مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قادیانی مسئلہ

اشاعت: 1952ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "قادیانی مسئلہ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی، عقیدتی اور سیاسی تحریر ہے جس میں انہوں نے قادیانی فرقے کو اسلامی امت سے خارج قرار دینے کے مطالبے کی فکری، عقیدتی، معاشرتی اور آئینی بنیادیں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی اختلاف کی وضاحت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کا جامع تجزیہ ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلم معاشرے میں تقسیم، تفریق اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ قادیانیت صرف کسی فرعی مسلکی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقائد—خاص طور پر ختمِ نبوت—کے خلاف ایک منظم، منطقی اور عملی ردِّ عمل ہے، جس کے نتیجے میں قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے عقیدتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر الگ شناخت اختیار کر لی ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جو دراصل باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ یہ کتابچہ عقل، دلیل اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں قادیانی مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی موقف کو یا تو دلیل سے مانا جائے یا دلیل کے ذریعے منوایا جائے؛ محض عددی اکثریت یا طاقت کی بنیاد پر معقول مطالبات کو مسترد کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ دیباچہ نہ صرف موضوع کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تأکید کرتا ہے کہ عقیدتی مسائل کا فیصلہ عقل و دلیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا اکثریت کے زور سے۔

کتاب کا باب اول اصل مسئلے کی بنیاد رکھتا ہے: مرزا غلام احمد کے دعوٰیِ نبوت، قادیانیوں کے ایک علیحدہ امت بن جانے، اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے پیچھے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب دوم اور باب سوم دراصل 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بعد مولانا مودودی پر چلائے گئے فوجی مقدمے اور سزائے موت کے پس منظر کو بیان کرتے ہیں—بشمول ان کے وہ عدالتی بیانات جو فسادات کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے دیے گئے، جن میں لاہور میں مارشل لا کے اسباب، جماعتِ اسلامی کے طرزِ عمل، اور اسلامی ریاست، ارتداد کی سزا اور ڈائریکٹ ایکشن جیسے متعلقہ آئینی و فقہی سوالات کا جواب بھی شامل ہے۔

کتاب کا اختتام متعدد ضمائم پر ہوتا ہے جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، ظہورِ مہدی اور ختمِ نبوت سے متعلق احادیث اور فقہاء و مفسرین کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، نیز علامہ اقبالؒ کا قادیانیت کے بارے میں نقطۂ نظر بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ عقیدے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کو علمی و تاریخی شہادتوں سے مزید مستحکم کیا جا سکے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ضمیمہ نمبر۱۰

عدلیہ کے فیصلے:

(۱)فیصلہ منشی محمداکبرخاںصاحب۔ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر (قادیانی مرتدہیں یعنی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔)

۲۴/جولائی ۱۹۲۶ء کوموضع مہاندتحصیل احمدپورشرقیہ ریاست بہاولپورکے ایک باشندے مولوی الٰہی بخش نے اپنی لڑکی غلام عائشہ کی طرف سے احمدپورشرقیہ کی ماتحت عدالت میں عبدالرزاق قادیانی کے خلاف ایک دعویٰ دائرکیا۔ مدعیہ کاموقف تھاکہ عبدالرزاق جس کے ساتھ اس کانکاح بلوغت سے پہلے کردیاگیاتھاقانوناًاب اس کا خاوند نہیں رہاکیونکہ قادیانی مذہب اختیارکرنے کے نتیجہ میں وہ مرتدہوگیاہے اورقانون شریعت کے مطابق ارتدادکی بنیادپرنکاخ منسوخ قرارپاتاہے۔

مدعاعلیہ کاجواب یہ تھاکہ قادیانی مسلمانوں ہی کاایک فرقہ ہیں اورانہیں ان کے عقائدکی بنیادپرکافریامرتدقرارنہیں دیاجاسکتا۔ اس لیے تنیسخ نکاح کادعویٰ بے بنیادہے۔

یہ مقدمہ مختلف مراحل سے گزرتاہوامنشی محمداکبرخاں صاحب بی۔اے ایل ایل بی ڈسٹرکٹ جج بہاولنگرکے سامنے سماعت کے لیے پیش ہوا۔ فاضل جج نے کئی سال کی بحث کے بعدجس میں فریقین کے مشہورعلمااورمذہبی رہنماؤں نے حصہ لیا‘ اپنافیصلہ فروری ۱۹۳۵ء کودیاجودرج ذیل ہے:

فیصلہ:

’’مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کردیاگیاہے کہ مرزاصاحب (مرزاغلام احمد قادیانی) نبوت کے جھوٹے دعوے دارتھے۔ اس لیے مدعاعلیہ جومرزاصاحب کونبی مانتاہے، لازماً مرتدقراردیاجائے گا۔ وہ ابتدائی امورجواحمدپورشرقیہ کے فاضل منصف نے تنقیح طلب قراردئیے تھے‘ مدعیہ کے حق میں ثابت ہوچکے ہیں۔ اس لیے مدعاعلیہ کوقادیانی مذہب اختیارکرلینے کی وجہ سے مرتدقراردیاجاتاہےاوراسی بناپراس کانکاح مدعاعلیہ کی تاریخ ارتدادسے منسوخ ہوگیاہے۔

اگرمدعاعلیہ کے مذہبی عقائدکاجائزہ اس بحث کی روشنی میں بھی لیاجائے جس کی تفصیل پہلے آچکی ہے‘ تب بھی مدعیہ‘ مدعاعلیہ کے دلائل کے مقابلہ میں یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ حضرت محمدﷺ کے بعدکوئی امتی نبی نہیں آئے گا۔ مزیدبرآں یہ عین ممکن ہے کہ دوسرے مذہبی عقائدجومدعاعلیہ نے اپنی طرف منسوب کیے ہیں اپنی ظاہری شکل میں دین اسلام کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں لیکن اس بارے میں سمجھایہی جائے گاکہ مدعا علیہ ان عقائدکے اسی مفہوم و منشاپرعمل پیراہے جومرزا صاحب نے ان کوپہنایاہے۔ پوری امت مسلمہ نے ان عقائدکاجومفہوم ومنشاقراردیاہے وہ چونکہ اس سے متصادم ہے اس لیے مدعاعلیہ کومسلمان نہیں کہاجاسکتا۔ غرضیکہ دونوں صورتوں میں مدعاعلیہ یقیناً مرتدہوچکاہے اورایک مرتد کا نکاح‘ اس کے ارتدادکی وجہ سے منسوخ قرارپاتاہے۔ اس لیے مدعیہ کے حق میں یہ حکم دیاجاتاہے کہ مدعیہ، مدعاعلیہ کے ارتدادکی تاریخ سے ا س کی بیوی نہیں ہے اورمقدمہ کے اخراجات کی وصولی کی حق دارہے۔‘‘

فیصلہ:

نقل فیصلہ ازعدالت شیخ محمداکبرصاحب پی سی ایس ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی ‘ مورخہ ۳جون ۱۹۵۵ء دراپیل ہائے دیوانی نمبر۳۳‘۳۴‘۱۹۵۵ء ازمسماۃ امتہ الکریم بنام لیفٹیننٹ نذیرالدین ملک وازلیفٹیننٹ نذیرالدین بنام مسماۃ امتہ الکریم مقدمہ ہائی کورٹ نمبرآر۔ایس ۔اے ۴۰۸،۱۹۵۵ء

مسماۃ امتہ الکریم دخترکرم الٰہی (قوم لوہارازروئے بیان میاں عطاء اللہ وکیل اپیل کنندہ) مورخہ ۲۵/ستمبر۱۹۴۹ء کوبہ تقررمبلغ دوہزارروپیہ بطورمہرایک میٹریکولیٹ مسمی نذیر الدین (قوم بڑھئی مطابق بیان میاں عطاء اللہ) کے ساتھ بیاہی گئی تھی۔ یہ نکاح مبینہ طور پر ایک حنفی مولوی سے پڑھوایاگیاتھا۔ اپیل کنندہ کے دوسرے وکیل خواجہ احمداقبال کے بیان کی روسے مسمی نذیرالدین نے ایک بڑھئی اورمیٹریکولیٹ ہوتے ہوئے بھی جب اپنی خوش بختی کے باعث افواج پاکستان میں کمیشن حاصل کرلیاتواس نے سوچاکہ آئندہ جب افسر ان اعلیٰ کے ساتھ اس کے مراسم بڑھیں گے‘ توایک لوہارکی بیٹی کاشوہرہونے کے باعث اس کی تذلیل ہوگی اورافسران کی نگاہ میں اسے ’’سوشل‘‘نہ سمجھاجائے گا۔ چنانچہ اس نے مورخہ ۱۶/جولائی ۱۹۵۱ء کوایک باقاعدہ طلاق نامہ کے ذریعے سے اپنی بیوی کوطلاق دے ڈالی۔ اس پرمسماۃ امتہ الکریم نے اپنے سابقہ شوہرلیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کے خلاف مبلغ دوہزارروپیہ مہرکی وصولیابی کے لیے مقدمہ دائرکردیا۔ اس کے علاوہ اس نے ایک اوردعویٰ مبلغ ۲۴۰۳روپے کی مالیت کے اس سامان جہیزکے بارے میںبھی کیاجوشادی کے موقع پراس کواپنے باپ سے ملاتھااورجواس کے سابقہ شوہرنے اپنے قبضہ میںرکھالیاتھا۔یہ مقدمہ (pauper suit)تھا۔لیفٹیننٹ نذیرالدین ملک نے مسماۃ امتہ الکریم کے عائدکردہ الزامات کوبے بنیادقراردیااورجہیزکے بارے میں بیان کیاکہ اول توسامان مذکورہ اس کے قبضہ ہی میں نہیں ہے۔ دوسرے مدعیہ نے ا س کی قیمت بھی غلط لگائی ہے۔ مدعیہ کے مطالبہ مہرکے جواب میں یہ دلیل پیش کی گئی کہ اس نکاح کی انجام دہی چونکہ دھوکے اور فریب کے ذریعے سے ہوئی‘لہٰذایہ نکاح سرے ہی سے باطل تھا۔اس امرکاسبب یہ بیان کیا گیاکہ شادی کے موقع پرمدعیہ کومسلک حنفی کاپیروظاہرکیاگیاتھاحالانکہ دراصل وہ مرزاغلام احمدصاحب قادیانی کی پیروتھی اوریہ کہ اگرشادی کے طے پانے میں دھوکے اورفریب دہندگی کاثبوت نہ بھی ملے تب بھی یہ شادی ایک مسلمان اورغیرمسلم کے درمیان ہونے کے باعث باطل تھی۔ اس طرح عذریہ پیش کیاگیاکہ ان واقعات کی بناپرمدعیہ حق مہرکے حصول کادعویٰ نہیں کرسکتی۔ اس مقدمہ میں یہ ایک متفق علیہ امرتھاکہ فریقین کی شادی واقعی عمل میں آئی اوردونوں کے ملاپ کاثمرہ پانچ سال کے لگ بھگ عمرکی ایک بچی کی صورت میں ظاہر ہے۔مسماۃ امتہ الکریم نے مدعاعلیہ کی طرف سے عائدکردہ الزام فریب دہندگی کی ترویدکی اورعدالت سماعت میں اس نے اپنے حنفی العقیدہ ہونے کااظہارکیا۔ اس کے والد کرم الٰہی نے بھی عدالت سماعت میں اپنے حنفی مسلمان ہونے کااظہارکیاتاہم ساتھ ہی یہ بات بھی کہی گئی کہ ایک مسلمان مرداوراحمدی عورت کانکاح بالکل ہی باطل نہیں ہوتاالبتہ زیادہ سے زیادہ اس کوناجائزکہاجاسکتاہے اوریہ کہ قانون کی نگاہ میں نکاح باطل کوئی حیثیت نہیں رکھتالیکن بطورخودناجائزشادیوں کی ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں خاوندکومہرکی واجبی یامصرح رقم کی ادائیگی کرنی پڑی ہے جب کہ شادی واقع ہوچکی ہو۔

لیفٹیننٹ نذیرالدین نے یہ بھی بیان کیاکہ مدعیہ اپنے مہرکے حق سے دست بردار ہوچکی ہے۔ کچھ اورضمنی نکات بھی اٹھائے گئے تھے چنانچہ فریقین کے دلائل سن کرعدالت سماعت نے مندرجہ ذیل اموربرائے بحث واضح کیے:

۱۔آیامدعیہ اورمدعاعلیہ کی شادی فریب اوردھوکہ دہی کے ذریعے سے عمل میں آئی کہ جس کے باعث مدعاعلیہ مدعیہ کومہرکی ادایگی کاذمہ دارنہیں رہا؟

۱۔(الف)کیامبینہ دھوکہ دہی کے عدم ثبوت کی صورت میں نکاح باطل ہی تھا نیز اس کااثردعویٰ مہر پرکیاپڑا؟

۲۔کیامدعیہ اپنے مطالبہ مہر سے دست بردار ہوچکی ہے؟

۳۔کیامدعیہ کے جہیزکاکوئی سامان مدعاعلیہ کے قبضہ میںموجودہے۔ اگرہے توکتنی مالیت کا؟

۴۔ایساہونے کی صورت میں مدعیہ کس قسم کی امداداوررعایت کی مستحق ہے؟

مقدمہ کی سماعت اورکارروائی کے اختتام پرمیاں محمدسلیم صاحب سینئرسول جج راولپنڈی نے اپنے فاضلانہ فیصلے مورخہ ۲۵مارچ ۱۹۵۴ء کے ذریعے سے مقدمہ طے کیا اور علاوہ دیگرباتوں کے حسب ذیل نتائج اخذکیے:

۱۔فریقین کی شادی کسی قسم کے فریب یادھوکہ دہی کے ذریعے سے طے نہیں پائی۔

۲۔مدعیہ اپنے حق مہرسے کبھی دست بردارنہیں ہوئی۔

۳۔مدعیہ کاسامان جہیزمالیتی مبلغ ۲۴۰۳روپے مدعاعلیہ کے قبضہ میں ہے۔

میں نے مدعیہ مسماۃ امتہ الکریم کی جانب سے میاں عطاء اللہ ایڈووکٹ اور مدعاعلیہ لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کی جانب سے مسٹرظفرمحمودایڈووکیٹ کی بحث اوردلائل سنے ہیں۔ مگران میں سے کسی نے میرے روبرومحولہ بالانتائج کی صحت کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ عدالت سماعت کے اخذکردہ دیگرنتائج یہ ہیں:

(الف)قادیانیوں کواہل کتاب تصورنہیں کیاجاسکتا۔

(ب)مدعاعلیہ کے ساتھ شادی کے وقت مدعیہ مسماۃ امتہ الکریم قادیانی ہونے کے سبب غیرمسلم تھی۔

(ج)فریقین کانکاح مطلقاًناجائزاورباطل تھااورازدواجی تعلقات کے بعدبھی اسے جائزنہیں ٹھہرایاجاسکتا۔

(د)مہرقانوناًقابل بازیابی ہے۔

اوپردئیے گئے نتائج اورمعلومات کی بناپرمیاں محمدسلیم صاحب نے مسماۃ امتہ الکریم کے حق میں اس کے سابقہ شوہرسے مبلغ ۲۴۰۳روپے بابت مالیت سامان جہیزکے حصول کی ’جواس کے قبضہ میں تھا‘ ڈگری دے دی مگراس کے دعویٰ حق مہرکوخارج کردیا۔ اس فیصلہ ڈگری کے خلاف یہ دواپیلیں داخل کی گئی ہیں۔ مسماۃ امتہ الکریم نے تواپنے مہر مبلغ۲۰۰۰ روپے کی وصولی کے لیے اپیل کی ہے اورلیفٹیننٹ نذیرالدین ملک کی اپیل سامان جہیزکی مالیت سے متعلق ڈگری سے چھٹکاراپانے کے لیے ہے۔ مختلف شہادتوں اور خصوصاً مسماۃ امتہ الکریم کے خطوط سے یہی ظاہرہوتاہے کہ وہ نکاح کے وقت قادیانی تھی لہٰذامیں عدالت سماعت کے اخذکردہ اس نتیجہ کی توثیق کرتاہوں۔

اپنی بحث کے آغازمیں اپیل کنندہ کے فاضل وکیل میاں عطاء اللہ نے بشمولہ اور باتوں کے درج ذیل امورپیش کیے ہیں:

۱۔مسلمانوں کااس امرپرکوئی اجماع نہیں ہے کہ پیغمبراسلام محمدؐاللہ کے آخری نبی تھے اورآپ کے بعدکوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔

۲۔مسلمانوں کااس بات پربھی اجماع نہیں ہے کہ جوشخص حضرت محمدؐکی ختم نبوت پرایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں۔

۳۔اورنہ ہی ان کااس بات پراجماع ہے کہ قادیانی احمدی غیرمسلم ہیں۔

عدالت سماعت کے فاضل جج مسئلہ زیربحث نمبر۱(الف)پربحث سننے کے بعداس نتیجہ پرپہنچے تھے کہ یہ مسلمانوں کابنیادی عقیدہ ہے کہ حضرت محمدؐسلسلہ انبیا کے آخری نبی تھے اورآپؐ کے بعدکوئی اورنبی نہیں ہوگا۔ ان کے اس عقیدے کی خاص بنیاد’’خاتم النبیین‘‘ کے وہ الفاظ ہیں جنھیں قرآن حکیم نے ہمارے نبی اکرم ؐکی ذات اقدس کے لیے استعمال کیاہے۔ لیکن قادیانی حضرات ان الفاظ کو’’خاتم النبیین‘‘پڑھ کران کے معافی ’’نبیوں کے مہرکنندہ‘‘ کے کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ان الفاظ کی یہ تعبیراپنے اندرنبیوں کے ایک ایسے سلسلے کے جاری رہنے کی گنجائش رکھتی ہے جوآپؐ کے بعدآپؐ کی مہرلگ کرآتے رہیں گے۔ ان کے عقیدے کے مطابق مرزاغلام احمدصاحب بھی اسی نوع کے انبیامیں سے تھے اوروہ قرآن حکیم سے علیحدہ کوئی کتاب لے کرمبعوث نہیں ہوئے بلکہ ان کے ذمہ یہ فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے مزیدالہامات کی روشنی میں اس کتاب کی تشریح وتوضیح کریں۔ قادیانی اس طرح کے نبی کو’’ظلی‘‘یا’’غیرتشریعی‘‘نبی کہتے ہیں جوکہ’’تشریعی نبی‘‘یعنی نئی شریعت کے حامل نبی سے مختلف ہوتاہے۔ اس موقع پرعدالت سماعت نے یہ ضروری خیال کیاکہ خود مرزاصاحب ہی کے مصنفہ ایک کتابچہ سے حوالے دے کریہ دکھایا جائے کہ مرزاصاحب کادعویٰ اصل میںکیاتھا؟

’’پہلے میراعقیدہ بھی یہی تھاکہ مجھے عیسیٰ ابن مریم ؑسے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی، آپ رسول تھے اورآپ مقربین خداوندی میں سے ہیں اورجب کبھی میری فوقیت جتانے کی خاطرمجھ پرکوئی نشانی ظاہرکی گئی تومیں نے اسے محض جزوی فوقیت ہی پرمحمول کیامگرجس وقت میرے اوپروحی الٰہی بارش کی طرح آناشروع ہوئی تومیں اپنے سابقہ عقیدے پرقائم نہ رہ سکاآخرکارمجھے صاف طورپراعزازنبوت بخش دیاگیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی ص،۱۴۹،اورص،۱۵۰)

اس باب میں مرزاصاحب کے متبعین کے نظریہ کوواضح کرنے کے لیے دوسرے قادیانی خلیفہ مرزابشیرالدین محمودکے مندرجہ ذیل اقتباس کوپیش کرناضروری سمجھاگیا:

’’ہمارایہ فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کومسلمان نہ سمجھیں اورنہ ہی ان کی اقتدا ئمیں نمازیں پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ اللہ کے ایک نبی کے منکرہیں۔‘‘

(انوارخلافت ص،۹۰)

عدالت سماعت مزیداس نتیجہ پرپہنچی کہ نبوت کے بارے میں قادیانی نظریہ دوسرے مسلمانوں کے عقیدہ کے سراسرخلاف ہے۔

مدعیہ کے فاضل وکیل نے عدالت سماعت کے سامنے مقدمہ نمبراے۔آئی۔آر ۔ ۱۹۲۳ئ مدراس کی نظیربھی پیش کی ہے جس میں قادیانیوں کومسلمانوں ہی کاایک فرقہ قرار دیا گیاہے۔ لیکن اس نظریہ کی بنایہ تھی کہ مرزاغلام احمدصاحب کے اعلان نبوت کواتناقلیل عرصہ گزراتھاکہ یہ کہناممکن نہیں تھاکہ مسلمانوں کی رائے عام قادیانیوں کومسلمان کہنے کے خلاف ہے۔ عدالت سماعت اس بات پربحث سے اس ہی نتیجہ پرپہنچی تھی کہ یہ بات بلاخوف وتردیدکہی جاسکتی ہے کہ احمدیوں کے علاوہ مسلمانوں کے ہرطبقہ خیال کے علمانے کسی نہ کسی موقع پرقادیانیوں کوغیرمسلم ہی قراردیاہے نہ کہ مسلمانوں میں ہی کاایک فرقہ۔ عدالت کے خیال میں یہ حقیقت ’’تنسیخ نکاح مرزائیاں‘‘ نامی اس پمفلٹ سے اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے جو۱۹۲۵ء میں’’اہل حدیث‘‘امرتسرکے دفترسے شائع ہواتھااورجواسلام کے مختلف فرقوں کے جیدعلما کے فتووں پرمشتمل تھا۔ اس مسئلہ کی اس سے بھی زیادہ وضاحت ۱۹۳۵ء کے مشہورمقدمہ مسماۃ عائشہ بنام عبدالرزاق میں فاضل ڈسٹرکٹ جج بہاول پورکے فیصلہ سے ہوجاتی ہے۔ یہ فیصلہ کتابی شکل میں بھی شائع ہواتھا۔ اس میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے متعدداختلافات پرفریقین اورفریقین کی جانب سے پیش کردہ مذہبی رہنماؤں کے بے شماردلائل اورفتوؤں کی روشنی میں سیرحاصل بحث کی گئی تھی۔ اسی ضمن میں عدالت سماعت نے اس حقیقت کاعدالتی نوٹس لینا ضروری سمجھاکہ قادیانیوں کے خلاف حالیہ ملک گیرایجی ٹیشن کے دوران احمدیوں کے سوامسلمانوں کے ہرمکتب فکرکے علماکی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں انھوں نے متفقہ طورپراعلان کیاکہ عرف عام(In the accepted sense) میں قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ ایک بالکل ہی جداگانہ دین کے پیر وہیں۔ لہٰذااس موقع پریہ بات بلاتامل کہی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کے کامل اتفاق رائے کی روسے قادیانی غیرمسلم ہیں۔ ایک اوربحث جومدعیہ کے فاضل وکیل نے چھیڑی، وہ یہ تھی کہ احمدی کم ازکم قرآن مجیدپرتوایمان رکھتے ہی ہیں لہٰذاانہیں اہل کتاب یامتبعین قرآن پاک کے زمرہ میں شامل کیاجاسکتاہے اور شریعت اسلامیہ میں مسلمان اوراہل کتاب کی شادی ناجائزنہیں ہے اورایسی شادی کوازدواجی تعلقات ہوجانے کی صورت میں ’’قانوناً‘‘ تسلیم کیاجاتاہے اورشوہرپرمہرکی ادایگی واجب ہوجاتی ہے۔

یہاں عدالت سماعت نے یہ بات مزیداختیارکی کہ مدعاعلیہ کے فاضل وکیل نے شریعت اسلامیہ کے متذکرہ بالااصول سے توکوئی اختلاف نہیں کیالیکن ان کے نزدیک قادیانیوں کواہل کتاب بھی شمارنہیں کیاجاسکتا۔ فریقین کے وکیل اس بات پرمتفق تھے کہ ’’اہل کتاب‘‘کی کوئی معین تعریف(definition)کہیں نہیں ملتی۔ اس اصطلاح کے لفظی معانی’’کسی الہامی کتاب کو ماننے والے‘‘کے ہیں۔ مدعیہ کی جانب سے اس بات پر پورازورِبحث صرف کیاگیاکہ قادیانیوں کاچونکہ قرآن مجیدپرایمان ہے لہٰذاوہ اہل کتاب ہیں مگرایساکہنے سے قادیانیوں کوغیرمسلم قراردینے کے نظریہ کی بنیادہی منہدم ہو جاتی ہے کیونکہ اگرایک مرتبہ یہ تسلیم کرلیاجائے کہ قادیانی قرآن مجیدپرایمان رکھتے ہیں تو پھر انہیں غیرمسلم قراردینے کی کوئی معقول وجہ جوازباقی نہیں رہتی ۔ مجھے یہ دلیل پسندنہ آئی۔ عدالت سماعت نے مزیدکہاکہ درحقیقت واقعہ یہ ہے کہ قرآن پر قادیانیوں کا ایمان مسلمانوں کی متفقہ تاویل وتشریح کے مطابق نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ اپنی مطلب بر آری کے لیے قرآنی آیات کے مطالب کوتوڑمروڑ کرپیش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھاجاتاہے۔ نیزقادیانی قرآن مجیدپراس طرح ایمان نہیں رکھتے ہیں جیساکہ تیرہ سوسال سے اس پرایمان رہاہے اوروہ اس پراس طرح سے ایمان نہیں رکھتے جیساکہ نبی اکرمؐ نے پیش کیابلکہ مرزاغلام احمدکے پیش کردہ مطالب قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ عیسائیوں نے بھی اپنی الہامی کتاب یعنی انجیل میں تحریفیں کی ہیں لیکن اس کے باوجودان کواہل کتاب ہی سمجھاگیاہے لیکن اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کواللہ کانبی مانتے ہیں لہٰذااس حقیقت کے باوجودکہ مسلمانوں کی نگاہ میں عیسائیوں نے کتاب الٰہی میں تحریفات کیں انہیں اہل کتاب ہی سمجھاگیا۔ عدالت سماعت کی نگاہ میں قادیانیوں کا معاملہ اس سے قطعاً مختلف ہے کیونکہ مسلمان مرزاغلام احمد صاحب کوہرگزخداکانبی تسلیم نہیں کرتے بلکہ نبوت کاجھوٹامدعی سمجھتے ہیں۔ ایسے جھوٹے مدعی نبوت کے پیروؤں کوکسی تخیلی کاوش سے اہل کتاب قرار نہیں دیا جاسکتاخصوصاًایسی حالت میں جب کہ وہ قرآن پرانہی معنوں میں ایمان نہیں رکھتے جیسا کہ مسلمانوں کا سوادا عظم رکھتاہے ۔ جیسا کہ خودقرآن مجیدکے پہلے پارے میں ارشاد ہے کہ اس کتاب سے صرف وہی لوگ ہدایت پاسکتے ہیں جواس چیز پر ایمان رکھتے ہوں جونبی اکرمؐ پرنازل ہوئی اوراس چیزپرجسے آپ سے پہلے کے انبیاپرنازل کیاگیا۔ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ۔ عدالت سماعت کی رائے میں ان الفاظ کی روسے یہ کتاب (قرآن) ان لوگوں کے لیے ہدایت کاکوئی سامان نہیں رکھتی جو آنحضرتؐ کی وفات کے بعدبھی کسی وحی کے آنے پراعتقادرکھتے ہوں۔ اس کتاب پر قادیانیوں کاایمان چونکہ مرزاغلام احمدصاحب کے مزعومہ الہامات کے مطابق ہے لہٰذا عدالت کی نگاہ میں مدعیہ کے فاضل وکیل کے دلائل میں کوئی وزن نہیں اورقادیانی اہل کتاب بھی نہیں سمجھے جاسکتے۔ مدعیہ علیہ کے ساتھ شادی کے وقت غیرمسلم تھی اس لیے فریقین کی شادی قطعاًباطل تھی اور از دواجی تعلقات کاہونابھی اس کوجوازنہیں بخش سکتا، لہٰذامہر‘قانونی لحاظ سے ناقابل بازیابی ہے۔ یاد رہے کہ احمدیوں کی لاہوری شاخ مرزاصاحب کونبی نہیں مانتی بلکہ صرف مجددمانتی ہے۔

اس مقدمہ میں پیش آمدہ سوالات بڑے دوررس نتائج کے حامل ہیں اورروزمرہ کے واقعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری معززعدالت عالیہ لاہورکی طرف سے ابھی تک کوئی ایسی قانونی سندیانظیرموجودنہیں جس میں اس نکتہ پرمستندفیصلہ کیاگیاہو۔ مدعیہ کے فاضل وکیل میاں عطاء اللہ نے فسادات کی جس تحقیقاتی رپورٹ کاحوالہ دیاہے اورجس پر انحصار کیا ہے اس سے ظاہرہوتاہے کہ مرزاغلام احمدصاحب ضلع گورداس پورکے قادیان نامی ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے فارسی اورعربی کی تعلیم گھرپرہی حاصل کی اوران کے مغربی تعلیم حاصل کرنے کاکوئی ثبوت نہیں ملتا۔ وہ ۱۸۶۴ء میں سیالکوٹ کی ضلع کچہری میں محررمقررہوئے جہاںانھوں نے چارسال ملازمت کی۔ مارچ ۱۸۸۲ء میں انھوں نے دعویٰ کیاکہ انہیں ایک ’’الہام‘‘کے ذریعے بتایاگیاہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ایک خاص مشن پرمقررکیے گئے ہیں۔ باالفاظ دیگروہ’’مامورمن اللہ‘‘ہیں۔۱۸۸۸ء میں ایک اور الہام کے تحت اپنے وابستگان سے بیعت کامطالبہ کیااور۱۸۹۰ء کے اختتام کے قریب پھر ایک ’’الہام‘‘ہواجس میں بتایا گیاکہ مسیح ناصری یعنی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے نہ تو صلیب پروفات پائی اورنہ ہی انہیں آسمان پراٹھالیاگیاتھابلکہ ان کوان کے حواریوں نے زخمی حالت میں صلیب پرسے اتارلیاتھااورپھران کے زخم اچھے ہوگئے۔ اس کے بعدآپ چھپ کرکشمیرچلے گئے جہاں آپ طبعی موت مرے اوریہ عقیدہ کہ وہ قیامت کے قریب اپنی اصل جسمانی حالت میں دوبارہ نزول فرمائیں گے،غلط ہے۔ آپ کے ظہورثانی کے وعدہ کامطلب محض یہ ہے کہ ایک شخص عیسیٰ ابن مریم کی صفات کاحامل ہوگا ۔ پیغمبراسلام ہی کی امت میں سے ظاہرہوگا،سواب اس وعدہ کی تکمیل خودمرزاصاحب کی بعثت کی صورت میں ہوچکی ہے جومثل عیسیٰ ہونے کے سبب مسیح موعودہیں۔ اس عقیدہ کی تشہیرسے مسلمان بھڑک اٹھے کیونکہ یہ ان کے اس مسلمہ عقیدے، کہ عیسیٰ ابن مریم اپنی اصل جسمانی حالت میں آسمان سے دوبارہ ظہورفرمائیں گے، کے خلاف تھا۔ چنانچہ مسلمان علما میں اس نظریہ کے خلاف شدیدمخالفت پیداہوگئی۔پھراس کے بعدمرزاصاحب نے مہدی موعودہونے کادعویٰ بھی کردیا۔ وہ مہدی نہیں جوجنگ وقتال کرے گابلکہ ایک ایسامہدی جواپنے دلائل سے مخالفین کوختم کردے گا۔۱۹۰۰ء میں مرزاصاحب نے ایک مزید عقیدہ لوگوں کے سامنے یہ پیش کیاکہ اب جہادبالسیف باقی نہیں بلکہ اب جہادصرف مخالفین کودلائل سے قائل کرنے کی کوششوں تک محدودہوگا۔ ۱۹۰۱ئ میں مرزاصاحب نے ’’ظلی‘‘ نبوت کادعویٰ کیااور’’ایک غلطی کاازالہ‘‘نامی اشتہارکے ذریعے عقیدہ ختم نبوت کی تشریح یوں کی کہ پیغمبراسلام کے بعدکوئی نبی ایسانہیں ہوگاجونئی شریعت لے کرآئے لہٰذا کسی غیرتشریعی نبی کی آمدختم رسالت کے عقیدہ کے منافی نہیں ہے۔ نومبر۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ کے ایک عام جلسے میں مرزا صاحب نے مثیل کرشن ہونے کادعویٰ بھی کیا۔

جماعت احمدیہ کی تاسیس ۱۹۰۱ء میں عمل میں آئی اوراس وقت مرزاصاحب ہی کی درخواست پرمردم شماری کے کاغذات میں اس جماعت کومسلمانوں کے ایک علیحدہ فرقہ کی حیثیت سے ظاہرکیاگیا۔

مرزاغلام احمدصاحب کے متبعین کے محولہ بالاچندمخصوص عقائداورنظریات نے مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان شدیدمذہبی اختلافات کھڑے کردئیے۔ تحقیقاتی عدالت کے معززججوں نے اپنی رپورٹ میں مزیدیہ کہاہے کہ احمدیہ فرقہ کے بانی مرز غلام احمد صاحب کے دعویٰ نبوت نے امت مسلمہ میں ایک ہیجان برپاکردیا اور مسلمانوں کی رائے میں ان کے اس عقیدے نے انہیں دائرہ اسلام سے قطعی خارج کردیا۔ ایک عام طورپرتسلیم شدہ حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت اوررہنمائی کی خاطرجوانبیا مامورفرمائے ان کی تعدادایک لاکھ چوبیس ہزارہے اورمسلمان آنحضورؐ کوانبیاکے اس سلسلے کا آخری نبی مانتے ہیں۔ ان انبیامیں سے بعض کے نام خاص طورپرقرآن حکیم اورانجیل میں بیان کیے گئے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے یہ معانی کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پرختم ہوگئی اورآپؐ کے بعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔ قرآن مجیدکی مندرجہ ذیل آیات سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔

لوگو!محمد ؐتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگروہ اللہ کے رسول اورخاتم النبیین ہیں اوراللہ ہرچیزکاعلم رکھنے والاہے۔ الاحزاب 40:33

یادکرو!اللہ نے پیغمبروں سے عہدلیاتھاکہ ’’آج ہم نے تمہیں کتاب اورحکمت و دانش سے نوازاہے کل اگرکوئی دوسرارسول تمہارے پاس اس تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جوپہلے سے تمہارے پاس موجودہے توتم کواس پرایمان لاناہوگااوراس کی مددکرنی ہوگی‘‘یہ ارشادفرماکراللہ تعالیٰ نے پوچھا’’کیاتم اس کااقرارکرتے ہواوراس پرمیری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟‘‘انھوں نے کہاہاںہم اقرارکرتے ہیں۔اللہ نے فرمایا ’’اچھاتوگواہ رہواورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ آل عمران 81:3

آج کافروں کوتمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے لہٰذاتم ان سے نہ ڈرو‘بلکہ مجھ سے ڈرو‘آج میں نے تمہارے دین کوتمہارے لیے مکمل کردیاہے‘اوراپنی نعمت تم پرتمام کردی ہے اورتمہارے لیے اسلام کوتمہارادین چن لیاہے۔ المائدہ 3:5

اس کے علاوہ متعدداحادیث اورقرون اولیٰ کی جن مستندتفاسیرسے استدلال کیا گیا ہے، وہ سب اس مطلب کی ہیں کہ ہمارے نبی اکرمؐ کے بعدکوئی نیانبی آنے والانہیں۔

لیفٹیننٹ نذیرالدین کے فاضل وکیل شیخ ظفرمحمودنے اپنی بحث میں رسالہ طلوع اسلام جولائی ۱۹۵۴ء پمفلٹ ’’نکاح مرزایاں‘‘رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ نومبر۱۹۵۳ء اور ’’قادیانی مسئلہ ‘‘ازمولاناابوالاعلیٰ مودودی سے استدلال کیاہے۔

میاں عطاء اللہ نے رسالہ’’طلوع اسلام‘‘جولائی ۱۹۵۴ء ’’ختم نبوت کی حقیقت ‘‘ ازمرزابشیراحمدایم۔اے(برادرخوردمرزابشیرالدین محمودخلیفہ ثانی مرزاغلام احمدصاحب) ’’الحق ‘‘عرف مباحثہ لدھیانہ ’’ازبانی فرقہ احمدیہ‘‘،’’حقیقۃ الوحی‘‘ازبانی سلسلہ احمدیہ‘ فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء پرتحقیقاتی عدالت کی رپورٹ ‘مولاناابوالاعلیٰ مودودی کے قادیانی مسئلہ کاقادیانیوں کی طرف سے جواب’’تحقیقاتی عدالت میں مرزابشیرالدین محمودکابیان‘‘، ’’مقدمہ بہاولپور‘‘ازجلال الدین شمس احمد’’تصدیق احمدیت‘‘ازبشارت احمدوکیل حیدر آباد دکن ’’حقیقۃ الوحی‘‘چوتھاایڈیشن ۱۹۵۰ء تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پرایک نظر‘ازجلال الدین شمس صدرانجمن احمدیہ پاکستان کے مفصل حوالے پیش کیے ہیں انھوں نے میری توجہ خاص طورپرقادیانیوں کے اس نقطہ نظرکی جانب مبذول کرائی ہے جس کااظہاراحمدیہ کمیٹی کے فاضل وکیل مسٹرعبدالرحمن خادم نے تحقیقاتی عدالت کے روبروکیاتھا۔ وہاں خادم صاحب نے قرآن مجیدکی حسب ذیل آیات سے استدلال کیاتھا۔

جواللہ اوررسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے‘ جن پراللہ نے انعام فرمایاہے یعنی انبیا (جوتعلیم دیتے ہیں) اورصدیقین (جوصداقت کے شیدائی ہیں) اورشہدا (جوگواہی دیتے ہیں) اورصالحین (جونیک کام کرتے ہیں) کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جوکسی کومیسرآئیں۔ النسائ 89:4

اورجولوگ اللہ پراوراس کے رسولوں پرایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اورشہیدہیں ان کے لیے ان کااجراوران کانورہوگااورجولوگ کافر ہوئے اورہماری آیتوں کوجھٹلایایہی لوگ دوزخی ہیں۔ الحدید 19:57

اے بنی آدم!یادرکھو‘اگرتمہارے پاس خودتم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنائیں‘ توجوکوئی نافرمانی سے بچے گااوراپنی اصلاح کرلے گااس کے لیے کسی خوف اوررنج کاموقع نہیں ہے۔ الاعراب 37:7

اے نبیو!تمام پاکیزہ اوراچھی چیزوں سے مستفیدہو۔ نیک کام کروکیونکہ جوکچھ تم کرتے ہومیں اس سے پوری طرح باخبرہوں۔ المومنون 91:32

بحث اوردلائل کے عمل سے مندرجہ بالاآیات سے یہ ثابت کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ مستقبل میں یعنی آنحضرت ؐکے بعدبھی ایسی ہستیاں پیداہوتی رہیں گی جن پر’’نبی‘‘ اور ’’رسول‘‘کے الفاظ کااطلاق ہوسکے گااوران دلائل کومزیدمضبوط بنانے کی خاطرکچھ احادیث‘کچھ تفاسیراورکچھ قابل احترام روحانی مرتبہ کے بزرگوں کے اقوال سے بھی استدلال کیاگیاہے۔ اگرچہ اس بات کوتونہیں جھٹلایاگیاکہ مرزاغلام احمدصاحب نے اپنے لیے نبی کالفظ استعمال کیاتھاتاہم یہ بحث کی گئی ہے کہ انھوں نے اس لفظ کوایک مخصوص مفہوم میں استعمال کیاتھانہ کہ اس کے اصطلاحی مفہوم میں اوروہ کوئی ایسے شخص نہیں تھے جواللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تازہ پیغام لے کرآئے ہوں جوپہلے سے نازل شدہ کسی حکم کی ترمیم وتنسیخ کرتاہونیزان کادعویٰ ’’ظلی‘‘اور’’بروزی‘‘نبوت کاتھانہ کہ تشریعی نبوت کا۔ فریق مخالف نے اس بات پرزوردیاکہ’’بروزی‘‘اور’’ظلی‘‘جن کاترجمہ’’جسمانی ظہور‘‘ کیا جاسکتاہے اسلامی عقائدکے لیے اجنبی ہیں اورہروہ شخص جوایک ایسی چیزکے حامل ہونے کادعویٰ کرے جس کو’’وحی نبوت‘‘سے تعبیرکیاجاسکے بہرحال ایک نئی امت کی تشکیل کرتاہے اور آپ سے آپ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔ چنانچہ مرزاغلام احمد صاحب‘ ان کے فرقہ کے موجودہ سربراہ اوراس فرقہ کے نمائندہ مصنفین کی متعددتحریروں کی مدد سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مرزاصاحب نے ایسے الہامات یاوحی پانے کادعویٰ کیاتھا جواللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرات انبیا کرام علیہم السلام کے لیے خاص ہے۔لہٰذااب ساری بحث سمٹ کراس سوال پرآجاتی ہے کہ آیامرزاصاحب نے کبھی ایسی وحی کی یابندگی کادعویٰ کیاجسے وحی نبوت سے موسوم کیاجاسکے؟ ماضی میں جب بھی کوئی نبی آیااس نے لوگوں پرکہ جن کے درمیان اس کی بعثت ہوئی ایک ذمہ داری عائدکی (جس طرح ہمارے نبی اکرمﷺ نے ساری انسانیت پرآپ ﷺکے دعوے کوپرکھنے اوراس پرایمان لانے کی ذمہ داری ڈالی) اور اپنی نبوت کاانکارکرنے پرانہیں آخرت کے مواخذہ کامستحق ٹھہرایا۔ لہٰذاوہ لوگ اپنے آپ کو مجبورپاتے ہیں کہ یاتواس کے دعوائے نبوت کوتسلیم کریں یاپھرکھلے بندوں اسے رد کردیں۔ ایسے کسی دعوے کوقبول کرنے والوں پرمشتمل ایک نئی مذہبی برادری معرض وجودمیں آجاتی تھی جسے پچھلے عقیدہ کے حامل لوگ اپنے سے خارج سمجھتے تھے اورنئی جماعت ان لوگوں کواپنی برادری سے باہر تصور کرنے لگتی تھی جواس کے نبی پرایمان نہیں لاتے تھے۔ مرزاصاحب نے بھی لوگوں کی طرف اسی ہدایت کے ساتھ اپناہاتھ بڑھایاکہ وہ اسے قبول کریں مگرمسلمانوں نے مرزاغلام احمدکے دعوائے نبوت کومسیلمہ کذاب کی مانندسمجھا۔ اپنی اولین تحریروں میں مرزا صاحب نے صاف صاف الفاظ میں یہ تسلیم کیاتھا کہ مسلمان ہونے کے لیے اسلام کے بنیادی عقائد پرایمان لاناضروری ہے۔ اپنی کتاب ’’ایام صلح‘‘ میں احمدیہ فرقہ کے بانی نے خودیہ تحریرکیاکہ اہل سنت کے بنیادی عقائد جن پرعام مسلمانوں کااجماع ہے‘اسلام ہے جس پرایمان لانے کے مسلمان پابند ہیں۔ ایک دوسری کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں انھوں نے لکھاکہ جوشخص شریعت سے سرموبھی تجاوز کرے اوران اصولوں کواپنانے سے انکار کرے جن پرامت کااجماع ہے تووہ اللہ‘ اس کے فرشتوں اورتمام انسانوں کی لعنت کا مستحق ہے۔ اوران کااسی بات پرپختہ عقیدہ تھاپھر کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘کے صفحہ۲۳۰پر لکھتے ہیں کہ تواتر (جو لوگوں کا مسلسل عقیدہ رہاہو) کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔ اس کے تھوڑے عرصہ بعدہی مرزاصاحب نے خوداپنی ہی نبوت کا دعویٰ کھڑاکردیا۔ ان کی اس ’’نبوت‘‘کی نوعیت خودان کے اپنے اوران کے جانشینوں اور پیروکاروں کے اعلانات‘ہدایات اور تحریرات کی روشنی میں حسب ذیل ہے۔

۱۔’’حقیقۃ الوحی‘‘کے ایک الہام میں دعویٰ کیاکہ خدانے انہیں’’محمد‘‘اوررسول کے الفاظ سے خطاب فرمایاہے۔

۲۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایاکہ قرآن وحدیث کی پیشین گوئیاں انہیں کے بارے میں ہیں اورآیت’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی‘‘انہیں کے متعلق ہے۔

(اعجاز احمدی ،ص۷۱)

۳۔’’ضمیمہ براہین احمدیہ‘‘کے صفحہ۱۳۹پراعلان کیاکہ لفظ ’’نبی‘‘کے معانی پرآج تک کسی نے غورنہیں کیااوریہ کہ اس لفظ سے مرادصرف ایساہی شخص ہے جواپنے ساتھ مکالمہ کرنے والے خداکی بھیجی ہوئی وحی کے ذریعے اس کی خبریں لوگوںتک پہنچائے۔ ایسے شخص کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ صاحب شریعت ہواورنہ ہی اس پریہ لازم ہے کہ وہ کسی صاحب شریعت نبی کاپیروہونیزروزحشرتک تمام انسانوں کومرتبہ نبوت کے حصول سے محروم کردئیے جانے کی کوئی تک نہیں۔ جودین لوگوں کااس قسم کی باتیں سکھائے وہ لائق مذمت ہے اورجوانسان اس طرح کی چیزوں کاڈھنڈورا پیٹتا پھرے وہ اللہ کانبی نہیں ہوسکتاالبتہ شیطان کاپیغامبر ضرور ہوسکتا ہے۔ یہ باتیں اسلام اور رسول مقبولﷺ کی کھلی توہین ہیں۔

۴۔’’دافع البلا‘‘کے صفحہ ۱۱پرلکھاکہ سچاخداوہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔

۵۔’’حقیقۃ الوحی‘‘کے صفحہ۱۴۹۔۱۵۰پرلکھاکہ پہلے میراعقیدہ یہ تھاکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاہمسرنہیں ہوسکتاکیونکہ وہ رسول تھے مگربعدازاں جب مجھ پروحی کی بارش ہوئی مجھے اپنے سابقہ عقیدے کوترک کرناپڑا۔ اب اللہ مجھے رسول کہہ کرپکارتاہے اورمجھے اس نے واضح طورپراپنارسول مقررکیاہے۔

۶۔’’ازالہ اوہام ‘‘کے پہلے ایڈیشن کے صفحہ ۶۳۳پرخودکورسول احمدکہاہے اوراپنامرتبہ قرآن سے جتانے کی سعی کی ہے۔اسی کتاب کے صفحہ۶۶۵پراپنے آپ کومسیح موعودبتایاہے اور’’معیارالاخیار‘‘کے صفحہ ۱۱پرخودکومتعددانبیا کرام سے افضل کہا ہے۔ ’’خطبہ الہامیہ‘‘کے صفحات ۱۹ / اور۳۵پراپنے آپ کوانسانیت کے بلندترین مقام کاحامل بتایاہے۔ اپنی تقریرسیالکوٹ کے صفحہ ۳۳پرمسلمانوں کے لیے مسیح ومہدی اور ہندوؤں کے لیے کرشن مہاراج ہونے کادعویٰ کیاہے۔ ’’دافع البلا‘‘کے صفحہ ۱۳پریہ لکھ کرحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پراپنی فوقیت کادعویٰ کیاہے کہ حسین علیہ السلام اپنے دشمنوں کے ہاتھوں مارے گئے مگروہ (یعنی مرزاصاحب) شہیدمحبت (خداکی محبت) ہیں۔ پھرحضرت عیسیٰ ؑکے اہل خاندان کی بے حرمتی ان الفاظ میں کی ہے کہ آپ علیہ السلام کی تین دادیاں اورتین نانیاں بدکارعورتیں تھیں نیزآپ علیہ السلام عادی کذاب اوردروغ گوتھے اورآپ علیہ السلام کے پاس دجل وفریب اورمسمریزم کے سواکچھ نہیں تھا۔

۷۔غیرمبہم اورواضح اندازمیں اپنی نبوت کادعویٰ کیااورکہاکہ میں نبی ہوں اوراس اُمت میں نبی کالفظ صرف میرے ہی لیے خاص ہے۔ (حقیقۃ الوحی، ص۳۹۱)

مجھے وحی آئی ہے اورمجھے اللہ نے رسول بناکربھیجاہے(ایضاً)

میں وحی کے بغیرکچھ نہیں کہتا(اربعین جلد۳)

اللہ نے مجھے بتایاہے کہ بلاشبہ میں اس کارسول ہوں (ایضاً،ص۱۰۷)

اللہ نے اورکسی انسان کووہ عزت نہیں بخشی جومجھے بخشی ہے۔(ایضاً،ص۱۰۶)

اللہ نے مجھے کوثرعطافرمایاہے۔(ضمیمہ انجام آتھم ،ص۳۵)

اپنے آپ کوسچااوراصل خداکہہ کراللہ تعالیٰ کادرجہ دیااورکہاکہ میں یقین کے ساتھ کہتاہوں کہ میں ہی خداہوں اورمیں نے ہی یہ زمین وآسمان پیداکیے ہیں۔ (آئینہ کمالات ص۵۶۴‘۵۶۵)

ہروہ شخص جوان پران کی اپنی بیان کردہ حیثیت میں ایمان نہیں لاتاوہ کافرہے۔ (حقیقۃ الوحی ،ص۱۶۳)

ان کے متبعین کے لیے ان کاانکارکرنے والوں کی اقتدامیں نمازیں پڑھناممنوع ہے۔ (فتاوی احمدیہ جلدنمبراص۱۸)

خدانے انہیں اپنابیٹاکہہ کرمخاطب کیا۔(البشارۃ ص۴۹)

اللہ نے بتایاکہ اگروہ انہیں پیدانہ کرتاتواس کائنات ہی کوپیدانہ کرتا۔ (حقیقۃ الوحی ص۹۹)

مرزاصاحب کے ان دعاویٰ کی بناپر۱۹۲۵ء میں تمام فرقوں کے علما سے ایک فتویٰ حاصل کیاگیاجس پرعدالت سماعت نے اعتمادکیاہے۔

۸۔مرزاغلام احمدکے مذکورہ بالااعلانات نبوت کوان کے جانشین اوراحمدیہ فرقہ کے موجودہ سربراہ مرزابشیرالدین محمودکی طرف سے مسلسل دہرایاجاتارہاہے۔ اپنی کتاب ’’حقیقت نبوت‘‘کے صفحہ ۲۲۸پرمرزامحمودنے لکھاہے کہ یہ امرروزروشن کی طرح ایک مسلمہ حقیقت کاروپ دھارچکاہے کہ پیغمبراسلام کے بعدنبوت کادروازہ بند نہیں ہوا۔ ’’انوار خلافت‘‘میں انھوں نے کہاہے کہ مسلمانوں نے غلط طورپریہ سمجھ رکھاہے کہ خدا کے خزانے خالی ہوچکے ہیں۔ انہیں اللہ کی قدرت کااندازہ ہی نہیں ورنہ ایک توکیامیں یقین سے کہتا ہوں کہ ہزاروں انبیا اورآئیں گے۔اپنی اسی کتاب کے صفحہ۶۵پراحمدیوں کے موجودہ سربراہ نے لکھاکہ اگراس کی گردن کے دونوں جانب تلواریں رکھ کراس سے یہ بیان کرنے کو کہا جائے کہ پیغمبراسلامﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں ہوگاتووہ یہی کہے گا (کہ ایسے بیان کامطالبہ کرنے والا) شخص جھوٹاہے کیونکہ نبی کریمﷺ کے بعدانبیا کی بعثت ہوسکتی ہے اور بالیقین نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ اس طرح مرزاغلام احمدصاحب نے نت نئے نبیوں کے ظہور کادروازہ کھولااورقادیانی جماعت نے مرزاغلام احمدصاحب کوسچانبی مانا۔ اس مسئلہ پرحسب ذیل مثالیں پیش کی ہیں:

الف۔۵مارچ ۱۹۰۸ء کے’’بدر‘‘میں مرزاغلام احمدصاحب نے لکھاکہ انہیں اللہ کے حکم سے نبی بنایاگیاہے۔

ب۔مرزابشیرالدین نے’’حقیقت نبوت‘‘کے صفحہ۱۷۴پرلکھاکہ مرزاغلام احمد صاحب ’’نبی‘‘کی اصطلاح کی معروف تعبیراورشریعت کے مطابق نبی تھے، وہ مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی تھے۔

اس نوع کی نبوت کے دعوے کایہ لازمی تقاضاہے کہ جوکوئی مدعی کے اعلان کردہ مرتبہ کوتسلیم کرنے سے انکارکرے وہ کافرقرارپائے۔بیان بھی یہی کیاگیاہے کہ قادیانی ان سارے مسلمانوں کوکافرقراردیتے ہیں جومرزاغلام احمدصاحب کی حقیقی نبوت پر ایمان نہیں لاتے۔ اس نکتہ کی وضاحت میں مندرجہ ذیل مثالیں پیش کی ہیں:

۱۔’’کل مسلمان جوحضرت مسیح موعودکی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعودکانام بھی نہیں سنا، وہ کافرہیں اوردائرہ اسلام سے خارج ہیں‘‘

(مرزابشیرالدین محمود، آئینہ صداقت ص۳۵)

۲۔’’ہروہ شخص جوموسیٰ پرتوایمان رکھتاہے مگرعیسیٰ پرایمان نہیں لاتایاعیسیٰ پرتوایمان رکھتاہے مگرمحمدﷺپرایمان نہیں لاتایاپیغمبراسلامﷺ پرتوایمان رکھتاہے لیکن مرزاغلام احمدصاحب پرایمان نہیں لاتاوہ کافرہے اوردائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(ریویوآف ریلجنز،ص۱۱۰)

۳۔سب جج گورداسپورکی عدالت میںمرزابشیرالدین محمودنے حسب ذیل بیان دیاجو’’الفضل‘‘مورخہ۲۶۔۲۹جون ۱۹۲۲ء میں یوں شائع ہوا۔

ہم مرزاصاحب پرایمان رکھتے ہیں جب کہ غیراحمدی ان پرایمان نہیں رکھتے اور قرآن کی تعلیمات کی روسے کسی نبی کاانکارکفرہے لہٰذاتمام غیراحمدی کافرہیں۔

۹۔مرزاصاحب نے درج ذیل اشعارکہے ہیں:

(الف)منم مسیح زماں و منم کلیم خدا

منم محمد و احمد کہ مجتبی باشد!

(ب)میں کبھی موسیٰ کبھی عیسیٰ کبھی یعقوب ہوں

نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

یہ ہے وہ مرتبہ ومنصب جس کے مرزاصاحب دعوے دارہیں اوراس مرتبہ کا انکار کرنے والوں کوکافرقراردیتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے اس عقیدہ کواپنی نبوت کی تائید کاذریعہ بنانے کی سوچی کہ حضرت عیسیٰ کی صلیب پروفات نہیں ہوئی بلکہ وہ چوتھے آسمان پر زندہ ہیں جہاں سے یوم حشرسے قبل آپ کازمین پرنزول ثانی ہوگااوریہ نزول قرب قیامت کی علامات میں سے ہے۔ چنانچہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کامرتبہ اپنے لیے مختص کیااورمسیح موعودکالقب اختیارکیا۔ یہ ان کے سلسلہ الہامات کے دوسرے مرحلہ کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کا ایک اورعقیدہ یہ بھی ہے کہ قیامت سے قبل حضرت امام مہدی تشریف لائیں گے۔ چنانچہ مرزاصاحب نے اپنے لیے مہدی موعودکے منصب کابھی دعویٰ کیا۔ وہ یہ حقیقت جانتے تھے کہ گذشتہ چودہ صدیوں میں مسیلمہ کذاب اوراس قماش کے جس کسی فردنے بھی نبوت کا دعویٰ کیاہے اسے مسلمانوں نے برداشت نہیں کیااس لیے انھوں نے ’’مہربان حکومت انگلشیہ‘‘کی محافظت کاسہاراتلاش کیا۔ تحقیقاتی عدالت کے فاضل ججوں نے اس نکتہ پر حسب ذیل تبصرہ ہے:

’’اس قسم کے تفرقات انگریزوں کے لیے مفیدطلب تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے محکومین ایسے جھگڑوں میں اس حدتک الجھے رہیں جہاں تک ملکی امن وامان کوکسی خطرے کا اندیشہ نہ ہو۔ اگرلوگ ایک دوسرے کوجنت وجہنم میں بھیجنے کے بارے میں باہم اس طرح دست وگربیاں رہیں کہ نہ توان میں کوئی سرپھٹول ہواورنہ ہی وہ دنیاوی مفادات کاکوئی مطالبہ کریں توانگریزاس قسم کے نزاعات کاپورے سکون و استقلال بلکہ تسکین خاطرکے ساتھ تماشادیکھتے رہتے تھے۔ مگرجونہی انھیں کوئی فریق آمادہ پیکاردکھائی دیتاتووہ سخت گیر اورغیرمصالحت پسندانہ پالیسی اختیارکرلیتے۔ مرزاصاحب برطانوی راج کی اس برکت کی پوری قدرجانتے تھے جوایسے بحث مباحثوں کی نہ صرف اجازت دیتاتھابلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتاتھااورتحریک احمدیہ کے بانی اوراس تحریک کے رہنماؤں کے خلاف غیراحمدی حضرات کوایک خاص شکایت ان کاانگریزوںکی انتہائی خوشامد اور کاسہ لیسی کایہ طرزعمل بھی ہے۔‘‘

قادیانی فرقہ کے بانی کوظہوراسلام کے بعدمسیلمہ کذاب اوردیگرمدعیان نبوت کا حشرمعلوم تھااس لیے یہ فرقہ اپنی ’’نبوت ‘‘کے قیام واستحکام کی خاطرتاج برطانیہ کے سایہ محافظت اورسرپرستی کاشدیدمحتاج تھا۔ اس ضمن میں مرزاغلام احمدصاحب کی ان تحریروں کا حوالہ دیاگیاہے۔

۱۔’’ملفوظات احمدیہ ‘‘کی پہلی جلدکے صفحہ۱۴۶پرمرزاغلام احمدصاحب رقم طراز ہیں:

’’برطانوی حکومت بے شمارپہلوؤں سے ہماری خیرخواہ ثابت ہوئی ہے اگرہم اس جگہ کوچھوڑدیں توہمارے لیے نہ مکہ میں جگہ ہے اورنہ ہی قسطنطنیہ میں۔ پھربھلاہم حکومت برطانیہ کے برخلاف اظہارخیال کاکیسے تصورکرسکتے ہیں۔‘‘

۲۔’’تبلیغ رسالت‘‘جلد۶صفحہ۹۶پرمرزاغلام احمدصاحب نے لکھا:

’’میں اپنے کام کونہ تومکہ میں رہ کرجاری رکھ سکتاہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں ایران میں اورنہ ہی کابل میں رہ کر۔میں توہندوستان میں انگریزی راج کے دوام کادعاگوہوں۔‘‘

۳۔اسی کتاب کی دسویں جلدکے صفحہ ۱۳۲پرمرزاغلام احمدصاحب نے کہاکہ اگر قادیانی تاج برطانیہ کے’’سایہ عاطفت‘‘سے نکل جائیں توانہیں اورکہاں پناہ ملے گی؟

ان ہی وجوہات کے تحت پاکستان کے بارے میں قادیانیوں کے رویہ کالُب لُباب تحقیقاتی عدالت کے معززججوں نے اپنی رپورٹ کے صفحہ۱۹۶پراس طرح بیان کیاہے:

’’۱۹۱۸ء کی پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکی کی شکست اوربغدادپربرطانوی قبضہ ہو جانے پرقادیان میں جوجشن فتح منایاگیا۔ اس نے مسلمانوں میں سخت ناراضگی اوربرہمی پیدا کردی اوراحمدیت کوانگریزوں کی لونڈی سمجھاجانے لگا۔ جب افق پرملک کی تقسیم کے ذریعے مسلمانوں کے لیے جداگانہ وطن والے واقعات کے تصورسے تشویش ہونے لگی۔ ان کی ۱۹۴۵ء سے ۱۹۴۷ء کے اوائل تک بعض تحریروں میں انگریزوں کے جانشین بننے کی توقعات کی جھلک پائی جاتی ہے مگرجب پاکستان کا دھندلا سا تصورایک متوقع حقیقت کا روپ دھارنے لگاتوایک نئی مملکت کے نظریہ سے خود کو مستقلاً ہم آہنگ کرنے کے لیے انہیں قدرے مشکلات محسوس ہوئیں اس وقت وہ سخت گومگوکی کیفیت سے دوچارتھے کیونکہ اپنے قیام کی خاطرنہ توہندوستان ہی کاانتخاب کرسکتے تھے جوایک ہندولادینی ریاست بننے کوتھااورنہ ہی پاکستان کاکہ اس میں فرقہ بندی کی حوصلہ افزائی کی امیدنہ تھی ان کی بعض تحریروں سے یہ بات بھی ظاہرہوتی ہے کہ وہ تقسیم کے خلاف تھے اوران سے یہ بھی ظاہر ہوتا تھاکہ اگرتقسیم معرض عمل میں آبھی گئی تووہ برصغیرکے دوبارہ اتحادکے لیے جدو جہد کریں گے۔ یہ سب کچھ محض اس امرواقعہ کے سبب سے تھاکہ احمدیت کے گڑھ‘ قادیان کے غیریقینی مستقبل کااحساس ان کے اندرابھرناشروع ہوگیاتھاجس کے متعلق مرزاصاحب کی متعددپیشین گوئیاں تھیں۔‘‘

یہی کچھ اغراض تھیں جن کے تحت مرزاصاحب نے تیرہ سوسال پرانے اسلامی نظریہ جہاد کومسنوخ کرناچاہاتھااوراعلان کیاکہ اب سے جہادبالسیف نہیں ہوسکتابلکہ جہاد اب صرف ان ہی کوششوںتک محدودہوگاجومخالفین کودلائل سے قائل کرنے کے واسطے کی جائیں۔

جہادکی حدودوشرائط قرآن کی مندرجہ ذیل آیات میں ملتی ہیں:

اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ عَلٰي نَصْرِہِمْ لَقَدِيْرُۨo الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللہُ۝۰ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْہَا اسْمُ اللہِ كَثِيْرًا۝۰ۭ وَلَيَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌo الحج 39-40:22

اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کوجن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اوراللہ یقیناً ان کی مددپرقادرہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جواپنے گھروں سے ناحق نکال دئیے گئے صرف اس قصورپرکہ وہ کہتے تھے ’’ہمارارب اللہ ہے‘‘اگراللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتارہے توخانقاہیں اورگرجااورمعبداورمسجدیں‘جن میں اللہ کاکثرت سے نام لیا جاتا ہے‘ سب مسمارکرڈالی جائیں۔ اللہ ضروران لوگوں کی مددکرے گاجواس کی مدد کریں گے۔ اللہ بڑا طاقتوراورزبردست ہے۔

فَاِنِ انْتَہَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلہِ۝۰ۭ فَاِنِ انْتَہَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَي الظّٰلِـمِيْنَo اَلشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ۝۰ۭ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ۝۰۠ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَo وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّہْلُكَۃِ۝۰ۚۖۛ وَاَحْسِنُوْا۝۰ۚۛ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَo البقرہ 192-195:2

اورتم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو‘جوتم سے لڑتے ہیں مگراللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان سے لڑوجہاں بھی تمہاراان سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالاہے۔ اس لیے کہ قتل اگرچہ براہے مگرفتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اورمسجدحرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں‘ تم بھی نہ لڑو‘ مگرجب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں توتم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزاہے پھر اگر وہ بازآجائیں توجان لوکہ اللہ معاف کرنے والااوررحم فرمانے والاہے۔

وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلہِ۝۰ۭ فَاِنِ انْتَہَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَي الظّٰلِـمِيْنَo البقرہ 193:2

تم ان سے لڑتے رہویہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اوردین اللہ کے لیے ہوجائے پھراگروہ بازآجائیں توسمجھ لوکہ ظالموں کے سوااورکسی پردست درازی روا نہیں۔

اَلشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ۝۰ۭ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ۝۰۠ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَo البقرہ 194:2

ماہ حرام کابدلہ ماہ حرام ہی ہے اورتمام حرمتوں کالحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔ لہٰذاجوتم پر دست درازی کرے تم بھی اس پردست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہواورجان رکھوکہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جواس کی حدودتوڑنے سے پرہیزکرتے ہیں۔

لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَo الممتحنہ 8:60

اللہ تعالیٰ تم کوان لوگوں کے ساتھ احسان اورانصاف کابرتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتاجوتم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اورتم کوتمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتاہے۔

فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَۃِ۝۰ۭ وَمَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْہِ اَجْرًا عَظِيْمًاo وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۝۰ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا۝۰ۚۙ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًاo النسائ 74-75:4

پھرجواللہ کی راہ میں لڑے گااورماراجائے گا‘ یاغالب رہے گا‘اسے ضرورہم اجر عظیم عطا کریں گے۔آخرکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں‘عورتوں اور بچوں کی خاطرنہ لڑو جو کمزورپاکردبالیے گئے ہیں اورفریادکررہے ہیں کہ خدایاہم کواس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اوراپنی طرف سے ہماراکوئی حامی ومددگارپیداکر دے۔

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ۝۰ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَہُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo التوبہ 5:9

پس جب حرام (حرمت والے) مہینے گزرجائیں تومشرکوں کوقتل کروجہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اورہرگھات میں ان کی خبرلینے کے لیے بیٹھو۔ پھراگروہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انھیں چھوڑ دو۔ اللہ درگزر کرنے والااوررحم فرمانے والا ہے۔

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَجَاہِدْہُمْ بِہٖ جِہَادًا كَبِيْرًاo الفرقان 52:25

پس اے نبیﷺ کافروں کی بات ہرگزنہ مانواوراس قرآن کولے کران کے ساتھ جہادکبیرکرو۔

لیکن جہادکے بارے میں احمدی نظریہ یہ ہے کہ جہادبالسیف کی اجازت صرف اپنے دفاع کی خاطردی گئی ہے اوراس مسئلہ پراپنانظریہ پیش کرتے ہوئے مرزاغلام احمدصاحب نے محض اس عقیدہ کی تشریح وتوضیح کی ہے جس کی بنیادبراہ راست متعددقرآنی آیات پررکھی ہے کیونکہ انھوں نے کسی قرآنی حکم یاہدایت کی تنسیخ کادعویٰ نہیں کیالیکن فریق مخالف کی دلیل یہ ہے کہ مرزاصاحب نے اس مسئلے پر اظہار رائے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے صاف طورپریہ ظاہرہوتاہے کہ وہ قرآنی حکم کی مخض تشریح وتوضیح ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ ایک موجودقرآنی قانون کی صریحاًتنسیخ کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں حسب ذیل عبارتوں پرانحصارکیاگیاہے:

’’میں ایک حکم لے کرآپ لوگوں کے پاس آیاہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوارکے جہاد کاخاتمہ ہے۔‘‘

’’اب جہاددین کے لیے حرام ہے۔‘‘

’’دین کی تمام جنگوں کااب اختتام ہے۔‘‘

’’مسیح کے آنے کایہ نشان ہے کہ وہ دین کی لڑائیاں ختم کردے گا‘‘۔

’’میں نے جہادکی مخالفت کے بارے میں نہایت موثرتقریریں کیں۔‘‘

’’میں نے جہادکے خلاف صدہاکتابیں تحریرکیں اورعرب مصراوربلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائیدمیں شائع کی ہیں۔‘‘

’’مسیح موعودکے وقت قطعاًجہادکے حکم منسوخ کردئیے گئے۔‘‘

’’اب زمین کے فسادبندکیے گئے۔‘‘

’’اب جودین کے لیے تلواراٹھاتاہے اورغازی نام رکھ کر کافروں کوقتل کرتاہے وہ خداوندتعالیٰ اوراس کے رسول کانافرمان ہے۔‘‘

’’میرے فرقے میں’جس کاخدانے مجھے امام اوررہبرمقررفرمایاہے‘ تلوار کا جہاد بالکل نہیں۔یہ فرقہ اس بات کوقطعاًحرام جانتاہے کہ دین کے لیے لڑائیاں کی جائیں۔‘‘

’’اسلام میں جوجہادکامسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتراسلام کوبدنام کرنے والااورکوئی مسئلہ نہیں۔‘‘

’’مجھے مسیح اورمہدی مان لیناہی مسئلہ جہادکاانکارکرناہے۔‘‘

مرزاصاحب اوران کے جانشینوں کی تحریروں میں پائے جانے والے ان فقروں اور ’’اربعین‘‘جلدچہارم کے صفحہ ۷کی عبارت ’’میری وحی میں امربھی ہے اورنہی بھی‘‘کی بنیاد پریہ بات بڑے پرزوراندازمیں پیش کی گئی ہے کہ ان عبارتوں میں مندرج اعلانات ایک قرآنی قانون کی ترمیم وتنسیخ ہی کرتے ہیں۔ اپیل کنندہ کی جانب سے اس بات کاجواب دیا گیاہے کہ ان تحریروں میں جوالفاظ اورمطالب اختیارکیے گئے ہیں ان سے تنسیخ کاکوئی پہلو نہیں نکلتابلکہ وہ توایک ایسے قرآنی حکم کی صحیح تشریح کرتے ہیں جس کوتیرہ سوسال سے غلط سمجھاجاتارہاہے اوربہرحال دوسرے لوگ مرزاصاحب کے اقوال کی تعبیرات خواہ کچھ بھی کریں احمدیوں نے توان کامطلب ہمیشہ یہی لیاہے کہ قرآن میں کوئی نیاحکم نہیں نکلتااور مرزاصاحب کے سارے کام کی اصل غرض وغایت قرآن کے حقیقی احکامات پرسے کھوٹ اورمیل کودورکرناتھی۔ اس بارے میں احمدی فریق نے’’یضع الحرب‘‘ والی روایت کے حوالے سے یہ دلیل فراہم کی ہے کہ مرزاصاحب نے جیساکہ ان کی کچھ تحریروں سے ثابت ہے جوکچھ کیا، وہ محض یہ تھاکہ انھوں نے مذکورہ روایت کے مصداق جنگ کومعطل کردیااورکسی قانون کی تنسیخ ہرگزنہیں کی۔ یہاںیہ نکتہ بڑی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ یہ اگر مان لیاجائے کہ مرزاصاحب کے ان خیالات کامقصدقرآنی قانون کی تنسیخ سے ایک نئے حکم کااجرایااس میں جزوی ترمیم تھا(ان کے پیروؤں کے نزدیک انھوں نے یہی کچھ کیا) توپھران کی حیثیت تشریعی نبی کی ہوتی ہے۔مگریہ بات آیت’’خاتم النبیین ‘‘کی احمدیوں کی خود کر دہ تفسیرکے خلاف پڑتی ہے اوریہ نتیجہ خاص طور پراس صورت میں تولازماًنکلے گاجب کہ اس نئے حکم کی بنیاد’’وحی‘‘و’’الہام‘‘پررکھی گئی ہو۔ غیراحمدی طریق نے اس دلیل کو یوں آگے بڑھایاہے کہ ان تحریروں پرمبنی نظریات کی نوعیت اگرمحض تشریحی یاتصدیقی بھی ہوتب بھی اصولی طورپرمرزاصاحب کی حیثیت تشریعی نبی کی ہی رہتی ہے کیونکہ اگر شارح کسی قانون کی تعبیرکے بجائے اپنے لیے اس کے استقرار (declaratory legislation) کے حق کابھی مدعی ہوتواس کی، کی ہوئی تشریحات و توضیحات بجائے خود قانون سازی کے ضمن میں آجاتی ہیں۔ احمدی حضرات مندرجہ بالا آیات میں سے متعلقہ آیات کے حوالے سے اور آیت السیف یعنی نویں سورت کی پانچویں، مدینہ میں نازل شدہ آیت کے متعلق اس مروجہ نظر یہ کی صحت کومشتبہ قراردے کرکہ اس آیت کے نزول سے مکہ میں نازل شدہ وہ آیات منسوخ ہوگئی تھیں (جن کاتعلق اپنے دفاع یااس زمانہ میں عرب میں کفارکے زیراثرعلاقوں میں آبادمسلمانوں کو ظلم واستبدادسے نجات دلانے کی خاطرکفار کے ساتھ جنگ کرنے سے تھا۔) مرزاصاحب کی ان تحریروں کے اصل مفہوم کوظاہرکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں اس امر کی نشان دہی بھی کر دی گئی ہے کہ یہ احمدیوں کاایک بنیادی عقیدہ ہے کہ قرآن کی کوئی آیت مابعدکی کسی آیت کومنسوخ نہیں کرتی اورآیت السیف سے مکی آیات کاکوئی تضادیاتنا قض ظاہر نہیں ہوتا۔ نیزناسخ ومنسوخ کے پورے نظریہ کی تردیدکی گئی ہے۔ اس فریق نے نظریہ ناسخ ومنسوخ پردلالت کرنے والی درج ذیل آیات کی تشریح و تاویل کسی اورہی انداز سے کی ہے:

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا۝۰ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌo البقرہ 106:2

ہم اپنی جس آیت کومنسوخ کردیتے ہیں یابھلادیتے ہیں‘اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یاکم ازکم ویسی ہی۔ کیاتم جانتے نہیں ہوکہ اللہ ہرچیزپرقدرت رکھتاہے۔

جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں… اوراللہ بہترجانتا ہے کہ وہ کیانازل کرے… تویہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خودگھڑتے ہو۔ النحل 101:16

چنانچہ مسلمان قادیانیوں کومندرجہ ذیل وجوہات کی بناپرکافراوردائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں:

۱۔آنحضرتﷺ کے ختم نبوت سے انکار‘الفاظ قرآنی کی غلط تاویلات اوراس دین کولعنتی اورشیطانی قراردیناجس کے پیروکارحضوراکرمﷺ کے ختم نبوت پرایمان رکھتے ہیں۔

۲۔مرزاغلام احمدصاحب کاتشریعی نبوت کاقطعی دعویٰ۔

۳۔یہ دعویٰ کہ حضرت جبرائیل ان (مرزاغلام احمدصاحب) پروحی لاتے ہیں اور وہ وحی قرآن کے برابرہے۔

۴۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت حسین ؓکی مختلف طریقوں سے توہین۔

۵۔نبی اکرمﷺ اورآپ کے دین کااہانت آمیزطورپرذکر۔

۶۔قادیانیوں کے سواتمام دوسرے مسلمانوں کوکافرقراردینا۔

۱۹۵۳ء کے فسادات کے دوران اور۱۹۵۴ء کی تحقیقات سے پہلے قادیانیوں نے اپنے کئی ایک عقائد سے پلٹناشروع کردیاہے۔ تحقیقاتی عدالت کے روبرو انھوں نے جو موقف اختیارکیا، اس سے صاف طورپرمترشح ہوتاہے کہ وہ اپنے مذہب کے بانی اوراس کے جانشینوں کے وضع کردہ متعدداصولوں اورعقائدکے معانی کوتبدیل کرنے کے لیے کوشاں رہے مگرہمارے پاس احمدیہ فرقہ کے بانی اوراس کے جانشینوں کی تصنیف کردہ وہ کتب موجودہیں جن سے میاں عطاء اللہ نے استدلال کیاہے گویااس طرح ہمارے سامنے کثرت سے وہ ذرائع موجودہیں جن کی مددسے ہم اس فرقہ کے فلسفہ کی حقیقت جان سکیں۔

اوپرکی ساری بحث سے میں نے مندرجہ ذیل نتائج اخذکیے ہیں:

۱۔مسلمانوں کااس امرپربھی اجماع ہے کہ جوشخص آنحضرتﷺ کے ختم نبوت پرایمان نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں۔

۳۔مسلمانوں کااس امرپربھی اجماع ہے کہ قادیانی غیرمسلم ہیں۔

۴۔مرزاغلام احمدصاحب قادیانی اپنے دعاوی‘تشریحات وتاویلات کی روشنی میں ایک ایسی وحی پانے کے مدعی تھے جسے وحی نبوت سے تعبیرکیاجاتاہے۔

۵۔اپنی اولین تصانیف میں مرزاصاحب کے خوداپنے قائم کردہ معیاران کے اس دعویٰ نبوت کوجھٹلاتے ہیں۔

۶۔انھوں نے واقعتاً دنیابھرکے مانے ہوئے انبیا کرام علہیم السلام کی طرح نبی کامل ہونے کادعویٰ کیااور’’ظل‘‘و’’بروز‘‘کی اصطلاحوں کی حقیقت ایک فریب کے سواکچھ نہیں۔

۷۔نبی اکرمﷺ کے بعدوحی نبوت نہیں آسکتی اورجوکوئی ایسی وحی کادعویٰ کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

میں سمجھتاہوں کہ اس بحث اوراس سے اخذکردہ نتائج کی بناپریہ بات بڑی آسانی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ عدالت سماعت نے جونتائج اخذکیے ہیں وہ درست ہیں، چنانچہ میں ان سب کی توثیق کرتاہوں۔ مسماۃ امتہ الکریم کی اپیل میں کوئی جان نہیں ہے لہٰذامیں اسے خارج کرتاہوں۔

جہاں تک لیفٹیننٹ نذیرالدین کی اپیل کاتعلق ہے مسٹرظفرمحمودایڈووکیٹ نے اس کے بارے میں مجھ سے کچھ نہیں کہا۔ مسماۃ امۃ الکریم کے سامان جہیزپرنذیرالدین کا قبضہ ثابت ہوچکاہے اوراس کی قیمت کاتخمینہ بھی مناسب لگایاگیاہے لہٰذامیں ان کی اپیل میں بھی کوئی وزن محسوس نہیں کرتااورمیں ان کی اپیل کوبھی خارج کرتاہوں۔

چونکہ دونوں فریق اپنی اپنی اپیلوں میں ناکام رہے ہیں لہٰذامیں اخراجات کے متعلق کوئی فیصلہ نہ دینے ہی کوترجیح دیتاہوں۔

کورٹ فیس کی وصول یابی کے اقدامات کے واسطے کلکڑرالپنڈی کواطلاع دی جائے۔

اعلان فیصلہ بتاریخ دستخط محمداکبر

۳جون ۱۹۵۵ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی

قادیانی مسئلہ اوراس کاصحیح حل:

گذشتہ ماہ مئی ۱۹۷۴ء کے حادثہ ربوہ (اب چناب نگر) پرمسلمانوں میں جوردعمل واقع ہوااورغلام احمدی امت کوامت محمدیہ علیٰ صاحب ہاالصلوۃ والسلام سے الگ کرنے کے لیے پاکستان کے تمام مسلمانوں نے کامل اتحادواتفاق کے ساتھ جوجدوجہدشروع کی وہ اگرچہ بالکل ایک فطری امرہے مگرمیں اس کوبروقت نہیں بلکہ بہت بعدازوقت سمجھتاہوں۔ کیونکہ یہ ردعمل اس وقت رونماہواہے جب مسلم معاشرے کے اندراس فتنے کوپرورش پاتے اورپروان چڑھتے ۸۰۔۹۰سال بیت چکے ہیں اوراب اس کے استیصال کے لیے یہ آخری موقع ہمیں ملاہے جس کواگرہم نے کھودیاتوکچھ بعیدنہیں کہ یہ فتنہ ہمیں لے ڈوبے گا۔

لاقدر ﷲ:

حقیقت اسلامی نقطہ نظرسے یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بہت بڑی بات ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی شخص حضورخاتم النبیین حضرت محمدﷺکے بعدکھلم کھلانبوت کادعویٰ لے کراٹھے اوراس کی دعوت باطل کواسی مسلم معاشرے میں پھیلنے کاموقع حاصل ہوتاچلا جائے۔ یہ اتنابڑاگناہ عظیم ہے کہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت نہ کیاجاناچاہیے تھا‘ کجا کہ اس کے معاملے میں اس قدرتساہل برتاجاتاکہ وہ صدی کی آٹھ نودہائیوں تک نہ صرف ہمارے ملک میں‘بلکہ دوسرے مسلم اورغیرمسلم ملکوں میں بھی پھیلتا چلاجاتا۔ اس معاملہ میں ہم اس دورکے لیے تواللہ تعالیٰ جل شانہ کے سامنے کچھ عذرپیش بھی کرسکتے ہیں جب کہ ہم پرانگریزی حکومت مسلط تھی اورہم اس کے آگے بے بس تھے اوروہ اس فتنے کی آبیاری کر رہی تھی۔

لیکن انگریزوں سے آزادہونے کے بعدجب پاکستان کااقتدارخودمسلمانوں کے ہاتھ میں آگیا۔ اس وقت۲۷سال تک اس فتنے کی آبیاری خودانگریزوں سے بھی بڑھ کر ہمارے مسلمان حکمرانوں کے ہاتھوں ہونا اوراس کواتنی طاقت پکڑجانے کاموقع دینا کہ وہ پاکستان کی حکومت پرقابض ہوجانے کاحوصلہ کرنے لگے‘ایسااکبرالکبائر ہے جس پر کوئی عذرہم اپنے رب کے حضورپیش نہیں کرسکتے۔ اب اگرہم اسی پچھلے طرزعمل کو جاری رکھتے ہیں توخداکے عذاب سے ہمیں کوئی طاقت نہیں بچاسکتی۔ اس لیے میں عام مسلمانوں سے بھی کہتاہوں کہ جوتحریک انھوں نے اس فتنہ غلام احمدیت سے نجات حاصل کرنے کے لیے شروع کی ہے، اسے ایک قطعی فیصلے تک پہنچائے بغیرہرگزنہ چھوڑیں اورملک کی حکومت اورقومی اسمبلی سے بھی کہتاہوںکہ وہ خداکے حضوراپنی جواب دہی کویادکریں‘ سیاسی اغراض و مصالح کوبھول جائیں اورپوری ایمانداری کے ساتھ وہ فیصلہ کریں جوعین ان کے دین و ایمان کے مطابق ہے۔

یہ معاملہ جواس وقت اسمبلی میں زیربحث ہے‘اپنے اندرکوئی پیچیدگی نہیں رکھتا۔ بلکہ کھلے آسمان کی طرح صاف اورعیاں ہے۔ جس شخص کودین کی معمولی واقفیت بھی حاصل ہو وہ جانتاہے کہ اسلام میں نبوت ایک فیصلہ کن چیزہے۔ اگرنبی سچاہواورکوئی اس کونہ مانے تو کافراوراگروہ جھوٹاہواورکوئی اسے مان لے توکافر۔ بہرحال ایک دعوائے نبوت کے بعد یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ماننے والے اوراس کاانکارکرنے والے ایک امت میں جمع ہوسکیں۔ نبوت ایک سنگین دیوارہے جودونوں گروہوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے حائل ہوجاتی ہے اورانھیں نہیں ملنے دیتی جب تک کہ وہ منہدم نہ ہوجائے۔ ہرنبوت اپنے ماننے والوں کی ایک الگ امت بناتی ہے اورنہ ماننے والوں کو قطعی طورپران سے جدا کر دیتی ہے۔

یہ توہے بجائے خودنبوت کی اصولی حیثیت۔ لیکن اسلام میں اس امرکاقطعاًکوئی امکان نہیں ہے کہ سیدناحضرت محمدﷺکے بعدنبوت کادعویٰ لے کراٹھنے والا کوئی شخص سچانبی ہو سکے۔ اس لیے کہ قرآن حکیم‘احادیث صحیحہ اوراجماع امت کی روسے حضوراکرمﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے حضوراکرمﷺ کے بعدنبوت کادعویٰ کرنے والے کسی شخص سے بھی یہ نہیں پوچھاکہ اس کے نبی ہونے کی دلیل کیاہے بلکہ بالاتفاق اس کو جھوٹامدعی قراردے کراس سے اوراس کے ماننے والوں سے جنگ کی اوران کووہ حقوق بھی نہیں دیے جواسلامی قانون میں مسلح بغاوت کرنے والے مسلمانوں یاذمیوں کو دیے جاتے ہیں۔ پھرصحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دورسے آج تک چودہ سوبرس کی مدت میں ہر زمانے کے مسلمان اس بات پرمتفق رہے ہیں اور اس میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہواہے کہ بعثت محمدیہ علی صاحبہاالسلام کے بعدنبوت کادعویٰ کرنے والاہرشخص جھوٹا ہے‘ کافرہے اور اس پرایمان لانے والابھی کافرہے‘حتیٰ کہ ایسے مدعی سے اس کی نبوت کی دلیل پوچھنابھی کفرہے‘کیونکہ دلیل پوچھنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی حضوراکرمﷺ کے بعدنبوت کا دروازہ کھلا سمجھ رہاہے اوراسے کھلاسمجھنابجائے خودقرآن وحدیث اوراجماع کی روسے کفرہے۔

اب دیکھیے ایک طرف تودعوائے نبوت بعدازخاتم النبیینﷺ کے متعلق اسلام کایہ صریح اورمتفق علیہ حکم ہے اوردوسری طرف یہ ناقابل انکارواقعہ ہے کہ مرزاغلام احمدنے نبوت کا دعویٰ کیا،اپنی نبوت تسلیم کرنے کی لوگوں کودعوت دی‘نہ ماننے والوںکا کافر قرار دیا اور ماننے والوں کی ایک الگ امت بنائی جس کاکوئی فرداپنے باپ کاجنازہ بھی نہیں پڑھ سکتا اگر وہ اس نئی نبوت پرایمان نہ لایاہو۔سوال یہ ہے کہ یہ مدعی آخرسچاکیسے ہو سکتاہے؟ اور جب یہ سچانہیں ہے تواس کے کافرہونے اوراس کی تصدیق کرنے والے سب لوگوں کے کافر ہونے میں شک کی کیاگنجائش ہوسکتی ہے؟اوراس نئے نبی کی یہ امت مسلمانوں ہی کے اندر کاایک فرقہ کیسے قرارپاسکتی ہے جبکہ وہ اسلام کی سرحد توڑ کر خوداس سے باہرنکل چکی ہے؟

لیکن یہ اس نئی امت اوراس کے بانی مدعی نبوت کی انتہائی چالاکی ہے کہ اس نے اسلام کی سرحدسے نکل کربھی اپنے دین کواصل اسلام قراردیا،اسلام ہی کے نام سے اس کی تبلیغ کی اورلاکھوں مسلمانوں کواس گمراہی میں مبتلاکیاکہ کلمہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہوتے ہوئے بھی وہ کافررہتے ہیں جب تک کہ مرزاغلام احمدکی نبوت کاکلمہ اس کے ساتھ نہ ملائیں۔ اگریہ لوگ سیدھی طرح اسلام سے نکل کرکسی دوسرے نام سے اپنی الگ امت بنالیتے اوراپنے آپ کومسلمان نہ کہتے تواتنابڑافتنہ نہ بنتے جتنابڑافتنہ وہ امت در امت کی صورت اختیارکرکے بن گئے ہیں۔وہ اپنے مذہب کاکوئی دوسرانام رکھ کراس کی تبلیغ کرتے توکسی ایک مسلمان کوبھی اس بات پرآمادہ نہ کرسکتے تھے کہ محمدﷺکی پیروی چھوڑ کر مرزاغلام احمدکی پیروی قبول کرلے۔وہ نہ انگریزی حکومت کے دور میں مسلمانوں کے حقوق کابڑاحصہ ہتھیاسکتے تھے اورنہ پاکستان قائم ہونے کے بعدانہیں یہ موقع مل سکتا تھا کہ حکومت کے نظم ونسق اوراس کی مسلح افواج اوراس کے زیراثرمعاشی زندگی کے ہر شعبے میں پھیلتے اوربڑھتے چلے جاتے۔مگریہ ان کی انتہائی عیاری تھی کہ انھوں نے مسلمانوں کو کافر قرار دے کران سے الگ اپنی امت بھی منظم کی اورپھرمسلمانوں کی امت میںشامل رہ کروہ سرطان کے پھوڑے کی طرح جسدملت میں اپنی جڑیں بھی پھیلاتے رہے۔یہ اُن کی اسی عیاری کانتیجہ ہے کہ انہیں مسلمانوں کاایک فرقہ سمجھا جاتا رہا۔ مسلمانوں کو توڑتوڑکروہ اپنی امت میں ملاتے اوراپنی تعدادبڑھاتے رہے اورایک منظم طریقے سے پیہم کوشش کرکے وہ مسلم معاشرے اورحکومت پراس طرح چھاتے چلے گئے کہ اب وہ پاکستان کے حکمران بن جانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

ربوہ(چناب نگر) کاحادثہ اسی پس منظرمیں پیش آیاہے اوریہ گویامسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آخری تنبیہ ہے کہ اگران میں کچھ بھی دینی حس باقی ہے توامت محمدیہ کے اندرامت غلام احمدیہ کے پھلنے پھولنے کاہرراستہ بندکردیں۔ ہزارہزارشکرہے اس خدا وند عظیم کاکہ اس تنبیہ پرپاکستان کے علما ومشائخ،سیاسی لیڈراورعام مسلمان بھی پوری طرح بیدارہوگئے،اورحکومت بھی بروقت اس کی طرف متوجہ ہوگئی جیساکہ صمدانی ٹریبونل کے قیام، مسٹربھٹوکی۱۳جون والی تقریراورپوری قومی اسمبلی کے ایک کمیٹی کی صورت میں اس مسئلے کے حل کی کوشش میں لگ جانے سے ظاہرہوتاہے۔

اس موقع پرمیں چندضروری تجاویزپیش کرتاہوں جن سے میرے نزدیک یہ مسئلہ بخوبی حل کیاجاسکتاہے۔

۱۔میری پہلی تجویزیہ ہے کہ پاکستان کے دستورکی دفعہ ۲میں،جوریاست کا مذہب اسلام قراردیتی ہے،حسب ذیل دوشقوں کااضافہ کیاجائے:

i۔اللہ کی توحید‘تمام انبیا کے بعدمحمدﷺ کواللہ کاآخری نبی ماننا‘تمام کتب الٰہیہ کے بعدقرآن مجیدکواللہ کی آخری کتاب تسلیم کرنااورآخرت پرایمان رکھنااسلام کے لازمی بنیادی عقائدہیں جن میں سے کسی ایک کاانکاربھی کفرہے۔

ii۔محمدرسول اللہﷺ کے بعدجوشخص نبی ہونے کادعویٰ کرےاورایسے مدعی کوجوشخص اپنامذہبی پیشوامانے وہ کافراورخارج ازاسلام ہے‘قطع نظراس کے کہ وہ مدعی خوداپنے آپ کویااس کے پیروگروہ اس کوظلی یابروزی یاامتی یاغیرتشریعی نبی کہیے یامسیح موعود‘ مجدد‘ محدث وغیرہ ناموں سے یادکرے۔

۲۔میری دوسری تجویزیہ ہے کہ دستورکی دفعہ ۱۰۶کی شق (۳) میں جہاں اقلیتوں کا ذکرہے،وہاںبدھ مت والوں کے بعد’’مرزاغلام احمدقادیانی کے پیرؤوں‘‘کااضافہ کردیا جائے۔

۳۔میری تیسری تجویزیہ ہے کہ دفعہ۲شق(۱)کے بعدحسب ذیل شق (۲) کا اضافہ کرکے بقیہ شقوں کوان دونوں شقوں کے مطابق کردیاجائے۔

’’کوئی شخص جواپنے آپ کومسلمان کہتاہواوراس کے باوجودمحمدﷺکے بعدنبوت کادعویٰ کرے یاایسادعویٰ کرنے والے کواپنامذہبی پیشوامانے یالوگوں کواسے مذہبی پیشواماننے کی دعوت دے یااسے نہ ماننے والوں کوکافرقراردے،وہ بھی خیانت عظمیٰ(high treason) کامرتکب سمجھاجائے گا۔‘‘

ان ترمیمات سے دستورکی حدتک نئی نبوت کے فتنے کاکماحقہ سدباب ہوجاتا ہے۔ میری تجویزکردہ ان دستوری ترمیمات پریہ اعتراض نہیں کیاجاسکتاکہ دستورجیسی دستاویز میں کسی شخص خاص کانام لینامناسب نہیں ہے۔ ہمارادستورقرآن سے زیادہ مقدس تو نہیں ہوسکتا۔ اس میں جب ابولہب کانام لیاگیاہے توہمارے دستور میں مرزاغلام احمدکا نام کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ خصوصاًجب کہ قادیانی مسئلے کوحل کرنے کے لیے اس گروہ کے بانی کانام لینے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔

اس کے بعدیہ ضروری ہے کہ قومی اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعہ سے حکومت کوحسب ذیل تدابیرجلدی سے جلدی اختیارکرنے کامشورہ دے۔

۱۔ تمام ملازمین حکومت سے ایک ڈیکلریشن فارم پرکرایاجائے جس میں ہرملازم یہ واضح کرے کہ وہ مرزاغلام احمدکواپنامذہبی پیشوامانتاہے یانہیں۔

۲۔ جوشخص غلط ڈیکلریشن دے اس کی غلط بیانی جس وقت بھی ظاہرہواسی وقت اس کوملازمت سے الگ کردیاجائے اوراس کے تمام حقوق جوسرکاری ملازمت کی بنا پراسے حاصل ہوں،ساقط کردئیے جائیں،اوراس کوآئندہ ہرملازمت کے لیے نااہل قراردے دیاجائے۔

۳۔ رائے دہندوں کی فہرست اورمردم شماری میں پیروان مرزاغلام احمدکاخانہ علیحدہ رکھاجائے۔

۴۔ شناختی کارڈوں اورپاسپورٹوں میں بھی مرزاغلام احمدکے پیروؤں کے لیے ان کے نام کے ساتھ ان کے مذہب کی تصریح کی جائے۔

۵۔ تمام کلیدی اسامیوں سے اس گروہ کے افرادکوہٹادیاجائے۔

۶۔ سرکاری ملازمتوں میں اس گروہ کے لوگوں کاتناسب ان کی آبادی کے مطابق کر دیا جائے اورتناسب سے بہت زیادہ مناصب ان کودے کرمسلمانوں کے ساتھ جو بے انصافی کی جاتی رہی ہے، اس کاتدارک کیاجائے۔

۷۔ربوہ(چناب نگر) کی زمین جن شرائط پرانہیں دی گئی ہے ان پرنظرثانی کی جائے اورمفادعامہ کوملحوظ رکھ کرازسرنوشرائط مقررکی جائیں۔ نیزاگریہ ثابت ہوکہ انھوں نے گرانٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے تواس گرانٹ کومنسوخ کردیاجائے۔

۸۔ ربوہ (چناب نگر) کوجسے انھوں نے ریاست درریاست بنارکھاہے، کھلا شہر قرار دیا جائے اور وہاں مسلمانوں کوجائیداد حاصل کرنے، سکونت اختیارکرنے یاکاروبارکرنے کے پورے مواقع دئیے جائیں۔

ایسی قرار دادیں پاس ہونے کے بعد اگر حکومت اس پر مستعدی کے ساتھ انتظامی کارروائی کرے تو ملک بہت جلدان خطرات سے محفوظ ہوسکتاہے جواس فتنے کے ۸۰۔۹۰ سال تک پروان چڑھتے رہنے سے اب اعلانیہ رونماہورہے ہیں۔

اس کے علاوہ میں وزیراعظم صاحب سے دوگزارشیں اورکروں گا۔ ایک یہ کہ صمدانی ٹریبونل کی رپورٹ کوبلاکم وکاست شائع کریں۔ دوسرے یہ کہ ختم نبوت کی تحریک پر جو بے جا پابندیاں ملک میں لگائی گئی ہیں‘ جوگرفتاریاں اس تحریک کوروکنے کے لیے عمل میں لائی گئی ہیں اورپریس کاگلاگھونٹنے کے لیے جوکچھ کیاگیاہے۔ اس پورے سلسلے کو انہیں فوراً ختم کردیناچاہیےکیونکہ یہ سب کچھ ان کی ۱۳جون ۱۹۷۴ء والی تقریرکی روح اورمعنی کے بالکل خلاف ہے۔

واخردعوانا ان الحمد ﷲرب العالمین

(ترجمان القرآن ستمبر۱۹۷۴ئ)