مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قادیانی مسئلہ

اشاعت: 1952ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "قادیانی مسئلہ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی، عقیدتی اور سیاسی تحریر ہے جس میں انہوں نے قادیانی فرقے کو اسلامی امت سے خارج قرار دینے کے مطالبے کی فکری، عقیدتی، معاشرتی اور آئینی بنیادیں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی اختلاف کی وضاحت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کا جامع تجزیہ ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلم معاشرے میں تقسیم، تفریق اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ قادیانیت صرف کسی فرعی مسلکی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقائد—خاص طور پر ختمِ نبوت—کے خلاف ایک منظم، منطقی اور عملی ردِّ عمل ہے، جس کے نتیجے میں قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے عقیدتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر الگ شناخت اختیار کر لی ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جو دراصل باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ یہ کتابچہ عقل، دلیل اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں قادیانی مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی موقف کو یا تو دلیل سے مانا جائے یا دلیل کے ذریعے منوایا جائے؛ محض عددی اکثریت یا طاقت کی بنیاد پر معقول مطالبات کو مسترد کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ دیباچہ نہ صرف موضوع کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تأکید کرتا ہے کہ عقیدتی مسائل کا فیصلہ عقل و دلیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا اکثریت کے زور سے۔

کتاب کا باب اول اصل مسئلے کی بنیاد رکھتا ہے: مرزا غلام احمد کے دعوٰیِ نبوت، قادیانیوں کے ایک علیحدہ امت بن جانے، اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے پیچھے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب دوم اور باب سوم دراصل 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بعد مولانا مودودی پر چلائے گئے فوجی مقدمے اور سزائے موت کے پس منظر کو بیان کرتے ہیں—بشمول ان کے وہ عدالتی بیانات جو فسادات کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے دیے گئے، جن میں لاہور میں مارشل لا کے اسباب، جماعتِ اسلامی کے طرزِ عمل، اور اسلامی ریاست، ارتداد کی سزا اور ڈائریکٹ ایکشن جیسے متعلقہ آئینی و فقہی سوالات کا جواب بھی شامل ہے۔

کتاب کا اختتام متعدد ضمائم پر ہوتا ہے جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، ظہورِ مہدی اور ختمِ نبوت سے متعلق احادیث اور فقہاء و مفسرین کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، نیز علامہ اقبالؒ کا قادیانیت کے بارے میں نقطۂ نظر بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ عقیدے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کو علمی و تاریخی شہادتوں سے مزید مستحکم کیا جا سکے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

جماعت اسلامی اورڈائریکٹ ایکشن:

۱۵۔اب میں ان حالات کوکسی قدرتفصیل کے ساتھ بیان کروں گاجوڈائریکٹ ایکشن اورمخالف احمدیت تحریک کے سلسلے میں براہ راست مجھ سے متعلق ہیں۔میں نے اپنے ۲۹/جوالائی کے بیان میں اس قدرزیادہ تفصیلات پیش کرناغیرضروری سمجھا تھا مگر اب جوشہادتیں آپ کی عدالت میں پیش ہوئی ہیں ان میں بکثرت باتیں خلاف واقعہ ہیں، اس لیے میں ضرورت محسوس کرتاہوں کہ صحیح واقعات پوری وضاحت کے ساتھ تحریر کردوں۔

۱۶۔کنونشن کی سبجکٹس کمیٹی میں(جس کااجلاس ۱۶ / اور ۱۷یا۱۷ / اور ۱۸جنوری ۱۹۵۳ء کی درمیانی شب کوہواتھا)میری یہ تجویزکافی بحث کے بعدبالاتفاق پاس ہوئی تھی کہ قادیانیت کے بارے میں کوئی الگ جدوجہد نہ کی جائے بلکہ اس معاملے کو اس جدو جہد میں ضم کر دیا جائے جوبی۔پی۔سی رپورٹ کی اصلاح کے لیے کی جانے والی ہے۔یہ فیصلہ اس وقت لکھ لیا گیاتھااورطے ہواتھاکہ دوسرے دن یہی تجویز سبجکٹس کمیٹی کی طرف سے کنونشن میں پیش کی جائے گی۔کم ازکم میرے سامنے کسی شخص نے اس فیصلے کے تحریر کیے جانے کے وقت اظہار اختلاف نہیں کیا۔

۱۷۔دوسرے روزغالباً۱۸ / جنوری کوجب میں کنونشن کے اجلاس میں پہنچا تو میرے بیٹھتے ہی صاحب صدرمولاناابوالحسنات نے اپنایہ فیصلہ سنایاکہ’’یہ کنونشن صرف تحفظ ختم نبوت کے لیے بلائی گئی ہے‘یہاں کوئی دوسرامسئلہ حتیٰ کہ اسلامی دستورکامسئلہ بھی نہیں چھیڑا جاسکتا۔‘‘اس کے بعدفوراًتاج الدین انصاری صاحب اٹھے اورانھوں نے ایک لکھا لکھایا ریزولیوشن پڑھناشروع کردیاجس میں وزیراعظم کے پاس وفدبھیجنے اور ان کومطالبات تسلیم کرنے کے لیے ایک مہینے کانوٹس دینے اورعدم تسلیم کی صورت میں ڈائریکٹ ایکشن شروع کردینے کی تجویزدرج تھی۔مجھے اس وقت قطعاًیہ معلوم نہیں ہواکہ میرے آنے سے پہلے ہی سبجکٹس کمیٹی کی طے کردہ تجویزکنونشن میں پیش بھی ہوچکی ہے اورردبھی کی جاچکی ہے۔یہ بات ایک مدت درازکے بعدمجھے اب معلوم ہوئی ہے۔بعض گواہوں نے غالباًصحیح واقعہ یادنہ ہونے کی وجہ سے یہ کہہ دیاہے کہ سبجکٹس کمیٹی کافیصلہ خودمیں نے کنونشن میں پیش کیاتھا۔واقعہ یہ ہے کہ سب کنونشن کے سامنے سرے سے وہ دلائل آئے ہی نہیں جو میں اس فیصلے کے حق میں رکھتاتھااورمجھے شبہ ہے کہ سبجکٹس کمیٹی کے جوارکان وہاں موجود تھے ‘انھوں نے بھی کنونشن کویہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ رات سبجکٹس کمیٹی کن وجوہ سے اس فیصلے پرپہنچی تھی۔میری غیرموجودگی میں یہ ایک لاوارث تجویزتھی جو حاضرین کے سامنے پیش کی گی اور مولانا عبدالحلیم قاسمی کی شہادت کے مطابق شوروہنگامہ میں ردکردی گئی۔

۱۸۔ڈائریکٹ ایکشن کاریزولیوشن جب پیش ہوااس وقت میرافوری ردعمل یہ تھاکہ اٹھ کراس کی مخالفت کروں اوراگریہ لوگ نہ مانیں توکنونشن سے اپنی اور جماعت اسلامی کی علیحدگی کااعلان کردوں۔چنانچہ اسی نیت سے میں نے تقریرکی اجازت کے لیے صدرکوایک چٹ لکھ کربھی دے دی تھی لیکن مزیدغورکرنے کے بعدمیں اس نتیجہ پرپہنچاکہ علیحدگی اختیارکرکے میں اپنادامن توایک غلط اورنقصان دہ کارروائی کی ذمہ داری سے بچالوں گا مگر ملک کو، اورخصوصاًپنجاب کے مسلمانوں کوان نقصانات سے نہ بچا سکوں گا جو اس اقدام سے پہنچنے یقینی تھے۔اس لیے میں نے اپنی رائے بدل دی اوربراہ راست اس ریزولیوشن کی مخالفت کرنے کے بجائے یہ تجویزپیش کی کہ ایک مرکزی مجلس عمل بنائی جائے جوکنونشن کی شریک جماعتوں کے ذمہ دارلیڈروں پرمشتمل ہواوریہ پوری تحریک کلیتہً اسی مجلس کی رہنمائی میں چلائی جائے‘اس کے سواکسی اورکواس سلسلے میں کوئی پروگرام بنانے یا کارروائی کرنے کااختیارنہ ہو۔اس تجویزسے میرامقصدیہ تھاکہ معاملہ جب چندذمہ دار لیڈروں کے ہاتھ میں دیاجائے گاتوان کووہ نشیب وفرازاچھی طرح سمجھائے جاسکیں گے جو اس وقت کنونشن کے حاضرین نہیں سمجھ سکتے اوربہرحال اس طرح کی ایک مجلس اندھا دھند کارروائیاں کرنے پرآمادہ نہ ہوگی۔میری یہ تجویزوہاں مان لی گئی اورجہاںتک مجھے یاد ہے حسب ذیل آٹھ ارکان اسی وقت مرکزی مجلس کے رکن منتخب ہوگئے ۔ مولاناابوالحسنات صاحب، مولانا احتشام الحق صاحب‘مولانامحمداسماعیل صاحب (گوجرانوالہ)‘ حافظ کفایت حسین صاحب‘ ابوالاعلیٰ مودودی‘ پیرصاحب سرسینہ شریف ‘مولاناعطاء اللہ بخاری اورماسٹر تاج الدین انصاری۔ان آٹھ ارکان کویہ اختیاردیاگیاکہ اپنے ساتھ سات مزید ارکان کوشامل کرکے مجلس کی ترکیب مکمل کرلیں۔ارکان کے اس انتخاب کے بعدکنونشن نمازمغرب سے کچھ پہلے برخاست ہوگیا۔

۱۹۔۱۸ / جنوری کی رات کواگرمرکزی مجلس عمل کے کچھ ارکان کہیں جمع ہوئے اور انھوں نے کچھ فیصلے کیے تونہ ان کے اس اجتماع کومرکزی مجلس کااجلاس کہاجاسکتاہے اور نہ ان کے یہ فیصلے مجلس کے باضابطہ فیصلے کہے جاسکتے ہیں۔اس لیے کہ اس اجلاس کی کوئی اطلاع مجھے اورمجلس کے بعض دوسرے ارکان کونہیں دی گئی۔واقعہ یہ ہے کہ اب اخبارات میں مولاناابوالحسنات صاحب اوربعض دوسرے اصحاب کی شہادتیں پڑھ کریہ بات پہلی مرتبہ میرے علم میں آئی ہے کہ ان حضرات نے ۱۸/جنوری کی رات کوکسی دعوت کے موقع پر مجھے اس اجلاس کی دعوت دی تھی۔نیزیہ بیان بھی بالکل خلاف واقعہ ہے کہ اس اجلاس میں میری طرف سے سلطان احمدصاحب شریک ہوئے۔

۲۰۔تاہم اگریہ مان بھی لیاجائے کہ ۱۸/جنوری کی رات کومرکزی مجلس کاکوئی اجلاس ہواتھاتواس وقت زیادہ سے زیادہ جوکارروائی ہوسکتی تھی وہ بس یہ ہوسکتی تھی کہ ساتھ آدمیوں کو(co-opt)کرنے کافیصلہ کیاجاتا۔اس کے بعدضروری تھاکہ ان سات آدموں کواس فیصلے کی اطلاع دی جاتی‘پھران کی منظوری حاصل کرنے کے بعدباقاعدہ اطلاع دے کر مجلس کامکمل اجلاس بلایاجاتااوراس اجلاس میں آگے کام کاکوئی پروگرام بنایا جاتا۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ دوچاردن کے اندریہ سارے مراحل طے بھی ہوگئے ہوں اور ایک باقاعدہ اجلاس میں وہ وفدترتیب بھی دے دیاگیاہوجو۲۳/جنوری کوایک مہینے کانوٹس دینے کے لیے خواجہ ناظم الدین سے ملا۔حقیقت یہ ہے کہ میں۲۴/جنوری کی صبح تک کراچی میں رہا ہوں اوراس پوری مدت میں مجھے ان کارروائیوں کی کوئی خبر نہیں ہوسکی جویہ چندحضرات بطور خودکرتے رہے۔۲۴/کی صبح کو کراچی سے روانہ ہونے کے بعدریل میں وفدکی ملاقات کاذکراخبارات میں میری نگاہ سے گزرا اور میں اس پرحیران رہ گیا۔ میں پھراس بات کو پورے زورکے ساتھ دہراتا ہوں کہ اس وفدکونہ کنونشن نے ترتیب دیا تھا اور نہ مرکزی مجلس عمل کے کسی باقاعدہ اجلاس نے۔

۲۱۔پھراگرتھوڑی دیرکے لیے یہ بھی مان لیاجائے کہ یہ ایک باقاعدہ وفدتھاتوعقل عام اوردنیابھرکے مسلمہ طریق کارکاتقاضایہ تھاکہ یہ وفدوزیراعظم سے گفتگوکرنے کے بعدمرکزی مجلس عمل کواپنی رپورٹ پیش کرتا۔پھریہ فیصلہ کرنااس مجلس کاکام تھاکہ وزیراعظم کاجواب قابل اطمینان ہے یانہیں اوراس پرآگے کیاقدم اٹھاناچاہیے۔خواجہ ناظم الدین صاحب کے ساتھ وفدکی گفتگوکاخلاصہ مولاناعبدالحامدصاحب بدایونی نے اب عدالت کے سامنے بیان کیاہے۔یہ پہلی مرتبہ ان کی شہادت سے میرے علم میں آیاہے۔میں پورے وثوق کے ساتھ کہتاہوں کہ اگرمرکزی مجلس کاکوئی اجلاس ہوتااوراس میں یہ خلاصہ بیان کیاجاتاتومجلس کبھی اس نتیجے پرنہیں پہنچ سکتی تھی کہ خواجہ صاحب کاجواب اس حدتک ناقابل اطمینان ہے کہ اس پرآگے کسی مزیدگفت و شنید کا امکان نہیں اوربس اب ڈائریکٹ ایکشن ہی شروع کردیناچاہیے۔مگران حضرات نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعدبطورخودہی یہ فیصلہ کردیاکہ ان کاجواب مایوس کن ہے اورپھربطورخودہی وہ کارروائی بھی شروع کردی جو اس مایوس کن جواب کے بعدوہ کرناچاہتے تھے۔اس وقت تک بھی ہمیں معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ۲۳/ جنوری کے بعدسے۲۶/فروری تک جوسرگرمیاں مسلسل جاری رہیں اورایک مہینے کی معیادگزرنے پرجس اقدام کالوگوں کومتوقع کیاگیااس کافیصلہ مرکزی مجلس عمل کے کس اجلاس میں ہوا تھا اور کب یہ پروگرام بنایاگیاتھا؟

۲۲۔آگے بڑھنے سے پہلے میں ایک خاص واقعے کی حقیقت کھولناضروری سمجھتا ہوں اوروہ یہ ہے کہ۱۵/فروری کوایک جلسہ عام میں میرانام لے کریہ اعلان کیاگیاکہ اس نے جلسے میں عدم شرکت کی معذرت لکھ کربھیجی ہے اوریہ لکھاہے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ درحقیقت یہ محض ایک من گھڑت اعلان تھا۔میں نے ایساکوئی خط کسی کو نہیں لکھا۔ جس شخص کے متعلق آئے دن غلط بیانیاں ہوتی رہتی ہوں،اس کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ ہر روزان کی تردیدکرتارہے۔

۲۳۔میرے لیے یہ بہت مشکل تھاکہ ایک نظام میں شریک ہوجانے کے بعداس کی غلطیوں اورخرابیوں کی اصلاح کاحق خوداس کے اندراداکرنے سے پہلے اس کے خلاف کھلم کھلاپبلک میں کوئی اظہارخیال شروع کردیتا۔اسی لیے میں نے اصلاح کی تمام ترکوشش نظام کے اندرہی رہتے ہوئے کی اور۱۳ / اور۱۷ / فروری کواپنے نمائندوں کے ذریعہ سے وہ اعتراضات بھیجے جن کاذکرمیں اپنے۲۹جولائی کے بیان میں کرچکا ہوں۔ میرے ہی اصرار پر۱۷فروری کویہ طے ہواکہ جلدی سے جلدی مرکزی مجلس عمل کااجلاس لاہور میں ہو گا اور پھر یکایک ۲۱فروری کوایک نیادعوت نامہ جاری ہوا(مجھے ۲۲ کوملا) جس میں خبردی گئی کہ یہ اجلاس لاہورکے بجائے کراچی میں ہوگا۔میں اس زمانہ میں بیماری کے باعث سفرکرنے سے معذورتھا،اس لیے مجھے مجبوراًسلطان احمدصاحب کو لکھنا پڑا کہ وہ میری طرف سے اس اجلاس میں نمائندگی کریں۔۲۶فروری کایہ اجلاس حقیقت میں اس مجلس کا پہلا باقاعدہ اجلاس تھااوروہی آخری اجلاس بھی تھا،کیونکہ اس میں مجلس ہی توڑدینے کافیصلہ کر دیاگیا۔اس کے بعدمیں آزادتھاکہ پبلک میں ان حضرات کے طریق کارسے اختلاف کروں۔ چنانچہ یہ اختلاف میں نے اپنے ۲۸/فروری کے بیان میں (جویکم مارچ کے تسنیم میں شائع ہوا)اوراپنے پمفلٹ ’’قادیانی مسئلہ‘‘کے اردو اور انگریزی‘دونوں ایڈیشنوں کے آخری پیراگرافوں میں کیا۔نیزجماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے اپنے اس ریزولیوشن میں بھی جو۷/مارچ کے تسنیم میں شائع ہواہے‘اس طریق کارسے علانیہ اظہاراختلاف کر دیا۔

۲۴۔۲۷/فروری کی شام کوسیدخلیل احمدصاحب اورحافظ خادم حسین صاحب مجھ سے ملے اورانھوں نے کہاکہ تحریک کے بڑے بڑے لیڈرگرفتارہوچکے ہیں‘اب آپ ہی باقی ہیں، لہٰذاآپ ہماری رہنمائی کریں۔میں نے ان سے کہاکہ مجلس عمل کے جولیڈرلاہور میں موجودہیں،انہیں آپ کل صبح میرے ہاں لے آئیے پھرمشورے کے بعدمیں کچھ عرض کرسکوںگا، اس سے زائداس وقت کوئی بات نہیں ہوئی۔یہ محض ایک غلط بیانی ہے کہ اس وقت میں نے ان حضرات سے کہاکہ آپ والنٹیرکراچی بھیجنے کاسلسلہ جاری رکھیں۔

۲۵۔۲۷/فروری کی صبح کومیرے مکان پرحسب ذیل حضرات تشریف لائے۔ مولانا داؤد غزنوی‘مولانامحمداسماعیل صاحب‘سیدخلیل احمدصاحب‘ مولوی طفیل احمدصاحب (جمعیۃ علما ئے اسلام والے)ان کے علاوہ دوتین اصحاب اوربھی تھے جن کے نام میں نہیں جانتا اور نہ میری ان سے پہلے کی کوئی واقفیت تھی۔بعدمیں مولاناعبدالستارنیازی صاحب بھی تشریف لے آئے تھے۔اس موقع پرجوکچھ میں نے ان سے کہاجس کاخلاصہ یہ تھاکہ یہ ڈائریکٹ ایکشن ‘کنونشن کی بعض جماعتوں نے بالکل من مانے طریقے پرشروع کیاہے اورآپ لوگ جانتے ہیں کہ اس کاہرگزمویدنہ تھا۔میں بلاشبہ مقصدسے متفق ہوں‘ مگرطریق کارکوغلط اورنقصان دہ سمجھتاہوں۔میرے نزدیک اس سے نہ صرف یہ کہ اس مقصدکونقصان پہنچے گابلکہ تمام دینی جماعتوں کے وقارکواوران تمام دینی مقصدکوجن کے لیے ہم اب تک کوشش کرتے رہے ہیں، ایساصدمہ پہنچے گاجس کی تلافی مشکل ہی سے ہوسکے گی۔اب اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ پنجاب میں بھی مجلس عمل کے نظام کو توڑ دیا جائے۔ جن جماعتوں نے یہ کام شروع کیاہے وہ اپنی ذمہ داری پراگراسے جاری رکھنا چاہیں تو رکھیں‘ مگر جو جماعتیں اس میں شریک نہیں ہوناچاہتیں،انہیں اس سے علیحدہ رہنے دیا جائے۔ جماعت اسلامی کی حد تک میں صاف کہے دیتاہوں کہ ہم اس میں کوئی حصہ نہ لیں گے اوراپنے ایک آدمی کوبھی اس میں شریک ہونے کی اجازت نہ دیں گے۔البتہ اصل مقصدکے لیے ہم اپنے طریق کارکے مطابق کوشش جاری رکھیں گے اورآپ کے طریق کار سے مسلمانوں پر جو مصائب نازل ہوں گے‘ان سے بھی جہاںتک ہمارے بس میں ہوگا‘ انہیں بچانے کی پوری کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ میں نے ان لوگوں سے یہ بھی عرض کیاکہ اگرآپ اصل مقصدکوعزیزرکھتے ہیں توبراہ کرم ان لوگوں کواپنے ساتھ الجھانے کی کوشش نہ کریں جوآپ کے شریک کار ہونا پسند نہیں کرتے۔ اسی پربات ختم ہوگئی اورکم ازکم میرااحساس یہی ہے کہ میری یہ صاف گوئی اس وقت کسی کوناگوارنہیں تھی۔سیدخلیل احمد صاحب نے مجلس کے خاتمے پرمجھ سے کہاکہ اگرہم آپ سے کبھی مشورہ لیناچاہیں توآپ ہمیں مشورہ دینے سے تو پرہیزنہ کریں گے؟میں نے کہاکہ’’کوئی مسلمان بھی جب میرا مشورہ طلب کرے تو میں جو کچھ صحیح سمجھتاہوں‘ اسے بتانے میں تامل نہیں کرتا۔اوراس وقت میراپہلامشورہ آپ کویہ ہے کہ جلدی سے جلدی اس بدنظمی کودورکیجیے جویکایک عوام کے مظاہروں میں رونماہوگئی ہے‘اپنی تحریک کواخلاق کے ان حدودمیں لائیے جو’’ختم نبوت‘‘ جیسے پاکیزہ نام پراٹھنے والی تحریک کے شایان شان ہے‘اوراپنی تحریک کوبدامنی اورتشددکے رخ پرجانے سے روکیے‘‘۔یہ میراپہلااورآخری مشورہ تھاکیونکہ اس کے بعدمجھ سے نہ کوئی مشورہ طلب کیاگیا اورنہ میں نے دیا۔اب اس مجلس اوراس گفتگوکویہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ گویا میں نے اس روزاپنے گھرپربیٹھ کرکوئی خفیہ سازش کی تھی اورمیراان سے یہ سمجھوتہ ہواتھا کہ تم ڈائریکٹ ایکشن کرکے جیلوں میں جاؤ اور میں گرفتاری سے بچ کرباہرکام کروں گا۔مگراس بدگمانی کے متعلق میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتاکہ لوگ اپنی طینت اوراپنی افتادطبع ہی کے مطابق رائے قائم کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے یہ تصورکرنامشکل ہے کہ دنیامیں کوئی شخص واقعی ایمان داراوربااصول اور حدود شناس بھی ہوسکتاہے۔

۲۶۔۲۷/فروری کے بعدجوجلسے لاہورمیں ہوئے ان میں متعددمرتبہ ڈائریکٹ ایکشن کی تحریک کے بعض غیرذمہ دارلیڈروں نے عوام کوجماعت اسلامی کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔اوراس بات پرلوگوں کواکسایاکہ وہ میرے مکان پرہجوم کرکے آئیں اورمجھے اس تحریک میں شامل ہونے پرمجبورکریں۔اس فتنے کوروکنے کے لیے طفیل محمد صاحب نے جوبیان ’’تسنیم‘‘میں شائع کرایاتھااس سے بھی یہ معنی نکالنے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ جماعت اسلامی اورڈائریکٹ ایکشن کی تحریک کے لیڈروں میں کوئی اندرونی سمجھوتہ تھا جس کے مطابق کچھ کام ہم نے اورکچھ انھوں نے اپنے ذمے لے رکھاتھا۔حالانکہ دراصل طفیل محمدصاحب کااشارہ اس گفتگوکی طرف تھاجس کاذکرمیں نے اوپرپیراگراف نمبر۲۵ میں کیاہے۔