مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قادیانی مسئلہ

اشاعت: 1952ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "قادیانی مسئلہ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی، عقیدتی اور سیاسی تحریر ہے جس میں انہوں نے قادیانی فرقے کو اسلامی امت سے خارج قرار دینے کے مطالبے کی فکری، عقیدتی، معاشرتی اور آئینی بنیادیں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی اختلاف کی وضاحت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کا جامع تجزیہ ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلم معاشرے میں تقسیم، تفریق اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ قادیانیت صرف کسی فرعی مسلکی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقائد—خاص طور پر ختمِ نبوت—کے خلاف ایک منظم، منطقی اور عملی ردِّ عمل ہے، جس کے نتیجے میں قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے عقیدتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر الگ شناخت اختیار کر لی ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جو دراصل باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ یہ کتابچہ عقل، دلیل اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں قادیانی مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی موقف کو یا تو دلیل سے مانا جائے یا دلیل کے ذریعے منوایا جائے؛ محض عددی اکثریت یا طاقت کی بنیاد پر معقول مطالبات کو مسترد کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ دیباچہ نہ صرف موضوع کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تأکید کرتا ہے کہ عقیدتی مسائل کا فیصلہ عقل و دلیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا اکثریت کے زور سے۔

کتاب کا باب اول اصل مسئلے کی بنیاد رکھتا ہے: مرزا غلام احمد کے دعوٰیِ نبوت، قادیانیوں کے ایک علیحدہ امت بن جانے، اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے پیچھے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب دوم اور باب سوم دراصل 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بعد مولانا مودودی پر چلائے گئے فوجی مقدمے اور سزائے موت کے پس منظر کو بیان کرتے ہیں—بشمول ان کے وہ عدالتی بیانات جو فسادات کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے دیے گئے، جن میں لاہور میں مارشل لا کے اسباب، جماعتِ اسلامی کے طرزِ عمل، اور اسلامی ریاست، ارتداد کی سزا اور ڈائریکٹ ایکشن جیسے متعلقہ آئینی و فقہی سوالات کا جواب بھی شامل ہے۔

کتاب کا اختتام متعدد ضمائم پر ہوتا ہے جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، ظہورِ مہدی اور ختمِ نبوت سے متعلق احادیث اور فقہاء و مفسرین کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، نیز علامہ اقبالؒ کا قادیانیت کے بارے میں نقطۂ نظر بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ عقیدے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کو علمی و تاریخی شہادتوں سے مزید مستحکم کیا جا سکے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

عدالت کے سامنے پیش کردہ قادیانیوں کی بناوٹی پوزیشن:

۲۔عدالت میں یہ خیال بھی ظاہرکیاگیاہے کہ صدرانجمن احمدیہ ربوہ کی طرف سے اس کے وکیل نے عدالت کے دئیے ہوئے سات سوالوں کے جواب میں جوبیان دیاہے اس سے مسلمانوں اورقادیانیوں کااختلاف رفع ہوجاتاہے۔میں نے اس بیان کوپورے غورکے ساتھ پڑھاہے، میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ اس بیان سے پوزیشن میں ذرہ برابر بھی تغیرواقع نہیں ہوتااوراس کے باوجودنزاع واختلاف کے وہ تمام اسباب جوں کے توں باقی رہتے ہیں جواب تک خرابی کے موجب رہے ہیں۔اس بیان میں قادیانیوں نے پوری ہوشیاری کے ساتھ یہ کوشش کی ہے کہ اپنی اصلی پوزیشن کو تاویلوں کے پردے میں چھپا کرایک بناوٹی پوزیشن عدالت کے سامنے پیش کریں تاکہ عدالت اس سے دھوکہ کھاکران کے حق میں مفیدمطلب رپورٹ بھی دے دے اوروہ اپنی سابق روش پرعلی حالہٖ قائم بھی دہ سکیں۔ان کی سابقہ تحریروں اوران کے اب تک کے طرزعمل سے جوشخص کچھ بھی واقفیت رکھتاہووہ یہ محسوس کیے بغیرنہیں رہ سکتاکہ انھوں نے اس بیان میں اپنی پوزیشن بدل کرقریب قریب وہ پوزیشن اختیارکرلی ہے جولاہوری احمدیوں کی پوزیشن تھی۔لیکن یہ تبدیلی وہ صاف صاف یہ کہہ کراختیارنہیں کرتے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ نزاع ختم کرنے کے لیے اپنے عقیدے اورمسلک میں یہ تغیرکررہے ہیں بلکہ وہ اسے اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ ہماری پوزیشن ابتدا سے یہی رہی ہے۔حالانکہ یہ صریح غلط بیانی ہے ۔اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ وہ عملاًاپنی سابق پوزیشن کی توثیق کررہے ہیں اورآئندہ بھی اسی پرقائم رہناچاہتے ہیں، البتہ عارضی طورپراس تحقیقات کے دوران میں انھوں نے ایک مناسب وقت پوزیشن اختیارکرلی ہے جوتحقیقات کادورگزرنے کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی۔اس فریب کی حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے گی اگران کے بیان کاذراتفصیلی جائزہ لے کر دیکھ لیاجائے:

(الف)عدالت نے سوال کیاتھاکہ جومسلمان مرزاصاحب کونبی نہیں مانتے کیاوہ مومن اورمسلم ہیں؟جواب میں وہ کہتے ہیں:

’’کسی شخص کوحضرت بانی سلسلہ احمدیہ کونہ ماننے کی وجہ سے غیرمسلم نہیں کہاجاسکتا۔‘‘

مگریہ جواب دینے کے ساتھ ہی انہیں یادآجاتاہے کہ ان کی پچھلی تحریرات اس کے بالکل خلاف ہیں۔اس لیے وہ ان کی تاویل یوںکرتے ہیں کہ:

’’ممکن ہے ہماری بعض سابقہ تحریرات سے غلط فہمی پیداکرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے متعلق ہم کہہ دیناچاہتے ہیں کہ ہماری ان سابقہ تحریرات میں جواصطلاحات استعمال کی گئی ہیں وہ ہماری مخصوص ہیں۔عام محاورے کوجومسلمانوںمیں رائج ہے استعمال نہیں کیا گیاہے، کیونکہ ہم نے اس مسئلے پریہ کتابیں غیراحمدیوں کومخاطب کرکے شائع نہیں کیں بلکہ ہماری یہ تحریرات جماعت کے ایک حصے کومخاطب کرکے لکھی گئی ہیں۔اس لیے ان تحریرات میں ان اصطلاحات کومدنظررکھناضروری نہیں تھاجودوسرے مسلمانوں میں رائج ہیں۔‘‘

اس عبارت سے صاف ظاہرہے کہ وہ اپنی سابق تحریرات کی تردیدنہیں بلکہ توثیق کر رہے ہیں اورعدالت کویقین دلاناچاہتے کہ ان تحریرات کامفہوم ان کے موجودہ جواب کے خلاف نہیں ہے۔اب ذراان کی سابق تحریروں میں سے صرف دوعبارتیں ملاحظہ ہوں:

’’کُل مسلمان جوحضرت مسیح موعودکی بیعت میں شامل نہیں ہوئے‘خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعودکانام بھی نہیں سنا‘وہ کافراوردائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت‘مصنفہ مرزابشیرالدین محموداحمدصاحب، ص۳۵)

’’ہرایک ایساشخص جوموسیٰ کامانتاہے مگرعیسیٰ کونہیں مانتا‘یاعیسیٰ کومانتاہے مگر محمد کو نہیں مانتا‘ یامحمدکومانتاہے مگرمسیح موعودکونہیں مانتا‘وہ نہ صرف کافربلکہ پکاکافراوردائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمتہ الفضل ‘مصنفہ صاحب زادہ بشیراحمدصاحب ،ص۱۱۰)

صاف دیکھاجاسکتاہے کہ ان دونوں عبارتوں میں محض مرزاصاحب کے نہ ماننے کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قراردیاگیاہے۔کیایہ باورکیاجاسکتاہے کہ یہ تینوں الفاظ قادیانیوں کی مخصوص اصطلاحات ہیں اوران کامفہوم وہ نہیں ہے جو مسلمانوںمیں عام طورپررائج ہے؟اس طرح کی تحریروں کی یہ تاویل کس قدربھونڈی تاویل ہے کہ ہم نے یہ تحریرات جماعت کے ایک حصے(یعنی لاہوری احمدیوں)کومخاطب کرکے لکھی تھیں۔آخر کون نہیں جانتاکہ لاہوری احمدیوں سے قادیانیوں کاجس بات پر پچھلے ۳۵سال جھگڑارہاہے وہ اسی نکتے پرتھاکہ قادیانی مرزاصاحب کی نبوت تسلیم نہ کرنے والے سب مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے تھے اور لاہوری ان کے اس عقیدے کو غلط ٹھہراتے تھے۔ اس مباحثے میں اگر فریقین کے نزدیک ’’کافر‘‘ اور دائرہ اسلام سے خارج کا مفہو م وہ نہ تھا جو مسلمانوں میں عام طور پر رائج ہے تو پھر جھگڑا کس بات پرتھا۔

(ب) عدالت کا دوسرا سوال یہ تھاکہ جو شخص مرزا کی نبوت تسلیم نہ کرے کیا وہ کافرہے؟صدرانجمن احمدیہ ربوہ کے وکیل صاحب اس کایہ جواب دیتے ہیں کہ:

’’کافرکے معنی عربی زبان میں نہ ماننے والے کے ہیں۔پس جوشخص کسی چیزکونہیں مانتااس کے لیے عربی زبان میں کافرکالفظ ہی استعمال ہوگا۔بس ایسے شخص کوجب تک وہ یہ کہتاہے کہ میں فلاں چیزکونہیں مانتااس کواس چیزکاکافرسمجھاجائے گا‘‘

اس عبارت سے عدالت کویہ باورکرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ مرزاصاحب کے نہ ماننے والوں کولغوی معنی میں کافرکہتے ہیں نہ کہ اسلام کے اصطلاحی معنی میں۔لیکن یہ صریح دھوکاہے۔اوپرمرزابشیرالدین محمودصاحب اورصاحب زادہ بشیراحمدکی جو دو عبارتیں نقل کی گئی ہیں ان دونوں میں’’کافر‘‘کی تشریح ’’دائرہ اسلام سے خارج‘‘ کے الفاظ میں کی گئی ہے اوراس کی مزیدتشریح مرزابشیرالدین محمودصاحب اورصاحب زادہ بشیراحمدصاحب کی یہ عبارات کرتی ہیں:

’’ہمارایہ فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کومسلمان نہ سمجھیں اوران کے پیچھے نمازنہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی کے منکرہیں۔‘‘ (انوارخلافت، ص۹۰)

’’اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعودکے ماننے کے بغیرنجات نہیں ہو سکتی توکیوں خواہ مخواہ غیراحمدیوں کومسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘

(کلمتہ الفضل ،ص۱۴۸)

ان عبارتوں کی موجودگی میں یہ کیسے ماناجاسکتاہے کہ قادیانی حضرات مرزاصاحب کے منکرمسلمانوں کومحض’’نہ ماننے والے‘‘کے معنی میں کافرکہتے ہیں؟پھراس سے بھی زیادہ بڑادھوکہ اس بیان میں دیاگیاہے کہ:

’’ہمارے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعدکسی مامورمن اللہ کے انکارکے ہرگزیہ معنی نہ ہوں گے کہ ایسے لوگ اللہ اوررسول کریمﷺ کے منکرہوکراُمت محمدیہ سے خارج ہیں یایہ کہ مسلمانوں کے معاشرے سے خارج کردئیے گئے ہیں۔‘‘

اس عبارت میں خط کشیدہ الفاظ نہایت ہوشیاری کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ ان میں مسلمانوں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی نفی نہیں کی گئی ہے بلکہ صرف امت محمدیہ ﷺ میں شامل ہونے کااثبات کیاگیاہے۔ظاہربات ہے کہ جوشخص محمدﷺ کومانتاہوااورمرزاصاحب کونہ مانتاہووہ ’’امت محمدیہ‘‘سے خارج نہیں ہوسکتا۔ یہ بالکل ایساہی ہے جیسے حضرت عیسیٰ کوماننے والاآدمی محمدﷺ کاانکارکرنے کے باوجوداُمت حضرت عیسویہ میں اورحضرت موسیٰ کوماننے والاشخص حضرت عیسیٰ کے انکارکے باوجودامت موسویہ میں شمارہوگا۔البتہ ایسے کسی شخص کو’’دائرہ اسلام ‘‘میں داخل نہیں سمجھا جائے گا۔اسی طرح قادیانی حضرات مرزاصاحب کے منکرمسلمانوں کوامت محمدیہ میں توضرورشامل سمجھتے ہیں‘کیونکہ وہ محمدﷺ کے منکرنہیں ہیں‘مگردائرہ اسلام سے بہرحال خارج سمجھتے ہیں کیونکہ خداکے ایک نبی کاانکاربھی آدمی کودائرہ اسلام سے خارج کردیتاہے اوران کے نزدیک مرزاصاحب خداکے نبی ہیں۔پھردوسرے فقرے میں وہ جوکچھ کہتے ہیں وہ یہ نہیں ہے کہ غیراحمدی مسلمان دائرہ اسلام سے خارج نہیں‘بلکہ ازراہ لطف وکرم صرف یہ کہتے ہیں کہ وہ’’مسلمانوں کے معاشرے ‘‘ سے خارج نہیں کردئیے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کامعاشرہ ان کے قبضے میں نہیں ہے جس سے وہ کسی کوخارج کرسکیں۔

(ج)عدالت کاتیسراسوال یہ تھاکہ ایسے کافرہونے کے دنیااورآخرت میں کیا نتائج ہیں؟اس کاجواب صدرانجمن احمدیہ ربوہ کے وکیل صاحب یہ دیتے ہیں کہ:

’’ایسے کافرکی کوئی دنیوی سزامقررنہیں ہے۔وہ اسلامی حکومت میں ویسے ہی حقوق رکھتاہے جوایک مسلمان کے ہوتے ہیں۔اسی طرح عام معاشرے کے معاملے میں بھی وہی حقوق رکھتاہے جوایک مسلمان کے ہیں۔ہاں خالص اسلامی حکومت میں وہ حکومت کاہیڈ نہیں بن سکتا۔باقی رہے اخروی نتائج سوان نتائج کاحقیقی علم توصرف اللہ کوہے۔‘‘

یہاں پھرعدالت کوبالکل غلط اطلاع بہم پہنچائی گئی ہے۔قادیانی حضرات مسلمانوں پرجس کفرکافتویٰ لگاتے ہیں اس کے دنیوی نتائج صاحب زادہ بشیراحمدصاحب کے الفاظ میں دراصل یہ ہیں:

’’حضرت مسیح موعودنے غیراحمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائزرکھاہے جو نبی کریمﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں‘ان کو لڑکیاں دنیاحرام قراردیاگیا‘ان کے جنازے پڑھنے سے روکاگیا۔اب باقی کیارہ گیاہے جوہم ان کے ساتھ مل کرکرسکتے ہیں؟

دوقسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ایک دینی‘دوسرے دنیوی۔دینی تعلق کاسب سے بڑاذریعہ رشتہ وناطہ ہے۔سویہ دونوں ہمارے لیے حرام قراردیے گئے۔اگرکہوکہ ہم کوان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تومیں کہتاہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔اور اگریہ کہوکہ غیراحمدیوں کوسلام کیوں کہاجاتاہے،تواس کاجواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺنے یہودیوں تک کوسلام کاجواب دیاہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل‘ص۱۶۹)

رہے اس کفرکے اُخروی نتائج تووہ خودمرزاغلام احمدصاحب پر’’نازل شدہ الہام ‘‘ کے بموجب یہ ہیں:

’’جوشخص تیری پیروی نہیں کرے گااورتیری بیعت میں داخل نہیں ہوگااورتیرامخالف رہے گاوہ خدااوررسول کی مخالفت کرنے والاجہنمی ہے‘‘۔ (تبلیغ رسالت‘جلدنہم‘ص۲۷)

اب یہ بات ہرشخص سمجھ سکتاہے کہ قادیانی حضرات کی نگاہ میں جووزن مرزاصاحب کے الہام کاہوسکتاہے وہ شیخ بشیراحمدصاحب ایڈووکیٹ کے اس بیان کا نہیں ہوسکتا جو انھوں نے اس تحقیقات کی ضرورت سے صدرانجمن احمدیہ کے وکیل کی حیثیت میں دیاہے۔ نیز مرزاصاحب کے مسلک کی جوتفسیران کے’’اہل بیت‘‘میں سے ایک بزرگ نے فرما دی ہے اسے بہرحال وکیل صاحب کے بیان کی بہ نسبت زیادہ سنداعتبارحاصل ہوگی۔

(د)عدالت کاسوال یہ تھاکہ کیامرزاصاحب کورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اوراسی طریقہ سے الہام ہوتاتھا؟جواب میں اقرارکیاگیاہے کہ مرزاصاحب پروحی نازل ہوتی تھی اوراس کے ساتھ یہ بھی کہاگیاہے کہ یہ وحی مرتبے اورحیثیت میں اس وحی سے کم ترتھی جونبی ﷺ پرنازل ہواکرتی تھی۔لیکن یہ عدالت کے سوال کاصحیح جواب نہیں ہے۔ اس میں جوبات چھپائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق مرزاصاحب کی وحی اپنی نوعیت کے لحاظ سے ویسی ہی ہے جیسی نبی ﷺ کی وحی تھی اوراس کے نہ ماننے والے کی حیثیت وہی ہے جوقرآن کے نہ ماننے والے کی ہے۔یہ بات مرزاغلام احمدصاحب نے خودان الفاظ میںبیان کی ہے۔

آنچہ من بشنوم زوحی خدا

بخدا پاک دنمش زخطا

ہمچو قرآں منزہ اش دانم

ازخطاہا ہمیں ست ایمانم

بخدا ہست ایں کلام مجید

ازدہان خدائے پاک ووحید

آں یقینے کہ بود عیسیٰ را

بر کلامے کہ شد بر و القا

واں یقین کلیم بر تورات

واں یقین ہائے سیدالسادات

کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

ہرکہ گوید دروغ ہست لعین

(درثمین ،ص۲۸۷‘مجموعہ کلام مرزاغلام احمدصاحب ‘نزول المسیح‘ص۹۹)

(ہ)عدالت کاسوال تھاکہ کیااحمدیوں کے مذہب میں ان لوگوں کی نمازجنازہ پڑھنے کے خلاف کوئی حکم موجودہے جومرزاصاحب کونہ مانتے ہوں؟ جواب میں اقرارکیاگیاہے کہ’’اس وقت تک جماعتی فیصلہ یہی رہاہے کہ غیرازجماعت لوگوں کی نمازجنازہ نہ پڑھی جائے۔‘‘اوراس کے بعدیہ بتایاگیاہے کہ اب مرزاصاحب کی ایک ایسی تحریرمل گئی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ جوشخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مکفریامکذب نہ ہواس کاجنازہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘لیکن اگرخط کشیدہ الفاظ پرغورکیاجائے توصاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے درحقیقت سابق کی پوزیشن میں کوئی تغیرواقع نہیں ہوتا۔یہ ظاہربات ہے کہ مرزاصاحب نے نبوت کادعویٰ کیاہے۔ایک مدعی نبوت کے معاملے میں آدمی کے لیے دوہی رویے ممکن ہیں۔یااس کے دعویٰ کومان لے یااس کا انکار کردے۔ اقرار اور انکار کے درمیان کوئی مقام نہیں ہے۔اب کوئی شخص ان کے دعوے کا انکار کرتاہے وہ چاہے مکفر نہ ہو، مگر مکذب ہونے سے کسی طرح نہیں بچ سکتا۔اس طرح غیراحمدی مسلمانوں کی نماز جنازہ کے معاملے میں قادیانیوں کی پوزیشن عملاًوہی رہتی ہے جوپہلے سے چلی آرہی ہے۔ یہ بات اچھی طرں سمجھ لینی چاہیے کہ ایک مدعی نبوت کے معاملے میں مکذب لازماًصرف اسی شخص کونہیں کہتے جوصاف الفاظ میں اس کوجھوٹاکہے بلکہ اس کے دعویٰ کاانکاربھی اس کی تکذیب ہی ہے۔

(و)عدالت کاسوال تھاکہ کیااحمدی اورغیراحمدی میں شادی جائزہے؟اورایسی شادی کے خلاف ممانعت کاکوئی حکم موجودہے؟جواب میں وکیل صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ’’احمدی مردکی غیراحمدی لڑکی سے شادی کی کوئی ممانعت نہیں۔البتہ احمدی لڑکی کے غیراحمدی مردسے نکاح کوضرورروکاجاتاہے۔‘‘نیزیہ کہ دراصل اس ممانعت کی بنااحمدیت سے بغض اورعداوت رکھنے والوں کے اثرسے لڑکیوںکابچاناتھااوریہ کہ کوئی احمدی اپنی لڑکی کانکاح غیراحمدی مردسے کردے تواس کے نکاح کوکالعدم قرارنہیں دیاجاتا‘‘۔لیکن اس جواب میں اصل پوزیشن عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔اصل پوزیشن وہ ہے جو صاحب زادہ بشیراحمدصاحب نے کلمۃ الفصل میں بایں الفاظ بیان کی ہے:

’’حضرت مسیح موعودنے غیراحمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائزرکھاہے جونبی کریمﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔غیراحمدیوں سے ہماری نمازیںالگ کی گئیں‘ان کو لڑکیاں دیناحرام قراردیاگیا‘ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا… اگرکہوکہ ہم کوان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تومیں کہتاہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔‘‘(ص۱۶۹)

(ز)صدرانجمن احمدیہ ربوہ کے وکیل صاحب نے اپنے بیان میں عدالت کویہ باور کرانے کی بھی کوشش کی ہے کہ قادیانیوں نے مسلمانوں کی تکفیراوران سے عبادت و معاشرت میں مقاطعہ کرنے کی جوروش اختیارکی ہے اس کی نوعیت عام مسلمانوں کی دینی و اخلاقی حالت پرمختلف اصلاح پسندلوگوں کی تنقیدوں اورعلمائ کے فتاوائے تکفیرسے مختلف نہیں ہے۔حالانکہ ان دونوں کے درمیان اصولاً بڑافرق ہے۔مسلمانوں کے بہت سے قدیم وجدیداصلاح پسندلوگوں نے اپنی تنقیدوں میں قوم کی عام اخلاقی ودینی حالت پر تنقید کرتے ہوئے جوملامت آمیزباتیں کہیں اورلکھی ہیں، ان کامنشاساری قوم کی تکفیرکرنا نہیں ہے بلکہ ان کواصلی اورحقیقی اسلام کی طرف واپس آنے کے لیے اکساناہے اوروہ کوئی نئی بات منوانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اسلام کے انہی عقائداوراحکام کی پیروی کامطالبہ کرتے ہیں جو سب مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہیں۔ اسی طرح مختلف فرقوں کے علمائ نے ایک دوسرے کی تکفیرمیں جتنی تحریریں بھی لکھی ہیں، وہ زیادہ تراس بنیادپرہیں کہ ایک عالم کی رائے میں دوسرے فرقے کے لوگ اسلام کے مسلمہ عقائدسے ہٹ گئے ہیں، نہ اس بنیاد پر کہ وہ اس عالم کی پیش کردہ کسی نئی بات کونہیں مانتے۔اس کے برعکس قادیانیوں نے تمام غیراحمدی مسلمانوں کے مقابلے میں تکفیراورعبادت ومعاشرت کے مقاطعے کی جوروش اختیارکی ہے اس کی بنیادیہ ہے کہ وہ مرزاغلام احمدصاحب کے دعوائے نبوت کونہیں مانتے اور ظاہر ہے کہ یہ دعوائے نبوت ایک نئی چیزہے اوراس عقیدۂ ختم نبوت کے بالکل خلاف ہے جوتمام مسلمانوں کے نزدیک اسلام کامسلمہ عقیدہ ہے۔یہ بنیادی اوراصولی فرق اس واقعی فرق کے علاوہ ہے کہ قادیانی تکفیرکے سواکوئی دوسری تکفیرایسی نہیں ہے جس نے مسلمانوں کے کسی فرقے کوعام مسلمانوں سے عبادات ‘شادی بیاہ‘معاشی مفاداورسیاسی آزوؤں اورتمناؤں میں عملاًبالکل الگ کردیاہواورزندگی کے ہرمیدان میں اس کوسواداعظم سے نبردآزما کر دیا ہو۔