مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سید مودودی کے خطوط

اشاعت: 2019ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

بیسویں صدی کے اُس تاریخی اور فکری بحران میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی ذلت، اخلاقی انحطاط اور فکری الجھاؤ کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند عظیم شخصیات کو جلا دیا، جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ ان کی تحریریں، خصوصاً خطوط، نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا آئینہ ہیں بلکہ اسلامی احیا کے اس عظیم فکری و عملی منصوبے کی زندہ تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی سوچ، نئی جہت اور نئی ذمہ داری سے روشناس کرایا۔ کتاب "سید مودودیؒ کے خطوط" ان ہی خطوط کا ایک جامع، منظم اور تحقیق شدہ مجموعہ ہے جو ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی محنتِ طویلہ کا ثمر ہے۔

اس کتاب کا بنیادی مقصد مولانا مودودیؒ کے فکری سفر، تنظیمی رویّے، علمی گہرائی اور ذاتی مزاج کو ان کے ہی الفاظ میں محفوظ کرنا ہے۔ مولانا کے خطوط محض جوابی کلام تک محدود نہیں؛ ہر خط ایک مختصر رسالہ، ایک فکری تقریر یا ایک عملی ہدایت نامہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چاہے موضوع قرآنی تفسیر ہو، فقہی مسئلہ ہو، جماعتی اختلاف ہو یا بین الاقوامی امور، مولانا ہر معاملے میں اصول پرستی، علمی حوالہ جات، عملی بصیرت اور ادبی شائستگی کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔

بابِ تقدیم میں مصنف نے مولانا کی شخصیت کی ابلاغی صلاحیت، ان کے خط لکھنے کے انداز، اور ان کی بے پناہ ذمہ داری کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا کبھی خط کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ آخری علالت کے دوران بھی وہ زبانی املا کروا کر خطوط روانہ کرتے رہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

محمد انور عباسی

محمد انور عباسی (پ: ۱۹۴۲ء) ضلع باغ تحصیل دھیر کوٹ کے رہنے والے ہیں۔ میٹرک کے بعد وہ ۱۹۵۸ء میں کراچی منتقل ہو گئے۔ کراچی شہر تب دور دراز سے آنے والے طلب گارانِ علم و روزگار کے لیے آخری پناہ گاہ تھی۔ آئی کام، بی کام آنرز، ایم اے معاشیات اور اسلامیات کی تعلیم اُنھوں نے کراچی میں مکمل کی۔ تعلیم کے بعد بسلسلۂ ملازمت وہ سعودی عرب منتقل ہوئے۔ تقریباً ۲۰ سال تک بینک آف سعودی عربیہ میں اعلیٰ منصب پر فائز رہے۔

انور صاحب کے بقول میٹرک کا امتحان پاس کرنے تک وہ طلسمِ ہوشربا، باغ و بہار، الف لیلیٰ جیسی کتب کا مطالعہ کر چکے تھے۔ چناں چہ حاصلِ مطالعہ پر بحث و مباحثے نے اُنھیں اشتراکیوں کے حلقۂ تعارف میں داخل کر دیا۔ پھر اشتراکی دوستوں کا ’’منہ بند‘‘ کرنے کے لیے انور صاحب کو وافر مقدار میں دلائل درکار ہوتے تھے۔ سو، دلائل و براہین کی تلاش و جستجو میں وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی، غلام احمد پرویز اور مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کی جانب متوجہ ہوئے۔ اوّل الذکر دونوں حضرات سے اُنھوں نے خط کتابت کی۔ تصانیف: انسانیت ہدایت کی تلاش میں، اشاریہ افکارِ مودودی، بینک انٹرسٹ: منافع یا ربا، دلیل کادور، متاعِ شامِ سفر (آپ بیتی)۔

47

۲۵؍ مئی ۱۹۶۶ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:۔

۱۔ آپ میرا پمفلٹ ’’ختم نبوّت‘‘[یہ پمفلٹ تفہیم القرآن جلد چہارم سورہ احزاب کے ضمیمے پر مشتمل ہے، جسے بارہا الگ بھی طبع کیا گیا ہے۔] پڑھ لیں۔ اس میں اس مسئلے پر بحث موجود ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں یا نہیں، بل کہ یہ ہے کہ احادیث کی رو سے جس مسیح کو دوبارہ آنا ہے، اس سے مراد عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں یا کوئی ایسا شخص جو اپنے آپ کو مثیلِ مسیح کی حیثیت سے پیش کرے؟

۲۔ حضرت ابوہریرہؓ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں ان باتوں کو بیان کرنے سے احتراز کرتا ہوں، بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں ان کی عام اشاعت کرنے لگوں تو مجھے وقت کے حکمران جینے نہ دیں گے، لیکن اس خدشے کے باوجود حضرت ابوہریرہؓ نے حسب موقع ان ارشادات نبویؐ کو بیان بھی فرمایا۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۴۸

اچھرہ، لاہور

۱۹؍ جولائی ۱۹۶۶ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:۔

۱۔ آپ کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ اگر آپ نفسانی خواہش یا اتباع ہویٰ کی بنا پر رفع یدین نہیں کرتے، بلکہ آپ کو رفع یدین کے حق میں دلائل قوی معلوم ہوتے ہیں اور آپ سنت سمجھ کر ایسا کرتے ہیں تو اس میں الحاد یا بے دینی کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ دونوں طریقوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا ہے۔ اس لیے دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کیا جا سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات ایک طریقے پر اور بعض اوقات دوسرے پر عمل کیا جائے۔

۲۔ معجزہ وہ مافوق الفطری فعل ہے جس کا صدور انبیائے کرام سے ہو، اگر اس کا بیان قرآن میں ہو تو اس کا انکار کفر ہے، اگر حدیث میں ہو تو اس کا انکار کفر تو نہیں، کیوں کہ اس کا ثبوت قرآن کی طرح قطعی نہیں، مگر یہ انکار بھی گمراہی کا موجب ضرور ہے۔

۳۔ جس شق القمر[ مزید مطالعے کے لیے سورۃ القمر آیت ایک، حاشیہ: <<اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ>> (قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا)۔ دریافت طلب مسئلہ یہ تھا کہ شقِ قمر قربِ قیامت یا جوازِ قیامت کی دلیل ہے یا کفارِ مکہ کے مطالبے پر حضورؐ نے اُنھیں یہ معجزہ دکھایا تھا۔ خط کے متن اور تفہیم القرآن کے مذکورہ بالا حاشیے کی عبارت میں قدرے تضاد پایا جاتا ہے۔ خط کے الفاظ ہیں: ”اگر قرآن میں بیان کردہ واقعہ کو مستقبل کا واقعہ سمجھا جائے، تب بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبیؐ کے عہد مبارک میں کفار کے مطالبے پر چاند کچھ دیر دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔ اس معجزے کا انکار ممکن نہیں۔“ اب ذرا تفہیم القرآن میں درج وضاحت ملاحظہ ہو: ”یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اس واقعہ کی حقیقی نوعیت کیا تھی۔ کیا یہ ایک معجزہ تھا، جو کفار مکہ کے مطالبے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت کے ثبوت میں دکھایا تھا، یا یہ ایک حادثہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے چاند میں پیش آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اُس کی طرف توجہ صرف اس غرض کے لیے دلائی کہ یہ امکانِ قیامت اور قربِ قیامت کی ایک نشانی ہے۔ علمائے اسلام کا ایک بڑا گروہ اسے حضورؐ کے معجزات میں شمار کرتا ہے اور اُن کا خیال یہ ہے کہ کفار کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھایا گیا تھا، لیکن اس رائے کا مدار صرف بعض اُن روایات پر ہے، جو حضرت انسؓ سے مروی ہیں۔ اُن کے سوا کسی صحابی نے بھی یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ فتح الباری میں ابن حجر کہتے ہیں کہ ”یہ قصہ جتنے طریقوں سے منقول ہوا ہے ان میں سے کسی میں بھی حضرت انسؓ کی حدیث کے سوا یہ مضمون میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ شق القمر کا واقعہ مشرکین کے مطالبے پر ہوا تھا۔ (باب انشقاق القمر) ایک روایت ابو نعیم اصفہانی نے دلائل النبوۃ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی اس مضمون کی نقل کی ہے، مگر اس کی سند ضعیف ہے اور قوی سندوں سے جتنی روایات کتبِ حدیث میں ابن عباس سے منقول ہوئی ہیں، ان میں سے کسی میں بھی ان کا ذکر نہیں ہے۔ علاوہ بریں حضرت انسؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ دونوں اس واقعہ کے ہم عصر نہیں ہیں۔ بخلاف اِس کے جو صحابہ اُس زمانے میں موجود تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت حذیفہؓ، حضرت جُبیرؓ بن مُطْعم، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضورؐ کی صداقت کے ثبوت میں کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا اور اس پر شق القمر کا یہ معجزہ اُن کو دکھایا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن مجید خود بھی اس واقعہ کو رسالتِ محمدیؐ کی نہیں، بلکہ قرب قیامت کی نشانی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ البتہ یہ اس لحاظ سے حضورؐ کی صداقت کا ایک نمایاں ثبوت ضرور تھا کہ آپؐ نے قیامت کے آنے کی جو خبریں لوگوں کو دی تھیں، یہ واقعہ ان کی تصدیق کر رہا تھا۔ (تفہیم القرآن جلد ۵ سورۃ القمر حاشیہ ۔۱، ص ۲۳۰-۲۲۹) سیرت النبیؐ، جلد سوم (تالیف: مولانا سید سلیمان ندوی) کے مطابق: ’’کفار مکہ کے لیے ہدایت کی نشانیوں میں سب سے آخری اور فیصلہ کن نشانی شق قمر تھا، جس کے بعد آیاتِ ہلاکت کا آغاز ہونے والا تھا۔ احادیث میں ہے کہ کفار مکہ آپ سے معجزہ کے طالب تھے، تو آپؐ نے ان کو شق قمر کا معجزہ دکھایا۔ چاند دو ٹکڑے ہو کر نظر آیا، لیکن معاندین کو اس عظیم الشان اور واضح تر معجزے سے بھی ہدایت نہ ملی۔ (سیرت النبیؐ جلد سوم، ص ۲۶۵)] کا ذکر قرآن میں ہے، اس سے بعض نے عہدِ نبویؐ کا اور بعض نے آئندہ قیامت کے قریب کا شق القمر مراد لیا ہے۔ دونوں تاویلوں کی گنجائش ہے، اگر قرآن میں بیان کردہ واقعہ کو مستقبل کا واقعہ سمجھا جائے، تب بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کفار کے مطالبے پر چاند کچھ دیر دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔ اس معجزے کا انکار ممکن نہیں ۔ یہ رات کا واقعہ تھا اس لیے دنیا میں اس کا عام مشاہدہ ہونا اور شہرت پذیر ہونا ضروری نہیں۔ اس میں اصول فطرت کی خلاف ورزی کا کوئی سوال نہیں۔ فاطر کائنات جب چاہے ، اس کے عام قوانین کو بدل دے، وہ اس معاملے میں مجبور و معذور نہیں ہے۔

۴۔ سورج کے ڈوب کر نکلنے یا دیر سے طلوع ہونے کا کوئی معجزہ کسی حدیث صحیح میں مذکور نہیں، اگر ہوتا تو ہمارے لیے قابل تسلیم ہوتا۔ قرآن میں جس فطرۃ اللہ[- <<فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ>> (روم۔۳۰) (خدا کی فطرت پر اُس نے لوگوں کو بنایا، خدا کے بنائے میں بدلنا نہیں)قرآن کی اصطلاح میں فطرۃ اللہ سے مقصود توحید ہے، جس کو وہ دین فطری سے تعبیر کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضورؐ نے فرمایا: ’’کوئی بچہ ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہیں ہوتا، لیکن ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح ہر جانور صحیح و سالم بچہ پیدا کرتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا کہ کوئی کان کٹا بچہ بھی وہ جنتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے درج بالا آیت پڑھی۔ (سیرت النبیؐ، مؤلف: سید سلیمان ندوی جلد سوم، لاہور: قمر سعید پبلشرز ۱۹۷۵ء، ص ۲۵۴-۲۵۵)] کا ذکر ہے اس سے مراد طبعی قوانین نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد انسان کی اپنی فطرت ہے، جو پیدائشی اور جبلی طور پر اس کے اندر رکھی گئی ہے۔ اس فطرت اور تخلیق میں تبدیلی نہ ہونے کے بھی دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اس حقیقت کو کوئی بدل نہیں سکتا کہ بندہ، بندگی اور دین قیم کی پیروی ہی کے لیے پیدا ہوا ہے۔ دوسرا مفہوم لا تبدیل لخلق اللہ کا یہ ہو سکتا ہے کہ اسے بیان واقعہ کے بجائے ایک حکم سمجھا جائے اور یہ مراد لی جائے کہ اللہ کی فطری ساخت کو تبدیل نہ کرو اور خود مختاری یا بندگی غیر کے بجائے بندگی رب اختیار کرو۔

۵۔ واقعہ معراج کو ماننے کے لیے یہ لازم نہیں کہ آسمان کو ایک مادی چھت یا دیوار کی طرح سمجھا جائے اور اس میں لکڑی یا لوہے کے دروازے تسلیم کیے جائیں۔ معراج کو اگرچہ اسلاف میں سے بعض نے رؤیاء قرار دیا ہے، لیکن اکثریت جسمانی معراج کی قائل ہے، بالخصوص مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک عبدہٗ کے راتوں رات لے جانے کا ذکر قرآن میں ہے اور عبد کا اطلاق فقط روح پر نہیں، بلکہ روح اور جسد دونوں پر ہوتا ہے۔ پھر آیت کے شروع میں سبحان الذی[ سورۃ الاسراء:۱، مزید مطالعے کے لیے دیکھیے: محمد ادریس کاندہلوی، سیرتِ مصطفی، ج ۱، ص ۳۸۷؛ سیرت ابن ہشام (جلد اوّل)، ص ۲۵۷ تا ۲۷۲۔ بخاری کتاب التفسیر، ج نمبر ۲، ص ۶۸۲ (روایت ابو ہریرہؓ)] کے الفاظ ہیں۔ یعنی وہ ذات عجز سے پاک اور اس فعل پر قادر ہے جو اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔ یہ سارے کا سارا اندازِ بیان معراج کے جسمانی ہونے پر دلالت کر رہا ہے، اگر یہ محض ایک vision (رؤیاء) ہوتا، یا خواب ہوتا یا کوئی روحانی واردات ہوتی تو اس کا ذکر ایسے الفاظ میں نہ ہوتا۔ باقی جہاں تک مختلف آسمانوں اور ان کے دروازوں کا تعلق ہے، ممکن ہے اس سے مراد عالم بالا کے مختلف طبقات اور ان میں نفوذ کے راستے ہوں جنھیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشادہ کر دیا گیا ہے۔

خاکسار

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ غلام علی

ابوالاعلیٰ معاون خصوصی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

۴۹

اچھرہ، لاہور ۱۸/دسمبر ۱۹۶۶ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ نے ایک خط میں آٹھ سوالات کیے ہیں اور ہر سوال ایسا ہے کہ اس کے جواب میں ایک مضمون لکھنے کی ضرورت پیش آئے [گی]۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے سوالات پر خط کتابت کرنے کے لیے میرے پاس کافی وقت ہے؟

آپ کے سوالات میں سے کوئی سوال ایسا نہیں ہے، جس کا جواب میری کسی نہ کسی کتاب میں تفصیل کے ساتھ نہ دے دیا گیا ہو، اگر آپ کو ان مسائل پر تحقیق کا شوق ہے تو میری تفسیر تفہیم القرآن[تفہیم القرآن (چھ جلدیں) لاہور: اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ] اور میری کتابیں سنت کی آئینی حیثیت[سنت کی آئینی حیثیت لاہور: اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ] اور رسائل و مسائل[رسائل و مسائل ۱ تا ۵ جلدیں، سید ابوالاعلیٰ مودودی، جلد ۶-۷، ملک غلام علی، جلد ۸، مولانا عبدالمالک۔ لاہور: اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ] وغیرہ ملاحظہ فرمائیں، لیکن یتیم پوتے کی وراثت اور قد نری تقلب وجھك فی السماء [ سورہ البقرہ: ۱۴۴ (ترجمہ: اے نبی! یہ تمھارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے تھے۔)]کے بارے میں آپ کے سوالات کا انداز دیکھ کر میں سمجھتا ہوں کہ جب تک آپ اپنے سوچنے کا طرز نہ بدلیں، کوئی مطالعہ آپ کے لیے مفید نہیں ہوسکتا۔ آپ کے ان دو سوالات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص خیال آپ کے دماغ میں بیٹھ چکا ہے اور اس کے بعد اب آپ اُس خیال سے مختلف خیالات رکھنے والے کی تحریریں سنجیدگی سے پڑھنے اور ان کے اصل معنی و مدعا کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، بلکہ ان کا کچھ الٹا سیدھا مفہوم کہیں سے لے کر اس پر سوالات و اعتراضات کی عمارت کھڑی کر لیتے ہیں۔ اس طرح اگر آپ کو مطالعہ کرنا ہو تو میری رائے یہ ہے کہ آپ اس کام میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور دوسروں سے بحث چھیڑ کر ان کی تضییع وقت کرنے کی کوشش بھی نہ فرمائیں۔ آپ کی تسکین کے لیے وہ خیالات کافی ہیں، جو آپ کے ذہن نشین ہو چکے ہیں[ مولانا کی خدمت میں خط تحریر کرنے والے محمد انور عباسی اُس زمانے (۱۹۶۶ء) میں نوجوانوں کے ایکخاص طبقے کی طرح اشتراکیت کا ”فیشن“ اختیار کیے ہوئے تھے۔ انھیں مولانا کی مصروفیات اور مقام و مرتبے کا صحیح ادراک بھی نہ تھا، اس لیے دن کے بحث مباحثے میں جو الجھنیں پیش آتیں، شام کو انھیں ضبطِ تحریر میں لاتے اور ڈاک کے حوالے کر دیتے۔ غلام احمد پرویز کی مخصوص سوچ کو وہ مولانا سے ”share“ کرتے تھے۔ جب کہ مولانا کے لیے پرویزی مباحث کوئی نئی بات نہ تھی۔ انور صاحب کو آج اس بات کا شدید قلق ہے کہ اُس زمانے میں انھیں مولانا کے مقام و مرتبے کا شعور نہیں تھا، چناں چہ کچھ خلافِ ادب باتوں کا اُن سے صدور ہوا۔]۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۵۰

اچھرہ، لاہور

۲۹ دسمبر ۱۹۶۶ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ مجھے افسوس ہے کہ میرا سابق خط آپ کے لیے باعث ملال ہوا[۔ محمد انور عباسی صاحب نے مولانا سے شاید شکوہ کیا تھا، اُنھوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ یہ مولانا کی عظمت اور اعلیٰ ظرفی کی مثال ہے۔]۔ آپ کو رنجش پہنچانا میرا مقصود نہ تھا، مگر آپ کو چاہیے کہ آپ میری مشکل اور مجبوری کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ میرے پاس روزانہ آٹھ دس خطوط جواب طلب آ جاتے ہیں، ان سب کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ مجھے بہت سے دوسرے کام بھی کرنے ہوتے ہیں۔ جہاں تک خطوط کا تعلق ہے، ان میں اگر ایسے سوالات پوچھے گئے ہوں، جن کا جواب میری پہلی تحریروں میں موجود ہے تو میرے لیے نہ یہ ضروری ہے، نہ ممکن کہ ہر بار از سر نو جوابات لکھتا رہوں یا سابقہ جوابات کو نقل کرتا رہوں۔ میرے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ سائل کو اپنی پہلی تحریروں کا حوالہ دے کر ان کے مطالعہ کا مشورہ دوں، اگر میں ایسا نہ کروں تو نہ خطوط کی جواب دہی سے کبھی عمر بھر فارغ ہو سکتا ہوں اور نہ کسی دوسری ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکتا ہوں۔ اب میں آپ کے دریافت کردہ سوالات کے بارے میں مختصراً عرض کرتا ہوں:

۱۔ شفاعت کے مسئلے پر میں تفہیم القرآن میں متعدد مقامات پر بحث کر چکا ہوں۔ ہرجلد میں انڈکس کی مدد سے یہ مقامات بآسانی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔[ اس موضوع پر تفہیم القرآن میں درج ذیل مقامات پر تفصیلی مباحث موجود ہیں: ۰ سورہ الحج:۷۶، تفہیم القرآن، جلد سوم، ص ۲۵۲ ۔ ۰ الشعرا: ۹۷، ۹۸، ۹۹، ۱۰۰، تفہیم القرآن، جلد سوم، ص ۵۰۷ ۰ سورہ فرقان: ۱۷ تفہیم القرآن، جلد سوم، ص ۴۴۲ ۰ سورہ طہٰ: ۱۰۹ تفہیم القرآن۔ ص ۱۲۶ ۰ سورہ نجم: ۲۶ تفہیم القرآن، جلد پنجم، ص ۲۰۹۔ ۰ سورہ الممتحنہ: ۴ تفہیم القرآن، جلد پنجم، ص ۴۲۹۔ ۰ منافقون: ۶ تفہیم القرآن، جلد پنجم، ص ۵۲۰ اس موضوع پر بحث کا خلاصہ یہ ہے: اسلام کے عقیدہ شفاعت کے مطابق دنیا کی تدبیر و انتظام میں کسی دوسرے کا دخیل ہونا تو درکنار کوئی اتنا اختیار بھی نہیں رکھتا کہ خدا سے سفارش کر کے اس کا کوئی فیصلہ بدلوادے یا کسی کی قسمت بنوادے یا بگڑوادے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی جو کچھ کرسکتا ہے، وہ بس اتنا ہے کہ وہ خدا سے دعا کرے، مگر اس کی دعا کا قبول ہونا یا نہ ہونا بالکل خدا کی مرضی پر منحصر ہے۔ خدا کی خدائی میں اتنا زور دار کوئی نہیں ہے کہ اس کی بات چل کر رہے اور اُس کی سفارش ٹل نہ سکے اور عرش کا پایہ پکڑ کر بیٹھ جائے اور اپنی بات منوا کر ہی رہے۔ (تفہیم القرآن، جلد دوم، ص ۲۶۳، سورہ یونس: ۳)]

۲۔ ایصالِ ثواب کے مسئلے پر رسائل و مسائل حصّہ دوم اور حصّہ سوم میں سوال و جواب موجود ہیں، جنھیں فہرست مضامین سے دیکھ کر مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔[ حاشیہ ۹۔ ایصالِ ثواب، رسائل و مسائل، حصّہ دوم، ص ۳۶۷-۳۶۸]

۳۔ لونڈی کی سزا کے معاملے میں جو اشکال آپ نے پیش کیا ہے، اس کا جواب تفہیم القرآن حصّہ اوّل سورہ نساء حاشیہ ۴۶ صفحہ ۳۴۲-۳۴۳ پر موجود ہے۔

۴۔ پوتے کی وراثت کی جس عبارت میں آپ نے تضاد محسوس کیا ہے، وہاں فی الواقع کوئی تضاد نہیں۔ پوری عبارت کا مطلب یہ ہے کہ صاحب مال پر ایسی کوئی پابندی نہیں کہ وہ سرے سے ہبہ کر ہی نہ سکے، البتہ ہبہ علی الاولاد میں اگر عدمِ مساوات ہو یا ہبہ میں حسنِ نیت کے بجائے کسی متوقع وارث کو محروم کرنے کا جذبہ کارفرما ہو تو یہ فعل ناپسندیدہ ہے اور قانون ایسے فعل میں مداخلت کرسکتا ہے۔ آپ کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ پورا مال ہبہ کر دینے سے قرآنی حصّے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اگر قرآنی حصّے سے آپ کی مراد وارثوں کے حصّے ہیں تو یہ مورث کی زندگی میں نہیں، بلکہ اس کے مرنے کے بعد حق دار بنتے ہیں اور صرف اس مال میں بنتے ہیں، جو متوفی کے ترکے میں موجود ہو۔ زندگی میں کسی کا کوئی حصّہ نہیں، جس کے ٹوٹنے کا سوال پیدا ہو۔ ہبہ غیر وارث کو بھی کیا جا سکتا ہے اور وارث کو بھی، مگر وصیت وارث کو نہیں کی جا سکتی۔

۵- آپ کا پانچواں سوال عجیب و غریب ہے۔ نہ آپ کسی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں، نہ اصل الفاظ نقل کرتے ہیں، بس یہ لکھ دیتے ہیں کہ کسی کتاب میں تم نے اس مفہوم کی کوئی عبارت لکھی ہے۔ جس آیت کا آپ نے حوالہ دیا ہے اس کی تشریح آپ تفہیم القرآن حصّہ اوّل، صفحہ ۱۲۱[ تفہیم القرآن، حصّہ اوّل، ص ۱۲۱؛ رسائل و مسائل، حصّہ سوم، ص ۲۹۷] پر دیکھ سکتے ہیں۔ وہاں یہ بات نہیں لکھی گئی جو آپ بیان کرتے ہیں۔ جب تک آپ متعیّن حوالہ نہ دیں، اس کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریحی اختیارات، قرآنی وحی اور احادیث کے غیر یقینی ہونے سے متعلق جو مسائل آپ نے چھیڑے ہیں، ان سب کا جواب میری کتاب: سنت کی آئینی حیثیت یا ترجمان القرآن کے منصب رسالت نمبر [ سنت کی آئینی حیثیت کتابی صورت میں آنے سے قبل ترجمان القرآن کے منصب رسالت نمبر میں شائع ہوئی تھی۔] اور تفہیمات حصّہ اوّل کے آخری مضامین میں مل سکتا ہے۔ ان کتابوں تک رسائی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ انھیں خرید کر ہی پڑھیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے دفاتر، دارالمطالعے متعدد جگہ موجود ہیں۔ آپ وہاں سے عاریتاً کتابیں لے کر یا وہاں بیٹھ کر ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں یا جماعت کے کسی کارکن سے کتابیں لے کر پڑھ سکتے ہیں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۵۱

اچھرہ، لاہور

۵ جنوری ۱۹۶۷ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱- بعض صحیح احادیث میں شق صدر اور شرح صدر[شق صدر یا شرح صدر: <<أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ>> (کیا اے پیغمبر! ہم نے تیرے سینے کو کھول نہیں دیا)ابن جریر طبری نے متعدد صاحبوں سے روایت کی ہے کہ صحابہؓ نے آنحضرتؐ سے دریافت کیا ”یارسول اللہ! شرح صدر کیوں کر ہوتا ہے؟“ آپؐ نے فرمایا: ”قلب میں ایک نور داخل ہوتا ہے جس سے سینہ کھل جاتا ہے“۔ پھر سوال کیا کہ ”یارسول اللہ! اس کی نشانی کیا ہے؟“ ارشاد ہوا: ”حیاتِ جاوید کے گھر کا اشتیاق اور اس فریب کدۂ عالم سے دل برداشتگی اور موت سے پہلے موت کی تیاری“۔ یہ تو حقیقت ہے اور اس حقیقت کی جسمانی تمثیل سینہ مبارک کا چاک کیا جانا اور اس میں نور و حکمت کا بھرا جانا ہے۔ (سیرت النبی، جلد سوم، ص ۴۳۵) آپؐ پر یہ کیفیت پانچ مختلف اوقات میں ظاہر ہوئی۔ ایک جب آپؐ چار پانچ سال کے تھے اور حضرت حلیمہؓ کے گھر پرورش پا رہے تھے اور دوسرے جب عمر شریف دس برس کی تھی، تیسرے جب آپؐ بیس برس کو پہنچے، چوتھے جب حضرت جبرئیلؑ سب سے پہلی دفعہ وحی لے کر آئے، پانچویں معراج کے موقع پر۔ سیرت النبیؐ کے مؤلف کے نزدیک تیسری دفعہ کی روایت (جب آپؐ بیس برس کے تھے) قطعاً غیر ثابت ہے (سیرت النبی، جلد سوم، ص ۴۲۱)۔ تفصیلی مطالعے کے لیے دیکھیے: سیرت النبیؐ، جلد سوم (سید سلیمان ندوی)، ص ۴۲۰ تا ۴۲۶)] دونوں طرح کے الفاظ وارد ہیں، جن کی صحیح کیفیت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ فرشتوں کا سینہ کھولنا یا چاک کرنا بہرحال اس طرح تو نہیں ہوسکتا جس طرح ایک ڈاکٹر آلات سرجری سے سینہ پھاڑتا ہے اور کوئی ظاہری آلائش نکال پھینکتا ہے۔ فرشتوں نے جو صفائی اور تزکیہ بھی کیا، اس کا تعلق ظاہر کے بجائے باطن سے ہی ہوسکتا ہے۔

۲- نمازوں کے ساتھ بالعموم جو نفل سنت سے زائد پڑھے جاتے ہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، اس لیے ان کا پڑھنا ضروری نہیں۔

خاکسار

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ ابوالاعلیٰ

غلام علی

۵۲

اچھرہ، لاہور

۱۱؍ اپریل ۱۹۶۷ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ قرآن وحدیث میں مرد اور عورت دونوں کو ’غضِ بصر‘ [ غض بصر: <<قُلْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ أَزْكٰى لَهُمْ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ>> (سورۃ النور: ۳۰)] کا حکم دیا گیا ہے، جس کا نشا یہ ہے کہ نگاہ میں آوارگی پیدا نہ ہونے پائے، اگر صنفِ مقابل پر ایک نگاہ احیاناً پڑ جائے تو وہ معاف ہے، لیکن گھور کر اور نظر جما کر دیکھنا اور بار بار دیکھنا جس کا مقصد یہ ہو کہ مدِمقابل کی شکل وصورت کیسی ہے، یہ امر ممنوع ہے۔ برقع میں اگر عورت صرف اتنا دیکھ لے کہ سامنے کوئی مرد ہے، تو اس میں مضائقہ نہیں، البتہ وہ مرد کے خد و خال کو بنظرِ غائر دیکھنا شروع کر دے تو یہ ناجائز ہو گا، لیکن برقعے سے بڑھ کر عورت کی آنکھ پر پٹی باندھ دینا اور اسے بالکل گھر میں مقید کر دینا ممکن نہیں۔

۲۔ آیتِ مذکورہ [ <<الزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْ كُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ>> (سورۃ النور: ۲)]میں فاحشہ سے زنا مراد ہونے کی تعیین حدیث و سنت سے ہوتی ہے۔ آپ کا یہ خیال غلط ہے کہ زنا کا فعل دنیا میں کبھی چار افراد کی موجودگی میں نہیں ہوتا۔ یہ فعلِ قبیح دنیا میں پہلے بھی کھلم کھلا ہوتا رہا ہے اور آج بھی مغربی سوسائٹی میں اس کا ارتکاب مجالس، بل کہ پبلک مقامات پر ہو رہا ہے۔ اسلام نے چوں کہ اس کی سزا نہایت سخت رکھی ہے، اس لیے خدا کے فضل سے ابھی تک اس کا اعلانیہ ارتکاب ہمارے معاشرے میں نہیں ہوا۔ دوسری طرف سزا چوں کہ شدید ہے، اس لیے اس کی شہادت کے نصاب میں اس پہلو کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

۳۔ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ ................ [ <<اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ>> (سورۃ التوبہ: ۶۰)]والی آیت کا مصدقاتِ واجبہ پر اطلاق بھی سنت سے ثابت ہے، اس لیے اس اختلاف کی جرأت کسی مسلمان کو نہیں ہو سکتی؛ البتہ جو شخص منکرِ حدیث و سنت ہو، وہ تو قرآن کے ہر لفظ کو جو معنی چاہے پہنا سکتا ہے۔ وہ تو لغت کی کتاب میں دیکھ کر یہ سنت ہو، وہ تو قرآن کے ہر لفظ کو جو معنی چاہے پہنا سکتا ہے۔ وہ تو لغت کی کتاب میں دیکھ کر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ صلوٰۃ سے مراد کولھے مٹکانا ہے۔

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ ابوالاعلیٰ

۵۳

اچھرہ، لاہور

۲۵ مئی ۱۹۶۷ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:۔

۱۔ اسلامی دستور کی تدوین [ اسلامی دستور کی تدوین۔] کے علاوہ آپ اسلامی ریاست [ اسلامی ریاست: مرتب، خورشید احمد، لاہور: اسلامک پبلی کیشنز اشاعتِ اوّل ۱۹۶۲ء] اور سنت کی آئینی حیثیت [ سنت کی آئینی حیثیت: ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۶۳ء] اور تفہیمات حصہ اوّل [ تفہیمات (حصہ اوّل): ابوالاعلیٰ مودودی، دفتر رسالہ ترجمان القرآن، لاہور، اشاعتِ اوّل ۱۹۴۰ء] کا آخری حصّہ بھی مطالعہ کریں۔ اس طرح آپ کے سامنے بحث کے مزید گوشے آجائیں گے۔

۲۔ سنتِ رسولؐ اور سنتِ صحابہ دونوں الگ الگ ہیں۔ صحابہ کرام کا اجماع ہمارے لیے حجت ہے، مگر صحابہ کا انفرادی قول و عمل حجت نہیں ہے۔

۳۔ صحابہ کرام کے بعد کسی دوسرے دور کا اجماع ہمارے لیے اس وقت تک حجت ہے، جب تک دوسرا اجماع اس کی جگہ نہ لے، یعنی اُمت کے مجتہدین اگر چاہیں تو کتاب و سنت کی روشنی میں سابق مجتہدین کے اجتہاد کو بدل سکتے ہیں۔

۴۔ یہ صحیح ہے کہ منہی عنہ فعل[منہی عنہ فعل (وہ کام جس سے روکا گیا ہو)] کا قانونی وجود تسلیم کرنے کے معاملے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے، لیکن اس معاملے میں حنفیہ کا مسلک بھی کمزور یا بے بنیاد نہیں ہے۔ بہت سے افعال ایسے ہیں، جو شریعت میں ممنوع ہیں، لیکن ان کے ارتکاب کی صورت میں ان کے قانونی عواقب و اثرات سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے، مثلاً حالتِ حیض میں طلاق دینا، ایک طہر میں ایک سے زائد طلاق دینا اور بیک وقت تین طلاق دینا شرعاً ممنوع ہے، لیکن ان صورتوں میں طلاق کا وقوع جمہور فقہا نے تسلیم کیا ہے۔

۵۔ دلیلِ ظنی سے دلیلِ قطعی کی تخصیص اور حدیث و سنت سے قرآنی احکام کی تخصیص، یہ پیچیدہ علمی بحثیں ہیں، جن پر خطوط میں اظہارِ خیال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ عربی سیکھیں اور اصولِ فقہ کی کتابیں مطالعہ کریں۔ مختصر بات اتنی سمجھ لیں کہ احادیثِ صحیحہ اور سنتِ ثابتہ سے احکامِ قرآن کی تخصیص و توضیح کو جملہ فقہی مذاہب نے کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کیا ہے اور یہ ایک ایسا محکم اصول ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ آپ دوسرے معاملات کو چھوڑ کر صرف فرض عبادات اور ارکانِ اسلام کو لے لیں اور پھر دیکھیں کہ ان سے متعلق قرآنی احکام کتنے عمومی انداز میں ہیں اور سنت نے ان میں کتنی تخصیص و تفصیل فراہم کی ہے۔

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ ابوالاعلیٰ

۵۴

اچھرہ، لاہور

۶/ جون ۱۹۶۷ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:۔

۱۔ قرآن کے سات حروف[ قرآن کا نزول سات حرفوں میں: تفصیلی مطالعے کے لیے علوم القرآن: مولانا گوہر رحمٰن، جلد اوّل (ص ۲۱۷ تا ۲۷۶)۔ مزید مطالعے کے لیے بخاری شریف جلد نمبر ۲ ص ۷۴۶ باب انزل القرآن علی سبعة الحرف۔] پر نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نزول کے وقت عرب کے مختلف قبائل کے لیے یہ رعایت تھی کہ وہ اپنے اپنے لب ولہجہ کے مطابق قرآن کی تلاوت کر لیں۔ بعد میں حضرت عثمانؓ نے قریش کے لہجے کو معیاری قرار دیا، اسی کے مطابق مصحف کی کتابت ہوئی اور قاریوں نے اسی کے مطابق حفظ کیا۔

۲۔ قرآن مجید کا موجودہ متن تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ اس لیے علمائے اصول کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شاذ روایات قرآن کے بعض الفاظ کو موجودہ متن سے مختلف بتاتی ہیں، وہ ناقابل اعتماد ہیں۔ نظریہ نسخ آیات مع بقائے حکم پر رسائل و مسائل، حصہ سوم صفحہ ۴۰ تا ۵۳ اور ۹۹ تا ۱۰۲ پر بحث موجود ہے، وہاں ملاحظہ کرلیں۔

۳۔ یہ بات اپنی جگہ پر صحیح ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات ابدی اور زمان و مکان کی قید سے ماورا ہیں، لیکن شانِ نزول کے جو واقعات احادیث میں موجود ہیں، ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، کیوں کہ ان سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں کون سا واقعہ ایک حکم نازل ہونے کا باعث ہوا تھا یا کن کن واقعات و حالات پر عہد نبویؐ میں اس حکم کو منطبق کیا گیا تھا۔ یہ چیز قرآنی فہم و بصیرت میں اضافے کا موجب بنتی ہے۔

۴۔ یہ کہنا درست نہیں کہ حدود و قصاص میں گواہی کا چھپانا افضل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مجرم کا جرم اگر اس کے سوا کسی کے علم میں نہ آیا ہو تو اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ ضرور اس کا اعلان کرے۔ وہ اگر خاموشی سے تائب ہو جائے تو بخشش کی توقع رکھ سکتا ہے۔ مجرم کے علاوہ اگر دوسروں کو اس کا جرم معلوم ہو تو بعض حالات میں وہ شرعاً اس بات کے مکلف ہیں کہ بلا تاخیر اسے حکومت کے نوٹس میں لائیں اور بعض حالات میں ان کی ذمہ داری فقط اتنی ہوتی ہے کہ انھیں گواہی کے لیے طلب کیا جائے تو سچی شہادت دیں۔

۵۔ بہن بھائی کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی یا چلتے پھرتے کھانے والی شہادت کا معتبر یا غیر معتبر ہونا، یہ جزئی معاملات ہیں، جن میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ ان کا تعلق اصولی اور منصوص احکام سے نہیں ہے۔

۶۔ قرآن مجید میں کوئی آیت ابداً منسوخ نہیں[ مزید مطالعے کے لیے علوم القرآن جلد اوّل: مولانا گوہر رحمٰن، باب ششم، ص ۴۴۹ تا ۴۸۰۔ النسخ فی القرآن۔ حاصل بحث کے طور پر مولانا گوہر رحمٰن نے علامہ زرقانی کی کتاب مناهل العرفان فی علوم القرآن کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آیات منسوخہ کی تعداد ۸ ہے، جب کہ مولانا (مودودی) کا موقف ہے کہ ”قرآن مجید کی کوئی آیت ابداً منسوخ نہیں ہوتی“۔]۔ حالات متقاضی ہوں تو ان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔

ابوالاعلیٰ

۵۵

اچھرہ، لاہور

۶ ستمبر ۱۹۶۷ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا، اگر مفصل مباحث سے آپ کا اطمینان نہیں ہوسکتا تو ہمارے لیے خطوط کی وساطت سے آپ کی تشفی کرنا محال ہے۔ کسی شخص کے خیالات و نظریات کو سمجھنے کا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے کہ چند فقرے مجموعی سیاق و سباق سے الگ کر لیے جائیں اور پھر انھیں ٹکرانے کی کوشش کی جائے۔

انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کے کسی شعبے کے لیے خواہ کیسا ہی نظام وضع کیا جائے، بہر حال اس کے لیے بعض پہلوؤں سے اخلاقی ہدایات سے کام لینا پڑتا ہے اور بعض دائروں میں قانونی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ جب کبھی نرے اخلاقی نصائح یا نری قانونیت پر انحصار کیا گیا ہے، معاشرے کی خرابیوں اور پیچیدگیوں میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اسلام نے جس حد تک اخلاقی تدابیر کو موزوں سمجھا ہے انھیں برتا ہے اور جہاں قانون کو ضروری سمجھا ہے، اسے استعمال کیا ہے۔

آپ غور کریں کہ معیشت ہو، سیاست ہو یا معاشرت ہو، اگر اس کے ہر مسئلے کا بہترین حل قانون کی کتاب میں درج کر دیا جائے، مگر اسے نافذ کرنے والے اس کا صحیح، بروقت اور بر محل نفاذ نہ کریں اور ساری طاقت نہی کے ہاتھ میں ہو، تو پھر کیا ہوگا؟ اخلاقی تربیت اور خوفِ خدا کے بغیر نظامِ حیات کی اصلاح ہو ہی نہیں سکتی۔ زندگی کا ہر مسئلہ بنیادی طور پر قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے۔

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ ابوالاعلیٰ

۵۶

اچھرہ، لاہور

۳۰/اکتوبر ۱۹۶۷ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:۔

۱۔ آپ نے جس مسجد کا ذکر کیا ہے، اگر اس کی حفاظت اور آبادی کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے تو آپ اس کے کارآمد سامان کو کسی دوسری مسجد میں منتقل کر دیں تاکہ وہ ضائع ہونے سے بچ جائے اور دوسرے خانہ خدا کے کام آئے۔ مسجدیں سب اللہ کی ہیں۔

۲۔ سنت خلفاے راشدین سے مراد خلفاے راشدین کے وہ فیصلے ہیں، جو انھوں نے صحابہ کرام کے مشورے سے خلیفہ وقت کی حیثیت سے کیے ہیں۔ اس طرح کے اجتماعی فیصلے سنت نبویؐ کے خلاف کبھی ہو ہی نہیں سکتے، کیوں کہ صحابہ کرام بالخصوص خلفاے اربعہ کا ہمیشہ یہ طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا تو سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ اس معاملے میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت سے کیا رہ نمائی ملتی ہے، اگر کتاب وسنت میں کوئی نص مل جاتی تو اسی کے مطابق فیصلہ کیا جاتا، اگر نہ ملتی تب صحابہؓ کے اجماع یا کثرت رائے سے اجتہاد کیا جاتا تھا۔ یہ بات غلط ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعت سے زائد تراویح ثابت نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مختلف عمل منقول ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کو کسی ایک عمل کا پابند نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے آپ نے تاکید صرف قیام اللیل اور قرآن خوانی کی فرمائی۔ تراویح کی جماعت آپ نے صرف تین دن قائم کی، مگر پورا قرآن آپ رمضان میں ضرور پڑھتے تھے۔ بعد میں حضرت عمرؓ نے باجماعت ختم قرآن کی ہیئت مقرر کر دی اور صحابہ کرام نے اس سے اتفاق کیا۔ اس فعل کے لیے بنیاد اور دلیل چوں کہ سنت نبویؐ اور سنتِ خلفاء میں موجود ہے، اس لیے اس کو بدعت نہیں کہا جا سکتا۔ عرس وغیرہ قسم کے افعال کی کوئی شرعی اصل ہمارے علم میں نہیں ہے۔

۳۔ اسلامی جمہوریت کی اصطلاح کو اس لیے گوارا کیا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کا اصل الاصول اور اس کی بنیادی روح یہ ہے کہ حکومت کا نظام عامۃ الناس کی مرضی سے بنایا اور چلایا جائے اور حکمرانی کا حق کسی خاص فرد یا طبقے تک محدود نہ ہو۔ یہ اصول اسلام میں بھی موجود ہے، البتہ اسلام اس پر اتنا اضافہ یا پابندی عائد کرتا ہے کہ حکمرانی اور قانون سازی کتاب وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ جہاں تک سوشلزم کا تعلق ہے، اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملکیت بالخصوص پیداواری ذرائع و وسائل کی ملکیت اشخاص و افراد کے پاس نہیں، بل کہ ریاست کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ اسلام اس پالیسی کو بعض استثنائی اور عارضی صورتوں میں قبول کرسکتا ہے، لیکن اسے بنیادی اور رہ نما اصول کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ اس لیے اسلامی سوشلزم [ بعض حضرات نے سوشلزم کے تحت تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کو، اسلام کے نظامِ انفاق اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ ملاتے ہوئے ”اسلامی سوشلزم“ کی ترکیب استعمال کی ہے، مگر اس ترکیب سے وہ اسلام کے نظام پر زور دیتے تھے، اس کے برعکس یہی ترکیب ذوالفقار علی بھٹو کے بعض حامیوں نے سوشلزم کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دی تھی، جب کہ پیپلز پارٹی کے منشور میں درج تھا: اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔]ایک انمل، بے جوڑ اور باہم متناقض اصطلاح ہے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۵۷

اچھرہ، لاہور

۸ نومبر ۱۹۶۷ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱- غیر آباد مسجد کا سامان اگر دوسری مسجد میں استعمال نہ ہوسکتا ہو، تو اسے بیچ کر اس کی قیمت دوسری مسجد پر صرف کر دی جائے، مگر زمین ہمیشہ مسجد کے حکم میں رہے گی۔ آپ وہاں ایک چبوترہ بنادیں یا صرف حدود اربعہ کے نشانات قائم کر کے اس پر مسجد کا کتبہ لگا کر چھوڑ دیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ بندگانِ خدا وہاں بس جائیں اور مسجد بنا دیں۔ یہ زمین کسی دوسرے مصرف میں بہرحال نہیں لائی جاسکتی۔

۲- یہ بات صحیح نہیں کہ عہدِ نبویؐ میں درود نہیں پڑھا جاتا تھا۔ ہم جو درود پڑھتے ہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا تعلیم کردہ ہے۔

۳۔ جس حدیث میں ستون سے درد ناک آواز نکلنے[ مزید مطالعے کے لیے دیکھیے: سیرت النبیؐ، جلد سوم، ص ۵۲۹] کا ذکر ہے، وہ صحیح ہے، مگر اس کا علم غیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انگلیوں سے پانی کی دھاریں [ ایضاً، جلد سوم، ص ۵۷۲]بہنے اور دوسری احادیث جن میں معجزات کا بیان ہے، ان سے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم الغیب ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ جن احادیث میں یہ ذکر ہے کہ آپ کو بعض مخفی حقائق کا علم دیا گیا یا آپ نے قیامت تک ہونے والے واقعات بیان کیے، ان کا بھی یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کو ہر چھوٹے بڑے جزئی واقعہ و حادثہ کا علم دیا گیا یا آپ نے اسے بیان فرمایا۔ اس سے مراد وہ امور ہیں، جو منصب نبوت سے متعلق ہیں اور جن کا جاننا اور بیان کرنا ایک نبی کے لیے ضروری اور ناگزیر ہے۔ مثال کے طور پر ایک نبی کو یہ معلوم یا بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ قیامت تک روئے زمین پر کتنے انسان یا بحر و بر میں کتنے جانور پیدا ہوں گے۔ ایک نبی کو یہ جاننے یا بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ محمد انور عباسی فلاں تاریخ کو فلاں مضمون کا خط لکھے گا اور اسے یہ جواب ملے گا۔ قرآن بھی یہ کہتا ہے کہ اس میں ہر شے کی تفصیل اور بیان ہے۔ پھر کیا اس میں آپ کی ہماری خط کتابت بھی درج ہے؟

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔

ابوالاعلیٰ

۵۸

اچھره، لاہور

۱۹ فروری ۱۹۶۹ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی صاحب تحریکِ پاکستان کے مخالف نہیں تھے۔ اس اعتراض کا جواب بارہا دیا جا چکا ہے۔ ۱۹۶۴ء میں جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دیتے وقت حکومت نے یہی الزام عائد کیا تھا جس کا مفصل جواب ہائی کورٹ کے سامنے دیا گیا تھا اور یہ جواب شائع بھی ہوا تھا۔ اس وقت کے ہمارے موقف کو سمجھنے کے لیے براہِ کرم ہماری کتاب ’تحریکِ آزادی ہند اور مسلمان‘ کا مطالعہ کریں۔

۲۔ مولانا مودودی نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ”یہ پاکستان نہیں بن رہا بلکہ کفرستان بن رہا ہے“۔

۳۔ چوتھے، پانچویں اور ساتویں سوال کا جواب ہماری کتاب مسئلہ قومیت اور تحریک آزادی ہند اور مسلمان [ سید مودودی کی تالیفات: مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش کی تین جلدوں، مسئلہ قومیت اور ان کتابوں کی اشاعت کے بعد موضوع سے متعلق جو کچھ ترجمان القرآن میں شائع ہوتا رہا، اسے ازسرنو تحریک آزادی ہند اور مسلمان کی دو جلدوں میں مرتب کر دیا گیا ہے۔ پہلی جلد پروفیسر خورشید احمد نے مرتب کی اور دوسری جلد سید مودودی نے خود ترتیب دی تھی۔]میں موجود ہے۔ آپ جماعت اسلامی کے دفتر یا دارالمطالعہ سے حاصل کر کے مطالعہ کر لیں۔

۴۔ اسلام نے مملکت کی سربراہی کے لیے عورت کا انتخاب ممنوع قرار دیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کے بجائے مرد چاہے جن صفات کا بھی حامل ہو، وہ سربراہی کا اہل ہو گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جو شخص خود امارت کا طالب اور حریص ہو، اسے امیر نہ بنایا جائے، جو شخص کتاب و سنت کی صریح خلاف ورزی کرے اسے امیر نہ بنایا جائے، جو شخص عوام الناس کی مرضی اور مشورے کے بغیر حکمرانی کرنا چاہے، اسے امیر نہ بنایا جائے۔ اس طرح کی متعدد صفات امارت کے لیے درکار ہیں۔ یہ عیوب جس مرد میں موجود ہوں، اس کے مقابلے میں وہ عورت قابل ترجیح ہے، جس میں ایسے عیوب نہ ہوں۔

۵۔ شاہ ولی اللہ صاحب[شاہ ولی اللہ (۱۷۰۳-۱۷۶۲ء) آئین ۱۱ فروری ۱۹۶۹ء] کی طرف جو کچھ منسوب کیا گیا ہے، وہ بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ میں نے اس کی تردید نوائے وقت کو بھیجی تھی، مگر اس نے شائع نہیں کی۔ آئین، مورخہ ۱۱ فروری کے شمارے میں میری یہ تردید چھپ چکی ہے[۱۹۶۰ء کی دہائی میں سوشلزم اور کمیونزم کے موضوع پر موافق اور مخالف مضامین کا سلسلہ قومی اخبارات و جرائد کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ترقی پسند نظریات کے حامل دانشوروں کی جانب سے اشتراکیت کے دفاع میں مضامین لکھنا تو کوئی عجیب بات نہیں تھی کہ یہ ان کا وظیفۂ حیات تھا، لیکن علمائے کرام کے ایک گروہ (جن کی رہ نمائی مولانا غلام غوث ہزاروی فرما رہے تھے) کی طرف سے بعض احادیث کے مفہوم کو اشتراکیت کے لیے دلیل کے طور پر اخبارات میں پیش کیا گیا اور پھر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب حجة اللہ البالغہ کے بعض ابواب سے بھی ہزاروی صاحب اور ان کے مقلدین نے اشتراکیت کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ علمائے کرام کے اس موقف کے جواب میں آئین ۷ فروری ۱۹۶۹ء کی اشاعت میں ملک غلام علی (معاون خصوصی سید ابوالاعلیٰ مودودی) کی طرف سے ...... بکف چراغ دارد کے زیر عنوان علمائے کرام (ہزاروی گروپ) کی طرف سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو سوشلزم کی حمایت میں لانے کی اس کوشش کا تجزیہ کیا گیا ہے اور دلائل سے ہزاروی صاحب کا موقف رد کیا گیا ہے۔]، اسے دیکھ لیں۔

۶۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ ہم کسی کے وارث نہیں بنتے نہ بناتے ہیں، یہ صورت[ <<عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ>> (ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر النمری ، (۳۶۸ھ۔ ۴۶۳ھ) التمھید لما فی الموطا من المعانی والاسانید، 8:175 وزارۃ عموم الاوقاف والشؤون الاسلامیة ۱۳۸۷ھ)] صرف انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ جبھی تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے ہم انبیاء کسی کے وارث نہیں بنتے، اگرچہ مسلمان کے لیے یہی بات ضروری یا پسندیدہ ہوتی تو پھر آپ یہ نہ فرماتے کہ انبیاء وارث نہیں ہوتے، بلکہ یوں فرماتے کہ اسلام کا اصول ہر ایک کے لیے یہی ہے اور پھر قرآن میں وراثت کے قوانین نازل نہ ہوتے۔ آپ اپنے دوست جو بھٹو [ ذوالفقار علی بھٹو: (۱۹۲۸-۱۹۷۹ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین، صدرِ پاکستان (۱۹۷۱-۱۹۷۳ء)، وزیر اعظم پاکستان (۱۹۷۳-۱۹۷۷ء)]کے مداح ہیں ان سے پوچھیے کہ اگر وراثت اور ملکیت اسلام میں جائز نہیں تو بھٹو کیوں ہزاروں ایکڑ زمین کے وارث اور مالک بنے بیٹھے ہیں، جن میں ٹریکٹر چلانے کا جائز یا ناجائز مقدمہ ان کے

خلاف بنایا گیا ہے۔ کیوں وہ اپنی زمین غریبوں اور مزارعوں میں تقسیم نہیں کر دیتے؟

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ ابوالاعلیٰ

۵۹

اچھرہ، لاہور

۳۰؍ جون ۱۹۶۹ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ ماہنامہ چراغ راہ [ پروفیسر خورشید احمد کی ادارت میں چراغ راہ کا سوشلزم نمبر شائع ہوا تھا۔ اس میں شامل پروفیسر خورشید احمد کے مفصل مقالے ”اسلام یا سوشلزم“ کو مکتبہ چراغ راہ کراچی نے کتابی صورت میں جنوری ۱۹۶۹ء میں شائع کیا۔

] کراچی کا سوشلزم نمبر مطالعہ کریں۔ اس میں آپ کے سوالات کا جواب موجود ہے۔ اقامت دین کی غرض سے علماء میں باہمی تعاون پیدا کرنے کے لیے اتحاد العلماء [- جمعیت اتحاد العلماء کی بنیاد ۱۹۶۲ء میں رکھی گئی۔ اس کے پہلے صدر مولانا محمد چراغ تھے۔ آج کل مولانا عبدالمالک صدر ہیں۔] کی تنظیم کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ان شاء اللہ مزید مساعی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ ابوالاعلیٰ

۶۰

اچھرہ، لاہور

۲۵؍ جنوری ۱۹۷۱ء

محترمی ومکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ کے خط سے یہ معلوم کر کے بڑا تعجب ہوا کہ آپ جماعتِ اسلامی کے نصب العین اور طریقِ کار سے پورا اتفاق بھی رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پرویز صاحب [ غلام احمد پرویز: (۱۹۰۳-۱۹۸۵ء) بٹالہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے بہ طور قلم کار قلمی ناموں سے تحریکِ پاکستان میں سرگرم رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بہ طور سینئر سول سرونٹ بھی خدمات انجام دیں، لیکن ان کی پہچان ایک سکالر کی ہے۔ دینی حلقوں میں قرآن وحدیث کی مخصوص تعبیر کے باعث وہ ہمیشہ متنازع رہے۔ حدیث کے حوالے سے نقطۂ نظر کے باعث عمومی طور پر انھیں منکرینِ حدیث کے گروہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ چند اہم تصانیف: مطالبِ قرآن، لغت القرآن، مفہوم القرآن، نظامِ ربوبیت، Islam a Challenge to Religion، انسان نے کیا سوچا؟، اسلام کیا ہے؟ اسبابِ زوالِ امت، سلیم کے نام، طاہرہ کے نام] کے بھی مداح ہیں اور ان کے نظریۂ حدیث کو بھی درست جانتے ہیں۔ ہمارے علم کی حد تک آپ پہلے شخص ہیں جو اس طرح کی وسیع المشربی کے حامل ہیں۔ جماعت اسلامی، پرویز صاحب اور ان کے ہم خیال حضرات کی تکفیر نہیں کرتی، لیکن انھیں سخت گمراہی میں مبتلا ضرور سمجھتی ہے، تاہم اگر آپ جماعت اسلامی کے حلقہ متفقین میں شامل رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں بشرطیکہ آپ کسی بزمِ طلوعِ اسلام کے ممبر نہ ہوں اور پرویز صاحب کے لٹریچر اور ان کے افکار ونظریات کے مبلغ نہ ہوں، کیوں کہ ایسی صورت میں بیک وقت دو متضاد تحریکوں سے وابستہ ہونا آپ کے لیے بھی اور ان کے لیے بھی بڑی مشکلات کا باعث ہوگا۔ [محمد انور عباسی صاحب مولانا کی اس ہدایت پر آج تک کاربند ہیں، بل کہ متفق سے بڑھ کر درجہ اولیٰ (رکنیت) پر فائز ہیں۔]

حدیث کے معاملے میں آپ یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ کتاب اللہ کے مطالب اور مقتضیات کی تشریح اور ان کے مطابق اسلامی نظام زندگی کی ٹھوس اور متعین طریق پر صورت گری کرتی ہے، اگر حدیث اور سنت کا دامن چھوڑ دیا جائے تو اسلام ایک ایسا سیال مادہ بن کر رہ جاتا ہے، جو ہر جام اور سانچے کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔ ایک مثال کی مدد سے اسے واضح کیا جا سکتا ہے، اگرچہ مثال ایک پہلو سے ذاتی محسوس ہوگی، مگر اس کے بیان سے غرض و مقصد بالکل اصولی ہوگا۔ قرآن میں پردے کے بنیادی احکام موجود ہیں، مگر ان کی تفصیل و تشریح حدیث میں ہے۔ اب حدیث کو نہ ماننے کا نتیجہ ہے کہ پرویز صاحب کے درس میں کھلے چہروں کے ساتھ عورتیں مردوں کے پہلو بہ پہلو بیٹھتی ہیں اور ان کے مخلوط اجتماعات اور کنونشنوں میں لڑکیاں بے پردہ تقریریں کرتی ہیں، بل کہ اجلاسوں کی صدارت کرتی ہیں اور ان کی تصاویر ان کے رسالوں میں باقاعدہ چھپتی ہیں۔ پرویز صاحب کے گھر میں غیر محرم لڑکیاں رہتی ہیں اور پل کر جوان ہوتی ہیں، جنھیں طاہرہ بیٹیوں کے نام سے جلسوں میں متعارف کرایا جاتا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ مسلمانوں نے عورتوں کو زندہ درگور کر رکھا ہے اور قیامت کو ان کی باز پرس ہوگی جس کا ذکر قرآن میں ہے کہ <<وَاِذَا الْمَوْءُدَةُ سُئِلَتْ>> [سورة التکویر: ۸]س ایک مثال سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پرویز صاحب کی تحریک مسلمان مردوں اور عورتوں کو کس منزل کی جانب لے جا رہی ہے اور وہاں پہنچ کر جو اسلام طلوع ہوگا، اسے اندھے بھی دیکھ لیں گے۔

مفتی محمد شفیع صاحب کی پراویڈنٹ فنڈ [ مفتی محمد شفیع: پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰة اور سود کا مسئلہ، دارالاشاعت کراچی، ۱۹۸۳ء] پر جس کتاب کا ذکر آپ نے کیا ہے، جب تک وہ سامنے نہ ہو، اس کے متعلق کچھ کہنا مشکل ہے لیکن اس فنڈ پر سودی رقم کو خدمت کا معاوضہ قرار دینا صحیح نہیں۔ خدمت کا معاوضہ تو اصل فنڈ ہے یا وہ زائد رقم ہو سکتی ہے، جو بونس وغیرہ کی شکل میں بطور انعام ملتی ہے، لیکن سود اس سے بالکل الگ ہوتا ہے، جو باقاعدہ مدت اور متعین شرح کے لحاظ سے سود ہی کے نام سے دیا جاتا ہے۔ یہ خدمت کا معاوضہ کیسے ہو سکتا ہے؟

مال اس شے کا نام ہے، جس کی کوئی قیمت ہو اور قابلِ انتقال یا قابلِ بیع و شریٰ ہو۔ مال جب آپ کچھ مدت کے لیے دوسرے کو برائے استعمال و انتفاع دیں گے تو اس کا نام قرض ہے۔ اس مدت کے عوض میں اگر فریقین کے مابین قرض کے ساتھ کوئی متعین اضافہ یا منفعت کی پیشگی شرط ہو تو یہ اضافہ سود ہو گا اور یہ قرض سودی قرض ہو گا، قرض حسنہ [نہ] ہو گا۔ پرویز صاحب سود کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ مضاربت، شراکت، مزارعت، مکان یا دکان یا کوئی دوسری شے یا سامان کرائے پر دینا بھی سود بن جاتا ہے۔ معلوم نہیں یہ تعریف انھوں نے قرآن کے کس مقام سے اخذ کی ہے؟

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔

ابوالاعلیٰ

۶۱

اچھره ، لاہور

۲۳ فروری ۱۹۷۱ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ پرویز صاحب کے متعلق جو یہ بات لکھی گئی تھی کہ بعض لڑکیاں ان کے گھر میں رہ کر نظریات کی تربیت حاصل کرتی ہیں۔ یہ بات خود ان کے رسالوں میں چھپ چکی ہے اور بعض طالبات کا اس حیثیت سے ان کے اجتماعات میں تعارف کرایا گیا ہے۔

۲۔ سود کے متعلق جو کچھ آپ نے لکھا ہے درست ہے۔ سابق خط میں متعین اضافے کے الفاظ سے مدعا یہ نہیں تھا کہ اضافے کی مقدار یا شرح مقرر ہو، مطلب صرف یہ تھا کہ اگر یہ شرط پیشگی متعین ہو کہ اضافہ بہر حال ہو گا تو وہ سود ہے خواہ اس کی کمیت مقرر نہ کی گئی ہو۔

۳۔ حدیث و سنت کے مآخذ دین ہونے کے دلائل سنت کی آئینی حیثیت اور تفہیمات کے آخری مضامین میں بیان کر دیے گئے ہیں، اگر آپ نے ان کا مطالعہ اب تک نہ کیا ہو، تو بہتر ہوگا کہ آپ انہیں پڑھ لیں۔

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔

ابوالاعلیٰ

۶۲

اچھرہ، لاہور

۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ سید یعقوب شاہ صاحب[ سید یعقوب شاہ ۱۹۴۷ء میں آڈیٹر جنرل حکومت پاکستان تھے۔ مولانا کی تصنیف سود (اسلامک پبلی کیشنز لاہور ۱۹۶۱ء) کی روشنی میں انھوں نے مولانا سے خط کتابت کی۔ دونوں کی مراسلت مولانا کی کتاب سود کے ضمیمہ نمبر ۱ (ص ۲۳۹ تا ۲۷۴) میں موجود ہے۔] کی کتاب چند معاشی مسائل اور اسلام [ چند معاشی مسائل اور اسلام: یعقوب شاہ۔ لاہور: ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ کلب روڈ ۱۹۶۷ء]ہماری نظر سے نہیں گزری۔ بہتر یہ تھا کہ آپ ان کے استدلال کے متعلق ہماری رائے طلب نہ کرتے۔ ان کو اجتہاد کا شوق تھا، مگر قرآن، حدیث اور فقہ میں جس بصیرت کے بغیر اجتہاد ممکن نہیں، وہ انھیں حاصل نہیں حتیٰ کہ عربی زبان سے بھی ناواقف ہیں۔ تاہم آپ کے سوالات کا مختصر جواب یہ ہے:

۱۔ سرمائے کے نامی یا مثمر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہر حالت میں آپ سے آپ بڑھتا ہے اور ایک متعین رفتار و مقدار کے مطابق بڑھتا ہے۔ سرمائے کے ساتھ جب تک محنت نہ ہو تو اس میں بڑھوتری نہیں ہو سکتی، پھر محنت کے ساتھ بھی اس کا اضافہ اور اضافے کی شرح یقینی نہیں۔ اس میں محنت کے ساتھ اضافے کی کوشش کا نتیجہ بعض دفعہ کم اور بعض دفعہ زیادہ اور بعض دفعہ الٹا خسارے کی شکل میں نکلتا ہے۔ ان ساری صورتوں میں ہر حالت میں ایک متعین اضافے کی گارنٹی (سود) کو کیسے جائز کہا جا سکتا ہے۔ اس پر پوری بحث ہماری کتاب سود[ سود: مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، لاہور۔] میں موجود ہے۔ یہ بات بھی بالکل مہمل اور بے معنی ہے کہ شریعت نے سرمائے کو مثمن قرار دے کر اس کی قیمت کا جواز مہیا کر دیا ہے۔ مثمن ہونا ایک الگ بات ہے، جس کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے اور کسی شے کی قدر و قیمت ہونا دوسرے بات ہے۔ سرمائے کی قیمت سے کون انکار کرتا ہے۔ ایک شخص جتنا سرمایہ قرض دے، قرض کے بعد بھی اس کی قیمت وہی ہے، جسے واپس وصول کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ اگر مالِ متقوم ہے تو اس سے سودی اضافے کا جواز کیسے ثابت ہوا؟

۲۔ سود کی ایک خاص صورت جسے ربوا الفضل [رباء الفضل: <<عُمَرُ الْخَطَّابِ وَابْنُهُ عَبْدُ اللهِ يُحَدِّثَانِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَدُلُّ عَلَى تَحْرِيمِ رِبَا الْفَضْلِ>> (محمد بن علی بن محمد الشوکانی، نیل الأوطار من احادیث سید الأخیار شرح منتقی الأخبار، 8:300، ادارة الطباعة المنیریة، بیروت)اس موضوع پر ترجمان القرآن ۲۰۰۲ء میں مکاتیب سیّد [مودودی]، بنام ڈاکٹر حسن الزماں اختر، میں کچھ تفصیلات دی گئی ہیں۔ (ص ۴۲۵ تا ۴۳۵)۔ مولانا کی کتاب سود، اسلامک پبلی کیشنز لاہور، ۱۹۷۵ء کے ص ۱۶۵ تا ۲۰۵ پر مفصل بحث موجود ہے۔] کہا گیا ہے، وہ صرف ہم جنس اشیا میں ہوتا ہے، جو بالعموم ناپ تول سے فروخت ہوتی ہیں۔

۳۔ نقد اور ادھار کی قیمتوں کے تفاوت کو ائمہ سلف میں سے بعض نے جائز اور بعض نے ناجائز کہا ہے، جنھوں نے جائز کہا ہے، اس وجہ سے کہا ہے کہ بیچنے والے کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا مال کم یا زیادہ نرخ پر دو گاہکوں کے ہاتھ بیچے۔ اسے ہر گاہک سے ایک ہی قیمت لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اضافہ وقت کی قیمت نہیں کیوں کہ وصولی کا وقت متعین نہیں۔ بس ادھار کی قیمت متعین ہے۔ بہرکیف یہ ایک جزوی اختلافی مسئلہ ہے اور اس سے سود کی ان حرام صورتوں کا جواز فراہم نہیں ہوتا، جن کی حرمت پر اُمت کا اجماع ہے۔

خاکسار

غلام علی

معاون خصوصی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

۶۳

اچھرہ، لاہور

۳۱/مارچ ۱۹۷۳ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

عنایت نامہ ملا۔ معوذتین کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی رائے کا ذکر اس لیے کرنا ناگزیر تھا کہ قدیم اور جدید مخالفین اسلام نے اس کو بہت اچھالا ہے اور جو شکوک انھوں نے اس کے ذریعے سے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، ان سے صرفِ نظر کر لینا مناسب نہیں تھا۔ روایات اس بارے میں اتنی زیادہ اور معتبر ہیں اور ان کے رد کرنے والوں کے دلائل اتنے کمزور ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اس رائے کا سرے سے انکار کر دینا بھی ممکن نہ تھا۔

اس کے بعد جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کا خلاصہ بس یہ ہے کہ حضرت عبداللہؓ کی اس رائے سے ان دونوں کی قرآنیت تو مشکوک نہیں ہوسکتی کیوں کہ اس کا ثبوت تو اتنا قطعی ہے کہ صرف ایک صحابی کی رائے اس پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتی، البتہ حضرت عبداللہؓ کا یہ رائے رکھنا ان کی ایک انفرادی غلطی ہے، جو قصداً قرآن کی دو سورتوں کو قرآن کی سورتیں مانتے ہوئے ان کا انکار کر دینے کی بنا پر نہیں تھی، بل کہ کسی غلط فہمی کی بنا پر تھی۔ یہ غلط فہمی ابتدائی دور میں تو غلط فہمی ہو سکتی تھی، لیکن اب کوئی شخص عبداللہ بن مسعودؓ کی پیروی کر کے ان سورتوں کا انکار کرے تو وہ کفر سے نہیں بچ سکتا، کیوں کہ اب وہ اسباب باقی نہیں ہیں، جو اُس وقت حضرت عبداللہؓ کے لیے غلط فہمی کے موجب ہوئے تھے۔ یہ حضرت عبداللہؓ کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہے، جو ان کی شخصیت کی وجہ سے ہو، بل کہ ابتدائی دور کے حالات کی وجہ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صحابی کا اُس وقت ایسی غلط فہمی میں نیک نیتی کے ساتھ مبتلا ہو جانا ممکن تھا۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

۶۳

اچھرہ، لاہور

۲۶/ اپریل ۱۹۷۳ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا خط ملا۔ آپ کے سوالات کے مختصر جوابات مولانا محترم کی طرف سے درج ذیل ہیں:

۱۔ یہ تو میرا اندازہ ہے کہ غالباً غلط فہمی ’قل‘ کے لفظ کی وجہ سے ہوئی ہوگی، لیکن یہ ضروری نہ تھا کہ ہر جگہ لفظ ’قل‘ دیکھ کر حضرت ابن مسعودؓ اسی غلطی میں پڑ جاتے کیوں کہ جو آیات ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بار بار اس لفظ کے ساتھ حضورؐ سے نماز میں سنی تھیں، ان کے بارے میں کسی غلط فہمی کا امکان نہ تھا۔ ممکن ہے کہ معوذتین اس طرح نماز میں تلاوت کرتے ہوئے انھوں نے حضورؐ سے نہ سنی ہوں۔

۲۔ حافظ ابن حجر نے اس مسئلے کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے ”<<فقول من قال انه كذب عليه (اى على ابن مسعود) مردود و الطعن فى الروايات الصحيحه بغير مستند لا يقبل، بل الروايات صحيحه و التاويل محتمل>>“ پھر آخر میں وہ کہتے ہیں کہ ”<<انهما (اى المعوذتين كانتا متواترتين فى عصره لكنهما لم بتواتر عنده (ابن مسعود)>>۔ (اس شخص کا قول مردود ہے جو کہے کہ حضرت ابن مسعودؓ کے خلاف جھوٹ گھڑا گیا اور احادیث صحیحہ میں کسی مستند وجہ کے بغیر طعن قابل قبول نہیں۔ یہ روایات صحیح ہیں اور ان کی تاویل کا احتمال ہے...... یہ دونوں سورتیں اسی عہد میں متواتر تھیں، لیکن حضرت ابن مسعودؓ کو اس کا علم نہ ہوا)۔ یہی بات میں نے لکھی تھی کہ آغازِ اسلام میں اس کا امکان تھا کہ صحابی کو اس پر اجماع اور ان آیات کے متواتر ہونے کا علم نہ ہو سکا ہو، البتہ بعد میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ابن مسعودؓ پر وہ حکم نہیں لگایا جا سکتا جو اب کسی شخص کے انکارِ تواتر و اجماع پر لگایا جائے گا۔ یہ بھی میں نے لکھا ہے کہ صحابہ میں سے کوئی اس مسئلے میں ان کا ہم نوا نہیں ہے۔ عہدِ نبویؐ میں مصحف مرتب شکل میں تیار نہیں ہو سکا۔ اس کی ترتیب و تدوین حضرت ابوبکرؓ نے کرائی، پھر اس زمانے میں یہ شکل بھی نہ تھی کہ لکھا لکھایا یا چھپا چھپایا قرآن ہر گھر میں دستیاب ہو اور بے شمار قاری اسے دیکھ کر پڑھ اور حفظ کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ قراءتوں میں اختلاف بھی ہے اور بعض صحیح احادیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے بعض سورتوں میں بعض الفاظ ایسے قراءت کیے ہیں، جو مصحف عثمانی میں درج نہیں ہوئے ہیں۔ ان ساری احادیث کو رد کر دینا ممکن نہیں۔ اس لیے ان کی یہی تاویل کی جائے گی کہ یہ صورتِ حال کسی لاعلمی، معذوری یا غلط فہمی کی بنا پر تھی۔ اب جب کہ سات قراءتوں پر اجماعِ اُمت ہو گیا تو وہ وجوہ موجود نہ رہے، جس کی بنا پر ان سے اختلاف کرنے والے کو معذور سمجھا جا سکے۔

۳۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بلاشبہ قرآن کے بہت بڑے عالم تھے اور قراء کے سلسلے ان تک پہنچتے ہیں، لیکن کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ قراء نے ان سے علمِ قرآن پورا پورا حاصل کیا ہو اور صرف معوذتین کے بارے میں ان کی رائے قبول نہ کی ہو، جس طرح ان سے پہلے صحابہؓ نے اسے قبول نہ کیا تھا۔

۴۔ بلاشبہ میں خاص خاص مواقع پر روایت کے اعتبار سے کسی چیز کے مستند ہونے کے باوجود دوسرے وجوہ سے ان کی صحت تسلیم نہیں کرتا، لیکن جہاں بھی میں نے ایسا کیا ہے، روایات کو تسلیم نہ کرنے کے وجوہ پورے دلائل کے ساتھ بیان کر دیے ہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ میں ہر جگہ روایات کو رد ہی کرتا چلا جاؤں خواہ رد کرنے کے لیے مجھے وزنی وجوہ نہ ملیں۔ حضرت ابن مسعودؓ سے متعلق دو چار نہیں بل کہ بکثرت روایات ہیں، جو صحاح ستہ اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔ ان سب کا رد کرنا ممکن نہیں ہے۔ محض قباحت لازم آنے کے خطرے کو میں ایسی صورت میں روایات کے رد کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھتا، جب کہ روایات کثیر ہوں اور صحیح بھی ہوں۔ اسی بنا پر میں نے حضورؐ پر جادو کا اثر ہو جانے کو تسلیم کیا ہے اور قباحت لازم آنے کے خطرے کو رد کر دیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت سلیمانؑ سے متعلق روایات کو قبول نہ کرنے کے لیے میں نے صرف قباحت لازم آنے پر اعتماد نہیں کیا ہے، مگر مفصل دلائل دیے ہیں، جن کی بنا پر یہ روایات قابل قبول نہیں ہیں۔ نبی کی ذات معصوم اور غیر نبی کی غیر معصوم ہے۔ غیر نبی کی غلطی یا غلط فہمی سے وہ قباحت لازم نہیں آتی، جو انبیا علیہم السلام کے معاملے میں آتی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ سے متعلق کوئی ایسی روایت نظر سے نہیں گزری، جس میں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا ہو کہ یہ سورتیں قرآن کا جز نہیں ایسی کوئی روایت ہو تو وہ بلا تامل قابلِ رد ہوگی۔

خاکسار

غلام علی

یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔

ابوالاعلیٰ