمہ بنائے اور اسلامی نظام کے قیام کی منزل قریب سے قریب تر لائے۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۹۱
لاہور
۱۱؍ اکتوبر ۱۹۷۷ء
محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہُ
آپ کے سوال کا خلاصہ یہ ہے:
کیا زکوٰۃ کی رقوم اسلامی لٹریچر کی اشاعت، اسلامی تعلیم کے فروغ، مسلمان بچوں اور جوانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت، اسلامی اسکولوں کے قیام اور دعوتِ اسلامی کے مراکز کی تعمیر، ان کے لیے عمارتوں کی خرید اور ان اداروں کو چلانے کے مصارف پر خرچ ہوسکتی ہیں؟
آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
زکوٰۃ کے مصارف کے سلسلے میں مسلمان فقہا کے درمیان دو آرا پائی جاتی ہیں۔ حنفی فقہا اس رائے کے حامل ہیں کہ ادائیگی زکوٰۃ کے لیے تملیک [ تملیک فی الزکوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم لینے والا اس کا فی الواقعہ مالک ہو جائے۔]ضروری ہے، اس لیے تعلیم اور دعوتِ اسلامی کے عمومی فروغ کے لیے زکوٰۃ استعمال نہیں ہوسکتی۔ ان فقہا کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد قتال فی سبیل اللہ ہے۔ دوسری طرف اہل حدیث علماء اس رائے کے حامی ہیں کہ فی سبیل اللہ سے مراد صرف قتال فی سبیل اللہ نہیں، بلکہ یہ اسلام کے فروغ کی تمام صورتوں پر حاوی ہے۔ اس لیے تعلیم، تعمیر مساجد اور دوسرے اسلامی مقاصد کے لیے اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ دو انتہائی آرا ہیں، لیکن جہاں تک میں نے اس مسئلے پر غور کیا ہے میری رائے یہ ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد ہر وہ کام ہے جو دین اسلام کی اقامت کے لیے ہو، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ غیر مسلموں میں اسلامی لٹریچر کی تقسیم اور اشاعت اور ان کے درمیان تبلیغ کی مساعی کے لیے زکوٰۃ کی رقوم خرچ کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح دارالکفر میں اسلامی دعوت کے مراکز کے قیام اور ان کے انتظام کے لیے زکوٰۃ استعمال کی جاسکتی ہے۔
نیز ان ملکوں میں جہاں کفر کا غلبہ ہے اور جہاں مسلمان بچوں اور نوجوانوں کے دینِ اسلام سے منحرف اور کفر اور فسق میں مبتلا ہو جانے کا حقیقی خطرہ موجود ہے وہاں ان بچوں اور نوجوانوں کے لیے دینی تعلیم و تربیت کے تمام ضروری انتظامات کرنے کے لیے زکوٰۃ صرف کی جاسکتی ہے۔ یہ تمام مصارف فی سبیل اللہ کے ذیل میں آتے ہیں۔ رہے مسلم ممالک تو وہاں اس اجتماعی جدوجہد کے لیے جو دین حق کو قائم کرنے اور شریعتِ اسلامیہ کو نافذ کرنے کے لیے صحیح اسلامی خطوط پر کی جائے اس پر زکوٰۃ صرف کی جاسکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۹۲
باسمہ سبحانہ
۱۱/مارچ ۱۹۷۸ء
عزیزم انیس میاں! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عنایت نامہ ملا۔ مظفر الدین صاحب [مظفر الدین یوسف حامد ایک امریکی نومسلم تھے۔ اُنھوں نے مولانا کی کتاب دینیات (Towards Understanding Islam) پڑھ کر ڈاکٹر انیس صاحب کے توسط سے لاہور میں مولانا مودودی سے ملاقات کی۔ واپس جا کر اُنھوں نے Islamic Party کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ دعوتِ اسلامی کا کام مولانا کے لٹریچر کو بنیاد بنا کر شروع کیا۔ چھ، سات برس کے بعد وہ اٹلانٹا منتقل ہو گئے اور وہاں اپنا مرکز قائم کر دیا۔ اِس دوران میں اُن کے تعلقات Caribbeans (گیانا جِنس ٹاؤن کے لوگ) سے ہو گئے۔ بڑی تعداد میں لوگ اُن کی دعوت سے متاثر ہوئے۔ پھر اُنھوں نے اسلامی نظام کے قیام کے لیے وہاں کی حکومت کے خلاف بغاوت کی، جو ناکام ہوئی، جس کے نتیجے میں اُن کی جماعت بکھر گئی۔]سے ملاقات میں آپ نے جو تاثر لیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ غالباً اُن کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ دراصل انھوں نے امریکہ میں مسلمان ہونے والوں کے لیے لٹریچر کی کمی کا ذکر کیا تھا اور یہ ضرورت ظاہر کی تھی کہ وہاں لٹریچر کی وافر مقدار ہر اسلامی موضوع پر ہونی چاہیے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ایک دو ایسے نوجوان جو اچھی ذہنی صلاحیتیں رکھتے ہوں یہاں بھیج دیں اور ان کو دینی تعلیم کے ساتھ اچھی اُردو زبان سکھا دی جائے تو کام آسان ہو جائے گا۔ جن کتابوں کے ترجمے ابھی تک نہیں ہوئے ہیں (اور ان سے میری مراد صرف میری ہی کتابیں نہیں تھیں بلکہ اُردو زبان کے اسلامی لٹریچر کی دوسری کتابیں بھی تھیں) ان کے ترجمے کیے جاسکیں گے۔ ہماری اکیڈمی سے آپ رابطہ قائم کریں تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ کن کتابوں کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ اس طرح دوہری محنت نہ کرنی پڑے گی۔ اشاعت اور تقسیم کے مسئلے کو ہم باہم طے کریں گے کہ اس کی کیا صورت ہوگی۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۹۳
باسمہ سبحانہ
لاہور
۲۶/ جون ۱۹۷۸ء
عزیزم انیس میاں! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
الاتحاد کا وہ پرچہ مجھے مل گیا ہے جس کے لیے مضامین کا ذکر آپ نے اپنے خط مورخہ ۸/جون میں کیا ہے۔ اگرچہ میں نے تفہیمات کے مقالے کا انگریزی ترجمہ پڑھ لیا ہے، لیکن پچھلے چھ مہینے کی مسلسل بیماری نے مجھے اس قابل نہیں رکھا ہے کہ میں اس کو دوبارہ غور سے پڑھتا اور کوئی ترمیم و اصلاح کر سکتا۔ اب تو میں نے معاملات آپ لوگوں پر چھوڑ دیے ہیں، جو کام جس سے ہو سکے وہ اپنی جگہ کرتا رہے۔ میرے مقالے ”اسلام کیا ہے“ کا انگریزی ترجمہ بھی آپ جس شکل میں چاہیں شائع کر سکتے ہیں۔ مجھ سے کوکب صدیق صاحب یا کسی اور نے کسی رسالے کے لیے نہ کوئی پیغام مانگا ہے اور نہ میں ایسا کوئی پیغام دوں گا۔
آپ کا مضمون ”اسلام اور مظلوم جنس“ بھی میں نے دیکھ لیا ہے۔ عنوان کی وسعت کے لحاظ سے آپ کا مضمون محدود نظر آتا ہے۔ بہتر ہوتا کہ آپ یہ وضاحت کر دیتے کہ یہ کسی معترض کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ آپ کا نیا پتا نوٹ کر لیا گیا ہے۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ