مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قادیانی مسئلہ

اشاعت: 1952ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "قادیانی مسئلہ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی، عقیدتی اور سیاسی تحریر ہے جس میں انہوں نے قادیانی فرقے کو اسلامی امت سے خارج قرار دینے کے مطالبے کی فکری، عقیدتی، معاشرتی اور آئینی بنیادیں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی اختلاف کی وضاحت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کا جامع تجزیہ ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلم معاشرے میں تقسیم، تفریق اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ قادیانیت صرف کسی فرعی مسلکی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقائد—خاص طور پر ختمِ نبوت—کے خلاف ایک منظم، منطقی اور عملی ردِّ عمل ہے، جس کے نتیجے میں قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے عقیدتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر الگ شناخت اختیار کر لی ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جو دراصل باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ یہ کتابچہ عقل، دلیل اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں قادیانی مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی موقف کو یا تو دلیل سے مانا جائے یا دلیل کے ذریعے منوایا جائے؛ محض عددی اکثریت یا طاقت کی بنیاد پر معقول مطالبات کو مسترد کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ دیباچہ نہ صرف موضوع کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تأکید کرتا ہے کہ عقیدتی مسائل کا فیصلہ عقل و دلیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا اکثریت کے زور سے۔

کتاب کا باب اول اصل مسئلے کی بنیاد رکھتا ہے: مرزا غلام احمد کے دعوٰیِ نبوت، قادیانیوں کے ایک علیحدہ امت بن جانے، اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے پیچھے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب دوم اور باب سوم دراصل 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بعد مولانا مودودی پر چلائے گئے فوجی مقدمے اور سزائے موت کے پس منظر کو بیان کرتے ہیں—بشمول ان کے وہ عدالتی بیانات جو فسادات کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے دیے گئے، جن میں لاہور میں مارشل لا کے اسباب، جماعتِ اسلامی کے طرزِ عمل، اور اسلامی ریاست، ارتداد کی سزا اور ڈائریکٹ ایکشن جیسے متعلقہ آئینی و فقہی سوالات کا جواب بھی شامل ہے۔

کتاب کا اختتام متعدد ضمائم پر ہوتا ہے جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، ظہورِ مہدی اور ختمِ نبوت سے متعلق احادیث اور فقہاء و مفسرین کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، نیز علامہ اقبالؒ کا قادیانیت کے بارے میں نقطۂ نظر بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ عقیدے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کو علمی و تاریخی شہادتوں سے مزید مستحکم کیا جا سکے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ضمیمہ نمبر۱: احادیث درباب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات:

(۱) عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیرویضع الحرب ویفیض المال حتی لایقلبہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرامن الدنیاومافیھا۔

(مشکوۃ کتاب الفتن‘باب نزول عیسیٰ ‘بحوالہ بخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضروراتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر‘پھروہ توڑدیں گے صلیب کواورقتل کر دیں گے سورکو اورختم کردیں گے جنگ کو(دوسری روایت میں حرب کے بجائے جزیہ کے الفاظ ہیں‘یعنی ختم کردیں گے جزیہ کو)اورکثرت ہوجائے گی مال کی یہاںتک کوئی قبول نہ کرے گااورلوگوں کے نزدیک ایک دفعہ (خداکے حضور)سجدہ کرنادنیامافیہا کی دولت سے زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘

(۲) عن ابی ہریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم۔ (مشکوۃ‘باب مذکوربحوالہ بخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ’’کیسے ہوگے تم اس وقت جب کہ تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اورتمہاراامام اس وقت خودتم میں سے ہوگا۔‘‘

(۳) عن ابی ہریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ینزل عیسی ابن مریم فیقتل الخنزیرویمحواالصلیب وتجمع لہ الصلوۃ ویعطی المال حتیٰ لایقبل ویضع الخراج وینزل الروحافیحج منھا‘اویعتمریجمعھما۔

(مسنداحمد‘بسلسلہ مرویات ابوہریرہ رضی اللہ ۔مسلم نے بھی اس مضمون کی ایک روایت کتاب الحج میں نقل کی ہے۔)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاعیسیٰ ابن مریم اتریں گے اورخنزیرکوقتل کردیں گے اور صلیب کو مٹا دیں گے، ان کے لیے نمازجمع کی جائے گی(یعنی ان کی امامت میں نمازپڑھی جائے گی)وہ اتنامال تقسیم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والاکوئی نہ رہے گا‘خراج ساقط کردیں گے اور روحاکے مقام پرمنزل کرکے وہاں سے وہ حج کریں گے(راوی کوشک ہے کہ عمرہ الگ کریں گے یاحج اورعمرہ ایک ساتھ اداکریں گے)۔

(۴) عن ابی ہریرۃ(بعدذکرخروج الدجال)فبیناھم یعدون للقتال یسوون الصفوف اذا قیمت الصلٰوۃ فینزل عیسی ابن مریم فامھم فاذا راہ عدواللّٰہ یذوب کمایذوب الملح فی الماء فلوترکہ لانناب حتٰی یھلک ولکن یقتلہ اللّٰہ بیدہ فیریھم دمتہ فی حربتہ۔

(مشکوۃ کتاب الفتن‘باب الملاحم‘بحوالہ مسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروری ہے (انھوں نے دجال کے خروج کاذکرکرتے ہوئی نبی اکرمﷺ نے کایہ ارشادبیان کیا)کہ اس اثنامیں کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہوں گے‘ صفیں باندھ رہے ہوں گے‘ اورنمازکے لیے تکبیراقامت کہی جاچکی ہوگی کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوجائیں گے‘پھروہ مسلمانوں کی امامت کریں گے اوراللہ کادشمن (یعنی دجال)ان کودیکھتے ہی اس طرح گھل جائے گاجیسے نمک پانی میں گھل جاتاہے۔اگرعیسیٰ علیہ السلام اس کواس کے حال پرچھوڑدیں تب بھی مرجائے‘مگراللہ اس کوان کے ہاتھ سے قتل کرائے گااوروہ اپنے نیزے میں اس کاخون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔‘‘

(۵) عن ابی ہریرۃ ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لیس بینی وبینہ نبی یعنی عیسیٰ)وانہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض بین ممصرتین کان راسہ یقطروان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیرویضع الجزیۃ ویھلک اللّٰہ فی زمان الملل کلھاالا الاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون۔

(ابودؤود‘کتاب الملاحم‘مسنداحمدبسلسلہ مرویات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)

ترجمہ: ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا’’میرے اوران کے یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں اوریہ کہ وہ اترنے والے ہیں۔ پس جب تم ان کودیکھوتوپہچان لینا‘وہ ایک میانہ قدآدمی ہیں‘ان کارنگ مائل بسرخی وسپیدی ہے‘دوکپڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو زرد رنگ کے ہوں گے‘ ان کے سرکے بال ایسے ہوں گے کہ گویااب ان سے پانی ٹپکنے والاہے حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔وہ اسلام پر(یعنی اسلام کے لیے یااس کی حمایت میں) لوگوں سے جنگ کریں گے‘صلیب کوپاش پاش کردیں گے‘ خنزیرکوقتل کردیں گے‘جزیہ ختم کردیں گے اوران کے زمانے میں اللہ اسلام کے سواتمام ملتوں کومٹادے گااوروہ مسیح دجال کو(یعنی اس دجال کوجس نے مسیح ہونے کادعویٰ کیاہوگا)ہلاک کردیں گے اورزمین میں چالیس سال رہیں گے‘پھران کاانتقال ہوجائے گااورمسلمان ان کی نمازجنازہ پڑھیں گے۔‘‘

جابرعبداللہ رضی اللہ عنہ:

(۶)عن جابر بن عبداللّٰہ قال سمعت رسول اللّٰہ ﷺ… فینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فیقول امیرھم تعال فصل فیقول لاان بعضکم علی بعض امراء تکرمتہ اللّٰہ ھذہ الامتہ۔

(مسند احمد ،بسلسلہ روایات جابر ابن عبداللہ ۔ مسلم نے بھی اس روایت کو نقل کیاہے)

ترجمہ :جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا …پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ، مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا آیئے! آپ نماز پڑھایئے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں،تم لوگ ایک دوسرے کے امیر ہو۔ یہ وہ اس عزت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔ ‘‘

(۷) عن جابر بن عبداللّٰہ (فی قصۃ ابن صیاد) فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہ یارسول اللّٰہ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہٗ انما صاحبہ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام وان یکن فلیس لک ان تقتل رجلامن اھل العھد۔

(مشکوٰۃ ،کتاب الفتن، باب قصہ ابن صیاد، بحوالہ شرح السنہ بغوی)

ترجمہ: جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ (ابن صیاد کا قصہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا) تب حضرت عمر بن خطابؓ بولے کہ یارسول اللہﷺ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر یہ وہی ہے (یعنی دجال ہے) تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ عیسیٰ ابن مریم ہیں ، اور اگریہ وہ نہیں ہے تو تمہیں اہل عہد ( یعنی ذمیوں ) میں سے ایک شخص کو قتل کر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ‘‘

(۸)عن جابر بن عبداللّٰہ (فی قصۃ الدجال) فاذاھم بعیسیٰ بن مریم علیہ السلام فتقام الصلوٰۃ فیقال لہ تقدم یاروح اللّٰہ فیقول لیتقدم امامکم فلیصل بکم فاذا صلی صلوٰۃ الصبح خرجوا الیہ۔ قال فحین یری الکذاب بنماث کمابنماث الملح فی الماء فیمشنی الیہ فیقتلہ حتیٰ ان الشجر والحجر ینادی یاروح اللّٰہ ھذا الیھودی، فلایترک ممن کان یتبعہ احد الاقتلہ۔ (مسند احمد ،بسلسلہ روایات جابرؓ)

ترجمہ: جابر بن عبداللہؓ (دجال کاقصہ بیان کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں کہ اس اثنامیں مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ علیہ السلام آجائیں گے پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گاکہ اے روح اللہ ، آپ آگے بڑھیں، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں تمہارے ہی امام کو آگے بڑھنا چاہیے، وہی نماز پڑھائیں۔ پھر جب صبح کی نماز پڑھ چکیں گے تو مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے ۔ فرمایا جب وہ کذاب (یعنی دجال ) ان کو دیکھے گا تو اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتاہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کردیں گے اور نوبت یہ آجائے گی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ ، یہ یہودی میرے پیچھے چھپاہواہے ۔ دجال کے پیروؤں میں سے کوئی نہ بچے گا جو قتل نہ کردیا جائے۔ ‘‘

نواس بن سمعان الکلابی رضی اللہ عنہ :

(۹) عن نواس بن سمعان (فی قصۃ الدجال) فبینماھوکذالک اذ بعث اللّٰہ المسیح ابن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھروذتین واضعا کفیہ علی اجنحۃ ملکین اذا طاطاء راسہ قطرو اذا رفعہ تحدرمنہ جمان کاللولوء فلایحل لکافر یجدریع نفسہ الامات ونفسہ ینتھی الی حیث ینتھی طرفہ فیطلبہ حتیٰ یدرکہ بباب لد فیقتلہ۔

(مشکوٰۃ، کتاب الفتن، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال، بحوالہ مسلم و ترمذی ، ابو داؤد ، کتاب الملاحم)

ترجمہ:نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ (قصہ دجال بیان کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں کہ اس اثنامیں کہ وہ (یعنی دجال ) یہ کچھ کررہاہوگا، اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو بھیج دے گا اوروہ دمشق کے مشرقی حصے میں سفیدمینارکے پاس اتریں گے۔ وہ دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔دوفرشتوں کے پروں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔جب وہ سرجھکائیں گے تو ایسامحسوس ہوگاکہ قطرے ٹپک رہے ہیں۔جب سراٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کا فر تک پہنچے گی،اوروہ ان کی حدنظرتک جائے گی،وہ زندہ نہ بچے گا ۔وہ دجال کا پیچھا کریں گے اور لد (lydda)کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ :

(۱۰) عن عبداللّٰہ ابن عمرو قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین (لاادری اربعین یوما او اربعین شہرا اواربعین عاما) فیبعث اللّٰہ عیسیٰ ابن مریم کانہ عروۃ بن مسعود فیطلبہ فیھلکہ ثم یمکث الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ۔

(مشکوٰۃ،کتاب الفتن، باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس ،بحوالہ مسلم)

ترجمہ:عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ میری اُمت میں دجال نکلے گا اور چالیس (مجھے ،یعنی حضرت عبداللہ کو نہیں معلوم کہ چالیس دن، یا چالیس مہینے ، یا چالیس سال) رہے گا۔ پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا، ان کا حلیہ عروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا وہ اس کاپیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے، پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی ۔ ‘‘

حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید غفاری :

(۱۱) عن حذیفۃ بن اسیدالغفاری قال اطلع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علینا ونحن نتذاکر فقال ماتزکرون قالوانذکر الساعتہ قال انھا لن تقوم حتیٰ ترون قبلھا عشرایات فذکر الدخان والدجال والدابتہ و طلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسیٰ ابن مریم ویاجوج وماجوج و ثلثۃ خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب و بجزیرۃ العرب واخرذالک نارتخرج من الیمن تطردالناس الیٰ محشر ہم۔

(مشکوٰۃ، کتاب الفتن، باب العلامات بین یدی الساعہ، بحوالہ مسلم)

ترجمہ:حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید غفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم باہم بات چیت کررہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھاکیا بات ہو رہی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے ۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہرنہ ہوجائیں۔پھرآپﷺ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں۔ ۱۔دھواں۔۲۔ دجال۔ ۳۔دابہ(جانور)۔۴۔سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔۵عیسیٰ ابن مریم کانزول۔ ۶۔یاجوج،ماجوج۔۷۔تین بڑے خسوف (landslides)ایک مشرق میں۔ ۸۔دوسرا مغرب میں۔۹۔ تیسرا جزیرتہ العرب میں ۔۱۰۔سب سے آخر میں ایک زبردست آگ ہوگی جو یمن سے اُٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کومحشر کی طرف لے جائی گی ۔

ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہﷺ:

(۱۲)عن ثوبان مولی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عصابتان من امتی احزرھمااللّٰہ تعالیٰ من النار‘عصابۃ تغزواالھند‘وعصابۃ تکون مع عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔

(نسائی‘کتاب الجہاد‘مسنداحمد‘بسلسلہ روایات ثوبان)

ترجمہ: نبی اکرمﷺ کے آزادکردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایامیری امت کے دولشکرایسے ہیں جن کواللہ نے آتش دوزخ سے بچالیا‘ایک وہ لشکر جو ہندوستان پرحملہ کرے گادوسراوہ جوعیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا‘‘۔

مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ:

(۱۳) سمعت رسول اللّٰہ علیہ وسلم یقول یقتل ابن مریم الدجال بباب لد۔

(امام احمدنے مسندمیں یہ حدیث چارطریقوں(یعنی چارسندوں)سے روایت کی ہے۔نیزترمذی نے بھی اسے نقل کیاہے۔)

ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ سے سناہے کہ ابن مریم لدکے دروازے پردجال کوقتل کریں گے۔

(۱۴) عن ابی امامۃ الباھلی (فی حدیث من ذکرالدجال)فبینماامامھم قدتقدم یصلی بھم الصبح اذنزل علیہم عیسیٰ ابن مریم فرجع ذٰلک الامام ینکص یمشی قہقری لیقدم عیسیٰ فیضع عیسیٰ یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ تقدم فصل فانھالک اقیمت فیصلی بھم امامھم فاذا انصرف قال عیسیٰ علیہ السلام افتحوالباب فیفتح وورأہ الدجال و معہ سبعون الف یھودی کلھم ذوسیف محلی وساج فاذانظرالیہ الدجال ذاب کمایذوب الملح فی الماء وینطلق ھارباویقول عیسیٰ ان لی فیک ضربۃ لن تسبقنی بھافیدرکہ عندباب لد الشرقی فیھزم اللّٰہ الیھودوتملا الارض من المسلم کمایملاء الاناء من الماء وتکون الکلمۃ واحدۃ فلایعبدالااللّٰہ تعالیٰ۔ (ابوداؤد‘ابن ماجہ)

ترجمہ: ابوامامہ باہلی رضی اللہ علیہ(ایک طویل حدیث میں دجال کاذکر کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں کہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا‘اس اثنا میں کہ مسلمانوں کاامام صبح کی نمازپڑھانے کے لیے آگے بڑھ چکاہوگا‘یکایک عیسیٰ ابن مریم ؑاترآئیں گے۔امام پیچھے پلٹے گاتاکہ عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھیں‘ مگرعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اس کے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے تم ہی آگے بڑھ کرنمازپڑھاؤ کیونکہ یہ تمہارے ہی لیے قائم کی گئی ہے۔ چنانچہ ان کاامام نمازپڑھائے گا۔سلام پھیرنے کے بعدعیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو‘چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہردجال ۷۰ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجودہوگا۔عیسیٰ علیہ السلام کودیکھتے ہی دجال اس طرح گھل جائے گاجیسے نمک پانی میں گھل جاتاہے‘اوروہ بھاگ نکلے گا۔عیسیٰ ؑکہیں گے میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے توبچ کرنہ جا سکے گا۔پھروہ اسے لدکے مشرقی دروازے پر جالیں گے۔ اوراللہ یہودیوں کو شکست دے گا…….اورزمین مسلمانوں سے اس طرح بھرجائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجائے اورسب دنیاکاکلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سواکسی کی عبادت نہ ہوگی۔

عثمان ابن ابی العاص رضی اللہ عنہ:

(۱۵)سمعت رسول اللّٰہ علیہ وسلم یقول…وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عنہ صلوۃ الفجرفیقول لہ امیرھم یاروح اللّٰہ تقدم‘صل‘ فیقول ھذہ الامۃ لامراء بعضھم علی بعض فیقدم امیرھم فیصلی فاذاقضی صلوتہ اخذعیسیٰ حربتہ فیذھب نحوالدجال فاذایراہ الدجال ذاب کمایزوب الرصاص فیضح حربتہ بین شندوبتہٖ فیقتلہ وینھزوم اصحابہ لیس یومئذشئی یواری منھم احداحتیٰ ان الشجرۃ لتقول یامومن ھذاکافرویقول الحجریامومن ھذاکافر۔

(مسنداحمدبسلسلہ روایات عثمان بن ابی العاص‘نیزطبرانی اورحاکم نے بھی اسے نقل کیاہے)

ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ کویہ فرماتے سناہے…اورعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجرکی نمازکے وقت اتریں گے۔مسلمانوں کاامیران سے کہے گاکہ اے روح اللہ آگے بڑھیے ‘نمازپڑھائیے‘وہ کہیں گے کہ اس امت کے لوگ خودہی ایک دوسرے پرامیرہیں‘تب مسلمانوں کاامیرآگے بڑھ کر نمازپڑھائے گا۔پھرنمازسے فارغ ہوکرعیسیٰ علیہ السلام اپنانیزہ لے کردجال کی طرف چلیں گے۔ دجال جب ان کودیکھے گاتواس طرح پگھل جائے گاجیسے سیسہ پگھلتاہے۔ پھرعیسیٰ علیہ السلام نیزہ مارکراس کوقتل کر دیں گے اوراس کے ساتھی شکست کھاجائیں گے۔ اس روزان لوگوں کے لیے کہیں چھپنے کوجگہ نہ ہو گی‘درخت پکاریں گے کہ اے مومن یہ کافر یہاں موجودہے اورپتھر پکاریں گے کہ اے مومن یہ کافر یہاں موجود ہے۔

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ:

(۱۶) عن سمرۃ بن جندب عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (فی حدیث طویل)فیصبح فیھم عیسٰی ابن مریم فیھزمہ اللّٰہ وجنودہ حتیٰ ان اجزم الحائط واصل الشجرینادی یامومن ھذاکافریستتربی فتعال اقتلہ۔

(مسنداحمد‘مرویات سمرہ بن جندب میں‘نیزحاکم نے مستدرک میں بھی اسے نقل کیاہے)

ترجمہ : سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ (ایک طویل حدیث میں)نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ پھرصبح کے وقت مسلمانوں میں عیسٰی ابن مریم آجائیں گے اوراللہ تعالیٰ دجال اوراس کے لشکر کو شکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکاراٹھیں گی کہ اے مومن یہ کافر یہاں چھپا ہواہے‘آاوراسے قتل کر۔‘‘

(۱۷)عن عمران بن حصین ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لاتذال طائفۃ من امتی علی الحق ظاہرین علی من ناؤاھم حتی یاتی امراللّٰہ تبارک وتعالیٰ وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ (مسنداحمد‘مرویات عمران بن حصینؓ)

ترجمہ: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک گروہ ایساضروررہے گاجوحق پرقائم اور مخالفوں پر بھاری رہے گا۔ یہاں تک کہ اللہ کافیصلہ آجائے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں۔

(۱۸)عن عائشۃ (فی قصۃ الدجال)فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ اماماعادلا وحکما مقسطا۔ (مسنداحمد‘مرویات عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا(دجال کے قصے میں نبی اکرمﷺ سے)روایت کرتی ہیں’’پھرعیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اوراسے قتل کریں گے۔پھر عیسیٰ السلام زمین میں چالیس سال تک ایک امام عادل اورحاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔

سفینہ رضی اللہ مولیٰ رسول اللہﷺ:

عن سفینۃ مولٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (فی قصۃ الدجال) فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ اللّٰہ تعالیٰ عندعقبۃ افیق۔(مسنداحمد‘مرویات سفینہ)

ترجمہ:رسول اللہ ﷺکے آزادکردہ غلام سفینہ رضی اللہ عنہ (دجال کے قصے میں حضور اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں)پھرعیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اوراللہ تعالیٰ دجال کوافیق کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔

(۲۰) عن حذیفۃ (فی ذکرالدجال)فلماقاموایصلون نزل عیسیٰ ابن مریم امامھم فصلی بھم فلماانصرف قال ھکذافرجوابینی وبین عدو اللّٰہ …یسلط اللّٰہ علیھم المسلمین فیقتلونھم حتی ان الشجر والحجرلینادی یاعبداللّٰہ یاعبدالرحمن یامسلم ھذا الیھودی فاقتلہ فیفنیھم اللّٰہ تعالیٰ ویظہرالمسلمون فیکسرون الصلیب ویقتلون الخنزیرویضعون الجزیتہ۔

(مستدرک حاکم۔مسلم میں بھی یہ روایت اختصارکے ساتھ آئی ہے۔اورحافظ ابن حجرنے فتح الباری

جلد۶صفحہ۴۵۰۰میں اسے صحیح قراردیاہے۔)

ترجمہ:حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان(دجال کے ذکرمیں روایت کرتے ہیں)پھرجب مسلمان نمازپڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے توعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ان کے سامنے آئیں گے اوران کونمازپڑھائیں گے۔ پھرسلام پھیرنے کے بعدوہ ہاتھ کے اشارے سے کہیں گے کہ ہٹ جاؤ میرے اوراس دشمن خداکے درمیان سے…..اور اللہ تعالیٰ دجال کے ساتھیوں پرمسلمانوں کومسلط کردے گااوروہ انہیں خوب ماریں گے یہاں تک کہ درخت اورپتھرپکاراٹھیں گے کہ اے عبداللہ ‘اے عبدالرحمن‘اے مسلمان‘یہ یہاں ایک یہودی موجود ہے‘ ماراسے‘اس طرح اللہ تعالیٰ ان کوفناکردے گا اورمسلمان غالب ہوں گے اورصلیب توڑدیں گے اورخنزیرکوقتل کر دیں گے اورجزیہ ساقط کردیں گے۔