مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سید مودودی کے خطوط

اشاعت: 2019ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

بیسویں صدی کے اُس تاریخی اور فکری بحران میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی ذلت، اخلاقی انحطاط اور فکری الجھاؤ کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند عظیم شخصیات کو جلا دیا، جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ ان کی تحریریں، خصوصاً خطوط، نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا آئینہ ہیں بلکہ اسلامی احیا کے اس عظیم فکری و عملی منصوبے کی زندہ تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی سوچ، نئی جہت اور نئی ذمہ داری سے روشناس کرایا۔ کتاب "سید مودودیؒ کے خطوط" ان ہی خطوط کا ایک جامع، منظم اور تحقیق شدہ مجموعہ ہے جو ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی محنتِ طویلہ کا ثمر ہے۔

اس کتاب کا بنیادی مقصد مولانا مودودیؒ کے فکری سفر، تنظیمی رویّے، علمی گہرائی اور ذاتی مزاج کو ان کے ہی الفاظ میں محفوظ کرنا ہے۔ مولانا کے خطوط محض جوابی کلام تک محدود نہیں؛ ہر خط ایک مختصر رسالہ، ایک فکری تقریر یا ایک عملی ہدایت نامہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چاہے موضوع قرآنی تفسیر ہو، فقہی مسئلہ ہو، جماعتی اختلاف ہو یا بین الاقوامی امور، مولانا ہر معاملے میں اصول پرستی، علمی حوالہ جات، عملی بصیرت اور ادبی شائستگی کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔

بابِ تقدیم میں مصنف نے مولانا کی شخصیت کی ابلاغی صلاحیت، ان کے خط لکھنے کے انداز، اور ان کی بے پناہ ذمہ داری کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا کبھی خط کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ آخری علالت کے دوران بھی وہ زبانی املا کروا کر خطوط روانہ کرتے رہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

پروفیسر خورشید احمد

پروفیسر خورشید احمد (پ: ۱۹۳۲ء) اور مولانا مودودی کے درمیان استاد و شاگرد، مرشد و مرید اور امیر و کارکن کا تعلق رہا ہے۔ جناب خورشید احمد نے تقسیم ہند کے موقع پر ہجرت کی اور پہلے لاہور اور پھر کراچی منتقل ہو گئے۔ جامعہ کراچی سے انھوں نے معاشیات اور اسلامیات میں ایم اے کیا۔ دورانِ تعلیم میں خورشید صاحب مولانا مودودی کی فکر سے متاثر ہوئے اور اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو گئے اور جمعیت کے ناظم اعلیٰ کے منصب تک پہنچے۔ طالب علمی کے زمانے میں 'New Era, The Students' Voice, Voice of Islam جیسے رسائل کے مدیر رہے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد جامعہ کراچی میں معاشیات کے لیکچرار مقرر ہوئے، لیکن ملازمت کی پابندیاں ان کے مزاج سے ہم آہنگ نہ تھیں، سو انھوں نے ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔ ادب، سیاست، معیشت اور فکرِ اسلامی کا احیاء جیسے موضوعات پر، ان کی درجنوں کتابیں اور مقالات حوالے کا درجہ رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے مولانا کی کئی کتابیں مرتب کیں اور اکثر کتابوں کے انگریزی تراجم بھی کیے، جن کی کچھ تفصیل زیرِ نظر خطوط میں موجود ہے۔ وہ ۱۹۸۵ سے ۲۰۱۲ء تک سینیٹ آف پاکستان کے ممبر رہے۔ فکری اور علمی سطح پر ان کا شمار مولانا مودودی کے ان چند شاگردوں میں ہوتا ہے، جو مولانا کی علمی روایت کے حقیقی ترجمان اور امین ہیں۔ وہ جیل میں بھی مولانا کے ساتھ رہے اور بیرونِ ملک بھی اکثر شریکِ سفر رہے۔ جب مولانا کا انتقال ہوا تو وہ جسدِ خاکی کے ساتھ نیویارک سے لندن اور لندن سے لاہور تک ہمراہ رہے۔

۲۰

اچھرہ، لاہور

مورخہ: جنوری ۱۹۶۱ء[چراغِ راہ (کراچی) کا نظریہ پاکستان نمبر دسمبر ۱۹۶۰ء میں شائع ہوا۔ مولانا نے اِس خط میں نظریہ پاکستان نمبر کی تحسین فرمائی ہے۔ امکان ہے کہ مولانا تک پرچہ دسمبر کے آخر یا جنوری ۱۹۶۱ء کے شروع میں پہنچا ہوگا، اس لیے اندازہ ہے کہ یہ خط جنوری ۱۹۶۱ء کا ہے۔]

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا ارسال کردہ ’’دو دستوری خاکوں‘‘[ نظریہ پاکستان نمبر، مرتبہ: خورشید احمد، محمود فاروقی، دسمبر ۱۹۶۰ء، شمارہ ۱۲، جلد ۱۴] کا دوسرا مسودہ ملا۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اس کتاب میں ان خاکوں کا اندراج کچھ موزوں نہیں۔ میں نے ساری کتاب پڑھ لی ہے اور اس میں سے ’’خاکے‘‘ کا حصّہ الگ کر لیا ہے۔ مسودے کی ترتیب بہت اچھی ہے۔ اس طرز پر آپ آگے کام کر سکتے ہیں۔

میں تقریباً ڈیڑھ ماہ سے دائیں شانے میں درد کی تکلیف میں مبتلا ہوں۔ اب ڈیپ ایکسرے کا علاج شروع ہوا ہے۔ اس سے درد میں تو کمی آ گئی ہے لیکن ضعف شدید ہے۔ آپ نے میری صحت کے لیے جس دلچسپی اور فکر مندی کا اظہار کیا ہے، اس کے لیے میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ مجھے کام کی طاقت عطا فرمائے۔

نظریہ پاکستان نمبر [دو دستوری خاکے: موجودہ دور میں اسلامی حکومت کے خدوخال واضح کرنے کے لیے ایک خاکہ علامہ محمد اسد نے مرتب کیا تھا، جب کہ دوسرا خاکہ مولانا مودودی کی تحریروں کی روشنی میں مولانا نعیم صدیقی نے ترتیب دیا تھا۔ دونوں کو ملا کر ۱۹۵۰ء میں نعیم صدیقی صاحب نے ’’دو دستوری خاکے‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ ترتیب دیا۔ مولانا کی کتاب اسلامی ریاست کی ترتیب کے دوران میں پروفیسر خورشید احمد کی رائے تھی کہ اس پمفلٹ کو بھی اسلامی ریاست کا حصہ بنایا جائے، لیکن مولانا نے اُن کی اِس رائے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔] کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ چراغ راہ نے [اسلامی] قانون نمبر شائع کر کے جو دینی و علمی خدمت انجام دی تھی، اس سے کچھ زیادہ ہی خدمت اس نے یہ نظریہ پاکستان نمبر شائع کر کے سر انجام دی ہے۔

آپ اپنے والد صاحب کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دیجیے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

مکرر:

آپ کا دوسرا خط ملا، جس کے ساتھ آپ نے الطاف حسین صاحب [ الطاف حسین صاحب، قائد اعظم محمد علی جناح کے قریب رہے اور قیامِ پاکستان کے بعد اُن کا شمار مسلم لیگ کے نمایاں لوگوں میں ہوتا تھا۔ ۱۹۵۳ء میں خواجہ ناظم الدین وزیرِ اعظم تھے، میں (خورشید احمد) نے جمعیت کے ترجمان: The Students' Voice کے صفحہ اوّل پر Open Letter to the Prime Minister کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا، جو دراصل دائیں بازو (جمعیت) اور بائیں بازو (All Pakistan APSO Student's Organization) کے طلبہ کے مابین موجود نظریاتی کشمکش کے تناظر میں لکھا گیا تھا۔ اس دوران میں کراچی میں ہنگامے میں ایک طالب علم شہید ہوا تو پورے شہر میں اضطراب اور بے چینی پھیل گئی تو طلبہ کا ایک وفد الطاف حسین (مدیر ڈان) سے ملا، جس میں جمعیت کی نمائندگی ڈاکٹر منظور احمد سابق ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد) کر رہے تھے۔ دورانِ گفتگو The Students Voice کا مضمون زیرِ بحث آیا تو الطاف صاحب نے دعویٰ کیا کہ یہ کسی طالب علم کی تحریر نہیں ہوسکتی۔ منظور صاحب نے انھیں بتایا کہ یہ تحریر واقعتا ایک طالب علم (خورشید احمد) کی ہے اور اگر آپ تصدیق کرنا چاہیں تو ملاقات ہوسکتی ہے، پھر ملاقات ہوئی، جو دوستی میں بدل گئی۔ الطاف صاحب نے مجھے ڈان میں لکھنے کی دعوت دی۔ میں نے ایک مضمون Islam in the West لکھا، پھر اُن کی مولانا سے خط کتابت رہی۔ اُنھوں نے مولانا کی تحریریں ڈان میں شائع کرنے کی دعوت دی، جس پر مولانا نے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ (۲۵ / مارچ ۲۰۱۷ء کو پروفیسر خورشید احمد صاحب نے راقم کی ملاقات)] کا خط بھیجا ہے۔ خدمت دین کے جتنے مواقع بھی ملیں ان سے فائدہ اٹھانے کو جی چاہتا ہے اور ہر ایسے موقع کو کھونا بری طرح کھلتا ہے لیکن میری قوتِ کار جس رفتار سے گھٹ رہی ہے اس کی بنا پر میں اب بہت زیادہ اختصاریت برتنے پر مجبور ہوں۔ نئے کام ہاتھ میں لینے کے معنی یہ ہیں کہ جو کام پہلے سے جاری ہیں، وہ نامکمل رہ جائیں۔ اس لیے اب ڈان کے لیے نئے خطبات لکھنا تو مشکل ہے، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ یہاں آجائیں تو پہلے خطبات کے لیے ایک پلان بن جائے، پھر اس پلان کے مطابق ایک ترتیب کے ساتھ آپ میرے لکھے ہوئے سابق مضامین میں سے مواد چھانٹ لیں اور ایک ایک خطبہ انگریزی میں تیار کر کے مجھے دیتے جائیں۔ اس طرح کے خطبات کے لیے لٹریچر میں بہت مواد موجود ہے۔ اگر ہم چاہیں تو برسوں ڈان کے لیے خطبات فراہم کر سکتے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ اگر آپ کے پاس اب تک کے شائع شدہ مواد کا انڈکس تیار ہو چکا ہو تو اس کام کے کرنے میں بہت سہولت ہوگی۔ الطاف صاحب کو میں نے براہ راست آمادگی کا جواب بھیج دیا ہے۔ جس کی نقل منسلک ہے۔

والسلام

ابوالاعلیٰ

۲۱

اچھرہ، لاہور

۱۷/ شوال ۱۳۸۸ھ، ۱۰/ جنوری ۱۹۶۹ء

محترمی و مکرمی جناب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ کے سوالات کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ میں نے بعض علماء کے استفسار پر لاہوریوں کے متعلق جو جواب لکھا تھا، اس کے ضروری حصے کی نقل آپ کو بھیج رہا ہوں۔ اس کے پڑھنے سے امید ہے کہ آپ کی تشفی ہو جائے گی۔

۲۔ خلافت و ملوکیت [ خلافت و ملوکیت: اسلامک پبلیکیشنز لاہور: اکتوبر ۱۹۶۱ء۔]کے بارے میں صرف یہ عرض ہے کہ ایک ایک لفظ میں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ تول تول کر لکھا ہے اور کوئی شخص کسی حوالے، یا حوالے کی تعبیر میں غلطی ثابت نہیں کرسکتا، مگر اتنا وقت اور طاقت مجھے میسر نہیں ہے کہ ایک ایک شخص، کسی سے گفتگو، یا بحث کرنے کے بعد مجھے خط لکھے اور میں ایک ایک شخص کے خطوط کے جوابات لکھتا رہوں۔ مفتی محمد شفیع صاحب [مفتی محمد شفیع (۱۸۹۷-۱۹۷۶ء) نامور عالم دین، مفتی اعظم پاکستان، مفسر قرآن، جمعیت علمائے اسلام کے اہم رہنما، پاکستان کے دستور اور قرارداد مقاصد کی تدوین میں شریک رہے۔ تصانیف:]نے، جو تنقید لکھی ہے، اسے وہ چاہیں تو شائع کردیں۔ پھر ان شاء اللہ میں سارے اعتراضات کے مفصل جوابات دے دوں گا۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ مفتی صاحب کے اپنے گروہ کے علماء اس مسئلے پر جو کچھ لکھتے رہے ہیں، یا تو انھوں نے اُن کو پڑھا نہیں ہے، یا پڑھا ہے تو اس پر تنقید کی انھوں نے ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ جو کرم فرمائیاں مفتی صاحب نے پچھلے دنوں مجھ پر مسلسل کی ہیں، اُن سے شاید آپ واقف نہیں ہیں۔ میں اُن سب سے باخبر ہوں، اس لیے مجھے اُن کے ساتھ وہ حسنِ ظن اب نہیں رہا ہے، جو پہلے تھا[ معارف القرآن (۸ جلدیں)، سیرت خاتم الانبیاء، جواہر الفقہ، کشکول (مجموعہ: اُردو، فارسی، عربی کلام)]

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۲۲

اچھرہ، لاہور

۱۵/ ۱/ ۶۹ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ آپ کا خط مورخہ ۷/جنوری ملا۔ خدا کا فضل ہے کہ چودھری صاحب [چودھری غلام محمد] بھی ۱۱/جنوری کو بخیریت کراچی پہنچ گئے ہیں۔ آپ نے اور دوسرے رفقا نے وہاں جس طرح میری اور چودھری صاحب کی خدمت کی ہے، اس کے شکریے کا حق ادا کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔ بس اللہ ہی اس کی بھرپور جزائے خیر دے سکتا ہے اور اسی سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کو دنیا اور آخرت میں اس کی بہترین جزا دے۔

مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ ہماری دیکھ بھال نے آپ کو پورے چار مہینے اُس مقصد سے غافل رکھا، جس کے لیے آپ وہاں گئے ہیں۔ اب اُمید ہے کہ آپ پورے انہماک سے اپنی تعلیم کی طرف توجہ صرف کریں گے اور نہ صرف اتنے دنوں کے نقصان کی تلافی کرلیں گے، بلکہ امتیاز کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے واپس آئیں گے۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، یہاں سوشلزم کے فتنے نے اچھا خاصا زور پکڑ رکھا ہے۔ اس حالت میں اُس مجموعۂ مضامین [ اس سے چراغ راہ کے سوشلزم نمبر کی دوسری جلد کے مضامین مراد ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد کے مطابق: انھوں نے چراغ راہ کے سوشلزم نمبر کی دوسری جلد کے لیے مضامین مرتب کیے تھے، جنھیں لندن سے بذریعہ ڈاک پاکستان بھیجا گیا، لیکن وہ مضامین راستے میں ضائع ہو گئے، جس کا مولانا مودودی کو اور خورشید صاحب کو سخت قلق رہا۔] کی سخت ضرورت ہے، جو آپ مرتب کر رہے تھے۔ معلوم نہیں وہ اب کہاں ہے اور کس مرحلے میں ہے؟ وہ جس حال میں بھی ہو، اسے میرے پاس بھیج دیجیے، یا بھجوا دیجیے، تاکہ میں اس کی اشاعت کا جلدی انتظام کروں۔ جن صاحب کا استفسار میرے نام آیا ہوا تھا، اس کا جواب بھیج رہا ہوں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۲۳

باسمہ سبحانہٗ

لاہور

۲۷/ جنوری ۱۹۶۸ء \۱۹۶۹ء [ مولانا نے مکتوب بدست خود ۲۷/ جنوری ۱۹۶۸ء تحریر کیا ہے، جب کہ دفتر والوں نے حوالہ نمبر کے ساتھ 27/1/69 درج کیا ہے۔ نفسِ مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط ۲۷/۱/۱۹۶۹ء کا ہے، اس لیے کہ جن صاحب کے استفسار کا تذکرہ ۱۵/۱/۱۹۶۹ء کے خط میں ہے، اُس کا جواب اسی خط میں تحریر ہے۔ استفسار کا جواب ایک سال کے وقفے سے نہیں دیا جا سکتا۔]

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا خط ملا۔ یہ معلوم کر کے افسوس ہوا کہ ہمارے آنے کے بعد آپ کی صحت ٹھیک نہیں رہی۔ مجھے پہلے ہی اندیشہ تھا کہ غذا کی بے قاعدگی اور شب و روز کی دوڑ دھوپ اور سخت سردی میں راتوں کے سفر، بالآخر آپ کی صحت پر بُرا اثر ڈالیں گے۔ اب آپ سب سے پہلے اپنی صحت درست کرنے کی فکر کریں اور غذا کا بھی کوئی معقول انتظام کرلیں۔

یہاں سوشلزم کا طوفان از سرِ نو اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کچھ لوگ اعلانیہ اور کچھ در پردہ اور کچھ اسلام کا ملمع چڑھا کر اس کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اسلام کے ”کرم فرما“ علماء ان کا اعلانیہ ساتھ دے رہے ہیں۔ اس حالت میں میرے ان مضامین کا مجموعہ جلدی سے جلدی شائع ہونا چاہیے۔ آپ کے پاس، جو مواد جیسا بھی ہے، مرتب کرکے اپنے حواشی اور مقدمہ کے ساتھ جلدی سے جلدی بھیج دیں، جو کمی ہوگی، وہ میں یہاں خود پوری کرلوں گا۔ میں نے کراچی بھی لکھا ہے کہ آپ کا وہ سامان، جو ابھی انگلستان نہیں گیا ہے، اگر اس میں اس کتاب کے سلسلے کا کچھ مواد موجود ہو تو اسے نکال کر آپ کو فوراً ڈاک کے ذریعہ سے بھیج دیں اور اگر وہ بر وقت وہاں نہ پہنچ سکتا ہو تو پھر اسے میرے پاس بھیج دیں۔

جن صاحب کے خط کا جواب میں نے بھجوایا تھا، ان کا پتا تو مجھے بھی معلوم نہیں ہے۔ آپ پیغام[ پیغام کے نام سے ایک رسالہ برنگھم سے نکلتا تھا۔] ہی میں اصل خط اور میرا جواب شائع کر دیں۔ ملک نصر اللہ خاں صاحب[ملک نصر اللہ خاں عزیز (۱۸ فروری ۱۸۹۷- ۲ جولائی ۱۹۷۶ء) نے ۱۹۱۸ء میں بی اے کے بعد صحافتی زندگی کا آغاز سہ روزہ مدینہ، بجنور کی ادارت سے کیا۔ ماہنامہ صوفی منڈی بہاؤالدین کے نائب مدیر (۱۹۱۹-۱۹۲۵ء) رہے۔ ہمدم لکھنؤ اور پھر زمیندار سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں ۱۹۳۷ء میں پاسبان، ۱۹۳۸ء میں زمزم، ۱۹۴۰ء میں مسلمان، ۱۹۴۴ء میں کوثر اور ۱۹۴۸ء میں روزنامہ تسنیم جاری کیا۔ ۲۴ دسمبر ۱۹۵۴ء سے ایشیا کی ادارت سنبھالی۔ ابتدائی زمانے میں ذہناً مولانا ابوالکلام آزاد کے قریب رہے اور بعد میں کانگریس کے حامی رہے۔ مولانا مودودی کی تحریروں نے ان کی کایا پلٹ دی اور ۱۹۴۱ء میں وہ جماعتِ اسلامی میں شامل ہو گئے اور یہ وابستگی زندگی کے آخری لمحوں تک برقرار رہی۔ تحریک آزادیِ ہند اور بعد ازاں تحریک ختمِ نبوت کے سلسلے میں قید و بند سے بھی دوچار ہوئے۔ جماعتِ اسلامی لاہور کے امیر رہے اور طویل عرصے تک جماعتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ و مجلسِ عاملہ کے رکن رہے۔ تصانیف: امام احمد بن حنبل، کاروانِ شوق (مجموعۂ کلام)، تیر و نشتر (فکاہی کالموں کا مجموعہ)۔ زندگی کی گزرگاہوں میں (خودنوشت)] کے صاحبزادے ابھی تک یہاں نہیں پہنچے ہیں۔ میں نے ملک صاحب کو مطلع کر دیا ہے کہ ان کے نام میں نے جو خط لکھا تھا، وہ یہاں مجھے واپس مل گیا ہے۔

ذیل میں لیڈس کے اُن صاحب کا اصل سوال درج کیا جا رہا ہے۔ آپ سوال اور میرا جواب دونوں پیغام میں شائع کریں گے تو اُمید ہے کہ وہ، یا ان کا کوئی دوست انھیں اس سے مطلع کر دے گا۔ سوال کی اشاعت کے ساتھ یہ بات بھی درج کر دی جائے کہ وہ صاحب لیڈس کے ہیں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۲۴

باسمِ سبحانہ

لاہور

۱۸ فروری ۱۹۷۰ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ آپ کا خط مورخہ ۴ فروری، کئی روز سے میرے پاس آیا رکھا ہے، مگر چودھری صاحب مرحوم کی وفات نے ذہن کو کچھ اس طرح upset کر دیا ہے کہ میں سوچتا رہا کہ آپ کو کیا جواب دوں؟ اللہ ان پر رحمت فرمائے، انھوں نے اتنے کام سنبھال رکھے تھے کہ اب دس آدمی بھی مل کر ان کی جگہ مشکل ہی سے پُر کر سکتے ہیں۔ اتنا بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، جسے بھرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، اِلّا یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے کرم سے اس کو بھر دے۔

چودھری صاحب کے جانے کے بعد اب آپ کی کمی اور زیادہ شدت سے محسوس ہو رہی ہے، خصوصاً جو حالات اب درپیش ہیں اور آگے آتے نظر آ رہے ہیں، ان میں تو اس کا احساس اور زیادہ ہی ہو رہا ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنا میرے لیے سخت مشکل ہے کہ آپ آیا اس پروگرام کو پورا کریں، جس کے لیے آپ وہاں گئے تھے، یا اسے چھوڑ کر آ جائیں؟ بہتر یہی ہے کہ جون سے اکتوبر تک کے لیے اگر آنا ممکن ہو تو آ جائیے، پھر یہاں مشورے سے کوئی بات طے کی جائے۔ کراچی کے رفقا سے ٹیلیفون پر دریافت کیا تھا، ان کی رائے بھی یہی ہے۔

جن امور کے متعلق آپ نے لکھا تھا، ان کے بارے میں رحمت الہی[چودھری رحمت الہی (پ: ۱۵/ دسمبر ۱۹۲۳ء - ۲۰۱۹ء) ان کا شمار سید مودودی کے معتمد احباب میں ہوتا ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے نائب امیر اور جنرل سیکرٹری کے علاوہ کئی ذمہ داریوں پر فائز رہے۔] صاحب اور اخلاق صاحب سے کہہ دیا ہے۔ امید ہے کہ ان کی تعمیل ہوگئی ہوگی۔ سب رفقائے مرکز کو آپ کا سلام پہنچا دیا ہے۔ ان سب کی طرف سے بھی سلام قبول کریں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۲۵

اچھرہ، لاہور

۲۹/ ۱۱/ ۷۰ [۱۹]ء

مکرمی و محترمی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ عید الفطر کی تقریب سعید پر آپ کا تہنیت نامہ ملا، جس کے لیے ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں۔ جواب میں ہماری طرف سے بھی عید کی مبارکباد قبول فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس پُرفتن دور میں مسلمانوں کی صحیح رہنمائی فرمائے؛ انھیں ہر قسم کے نظریاتی فتنوں اور آفاقی مصائب سے محفوظ رکھے اور حق و صداقت کی راہ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۲۶

باسمہ سبحانہ

۲۲ / اپریل ۱۹۷۲ء

لاہور

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا خط ملا۔ خدا کا شکر ہے کہ اب دل کی تو کوئی تکلیف نہیں ہے، لیکن ایک مہینہ صاحب فراش رہنے کے باعث گٹھیا کی تکلیف پھر سے تازہ ہوگئی ہے اور ضعف بھی بہت محسوس ہوتا ہے۔ بہرحال اب کچھ نہ کچھ کام کرنے لگا ہوں۔ باقساط تین چار گھنٹے کام کرلیتا ہوں۔

محمد فاروق [محمد فاروق مودودی (پ: ۱۹۲۳ء) سید ابوالاعلیٰ مودودی کے صاحبزادے۔] کے مسئلے کو میں حل شدہ محسوس کر کے کچھ مطمئن ہو گیا تھا، لیکن آپ کے خط سے معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک گومگو کی حالت میں ہیں۔ بار ایٹ لا وہ کرنا چاہیں تو کرلیں، مگر اس کے لیے یہاں سے اخراجات بھیجنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ پھر یہاں آنے کے بعد بھی آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ قانون کے پیشہ میں مقابلہ روز بروز سخت ہوتا جارہا ہے اور انھیں وکیل کی حیثیت سے establish ہوتے ہوتے کئی سال لگ جائیں گے۔ پریس کے کام کی ٹریننگ بھی وہ لینا چاہیں تو لے لیں، مگر اتنا سرمایہ نہیں کہ اپنا پریس لگا سکیں۔ لامحالہ یہیں کسی پریس میں ملازمت کرنی پڑے گی اور پرائیویٹ پریس تو کجا سرکاری پریسوں میں بھی اب عزتِ نفس کے ساتھ کام کرنا مشکل ہو گیا ہے، بل کہ security of service ہی باقی نہیں رہی ہے، اگر وہ ہمت کریں اور ضد سے کام نہ لیں تو textile، یا management کی ٹریننگ لے کر نائجریا چلے جائیں۔ اب اس ملک کے حالات ایسے ہیں کہ بڑے بڑے جمے ہوئے لوگ باہر نکل جانے کی فکر کر رہے ہیں۔

محمد فاروق سے یہ بھی کہہ دیجیے گا کہ جس کام کے لیے انھوں نے مجھے اور اپنی والدہ صاحبہ کو لکھا تھا، اس کے متعلق براہِ راست بات کرنے سے پہلے ہم نے بالواسطہ معلوم کرنے کی کوشش کی اور یہی اندازہ ہوا کہ وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اب آخر وہ کیوں چاہتے ہیں کہ میں خود بات کر کے انکار میں جواب سنوں۔

حال ہی میں جو ۱۱۲ کے قریب آدمی ملازمتوں سے الگ کیے گئے ہیں، ان میں ایک پروفیسر جلیل الدین احمد خاں[پروفیسر جلیل الدین احمد خاں انگریزی کے استاد تھے۔ ڈی جے سائنس کالج کراچی اور گورنمنٹ کالج آف اکنامکس اینڈ کامرس کراچی میں پڑھاتے تھے۔ علی گڑھ سے فارغ التحصیل بہت قابل انسان تھے۔ علی گڑھ یونین کے صدر بھی رہے۔ مولانا مودودی سے فکری طور پر بہت متاثر تھے۔ خرم مراد، پروفیسر خورشید احمد، احمد ضمیر، ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری اور ڈاکٹر انیس احمد کے استاد تھے اور انھیں مولانا کی فکر کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انھوں نے حیدرآباد اور ریاض یونیورسٹی سعودی عرب میں بھی پڑھایا۔] بھی ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ وہ تشکیل جماعت اور تقسیم سے بھی پہلے سے میرے ساتھ ایک طرح کی وابستگی رکھتے ہیں۔ انھوں نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے لیے کچھ فکر کروں۔ مجھے کل ہی یہ خیال آیا کہ ہمارے انگریزی شعبے کا کام بالکل صفر ہو کر رہ گیا ہے، اگر آپ فارغ ہو کر جلدی آجائیں اور اکیڈمی کو سنبھال لیں تو ان کو اکیڈمی میں لے لینا کیسا رہے گا؟ پچھلے بہت سے ترجمے جو نظر ثانی کے محتاج پڑے ہیں، ان کو بھی وہ مکمل کر لیں گے اور تفہیم القرآن کے انگریزی ترجمہ [تفہیم القرآن: چھ جلدوں میں مولانا کی شہرۂ آفاق تفسیر: آغاز مارچ ۱۹۴۳۔ تکمیل ۷/ جون ۱۹۷۲ء۔ تفہیم القرآن کا انگریزی ترجمہ چودھری محمد اکبر صاحب (سیالکوٹ) نے اپنی وفات تک سورۂ نور تک کیا تھا، ازاں بعد عبدالعزیز کمال صاحب نے بقیہ ترجمہ مکمل کیا، جو اسلامک پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔]کا کام بھی تیزی سے ہو سکے گا۔ ان کی بیوی بھی ایم اے انگلش ہیں اور وہ مددگار ہو سکتی ہیں۔ ظفر اسحق صاحب [ ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری (۱۹۳۲۔۲۰۱۶ء) مولانا ظفر احمد انصاری کے بڑے صاحبزادے، اپنے زمانۂ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما تھے۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات کے بعد، میک گل یونی ورسٹی (کینیڈا) سے اسلامی تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی۔ اُردو کالج کراچی میں لیکچرار اور کراچی یونی ورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے۔ بعد ازاں پرنسٹن یونی ورسٹی نیو جرسی، امریکہ اور کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی جدہ اور یونی ورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز دہران میں تدریسی فرائض انجام دیے۔ میل برن یونی ورسٹی (آسٹریلیا) اور میک گل یونی ورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر، یونی ورسٹی آف شکاگو میں وزیٹنگ ریسرچ اسکالر اور انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور ڈین فیکلٹی آف شریعہ رہے۔ ۱۹۸۸ء میں ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد مقرر ہوئے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اور انسائیکلوپیڈیا آف دی ریلیجن میں ان کے تحقیقی مقالات شامل ہیں۔ تفہیم القرآن کے ابتدائی حصے کا ترجمہ: Towards Understanding Quran کے نام سے اُنھوں نے شروع کیا تھا۔ اپنی وفات تک سورۃ فاتحہ تا سورۃ السجدہ تک مکمل اور سورۃ النباء تا والناس تک مختصر حواشی کے ساتھ ترجمہ کیا تھا، جو اسلامک فاؤنڈیشن برطانیہ سے شائع ہوا۔ مزید برآں سیّد مودودی کے ترجمہ قرآن و حواشی کو الگ سے بھی انگریزی میں منتقل کیا۔] تو اب تک شاید سورۂ انعام سے آگے نہیں بڑھے ہیں اور تفہیم کو انگریزی میں منتقل کرنے کی ضرورت شدید ہے۔

سب گھر والوں اور رفقائے مرکز کی طرف سے سلام۔

ابوالاعلیٰ

۲۷

باسمہ سبحانہ

اچھرہ، لاہور

۱۴ مئی ۱۹۷۲ء

محترمی و مکرمی!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ عاشق حسین بٹالوی صاحب آج کل انگلستان میں ہیں۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ پبلک ریکارڈ آفس، جس میں ۱۹۴۵ء تک کے سرکاری کاغذات مطالعۂ عام کے لیے کھول دیے گئے ہیں، اس میں سے اہم چیزیں حاصل کریں اور ایک ایک کاپی ہماری اکیڈمی کو بھی فراہم کی جائے۔ اس غرض کے لیے انھیں کچھ مدد کی ضرورت ہے۔ آپ ان سے مراسلت کر کے کوئی وقت طے کر لیجیے، یا مراسلت ہی کے ذریعہ سے یہ معلوم کر لیجیے کہ آپ کیا مدد؛ کس طرح کر سکتے ہیں؟ ان کا پتا یہ ہے:

Mr. A. H. Batalvi, 194 Queens' Gate, London - S.W.7.

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۲۸

باسمہ سبحانہ

اچھرہ، لاہور

۲۲/ اگست ۱۹۷۲ء

محترمی و مکرمی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی صاحب نے مجھے لکھا ہے کہ پبلک ریکارڈ آفس میں ریسرچ کا کام کرنے کے لیے انھوں نے دو نوجوان ایسے تلاش کر لیے ہیں، جو چند مہینے تک تین گھنٹے روزانہ اعزازی کام کریں گے اور انھیں صرف ریکارڈ آفس آنے جانے اور دوپہر کے کھانے کا خرچ دینا ہوگا۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس کے لیے مجموعی طور پر ۹ پونڈ فی ہفتہ اور تین مہینوں کا کل خرچ ۱۲۰ پونڈ ہوگا۔ آگے اگر مزید ذرائع فراہم ہو گئے تو انہی نوجوانوں سے، یا کچھ دوسرے نوجوانوں سے کام لیا جاسکے گا۔

میں نے انھیں لکھا ہے کہ اوّل تو یہاں ہمارے وسائل روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں اور دوسرے اسباب بھی ایسے ہیں، جن کی بنا پر یہاں سے کوئی رقم باہر بھیجنا تقریباً ناممکن ہے۔ اب لامحالہ اس کے لیے باہر ہی سے وسائل بہم پہنچانے ہوں گے۔[ پروفیسر خورشید احمد صاحب راوی ہیں کہ مولانا کی ہدایت کے مطابق ان کی مالی اور علمی معاونت کی گئی تھی۔]

آپ کا لندن جانا ہو تو ڈاکٹر صاحب سے مل کر مشورہ کرلیجیے کہ انگلستان میں اس کام کے لیے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے؟ جو لوگ یو کے اسلامک مشن کے مصارف پہلے ہی اُٹھا رہے ہیں، ان پر تو مزید بار نہیں ڈالا جا سکتا۔ کیا پاکستانی اور غیر پاکستانی مسلمانوں میں کچھ دوسرے لوگ ایسے ہو سکتے ہیں؟ جن پر اس تاریخی تحقیق کی اہمیت واضح کی جائے تو وہ اس کے لیے کچھ دینے پر آمادہ ہوں گے۔ آپ کی تعلیم کا سلسلہ کب تک مکمل ہوگا؟ اب یہاں آپ کے آنے کی بڑی ضرورت ہے، مگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ آپ نے تین سال سے زیادہ، جس مقصد کے لیے وہاں قیام کیا ہے، اسے پورا کیے بغیر آ جائیں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۲۹

باسمہ سبحانہ

اچھرہ، لاہور

۳۰؍اگست ۱۹۷۲ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا خط یوسف خان صاحب[ محمد یوسف خان (۱۹۲۴-۲۰۱۲ء) نے ۱۹۵۱ء میں جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ محترمہ مریم جمیلہ (۱۹۳۴-۲۰۱۲ء) مارگریٹ مارکس نیویارک کے ایک یہودی خاندان کی خاتون تھیں، جنھوں نے مولانا مودودی کے ساتھ خط کتابت کی اور بالآخر مسلمان ہو کر ۱۹۶۲ء میں پاکستان تشریف لائیں۔ ۱۹۶۲ء ہی میں مولانا کی تجویز پر مریم جمیلہ کا نکاح یوسف خان صاحب کے ساتھ ہوا تھا۔]کے ذریعے سے ملا۔ تعجب ہوا کہ آپ نے مجھے دو خط لکھے اور وہ مجھے نہ ملے۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ آپ کا خط ملتا اور میں جواب نہ دیتا۔

میری صحت روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اب دونوں گھٹنے، دونوں کولھے اور دونوں شانے گٹھیا سے متاثر ہو گئے ہیں۔ لیٹے اور بیٹھے ہوئے تو تکلیف نہیں ہوتی، مگر کھڑے ہونے اور چلنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اس کا اثر اب میرے اعصاب پر بھی پڑ رہا ہے اور زیادہ دماغی محنت برداشت نہیں کر سکتا۔ محمد فاروق کے ذریعے سے آپ کا بھیجا ہوا قلم مل گیا۔ بہت ٹھیک کام کر رہا ہے۔ ضرورت ہوئی تو مزید، ری فل منگوا لوں گا۔

تفہیم القرآن کے متعلق آپ کی تجاویز آئین[ ہفت روزہ آئین: آغاز ۱۹۶۴ء اور آخری شمارہ: جنوری ۲۰۰۷ء] والوں نے مجھے لا کر دیں۔ آخری جلد کا آخری حصّہ میں نے بیماری کی حالت میں بمشکل پورا کیا ہے۔ پہلی جلدوں پر نظر ثانی کر کے انہیں بعد کی جلدوں کے معیار پر لانا اتنا محنت طلب کام ہے کہ اب وہ میرے بس کا نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہوں کہ جہاں غیر معمولی تشنگی ہے وہاں مزید حواشی لکھ دوں۔ [قرآن کی] چار بنیادی اصطلاحیں [- قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: اشاعتِ اوّل ۱۹۴۵ء۔ پروفیسر خورشید احمد کی رائے تھی کہ اس کتاب کو تفہیم القرآن جلد اوّل میں شامل کر دینا چاہیے۔ احمد ابو سعید نے ۲۰۱۹ء میں اس تجویز کے مطابق ایک ایڈیشن تیار کیا ہے۔] کا اضافہ جلد اوّل کے آئندہ ایڈیشن میں کروا دیا جائے گا۔ ساری جلدوں کا یکجا انڈکس [ ڈاکٹر خالد علوی اور ڈاکٹر جمیلہ شوکت نے اپنے طور پر تفہیم القرآن کا انڈکس مرتب کیا۔ اشاریہ تفہیم القرآن مرتبین: ڈاکٹر خالد علوی، ڈاکٹر جمیلہ شوکت۔ لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، طبع اوّل ۱۹۹۳ء۔]بھی ان شاء اللہ مرتب کرادوں گا۔

پروفیسر جلیل صاحب نے وصی مظہر صاحب [مولانا سید وصی مظہر ندوی (۲۶؍ اگست ۱۹۲۴۔ ۲؍ جنوری ۲۰۰۶ء) لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور ندوۃ العلماء لکھنؤ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ہجرت کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے اور حیدر آباد میں سکونت اختیار کر لی۔ وہ نور محمد ہائی اسکول حیدر آباد سندھ اور نیشنل کالج حیدر آباد اور شاہ ولی اللہ کالج سندھ سے وابستہ رہے۔ ۱۹۴۶ء سے ۱۹۷۶ء تک جماعت اسلامی میں فعال کردار ادا کیا اور مرکزی اور صوبائی سطح کی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے، لیکن ۱۹۷۶ء میں جماعت اسلامی سے علیحدہ ہو گئے۔ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں بلدیہ حیدر آباد کے میئر اور ۱۹۸۵ء میں قومی اسمبلی کے ممبر بھی رہے۔ (صریرِ خامہ: مجموعه مقالات و مکتوبات، سید وصی مظہر ندوی، مرتب: محمد ارشد، مکتبہ جدید پریس لاہور ۲۰۱۰ء)] کے ذریعے سے مجھے لکھا تھا کہ انھیں کسی باہر کے ملک میں بھجوانے کا انتظام کردوں۔ اس بنا پر مجھے خیال آیا کہ یہاں اگر ان سے کام لیا جا سکتا ہو تو اچھا ہے۔ اس خیال سے میں نے آپ کو لکھا تھا، مگر مجھے نہ تو یہ اندازہ ہے کہ ان سے کیا کام لیا جا سکتا ہے اور نہ یہ کہ ان کے لیے ہم کافی معاوضہ کا انتظام کر سکیں گے یا نہیں؟ اگر آپ کے نزدیک وہ نیروبی کے مرکز کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں تو وصی مظہر صاحب کے ذریعے سے ان کے ساتھ رابطہ قائم کر کے معلوم کر لیں کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں، یا نہیں۔ اس کے بعد نیروبی میں ان کے لیے انتظام کر دیں۔ [ یہ تجاویز زیرِ غور آئیں، مگر پروفیسر جلیل صاحب اُس مرکز میں نہیں جا سکے تھے۔]ظفر اسحق صاحب کے ترجمے کی رفتار بہت سست ہے، انھیں ذرا تیزی کے ساتھ کام کرنے کی طرف توجہ دلائیے۔

ڈاکٹر عاشق حسین صاحب والی تجویز کے متعلق اس سے پہلے آپ کو لکھ چکا ہوں، اُمید ہے کہ میرا خط آپ کو مل گیا ہوگا۔ چوں کہ ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں اور مشکل ہی سے اس کام کے لیے کچھ فراہم کیا جاسکتا ہے، اس لیے میں کیا بتاؤں کہ کس دور کے معاملات سے متعلق برطانوی ریکارڈ آفس کے کاغذات کی چھان بین کی جائے؟ اگر کچھ وسائل فراہم ہو جائیں تو انھی کو نگاہ میں رکھ کر آپ اور ڈاکٹر صاحب کام کا کوئی نقشہ بنالیں۔

آپ کی صحت کا حال معلوم کر کے افسوس ہوا۔ مشکل یہ ہے کہ لوگ بھی آپ کے اوپر ظلم کرتے ہیں اور آپ خود بھی اپنے ساتھ ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔ میں تو ایک مدت سے کہہ رہا ہوں کہ اپنی صحت کو خطرے میں نہ ڈالیے۔ اس وقت آپ انگلستان میں ہیں، جہاں دُنیا بھر کے لوگ علاج کے لیے جاتے ہیں۔ پوری طرح تشخیص کرائیے کہ یہ دردِ سر کے حملے بار بار کیوں ہوتے ہیں؟ دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مرض سے نجات دے اور آپ کو بہتر سے بہتر کام کرنے کی طاقت بخشے۔

آپ کے گھر میں میری طرف سے سلام اور بچوں کو پیار۔ یہاں سب رفقا کی طرف سے بھی سلام قبول کریں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۰

اچھرہ، لاہور

۱۲/ نومبر ۱۹۷۲ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا عید الفطر کا تہنیت نامہ ملا۔ جواب میں میری طرف سے بھی مبارکباد قبول کریں۔ اب کے عید ایسے موقع پر آئی ہے، جب کہ جسدِ ملت کا ایک بازو اعدائے اسلام نے کاٹ کر الگ کر دیا ہے اور [سقوطِ مشرقی پاکستان (۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء) کی طرف اشارہ ہے۔]ہمارے تقریباً ایک لاکھ مسلمان بھائی قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں۔ یہ ہماری شامتِ اعمال اور اللہ کی ناراضی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہم پر رحم فرمائے۔ ہمیں انابت و اصلاح کی توفیق بخشے اور اپنی نصرت سے ہماری ذلت کو عزت میں تبدیل فرمادے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۱

باسمِہ سبحانہٗ

بفیلو

۱۱/جون ۱۹۷۴ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا خط مورخہ ۵ جون ملا۔ بچوں کی بیماری کا حال معلوم کر کے افسوس ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحتِ عاجلہ عطا فرمائے۔ پان[پان کا استعمال مولانا کے معمولات کا حصّہ تھا۔ اس حوالے سے پروفیسر خورشید احمد صاحب نے بعض دلچسپ واقعات سنائے ہیں، انھوں نے بتایا: مولانا مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لیے شام گئے اور وہاں سے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ عمرے کی ادائی کے بعد میں نے مولانا سے پوچھا: پان کی سپلائی جاری ہے؟ انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا: پان کا سارا انتظام مکہ پہنچنے تک کیا گیا تھا۔ مکہ پہنچنے کے بعد میں نے اللہ پر توکل کر لیا ہے، کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ وہ اس شہر میں رزق فراہم کرے گا۔ بعد میں ’رزق‘ کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ پان کھانے والوں کے چہرے، یا کپڑوں پر اس کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر صاحب نے بتایا کہ مولانا کی طبیعت کی نفاست یہاں بھی نمایاں تھی۔ وہ بہت سلیقے سے پان کھاتے تھے۔ ان کے جسم اور کپڑوں پر پان کے کسی نشان کا شائبہ تک کبھی نہیں ہوا۔ ایک دفعہ مولانا لندن ایئرپورٹ سے باہر آئے، کار پر سوار ہوئے تو فرمانے لگے: خورشید میاں! جب اسلامی انقلاب آئے گا تو گاڑیوں میں ایش ٹرے کے ساتھ ساتھ پان کے لیے ایک اُگالدان بھی نصب ہوگا، کیونکہ پان ہماری معاشرتی تہذیب کا ایک جزو ہے۔ اس ملاقات میں پروفیسر خورشید احمد صاحب مولانا کے ساتھ گزرے لمحوں کا تذکرہ بہت محبت سے کرتے رہے۔ جیسے مرید کے لیے اپنے مرشد کی ہر ادا میں ایک دلربائی ہوتی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے ”مولانا بغرض علاج جب امریکہ تشریف لے گئے تو پان کی ترسیل کا سلسلہ وہاں بھی جاری رہا اور ان کی ہدایت کے مطابق مشرقی پاکستان کا پان خشک کر کے انھیں برطانیہ سے امریکہ بھیجا جاتا رہا۔“] برابر مل رہے ہیں۔ کبھی اچھی حالت میں، کبھی کچھ خراب حالت میں اور کبھی زیادہ خراب حالت میں۔ بہرحال آپ کی اس مسلسل کوشش کی بدولت پانوں کی فراہمی کا سلسلہ ایک دن بھی منقطع نہیں ہوا۔ جن عرب دوست کے ہاتھ آپ نے نیویارک پان بھیجے تھے، انھوں نے بھی فوراً ہی یہاں بھجوا دیے اور وہ اچھی حالت میں تھے۔

حلقہ اسلامی کے رفقا نے اپنی مجلسِ شوریٰ اور ناظمین حلقہ کا ایک اجتماع یہاں رکھا تھا اور دو روز تک شام کی نشست میرے پاس ہوتی رہی۔ ان کے کام سے مجھے اچھی طرح واقفیت حاصل ہوگئی اور جو مشورے میں ان کو دے سکتا تھا، وہ میں نے انھیں دے دیے ہیں

امجد علی صاحب نے دو خط مجھے ہندوستان سے بھیجے تھے، مگر گمنام اور بلا پتا۔ یہ کسی خط سے بھی معلوم نہ ہوا کہ بھیجنے والا کون ہے اور اس کا پتا کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس حالت میں، میں ان کو کیا جواب دیتا؟ اب ان کے خط کی جو نقل آپ نے بھیجی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اُن خطوط کے لکھنے والے امجد علی صاحب تھے۔ اس پر مزید یہ کہ خطوط ایسی مجذوبانہ عبارت میں تھے، جس سے کچھ نہ معلوم ہوسکتا تھا کہ کاتب خط کیا کہنا چاہتا ہے اور میں اسے کیا جواب دوں؟

امریکہ کے قیام کے سلسلے میں تمام انتظامات بفضل خدا اچھی طرح ہو رہے ہیں۔ انیس میاں نے میری اتنی خدمت کی ہے کہ میری اپنی اولاد بھی اس سے زیادہ نہ کرسکتی تھی۔ ان کی سعادت مندی دیکھ کر دل سے ان کے حق میں دُعا نکلتی ہے۔

میری عام صحت خدا کے فضل سے بہت بہتر ہوگئی ہے۔ بے خوابی کے مرض کا علاج بھی اس حد تک کامیاب ہوا ہے کہ مجھے اب اُن خواب آور دواؤں کی ضرورت نہیں رہی، جس سے دن دن بھر سر چکراتا رہتا تھا۔ یہ علاج اگر کارگر ہو گیا تو اُمید ہے کہ رفتہ رفتہ مجھے دواؤں کے بغیر فطری نیند آنے لگے گی۔ جوڑوں کے درد میں البتہ ابھی کچھ افاقہ نہیں ہوا ہے، جن ماہرین سے مشورہ کیا گیا ہے، انھوں نے وہی علاج تجویز کیا، جو لاہور میں ہو رہا تھا۔

میں واپسی کا پروگرام جب بناؤں گا تو کافی پہلے سے آپ کو مطلع کردوں گا۔ میرا خیال اب تک یہ ہے کہ دو دن نیو یارک میں ٹھہر کر تیسرے دن لندن جاؤں اور دو دن لندن ٹھہر کر تیسرے دن کراچی کے لیے روانہ ہو جاؤں۔ لندن میں اگر یٰسین صاحب [ محمد یٰسین فیصل آباد کے رہنے والے تھے۔ ڈان ٹریولرز لندن کے مالک تھے۔ مولانا جب بھی لندن گئے، اکثر اُنھی کے ہاں مقیم رہے۔ وہ مولانا کے عقیدت مند اور فکری طور پر ان سے متاثر تھے۔ مولانا کی وفات (۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء) پر وہ پروفیسر خورشید صاحب کے ساتھ لندن سے نیویارک اور پھر واپس لندن اور لاہور تک مولانا کی میت کے ساتھ آئے۔]کے ہاں انتظام بہ سہولت ہو سکے اور ان کو زیادہ زحمت نہ ہو تو انھیں کے ہاں ٹھہرنا پسند کروں گا۔ چوں کہ میرے ساتھ میری اہلیہ بھی ہیں، اس لیے نیو یارک اور لندن، دونوں جگہ یہ انتظام ضروری ہے کہ ہمیں بھی قیام میں سہولت ہو اور جس کے ہاں قیام ہو، اسے زیادہ زحمت بھی نہ ہو۔

امجد علی صاحب کے معاملے میں جب تک پوری تفصیلات معلوم نہ ہوں، میرے لیے کچھ کہنا مشکل ہے۔ ان کے نام آپ کے خط سے اور آپ کے نام ان کے خط سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلے کوئی commitment ان سے ہو چکی تھی اور بعد میں اسے میری، یا ادارۂ ترجمان کی وجہ سے بدلنا پڑا۔ یہی ان کے برہم ہونے کا سبب معلوم ہوتا ہے، لیکن میں اس قضیے کی تفصیلات سے ناواقف ہوں۔

اپنے گھر میں میرا سلام اور بچوں کو دُعا پہنچا دیں۔ میری اہلیہ اور احمد فاروق [ ڈاکٹر احمد فاروق مودودی (پ: ۱۱؍ مئی ۱۹۳۹ء) مولانا کے صاحبزادے امریکہ میں ڈاکٹر ہیں۔ ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا اور امریکہ سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ مولانا نے اپنی زندگی کے آخری ایام اُنھی کے پاس گزارے۔] بھی سلام کہتے ہیں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۲

بفیلو

۲۴/ جون ۷۴ء [۱۹]

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا خط مورخہ ۱۷/جون ملا۔ اس سے پہلے پان برابر ملتے رہے ہیں، جس کے لیے آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ پہلے جو پیکٹ آتے تھے، ان میں سے اکثر سڑے گلے پان نکلتے تھے، مگر اب جو پیکٹ بھی براہِ راست، یا بالواسطہ پہنچتے ہیں، اُن کے پان اکثر بہت اچھی حالت میں ملے ہیں۔

میرا ارادہ پہلے جون کے آخر میں اور پھر جولائی کے آخر میں جانے کا تھا، مگر ادھر احمد فاروق کا اور ادھر لاہور کے رفقا اور میرے اپنے گھر کے لوگوں کا یہ اصرار ہے کہ میں اگست کے اواخر تک یہاں ٹھہروں، اس لیے مجبوراً ارادہ بدل دیا ہے۔ اب جو پروگرام بھی آخری اور قطعی طور پر بنے گا، اس کی اطلاع آپ کو دے دی جائے گی۔ انیس میاں نے اپنی محبت کی بنا پر اصرار کیا ہے کہ وہ مجھے لندن تک پہنچائیں گے، مگر میں نے پھر انھیں لکھا ہے کہ وہ یہ تکلف نہ کریں۔ احمد فاروق کہتے ہیں کہ وہ خود چھٹی لے کر میرے ساتھ لندن تک جائیں گے اور کوشش کریں گے کہ لندن سے کراچی تک جانے والوں میں بھی کوئی ایسا ساتھی مل جائے، جو ہم سے واقفیت اور ہمدردی رکھتا ہو۔

آپ نے میرے لیے لندن کے زمانہ قیام کا، جو پروگرام بنایا ہے، وہ بالکل مناسب ہے۔ اس میں بس اتنا اضافہ اور کرلیں کہ اگر ہمارے احباب میں سے کوئی صاحب اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر میری اہلیہ کو لندن کی سیر کرا دیں تو بہت اچھا ہو۔ انھوں نے پہلی مرتبہ زندگی میں ان ممالک کا سفر کیا ہے اور بس میری ہی خدمت میں لگی رہی ہیں۔ انھوں نے خود کسی جگہ کی سیر کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کی ہے، مگر میرا ارادہ ہے کہ نیویارک کے دو روزہ قیام کے دوران میں انھیں وہاں کی سیر بھی کرا دی جائے اور لندن کے دو روزہ قیام کے دوران میں وہ لندن بھی اچھی طرح دیکھ لیں۔

میں کراچی سے براہ راست نیویارک تک آنے کا خمیازہ بھگت چکا ہوں، اس لیے میں نے دو دن نیویارک اور دو دن لندن میں ٹھہرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس سے زیادہ انگلستان میں ہفتہ دو ہفتے گزارنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ سکون اور آرام تو میں یہاں ضرورت سے زیادہ حاصل کر چکا ہوں۔ اب نکلوں گا تو جلدی سے جلدی حالت سفر ختم کرنے اور اپنے گھر پہنچنے کا خواہش مند ہوں گا۔

لندن میں آپ صرف کوئی ایک جگہ احباب سے ملاقات کے لیے حاصل کر لیجیے گا۔ اس کے علاوہ محض میرے آرام کے لیے کوئی الگ کمرہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

میری اہلیہ اور امن میاں [ڈاکٹر احمد فاروق]، آپ کو اور آپ کے اہل و عیال کو سلام کہتے ہیں۔ میری طرف سے بھی آپ کی اہلیہ اور بچوں کو بہت بہت سلام و دعا۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۳

باسمہ سبحانہٗ

بفیلو

۳۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اس سے پہلے ایک خط میں، میں نے آپ کو لکھا تھا کہ میں ۱۳ اگست کو یہاں سے روانہ ہو کر نیویارک جاؤں گا اور وہاں ۱۴۔۱۵ کو قیام کر کے ۱۶ کو بروز جمعہ لندن کے لیے روانہ ہوں گا، مگر بعد میں نیویارک والے آئے اور انہوں نے کہا کہ بدھ اور جمعرات تک کے دن ہمارے لیے موزوں نہیں ہیں۔ آپ ہمیں جمعہ کی شام دیجیے، تاکہ رات تک ہم نشست کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ اس لیے اب میں ۱۵۔۱۶ کو نیویارک میں ٹھہر کر ۱۷ کو بروز ہفتہ ۱۰ بجے کی پرواز سے چل کر رات کو ۹:۵۰ پر لندن پہنچوں گا، ان شاء اللہ العزیز اور ۱۸۔۱۹ اگست، بروز اتوار اور پیر لندن میں ٹھہروں گا۔ اس پروگرام کی تبدیلی سے یٰسین صاحب کو بھی مطلع کر دیجیے۔

یٰسین صاحب سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ میرے لیے پی آئی اے کی اُس پرواز میں، جو ۲۰ اگست کو دوپہر کے وقت چل کر ۲۱ اگست کی صبح کو کراچی پہنچتی ہے، دو نشستیں مخصوص کرا دیں اور لندن ہی سے کراچی کی کسی ایسی پرواز میں بھی نشستیں مخصوص کرا دیں، جو ۲۲ اگست کو سہ پہر کے وقت چلتی ہے اور مغرب سے پہلے لاہور پہنچا دیتی ہے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۴

۳۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء

خورشید احمد صاحب نے مولانا سے پوچھا:

س: قمر الدین خان صاحب[قمر الدین صاحب (۱۹۱۵۔۱۹۸۵ء) ایم اے معاشیات اور ایم اے عربی تھے۔ اگست ۱۹۴۱ء میں جب جماعت تشکیل دی گئی تو صرف امیر جماعت کا انتخاب ہوا اور ایک مجلسِ شوریٰ بنائی گئی، پھر کچھ عرصہ بعد قمر الدین صاحب جماعت کے ناظم تنظیم (قیم) بنائے گئے۔ وہ سال بھر کام کرتے رہے۔ (مشاہدات: ص ۸۶)پھر وہ جماعت سے علیحدہ ہو گئے تھے۔ (مزید تفصیل، مشاہدات: ص ۱۳۴)۔ ہفت روزہ تھنکر (Thinker) ۲۷/ دسمبر ۱۹۶۳ء کے حوالے سے تذکرہ سیّد مودودی ۲، میں تحریر ہے: ۱۹۴۱ء میں قمر الدین صاحب کی ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے ہوئی۔ وہ خود لکھتے ہیں: راجا آف محمود آباد کی مدد سے گل رعنا (دہلی) میں ہماری ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ قائد اعظم پینتالیس منٹ تک بڑے صبر سے میری بات سنتے رہے اور پھر کہا کہ مولانا (مودودی) کی خدمات کو وہ نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں، لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد ریاست کا حصول اُن کی زندگی اور کردار کی تطہیر سے زیادہ فوری اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اور لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جماعت اگر ایک اعلیٰ مقصد کے لیے کام کر رہی ہے تو لیگ اُس فوری حل طلب مسئلے کی طرف متوجہ ہے، جسے اگر حل نہ کیا جا سکا تو جماعت کا کام مکمل نہ ہو سکے گا۔ (تذکرہ سیّد مودودی ۲: ص ۵۳۸)] نے قائد اعظم کے بارے میں مضمون لکھا ہے، جس میں آپ کا اور جماعت کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے[ قمر الدین صاحب کے الفاظ درج نہیں ہیں، لیکن مولانا کے جواب سے اصل مسئلے کی تفہیم ہو جاتی ہے۔]۔ براہ مہربانی اس روایت کے بارے میں اپنی رائے سے مطلع فرما کر ممنون کریں۔ (خورشید احمد)

ج: یہ صحیح ہے کہ میں نے قمر الدین صاحب سے کہا تھا کہ وہ قائد اعظم مرحوم سے جا کر ملیں اور ان کو جماعت اسلامی کے مقصد اور اس کی دعوت سے روشناس کرائیں، لیکن یہ بات میں نے نہیں کہی کہ وہ انھیں مسلم لیگ کو جماعت اسلامی میں مدغم کرنے کی دعوت دیں۔ غالباً قمر الدین خان صاحب کو پوری بات یاد نہیں رہی، کیونکہ اب اس قصے کو ۲۳ سال گزر چکے ہیں، یا پھر ممکن ہے کہ وہ اُس وقت میری بات کو اُس طرح سمجھے ہوں، جس طرح انھوں نے بیان کی ہے۔ میرا مدعا صرف یہ تھا کہ قائد اعظم مرحوم جماعت اسلامی کے پیشِ نظر مقصد اور کام کو اچھی طرح سمجھ لیں اور انھیں اس طرح کی کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ یہ جماعت، مسلم لیگ کی کوئی حریف طاقت بن کر اُٹھ رہی ہے، یا اس کے راستے میں روڑے اٹکانا چاہتی ہے۔ قائد اعظم کے جواب سے (جسے قمر الدین خاں صاحب نے نقل کیا ہے) بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اِس مدعا کو خوب سمجھ لیا تھا اور معاملے کو اسی روشنی میں دیکھا تھا، جس میں میری خواہش تھی کہ وہ دیکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کے بعض دوسرے لوگ تو خواہ مخواہ جماعت اسلامی کو لیگ کی راہ کا روڑا قرار دیتے رہے، لیکن قائد اعظم مرحوم نے کبھی اس طرح کے کسی خیال کا اظہار نہیں کیا، نہ پاکستان بننے سے پہلے، نہ اس کے بعد۔

ابوالاعلیٰ

۳۵

اچھِرہ، لاہور

۲۱/دسمبر ۱۹۷۴ء

مکرمی و محترمی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ عزیزم انیس صاحب کی شادی میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ میں آپ کی اس پُر مسرت تقریب میں ضرور شریک ہوتا، مگر جوڑوں کے درد کی وجہ سے نقل و حرکت میں تکلیف ہوتی ہے، اس وجہ سے سفر ممکن نہیں۔ بڑی دقت سے گھر کے اندر چل پھر سکتا ہوں۔ نماز بھی کرسی پر بیٹھ کر پڑھ رہا ہوں، اس لیے حاضری سے معذرت خواہ ہوں، مگر دل سے میں آپ کی خوشی میں برابر کا شریک ہوں۔ میری طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اس رشتے کو دونوں خاندانوں کے حق میں موجب خیر و برکت بنائے اور زوجین میں الفت و محبت کی فضا ہمیشہ قائم رکھے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۶

اچھِرہ، لاہور

۲۰/جنوری ۱۹۷۶ء

عزیزم!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا خط ملا، جس میں آپ نے اسلامی کانفرنس [ اسلامک کونسل آف یورپ کے زیرِ اہتمام پہلی اسلامی کانفرنس (۱۹۷۶ء) (فیسٹول آف اسلام) میں مولانا مودودی کو دعوت دی گئی تھی، لیکن وہ خرابی صحت کے باعث شریک نہ ہو سکے۔ یہ کانفرنس لندن کے سب سے بڑے ہال (Wimbeldon Hall) میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے روح رواں جناب سالم عزام تھے، جب کہ پروفیسر خورشید احمد ان کے دستِ راست تھے۔] کے لیے پیغام مانگا ہے۔ بہتر یہ ہو کہ آپ جیسا پیغام چاہتے ہیں، وہ مجھے لکھ کر بھیج دیں۔ میں اپنے دستخط کر کے جس پتے پر آپ کہیں گے بھیج دوں گا۔ والسلام

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۷

اچھرہ، لاہور

۲۸ فروری ۱۹۷۶ء

برادرم خورشید صاحب!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ اجمل احمد صاحب [ اجمل احمد صاحب جامعہ کراچی سے سوشیالوجی میں ایم اے کرنے کے بعد برطانیہ پی ایچ ڈی کی غرض سے گئے، مگر وہ ڈاکٹریٹ کی تکمیل نہ کر سکے تھے۔]کا میرے نام خط آیا ہے، جسے میں آپ کے پاس بھیج رہا ہوں۔ جن امور کا ذکر انھوں نے کیا ہے، ان کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر مجھے بتائیے اور اجمل صاحب کا خط اپنی رائے کے ساتھ مجھے واپس کر دیجیے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۸

باسمہ سبحانہ

عزیزم خورشید صاحب!

۲۱/ جون ۱۹۷۶ء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا انگریزی میں ٹائپ شدہ خط مل گیا تھا۔ یہ آپ نے اچھا ہی کیا کہ انگریزی میں ٹائپ کر کے خط لکھنا شروع کر دیا، ورنہ آپ کے اردو خطوط کو پڑھنا تو ایک مہم سے کم نہ تھا۔ آپ نے اسلامک کانفرنس کا Pictorial Brochure بھیجنے کا ذکر کیا ہے، مگر وہ ابھی تک میرے پاس نہیں آیا۔

میری تقریر کے انگریزی ترجمے کی مطبوعہ کاپی آپ کا خط ملتے ہی میں نے بھجوا دی تھی، تاکہ یہاں سے جو تقریر شائع کی جا رہی ہے، اس میں اور آپ کی طرف سے شائع ہونے والی تقریر میں کوئی نمایاں فرق نہ ہو۔ اس تقریر کو امریکہ اور یورپ میں خوب پھیلانے کی ضرورت ہے۔

انسانی حقوق [ تفصیل کے دیکھیے تذکرہ سیّد مودودی ۲، ص ۷۸۷ (ضمیمہ ۲) میں اس تقریر کے نوٹس موجود ہیں۔]کے متعلق میری تقریر کے، جو مطبوعہ اوراق آپ نے بھیجے ہیں، وہ میں نے دیکھ لیے ہیں۔ کہیں کہیں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی، مگر بحیثیت مجموعی ترجمہ اچھا ہے۔ اس کی اشاعت بھی ان شاء اللہ مفید ثابت ہوگی۔ اسلامک کانفرنس میں، جو مقالے پڑھے گئے تھے [وضاحت کے لیے دیکھیے: خط نمبر ۴۰، حاشیہ ۴]، کیا وہ کہیں یکجا، یا الگ الگ شائع کیے جائیں گے؟

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۳۹

اچھرہ، لاہور

۳ جون ۱۹۷۶ء[چوں کہ اسلامی کانفرنس اپریل ۱۹۷۶ء میں منعقد ہوئی۔ اس خط کے مباحث کانفرنس کے بعد کے ہیں، اس لیے اس کی تاریخ جون ۱۹۷۶ء بنتی ہے۔]

برادرم خورشید صاحب!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ آپ کا ۹/ جون کا خط ملا، جس سے معلوم ہوا کہ آپ میری تقریر [ اسلامک کونسل آف یورپ کی کانفرنس کے لیے مولانا کا مضمون (What Islam Stands for) (اسلام کیا چاہتا ہے؟) The Challenge of Islam (لندن: اسلامک کونسل آف یورپ، ۱۹۷۸ء) میں شامل ہے۔ اس حوالے سے تذکرہ سید مودودی۔ ۲ میں تحریر ہے: ’’۱۹۷۶ء میں مولانا مودودی نے ایک مقالہ بہ عنوان: ’اسلام کس چیز کا علمبردار ہے؟‘ تحریر کیا تھا۔ پاکستان کے ایک معروف صاحب قلم نے اس مقالے کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس ترجمے پر مولانا نے نظر ثانی کرتے ہوئے اصلاحات تجویز کیں۔ یہ مقالہ غیر مسلموں کے لیے پیش کیا جا رہا تھا، اس لیے سید مودودی نے مقالہ لکھتے ہوئے اُن کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھا۔ اُردو میں یہ مقالہ ترجمان القرآن جون ۱۹۷۶ء میں چھپا، جب کہ اس کا انگریزی ترجمہ What Islam Stands for متعدد بار شائع ہو چکا ہے۔ (تذکرہ سید مودودی۔۲، ص ۷۵۷)]وہاں چھاپنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کو یہاں چھپوا لیا ہے اور اس کی ایک کاپی آپ کو بھیج رہا ہوں۔ اس میں، میں نے حواشی میں محض آیات کے حوالے دینے کے بجائے اصل آیات ہی دے دی ہیں، کیوں کہ بہت کم لوگ محض آیات کے حوالے پڑھ کر قرآن نکال کر دیکھتے ہیں۔ آپ اسی کو وہاں چھپوا لیں۔ دونوں ترجموں کا، جو میں بھجوا رہا ہوں اور جو آپ نے وہاں کیا ہے، مقابلہ کر کے مناسب اصلاحات کرلیں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۴۰

اچھر، لاہور

۱۶/ ذیقعد ۹۶ [۱۳]ھ، ۹/ نومبر ۱۹۷۶ء

برادرم خورشید صاحب!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ مولانا عبدالباری صاحب [ ۱۳/ جولائی ۱۹۷۴ء کو جب آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا عبدالباری (۱۹۲۳ء۔۲۰۰۲ء) پہلے امیر مقرر ہوئے۔ انھوں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے طوفانی دورے کیے اور جماعت کی تنظیم سازی کی تحریک آزادی کشمیر کے سلسلے میں مقبوضہ کشمیر گئے، جہاں سے انھیں ریاست بدر کر دیا گیا۔ تحریک جہاد کی تنظیم اور مشاورت میں وہ برابر شریک رہے۔ انھوں نے ۱۹۷۶ء میں برطانیہ کا دورہ کیا، ان کے ہمراہ راولاکوٹ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سردار عبدالخالق ایڈووکیٹ بھی تھے۔]امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر برطانیہ کے دورے پر آئے ہیں۔ پروگرام مولانا خود بتادیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو اور راہِ حق کی مشکلات آسان فرمائے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۴۱

اچھرہ، لاہور

۱۹۷۶ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ غالباً کانفرنس کی تاریخیں قریب آجانے کے بعد آپ زیادہ ہی مصروف ہوں گے۔ کچھ موقع ہو تو الطاف گوہر صاحب [الطاف گوہر صاحب (۱۹۲۳-۲۰۰۰ء) معروف بیوروکریٹ، صحافی، ادیب، مفسر، دانشور، سابق سیکرٹری سٹیٹ بینک آف پاکستان، سابق وفاقی سیکرٹری وزارتِ اطلاعات، سابق چیف ایڈیٹر روزنامہ ڈان کراچی، مسلم کراچی، سابق سیکرٹری تھرڈ ورلڈ فاؤنڈیشن لندن۔ اہم تصانیف: نئے بنگالی افسانے، تحریریں چند، لکھتے رہے جنوں کی حکایت، گوہر گزشت، Translation from the Quran (وفیات اہل قلم : منیر احمد سلیچ ، ص ۷۳)] کے مضمون پر ایک نگاہ ڈال لیں۔ موضوع [الطاف گوہر صاحب کے مقالے کا موضوع Secularism and Islam تھا۔] انھوں نے اچھا منتخب کیا ہے اور اس پر لکھا بھی خوب ہے۔ میرا یہ خط وہ آپ کو دستی پہنچائیں گے۔ ضرورت ہو تو اس پر ان سے گفتگو بھی کر لیجیے گا، تاکہ اس مضمون پر مباحثہ کرنے میں آپ کو آسانی ہو۔

میرے بار بار عذر کرنے کے باوجود ٹکٹ میرے نام بھیج دیا گیا اور شاید میرے لیے کمرا بھی مخصوص کرایا ہو گا۔ عزام صاحب [سالم عزام مصر کے ایک بڑے علمی اور سیاسی خانوادے سے متعلق تھے۔ وہ برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر اور اسلامک کونسل آف یورپ کے سیکرٹری جنرل رہے۔ ان کی کوششوں ہی سے لندن میں پہلی اسلامی کانفرنس اور ’فیسٹول آف اسلام‘ کا انعقاد ہوا۔ ان کے خاندان میں عبدالرحمن عزام ایک نمایاں شخصیت تھے، جبکہ ان کے کزن عبدالوہاب عزام پاکستان میں مصر کے سفیر رہے، جنھوں نے کلام اقبال کا عربی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔] کو میرا شکریہ پہنچا دیں اور ان سے کہیں کہ اگر میں سفر کے قابل ہوتا تو آپ کی فرمائش کی تعمیل کرنے سے ہرگز گریز نہ کرتا۔

یہاں سے طفیل صاحب [میاں طفیل محمد (۱۹۱۳ء-۲۰۰۹ء) نے ۱۹۳۵ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فزکس میں بی ایس سی آنرز کیا۔ ۱۹۳۷ء میں یونی ورسٹی لا کالج لاہور سے ایل ایل بی کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن ریاست کپور تھلہ میں وکالت شروع کی۔ اسی اثنا میں مولانا مودودی کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور جماعت اسلامی کے تاسیسی اجتماع (اگست ۱۹۴۱ء) میں شریک ہوئے۔ اپریل ۱۹۴۴ء میں جماعت اسلامی کے قیم مقرر ہوئے اور ۱۹۷۲ء سے ۱۹۸۷ء تک جماعت کے مرکزی امیر رہے۔] اور غالباً رحمت الہٰی صاحب بھی جا رہے ہیں۔ پہلے تو ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، مگر جب وزیر اعظم صاحب کو براہِ راست توجہ دلائی گئی تو انھوں نے منظوری دے دی۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۴۲

اچھِرہ، لاہور

۶/ جولائی ۱۹۷۷ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم۔ میں اپنے سب سے چھوٹے لڑکے خالد فاروق [خالد فاروق (پ: ۱۸ ستمبر ۱۹۵۲ء) آج کل ادارہ ترجمان القرآن کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔] کو لندن بھیجنا چاہتا ہوں۔

یہاں اس نے بی اے کر لیا ہے، مگر محض بی اے کے لیے نہ یہاں کوئی موقع ہے، نہ باہر کی دنیا میں کسی جگہ۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ وہ لندن میں تجارت، یا بزنس ایڈمنسٹریشن، یا اور کسی چیز کا ٹیکنیکل کورس ڈیڑھ دو سال کے اندر کر لے، پھر مزید فنی تعلیم کے لیے اسے اپنے بڑے بھائی احمد فاروق کے پاس بھیج دوں گا۔ اس کے علاوہ اس کی انگریزی زبان بھی بہت کمزور ہے۔ وہاں فارغ اوقات میں اسے بھی ترقی دینے کے لیے اس کو محنت کرنی ہوگی۔

اس معاملے میں آپ اور دوسرے احباب مشورے سے کوئی پروگرام تجویز کریں، نیز مجھے یہ بھی بتائیں کہ وہاں اس کے قیام اور تعلیم وغیرہ کے مصارف کیا ہوں گے؟ تاکہ میں ان کا بھی بندوبست کرلوں۔ لندن میں اس کے ٹھہرنے کا مسئلہ بھی حل طلب ہے، کیوں کہ کام، یا تعلیم کے لیے شاید اسے وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہ مل سکے گی۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

[۴۳]

باسمہ سبحانہ

[اچھرہ، لاہور] ۱۵/اپریل ۱۹۷۹ء

عزیزم خورشید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا خط مورخہ ۵/مارچ مل گیا تھا۔ اس کے بعد فوراً ہی میں نے حاشر فاروقی صاحب[حاشر فاروقی پندرہ روزہ The Impact International لندن کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ بڑا موثر پرچہ رہا ہے۔ حاشر صاحب فکری طور پر تحریک اسلامی کے قریب اور اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر (برطانیہ) کے ٹرسٹی تھے۔ وہ خورشید صاحب کے معتمد دوستوں میں سے ہیں اور آج کل لندن میں مقیم ہیں۔] کے نام وہ Authority Letter[ اتھارٹی لیٹر:London-N-10Dear Mr. FaruqiAssalamo Alaikum

Thank you for your letter. I am happy to learn that the French translation of Towards Understanding Islam is about to be published. The Islamic Foundation is authorised to publish this translation and to arrange for the translation and publication of my other books and pamphlets in different European languages. On my behalf and on behalf of the Islamic Research Academy, Karachi, which handles some of my books, the Islamic Foundation London is authorised to make all necessary arrangement for the translation and publication of our literature in English and other European and African languages. In future any other person or organisation which is interested in the publication of my books outside Pakistan and India be required to contact you to sort out the matter. I hope this letter of authority would be sufficient to enable you to handle this matter.With best wishes and prayers,Yours sincerely,(Abul A'la Maudoodi)(The Chairman)(Islamic Foundation)(238 Colony Hatch Lane)] بھجوا دیا تھا، جو آپ نے تجویز کیا تھا۔

اس سے پہلے انیس میاں کا خط بھی امریکہ سے آیا تھا، جس میں انھوں نے مظفر الدین حامد صاحب کے معاملے میں دریافت کیا تھا اور میں نے انھیں بتا دیا تھا کہ حامد صاحب کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ اصل بات وہ نہ تھی، جو انھوں نے سمجھی۔ بٹالوی صاحب کا طرز عمل معلوم کر کے افسوس ہوا، یا تو انھوں نے خط لکھ کر میری ناک میں دم کر دیا تھا، یا اب یہ بے فکری ہے۔

یورپ میں تو آپ لندن کے مرکز سے کام اچھی طرح کر سکتے ہیں، لیکن امریکہ میں اشاعت کے کام کے لیے کوئی اور تدبیر سوچنی ہوگی۔ تراجم کا انتظام انگریزی میں اب تک قابلِ اطمینان نہیں ہے۔ عبداللہ عقیل صاحب[عبداللہ عقیل (۱۹۲۸ء - ۲۰۱۱ء): نے اعلیٰ تعلیم جامعہ الازہر سے حاصل کی۔ ادارت، صحافت اور تدریس کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف اور متعدد بین الاقوامی علمی تنظیموں کے رکن تھے۔ عراق سے تعلق تھا۔ اخوان سے تعلق کے باعث ملک سے انھیں نکلنا پڑا۔ اس وقت وہ کویت کی وزارتِ مذہبی اوقاف میں کام کرتے تھے، اخوان اور مولانا کے عقیدت مند تھے۔ خلیل احمد حامدی صاحب کے ساتھ بھی قریبی رابطہ تھا۔] کے متعلق میں نہیں سمجھ سکا کہ آپ انھیں کیا لکھوانا چاہتے ہیں؟

اس کے متعلق ذرا تفصیل سے بتائیے۔

یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ کی صحت کچھ بہتر ہے۔ براہِ کرم صحت پر اتنا بوجھ نہ ڈال دیں کہ وہ آخر کو جواب دے جائے۔ وہاں اپنا کام مکمل کر کے آپ یہاں آ جائیں تو بہتر ہو گا، کیوں کہ یہاں آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔ باہر کے کاموں کے لیے اسکیم بنا دیں اور کسی موزوں آدمی کے سپرد کر دیں۔

چھٹے روز ہوئے آپ کی کتاب ادبیات مودودی چھپ کر آئی ہے۔ میں نے اس کا نصف سے زیادہ حصہ دیکھا ہے۔ غلطیوں کی اتنی بھر مار ہے کہ کتاب کا ستیا ناس ہو گیا ہے۔ اتنی غلطیاں تو شاید ہماری شائع کردہ کسی کتاب میں بھی نہ ملیں گی۔ اکثر مقامات پر مضمون بالکل خبط ہو کر رہ گیا ہے۔

اپنے گھر میں میرا سلام کہیں اور بچوں کو پیار۔ سب رفقا کی طرف سے بھی سلام قبول کریں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۴۴

اچھرہ، لاہور

آپ نے جو حساب مجھے بھیجا ہے، اس کے اندر وہ خرچہ شامل نہیں ہے، جو مختلف مقامات پر گاڑیوں کے کرائے اور ہوٹلوں کے خادموں وغیرہ پہ صرف ہوا ہے۔ میں نے وہاں آپ سے کہا تھا کہ اس طرح کے جتنے بھی متفرق مصارف ہیں وہ آپ میرے حساب میں شامل کر دیں، لیکن آپ نے سرے سے اُس میں سے ایک پیسہ بھی میرے حساب میں نہیں ڈالا ہے۔

بزمی صاحب [ عبدالرحمن بزمی صاحب: پروفیسر خورشید احمد کے قریبی دوست، پاکیزہ علمی ذوق کے حامل ادیب اور شاعر، نیروبی میں اسلامک فاؤنڈیشن کے بانیوں میں سے تھے۔ لندن میں انتقال کیا۔ اُن کا شعری مجموعہ حرف تمنا ۲۰۰۰ء میں لاہور سے شائع ہوا۔]سے یہاں بات ہوئی تھی، اُن کا خیال ہے کہ اپریل کے بجائے جولائی، اگست میں مشرقی افریقہ کا سفر زیادہ موزوں رہے گا۔ ویسے بھی اب اپنی صحت کی موجودہ حالت میں کچھ مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ میں اپریل میں سفر کروں۔ آپ اُن سے تاریخیں بھی طے کر لیں اور مفصل پروگرام بھی منگوالیں۔

کراچی میں سب رفقا کو سلام کہہ دیں۔

ابوالاعلیٰ