سید مودودی کے خطوط
اشاعت: 2019ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
بیسویں صدی کے اُس تاریخی اور فکری بحران میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی ذلت، اخلاقی انحطاط اور فکری الجھاؤ کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند عظیم شخصیات کو جلا دیا، جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ ان کی تحریریں، خصوصاً خطوط، نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا آئینہ ہیں بلکہ اسلامی احیا کے اس عظیم فکری و عملی منصوبے کی زندہ تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی سوچ، نئی جہت اور نئی ذمہ داری سے روشناس کرایا۔ کتاب "سید مودودیؒ کے خطوط" ان ہی خطوط کا ایک جامع، منظم اور تحقیق شدہ مجموعہ ہے جو ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی محنتِ طویلہ کا ثمر ہے۔
اس کتاب کا بنیادی مقصد مولانا مودودیؒ کے فکری سفر، تنظیمی رویّے، علمی گہرائی اور ذاتی مزاج کو ان کے ہی الفاظ میں محفوظ کرنا ہے۔ مولانا کے خطوط محض جوابی کلام تک محدود نہیں؛ ہر خط ایک مختصر رسالہ، ایک فکری تقریر یا ایک عملی ہدایت نامہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چاہے موضوع قرآنی تفسیر ہو، فقہی مسئلہ ہو، جماعتی اختلاف ہو یا بین الاقوامی امور، مولانا ہر معاملے میں اصول پرستی، علمی حوالہ جات، عملی بصیرت اور ادبی شائستگی کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔
بابِ تقدیم میں مصنف نے مولانا کی شخصیت کی ابلاغی صلاحیت، ان کے خط لکھنے کے انداز، اور ان کی بے پناہ ذمہ داری کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا کبھی خط کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ آخری علالت کے دوران بھی وہ زبانی املا کروا کر خطوط روانہ کرتے رہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نذیر احمد قریشی
نذیر احمد قریشی (۱۸۹۶ء - فروری ۱۹۶۲ء) وطن راہوں، ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ مولانا مودودی کے نہایت قریبی اور بے تکلف دوست تھے۔ علی گڑھ سے بی اے کے بعد ۱۹۲۰ء میں دہلی آگئے۔ خوش حال تاجر تھے اور ستھرا علمی ذوق رکھتے تھے۔ تحریک خلافت میں شریک رہے۔ ان کے مضامین نگار، ترجمان القرآن (مثلاً ”مسلمان قوم ہیں یا فرقہ“ جولائی ۱۹۳۸ء) اور دوسرے متعدد علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ ۲۲-۱۹۲۱ء میں دارالاشاعت سیاسیاتِ مشرقیہ، دہلی کے زیرِ اہتمام انھوں نے مولانا مودودی کے تین کتابچے: ترکی میں عیسائیوں کی حالت، حوادثِ سمرنا کے متعلق اتحادی کمیشن کی رپورٹ اور سمرنا میں یونانی مظالم شائع کیے۔ مولانا ابوالخیر مودودی کے بقول: ”نذیر قریشی صاحب سے مولانا مودودی کا تعارف انھوں نے کرایا تھا۔“ (آتش فشاں، مولانا مودودی نمبر، نومبر ۱۹۷۹ء، ص ۱۳) جماعت اسلامی کی تاسیس سے قبل مولانا مودودی نے ”ادارۂ دارالاسلام“ قائم کیا، جس کے تاسیسی اجلاس (۱۴-۱۲/اکتوبر ۱۹۳۸ء) میں قریشی صاحب بھی شریک تھے۔ (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۳۸ء) تقسیم ہندوستان پر پاکستان آگئے۔ ان کے صاحب زادے پروفیسر خورشید احمد صاحب نے ایک خط میں بتایا: ”۱۹۴۰ء سے قیام دارالاسلام تک مولانا مودودی نے غالباً سب سے زیادہ خطوط والد صاحب ہی کو لکھے تھے، مگر تقسیم ہند کے موقع پر وہ سارا ذخیرہ ضائع ہوگیا۔ (خطوط مودودی، ج ۲، ص ۳۰) ”نذیر احمد قریشی صاحب کے نام دو خطوط، خطوط مودودی میں شامل ہیں۔
۴
مورخہ ۲۲/اپریل ۵۴ء
مکرمی و محترمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۴/اپریل بروقت وصول ہو گیا تھا۔ اُس خط کے پہلے حصّے کا جواب امیر جماعت نے الگ لکھوا دیا تھا۔ بقیہ حصّے کا جواب درج ذیل ہے:
اہل شوریٰ یا اہل حل وعقد جب بالاتفاق یا بالاکثریت فیصلہ باہمی بحث و مشورے کے بعد کر لیتے ہیں تو دوران بحث میں جن اصحاب نے اظہارِ اختلاف کیا ہو، ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بعد میں اس فیصلے کے خلاف لوگوں میں بدگمانیاں پھیلائیں یا لوگوں کے ذہن میں اُس فیصلے کی غلطی بٹھانے کی کوشش کریں۔ البتہ اگر ایک ذاتی رائے کی حیثیت سے وہ اپنے اختلاف پر قائم رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں اور اگر اہل شوریٰ کے سامنے انھیں اختلاف رائے کے اظہار کا پھر موقع ملے تو وہ دوبارہ اُن کے سامنے اپنے دلائل و وجوہ رکھ کر انھیں اپنی رائے کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن عام مسلمانوں کے اندر انھیں اپنی اختلافی رائے کے حق میں کوئی مہم چلانے کی کوشش ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
خلافتِ راشدہ میں اہل حل وعقد یا اہل شوریٰ کا معروف طریقہ یہی رہا ہے۔ جب کسی مسئلے میں اختلاف واقع ہوتا خلیفہ اُس کے لیے اہل شوریٰ کو دعوت دیتا، لوگ اُس مسئلے پر غور کرتے، دورانِ بحث میں مختلف قسم کی رائیں ظاہر کی جاتیں، لیکن بالآخر جس رائے پر سب کا یا اکثریت کا اتفاق ہو جاتا تھا اور خلیفہ بھی اُس سے متفق ہو جاتا تھا تو سب لوگ، اپنی رائے کی حد تک اختلاف رکھنے کے باوجود بھی، اُسی فیصلے کو اپنا لیتے تھے اور عوام کے اندر اس فیصلے کے خلاف اور اپنی اختلافی رائے کی تائید میں کبھی پراپیگنڈا کرنے کی کوشش نہ کرتے تھے۔ متعدّد روایات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ چناں چہ سنن دارمی میں صحابہ کے بارے میں ایک روایت ہے کہ <<كانوا اذا نزلت فيهم قصة ليس منها من رسول الله رشد اجتمعوا لها واجمعو فالحق فيما راو>>۔ (جب صحابہ کے سامنے کوئی ایسا معاملہ آتا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث منقول نہ ہوتی تو وہ اس پر غور کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے اور اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے تو جو کچھ وہ طے کر دیتے اس کو حق سمجھا جاتا) بعینہ یہی طریقہ ہم نے جماعت اسلامی میں بھی اپنایا ہے۔ یعنی اہل حل و عقد یا اہل شوریٰ جب بالاتفاق یا بالاکثریت کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو اختلاف رائے رکھنے والے اہل الرائے شوریٰ کے فیصلے کے خلاف کوئی مہم چلانے کی کوشش نہیں کرتے۔
یہ طریقہ ملّت کے اندر وحدت و استحکام پیدا کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے اور جہاں تک آزادی رائے کا تعلق ہے، اس کی بھی اس میں پوری حفاظت کر دی گئی ہے کیوں کہ رائے کا اظہار کسی صحیح فیصلے تک پہنچنے میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے نہ [کہ] لوگوں کے اندر انتشار فکر و ذہن پیدا کرنے کے لیے۔ اب اگر ایک اجتماعی فیصلہ اہل الرّائے کی کثرت رائے یا اتفاق سے ہو چکا ہے تو اختلاف رائے ظاہر کرنے والوں کا اب بھی اختلاف رائے ظاہر کرتے چلے جانا صرف انتشار ذہن اور انتشار فکر ہی کا سبب بن سکتا ہے۔ کوئی مفید نتیجہ اس سے ہرگز حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ ایک چیز ضروری اور مناسب معلوم ہوتی ہے کہ عام مسلمانوں میں سے یا جماعت کے عام لوگوں میں سے جو لوگ کسی معاملے میں کوئی رائے رکھتے ہیں اور وہ اس رائے کا اظہار بھی اہل حل و عقد کی مدد کرنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں تو ان کو اپنی رائے کے مفید پہلوؤں اور دلائل کے ظاہر کرتے رہنے کا موقع ملتے رہنا چاہیے تاکہ اہل حل و عقد اُس سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ اس چیز کے لیے میرا خیال یہ ہے کہ دو طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اس طرح اظہار رائے کرنے والے حضرات اپنی رائیں براہِ راست اہل حل و عقد کے سامنے رکھ دیا کریں اور دوسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ تحریر و تقریر کے ذریعے سے ان مواقع پر جب کہ اہل حل و عقد کے انتخاب کا مسئلہ آئے تو انھیں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے پوری آزادی دی جانی چاہیے تاکہ وہ جس فکر و خیال کے لوگوں کو ابھار کر سامنے لانا چاہتے ہیں لا سکیں۔ اس طرح لوگوں کو ہر معاملے میں اظہار رائے کا موقع بھی فراہم ہو سکے گا اور موجودہ زمانے کی جمہوریت میں اظہار رائے کے نام سے جو ہڑ بونگ ہوتی ہے اس ہڑ بونگ کا بھی سدّ باب ہو سکتا ہے لیکن اس بات کو خوب یاد رکھیے کہ اظہار رائے کے معاملے میں یہ احتیاطیں اور یہ پابندیاں صرف اُس وقت تک ہیں جب تک کہ ایک شخص اہل شورٰی اور ارباب حل و عقد سے اپنے اختلاف کو صرف رائے کا اختلاف سمجھتا ہو، لیکن اگر وہ شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا اختلاف محض رائے کا اختلاف نہیں ہے، بلکہ اس کی نوعیت اللہ اور رسول کی اطاعت و معصیت کی ہے تو ایسی حالت میں بلا شبہ اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے کو برملا عامۃ المسلمین کے سامنے بھی ظاہر کرے بشرطیکہ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے ظاہر کیے بغیر اہل حل و عقد کو اس کا قائل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلے میں آپ سلسلۂ اسلامی ریاست [یہ سلسلۂ مباحث مولانا امین احسن اصلاحی کے قلم سے سامنے آیا تھا۔ دیکھیے: اسلامی ریاست میں اطاعت کی شرائط اور حدود، لاہور: مکتبہ جماعت اسلامی ۱۹۵۰ء۔ ازاں بعد یہ پمفلٹ مولانا امین احسن اصلاحی کی کتاب: اسلامی ریاست میں شامل کر دیا گیا، جسے مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور نے طبع اوّل ۱۹۹۳ء میں شائع کیا۔] کا وہ کتابچہ بھی دیکھ لیں، جو اطاعت کے شرائط و حدود سے متعلق ہے تو مناسب ہو گا۔ وہاں آپ کو مزید وضاحت مل جائے گی۔
ڈاکٹر کنزے [ کنزے، الفریڈ (۱۸۹۴ء-۱۹۵۶ء): امریکی پروفیسر الفریڈ کنزے ہارورڈ یونی ورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۹۲۹ء میں انڈیانا یونی ورسٹی میں زوالوجی کے پروفیسر تعینات ہوئے۔ اُنھوں نے ماہر حیاتیات کی حیثیت سے انسانی جنسی رویے میں تفتیش و تحقیق کی بنیاد رکھی اور بہت سے اختلافات کو جنم دیا۔ ۱۹۲۹ء میں کنزے نے انسٹی ٹیوٹ فار سیکس ریسرچ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد انسانی جنسی رویے پر تحقیق کرنا تھا۔ کنزے اور اُس کے ساتھیوں نے تقریباً ۱۸۰۰۰ مردوں اور عورتوں کے انٹرویو کی بنیاد پر اخذ کردہ نتائج:I. Sexual Behaviour in the Human Male (1948) II. Sexual Behaviour in the Human Female (1953)کی شکل میں شائع کیے۔علمی دنیا میں یہ کتابیں: کنزے رپورٹ کے نام سے معروف ہوئیں۔ دونوں تصانیف نے مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ (عالمی انسائیکلوپیڈیا، مرتب: یاسر جواد (لاہور: الفیصل پبلشرز ۲۰۰۹ء)، ص ۱۲۴۲] کی رپورٹ جس شکل میں بھی بآسانی مہیا ہو اور مفید مطلب ہو، وہ آپ روانہ فرما دیں۔ آپ کے رسالہ جات کی فائل محفوظ ہے، وہ واپس کر دی جائے گی۔ امیر جماعت کی طبیعت بحمد اللہ ٹھیک ہے اور وہ قیم صاحب کے ہمراہ آج شام سرحد کے دورے کے لیے روانہ ہوں گے۔
خاکسار
غلام علی
معاون امیر جماعت اسلامی، پاکستان
نوٹ: یہ خط امیر جماعت کا املا کردہ ہے۔ غلام علی[خط کے آخر میں دیے گئے نوٹ (یہ خط امیر جماعت کا املا کردہ ہے) اور اس خط کے آخری جملے (امیر جماعت کی طبیعت بحمد اللہ ٹھیک ہے) میں معمولی سا ابہام ہے۔]
۵
مورخہ یکم اپریل ۵۷ء
برادر محترم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عنایت نامہ ملا۔ میرا خیال تھا کہ شاید خورشید میاں کے معاملے میں آپ کہیں بات چیت طے کر چکے ہوں گے۔ اس وجہ سے میں نے کبھی آپ سے اس کا ذکر نہیں کیا۔ اب معلوم ہوا کہ ابھی تک آپ نے ان کی شادی کی کوئی فکر ہی نہیں کی۔ میں ان شاء اللہ اس طرف پوری توجہ کروں گا اور اپنی اہلیہ سے بھی کہوں گا کہ جماعت کے حلقۂ تعارف میں کوئی موزوں لڑکی تلاش کریں۔ لڑکے کے متعلق آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنے لڑکوں کے متعلق اتنی اچھی رائے نہیں رکھتا جتنی اچھی آپ کے اس لڑکے کے متعلق رکھتا ہوں۔ آپ اطمینان رکھیں کہ میں اس معاملے میں اتنی ہی دلچسپی لوں گا جتنی خود اپنے بچوں کے معاملے میں لے سکتا ہوں۔
یہ معلوم کر کے افسوس ہوا کہ آپ کی آنکھیں اب اس قدر کمزور ہو چکی ہیں کہ خط بھی مشکل سے لکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
۶
مورخہ ۱۵؍ مئی ۵۷ء
برادرم قریشی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عنایت نامہ ملا۔ خورشید میاں[پروفیسر خورشید مراد ہیں، جن کا تعارف زیرِ نظر خطوط میں موجود ہے۔] کے لیے میں نے مولوی ظفر اقبال صاحب [مولانا ظفر اقبال: (۱۵ جنوری ۱۸۹۷ء سیالکوٹ ۔ ۵ مئی ۱۹۸۵ء لاہور) ان کے والد منشی غلام قادر فصیح معروف علمی شخصیت تھے، جن کی تالیف ’تاریخ اسلام‘ پر اقبال نے رائے دی تھی (انقلاب، ۲۶ مئی ۱۹۳۵ء)۔ ظفر اقبال صاحب نے میٹرک امریکن مشن اسکول سیالکوٹ (۱۹۱۲ء) اور ایف اے، مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کیا (۱۹۱۴ء)۔ اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے آنرز عربی (۱۹۱۶ء) کیا۔ پھر بی ٹی اور بعد ازاں ایم اے عربی کی ڈگری لی۔ اُن کے اساتذہ میں مولانا میر حسن سیالکوٹی اور حافظ عبدالمنان وزیر آبادی شامل تھے۔ دینی مدارس سے بھی عربی کی تعلیم حاصل کی۔ مختلف اوقات میں اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ لاہور، میونسپل ہائی اسکول پنڈی گھیب ضلع اٹک، سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور اور پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج لاہور میں تدریسی فرائض انجام دیے۔ کچھ عرصہ گورنمنٹ کالج اٹک کے پرنسپل بھی رہے۔ انجمن حمایتِ اسلام کے اعزازی سیکرٹری، پنجاب یونی ورسٹی پریس کے انچارج اور ”اُردو اِنسائیکلو پیڈیا آف اسلام کمیٹی“ کے سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ مولانا مودودی سے ان کی براہِ راست واقفیت اس وقت ہوئی، جب وہ دارالاسلام (پٹھان کوٹ) سے لاہور منتقل ہوئے اور اسلامیہ پارک لاہور میں، ان کے گھر سے ملحق مکان میں آ کر اُترے۔ اس وقت سے ان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم ہوئے۔ ظفر اقبال صاحب کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر ریاض قدیر (سابق پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور) سے مولانا کے سمدھیانہ تعلقات قائم ہو گئے۔ جماعتِ اسلامی کا تاسیسی اجلاس (اگست ۱۹۴۱ء) بھی مولانا ظفر اقبال کے گھر میں منعقد ہوا۔ انھوں نے متعدد نصابی کتابیں تصنیف اور تالیف کیں۔ مثلاً: دروس العربيه، درجات الادب، مرقاة الادب، منتخبات أردو، مگر ان کا بڑا کارنامہ بہترین انداز میں قرآن مجید کی طباعت کا دوبارہ اہتمام ہے۔ ایک نسخہ انھوں نے انجمن حمایتِ اسلام کے لیے تیار کیا، جس میں صحتِ متن، اعراب اور رموزِ اوقاف کا غیر معمولی اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ ۱۹۴۶ء میں شائع ہوا۔ اسے بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے اپنا سرکاری نسخہ قرار دیا۔ ان کا تیار کردہ دوسرا نسخہ عکسی تجویدی قرآن کے نام سے پبلشرز لمیٹڈ لاہور نے ۱۹۷۲ء میں شائع کیا۔ یہ نسخہ ”ایک صوت، ایک علامت“ کے اصول پر ترتیب دیا گیا ہے۔] کے ہاں بات چیت کی ہے۔ وہ سیالکوٹ کے رہنے والے ہیں اور کشمیری الاصل ہیں۔ مولانا ابراہیم سیالکوٹی کے بھتیجے ہوتے ہیں۔ میں ۳۹ء سے ۴۲ء تک ان کا ہمسایہ رہ چکا ہوں۔ لاہور میں میرا اور ان کا مکان ایک دیوار بیچ تھا اور گھر میں عورتوں کا میل جول قریب شب و روز کا تھا۔
اُس وقت کے ہمارے اور ان کے تعلقات بالکل عزیزانہ ہیں اور ان کے سب بچے ہمارے دیکھے بھالے ہیں۔ میں نے اپنی اہلیہ کو ان کے ہاں بھیجا تھا۔ ابتدائی گفت و شنید کر لی گئی ہے۔ اب مجلسِ شورٰی کے موقع پر خورشید میاں یہاں آئیں گے تو میں انھیں مولوی ظفر اقبال صاحب سے ملا دوں گا۔ اس کے بعد مناسب ہو گا کہ آپ کے ہاں سے بھی کوئی آ کر لڑکی کو دیکھ لے۔ لڑکی بی اے بی ٹی ہے، مگر سارا خاندان دین دار ہے اور جماعت سے ان لوگوں کی پوری ہمدردی ہے۔ فریقین کے مطمئن ہو جانے پر با قاعدہ پیغام دے دیا جائے گا۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ