قادیانی مسئلہ
اشاعت: 1952ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "قادیانی مسئلہ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی، عقیدتی اور سیاسی تحریر ہے جس میں انہوں نے قادیانی فرقے کو اسلامی امت سے خارج قرار دینے کے مطالبے کی فکری، عقیدتی، معاشرتی اور آئینی بنیادیں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی اختلاف کی وضاحت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کا جامع تجزیہ ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلم معاشرے میں تقسیم، تفریق اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ قادیانیت صرف کسی فرعی مسلکی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقائد—خاص طور پر ختمِ نبوت—کے خلاف ایک منظم، منطقی اور عملی ردِّ عمل ہے، جس کے نتیجے میں قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے عقیدتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر الگ شناخت اختیار کر لی ہے۔
کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جو دراصل باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ یہ کتابچہ عقل، دلیل اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں قادیانی مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی موقف کو یا تو دلیل سے مانا جائے یا دلیل کے ذریعے منوایا جائے؛ محض عددی اکثریت یا طاقت کی بنیاد پر معقول مطالبات کو مسترد کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ دیباچہ نہ صرف موضوع کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تأکید کرتا ہے کہ عقیدتی مسائل کا فیصلہ عقل و دلیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا اکثریت کے زور سے۔
کتاب کا باب اول اصل مسئلے کی بنیاد رکھتا ہے: مرزا غلام احمد کے دعوٰیِ نبوت، قادیانیوں کے ایک علیحدہ امت بن جانے، اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے پیچھے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب دوم اور باب سوم دراصل 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بعد مولانا مودودی پر چلائے گئے فوجی مقدمے اور سزائے موت کے پس منظر کو بیان کرتے ہیں—بشمول ان کے وہ عدالتی بیانات جو فسادات کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے دیے گئے، جن میں لاہور میں مارشل لا کے اسباب، جماعتِ اسلامی کے طرزِ عمل، اور اسلامی ریاست، ارتداد کی سزا اور ڈائریکٹ ایکشن جیسے متعلقہ آئینی و فقہی سوالات کا جواب بھی شامل ہے۔
کتاب کا اختتام متعدد ضمائم پر ہوتا ہے جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، ظہورِ مہدی اور ختمِ نبوت سے متعلق احادیث اور فقہاء و مفسرین کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، نیز علامہ اقبالؒ کا قادیانیت کے بارے میں نقطۂ نظر بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ عقیدے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کو علمی و تاریخی شہادتوں سے مزید مستحکم کیا جا سکے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بجواب نکتہ ہشتم:
(۱۷)آٹھویں نکتے کومحترم عدالت نے جن الفاظ میں بیان فرمایاہے اس سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ آیاڈائریکٹ ایکشن کے جوازوعدم جوازپراصولی حیثیت سے بحث مطلوب ہے یاصرف وہ خاص ڈائریکٹ ایکشن زیربحث ہے جوختم نبوت کے سلسلے میں کیا گیاتھا۔ہم یہ فرض کرتے ہوئے کہ محترم عدالت کامنشادونوں پہلوؤں پرحاوی ہے۔اس مسئلہ پردونوں حیثیتوں سے گفتگوکریں گے۔
(۱۸)ڈائریکٹ ایکشن سے مرادہمارے نزدیک (civil disobedience) ہے یعنی ’’پرامن نافرمانی‘‘یا’’نافرمانی بلاتشدد‘‘یا’’غیرمسلح نافرمانی ‘‘ہندوستان وپاکستان کی تاریخ میںیہ لفظ آج تک انہی معنوں میں استعمال ہواہے اوریہاں کے عوام وخواص اس کایہی مفہوم سمجھتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک غیرآئینی طریق کارہے‘کیونکہ آئین ملکی حکومت کی پالیسی پراثراندازہونے یااس سے مطالبات تسلیم کرانے کے جوطریقے مقرر کرتا یا جائزرکھتا ہے‘یہ طریقہ ان میں شامل نہیں ہے اورکوئی آئین احکام کی نافرمانی یاقوانین کی خلاف ورزی کوجائزنہیں رکھتالیکن صرف یہ بات کہ یہ ایک غیرآئینی طریق کارہے‘اس کوحق اور انصاف کے خلاف کردینے کے لیے کافی نہیں ہے۔انسانی عقل عام حق اور انصاف کے جن تصورات کوہمیشہ سے قبول کرتی رہی ہے اورآج بھی قبول کرتی ہے‘ان کی روسے ایک حکومت‘قطع نظراس سے کہ وہ جمہوری ہویاشخصی یاکسی اورقسم کی‘اطاعت کاغیرمشروط اور غیر محدودرہناچاہیے کہ اس کے احکام ‘ساتھ قوانین‘نظریات اورحکمت عملی معقولیت پر مبنی ہوں اورملک کے عام باشندے ان پرمطمئن ہوں۔ کسی حکومت کویہ حق نہیں پہنچتا کہ لوگوں پران کی مرضی کے خلاف ایک نظام یانظریہ یاحکم مسلط کر دے جودلیل سے معقول اورجائزثابت نہ کیاجاسکتاہواورجس کا برا اثر لوگوں کے مذہب، یااخلاق یانظم تمدن و معاشرت یامادی مفاد پر پڑتا ہو۔ آئین کااحترام اوراس کی پابندی بلاشبہ ملک کے امن و امان کے لیے ضروری ہے اورامن و امان نہایت قیمتی چیزہے مگرایک حکومت غیرمعقول رویہ اختیارکرکے اورعوام کی مرضی کے خلاف ان پراپنی مرضی زبردستی ٹھونس کراوران کے جائزمطالبات اوراظہارناراضی کو ٹھکراکرخودآئین کے بے احترامی کادروازہ کھولتی ہے اورایسارویہ اختیارکرنے کے بعداسے یہ مطالبہ کرنے کاحق باقی نہیں رہتاکہ لوگ اس کے آئین کااحترام کریں۔ اس معاملہ میں حکمرانوں کانقطہ نظربالعموم یہ رہاہے کہ لوگوں کو بہرحال اطاعت امرکرنی چاہیے خواہ حکومت معقول رویہ اختیارکرے یاغیرمعقول اورخواہ وہ ظلم کرے یا انصاف۔ نمرودیت اورفرعونیت ہمیشہ اسی اصول کاسہارالیتی رہی ہے مگرانسانیت کے ضمیرنے کبھی اس اصول کوتسلیم نہیں کیا ہے اوراسی بناپرانسانیت نے ہمیشہ ان لوگوں کو سراہاہے جنھوں نے ظلم اورجبراورناروااستبدادکامقابلہ کیاہے۔ انسان کی حس انصاف نے ’’پرامن نافرمانی‘‘ہی نہیں بلکہ مسلح بغاوت تک کی ایسے حالات میں حمایت کی ہے جب کہ حکمراں (خواہ وہ ملکی ہوں یاغیرملکی)باشندوں کی مرضی پراپنی اورغیرمعقول مرضی زبردستی ٹھونسنے پرمصررہیں اوراصلاح کی معقول اورپرامن تدبیروںکااثرقبول کرنے سے انکار کیے چلے جائیں۔
اس مختصربحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی’’پرامن نافرمانی‘‘کے جائزیاناجائزہونے کافیصلہ کرنے کے لیے اصولاًیہ دیکھناضروری ہے کہ:
(الف)مطالبات بجائے خودمعقول ہیں یانامعقول اوران کے مقابلے میں حکومت کارویہ کسی معقول دلیل پرمبنی ہے یانہیں۔
(ب) مطالبات کی پشت پر ان لوگوں کی بڑی اکثریت ہے یا نہیں جن کے اخلاقی و روحانی یا مادی مفاد سے وہ مطالبات متعلق ہیں اور
(ج) ان کو تسلیم کرانے کے لیے جائز، پرامن، آئینی تدابیر کا حق پوری طرح ادا کیا جاچکاہے یا نہیں۔
ان تینوں حیثیتوں سے جو نا فرمانی جواز کی تمام شرائط پوری کرچکی ہو اسے حق اور انصاف کے انسانی تصورات بہرحال سند جواز دیں گے ، خواہ وقت کے قانون کا فتویٰ اس کے معاملے میں کچھ ہی ہو۔
(۱۹)جوکچھ پیراگراف نمبر۱۸میں عرض کیاگیاہے‘وہی اس معاملے میں اسلام کانقطہ نظرہے۔اسلام بدنظمی اوربدامنی کونہایت ناپسندکرتاہے۔وہ امن اورنظم کی حمایت میں یہاں تک جاتاہے کہ اس کے نزدیک ایک برانظام بھی قابل برداشت ہے،بہ نسبت اس کے کہ اس کی جگہ بدنظمی لے لے۔ مگراس کے ساتھ وہ یہ اصول بھی مقررکرتاہے کہ خدا کی نافرمانی میں کسی کے لیے اطاعت نہیں ہے۔ معصیت کاحکم بہرحال نہیں مانا جا سکتا اور دین کے اصولوں میں ترمیم یامنصوص احکام میں تغیرکی بہرحال مزاحمت کی جائے گی۔ قرآن مجیدمیں خودرسول اللہﷺ تک کی اطاعت کو’’فی المعروف‘‘کی شرط سے مشروط کیا گیا ہے چنانچہ سورہ ممتحنہ میں رسولﷺ سے بیعت کاجوفارمولابیان ہواہے اس میں یہ الفاظ ہیں:
وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ (الممتحنہ 12:60)
اور وہ ’’معروف ‘‘ میں تیری نا فرمانی نہ کریں ۔
اگرچہ نبی اکرم ﷺ سے کبھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ آپ کا حکم ’’منکر ‘‘ پر بھی مبنی ہوسکتاہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اصول حق کی توضیح کے لیے خود آپ کی بیعت کو بھی ’’معروف‘‘ سے مشروط کرکے یہ ظاہر کردیا کہ ’’اطاعت فی المنکر ‘‘ کسی کے لیے بھی نہیں ہے۔
اسی بات کونبی اکرمﷺ نے اپنے بکثرت ارشادات میں واضح فرمایاہے‘جنانچہ بخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
السمع والطاعتہ علی المرء المسلم فی مااحب وکرہ مالم یومر بمعصیۃ فاذا امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعتہ۔
مسلمان پر واجب ہے کہ حکم سنے اور اطاعت کرے، خواہ حکم اسے پسند ہو یا نا پسند ،جب تک کہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ، مگر جب معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سنا جائے اور نہ مانا جائے۔
ایک اور حدیث میں آپﷺ کا ارشاد ہے :
لاطاعۃ فی معصیۃ انما الطاعتہ فی المعروف۔ (بخاری ومسلم)
معصیت میں کوئی اطاعت نہیں ہے اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔
یہی بات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی پہلی تقریر میں فرمائی تھی:
اطیعونی مااطعت اللّٰہ ورسولہ فان عصیت اللّٰہ ورسولہ فلا طاعۃ لی علیکم (الصدیق۔ محمد حسین ہیکل صفحہ ۶۷)
میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرتارہوں۔ لیکن اگر میں اللہ اوررسول کی نا فرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر واجب نہیں ہے۔
(۲۰) یہی اصول ہے جسے دنیا کی ان تمام بڑی بڑی شخصیتوں نے ہمیشہ اختیار کیاہے جن کو انسانی تاریخ عظیم الشان لیڈروں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ دور کیوں جائیے خود پاکستان کے بانی مسٹر جناح مرحوم ، جو متحدہ ہندوستان کے سب سے بڑے آئین پسند (constitutionalised) لیڈر سمجھے جاتے تھے، آخر کار اس کے قائل ہوئے۔ ان کی صدارت میں مسلم لیگ نے جولائی ۱۹۴۶ء میں ڈائریکٹ ایکشن کاریزولیوشن پاس کیا اور چاہے آج مسلم لیگ کے لیڈر لارڈ ریڈنگ اور سرمیلکم ہیلی کی زبان بولنے لگے ہوں مگر ۱۹۴۷ء میں اس وقت جب کہ مسٹر جناح مرحوم اس جماعت کے لیڈر تھے۔ میاں ممتاز ، محمد خاں دولتانہ اور ملک فیروز خان نون اور نواب صاحب ممدوٹ ایک آئینی طور پر قائم شدہ وزارت کو توڑنے کے لیے ڈائریکٹ ایکشن کرچکے ہیں اور خواجہ ناظم الدین صاحب اس کی حمایت کرچکے ہیں ۔ اس وقت ان میں سے کوئی صاحب بھی اس اصول کے قائل نہ تھے کہ ’’مطالبات کے اوصاف ‘‘ (merit)خواہ کچھ بھی ہوں، مگر کسی حکومت سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ سول نا فرمانی اور غیر قانونی کارروائی کی دھمکی کے آگے جھک جائے گی اور کسی حکومت کو اس کے آگے نہ جھکنا چاہیے۔ ‘‘
(۲۱) کسی عوامی مطالبے کے جواب میں حکمرانوں کامحض یہ کہہ دینا کہ یہ مطالبات غیر معقول ہیں ، یا یہ کہ ان کو قبول کرنا ملک کے لیے نقصان دہ ہے ، کوئی وزن نہیں رکھتا، الا یہ کہ وہ سامنے آکر تفصیلی دلائل کے ساتھ یہ بتائیں کہ مطالبات کیوں نا معقول ہیں اور ان سے ملک کو کیا نقصان پہنچتاہے؟ ایک جمہوری نظام میں لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ حکمرانوں کے مبہم ارشادات پر ایمان بالغیب لے آئیں گے اور ان کو ایسا عقل کل مان لیں گے کہ ان کاکسی بات کو غیر معقول کہہ دینا بجائے خود اس کو غیر معقول تسلیم کرلینے کے لیے کافی ہو۔ نیز ایک جمہوری نظام میں یہ بات نہیں مانی جاسکتی کہ قوم خود اپنے مفاد کی دشمن ہے اور اس کے مفاد کو چند وزرا یا سیکریٹریٹ کے چند عہدہ دار یا پولیس کے چند افسر زیادہ جانتے ہیں۔ جمہوریت کا تو تقاضا ہی یہ ہے کہ جس بات کو قوم کی اکثریت چاہتی ہے ، عمل اسی پر ہونا چاہیے اور جو لوگ اپنے نزدیک اس ملک کے لیے نقصان دہ سمجھ کر اس پر عمل نہ کرنا چاہتے ہوں ، وہ پہلے استعفیٰ دے کر حکومت کی کرسیاں چھوڑیں ، پھر قوم کی رائے کو اپنے نقطۂ نظر کے مطابق ہموار کرنے کی کوشش فرمائیں۔ لیکن اگر وہ کرسیاں نہ چھوڑنا چاہتے ہوں تو یا قوم کی بات مانیں یا پھر اس کو اپنی پالیسی پر مطمئن کریں۔
(۲۲)اصولی بحث کوختم کرکے آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کوبھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے اپنے دستورکی دفعہ۱۰شق(۳) میں اپنے آپ کوآئینی طریق کارکاپابندکیاہے کیونکہ وہ یہ امیدرکھتی ہے کہ یہاں کی حکومت جس جمہوریت کی مدعی ہے۔ اس کے بنیادی اصولوں اورتقاضوں کی وہ بھی پابندرہے گی اورملک کے نظام میں کسی ایسے تغیرکولاناغیر ممکن نہ بنادے گی جس کی ضرورت معقول دلائل سے ثابت کردی جائے۔ جس کوباشندوں کی اکثریت چاہتی ہواورجس کے لیے آئینی تدابیر ایک جمہوری نظام میں بہرحال کافی ہونی چاہئیں۔ مگر ہم حکومت کی ’’ظل الٰہی ‘‘پر ایمان نہیں رکھتے کہ اپنے اوپر اس کے خدائی حقوق مان لیں اور خداوند عالم کی قہاری کی طرح اس کی قہاری کو بھی برحق تسلیم کرلیں۔
(۲۳)اب ہم اس خاص ڈائریکٹ ایکشن کو لیتے ہیں جو ختم نبوت کے سلسلے میں کیا گیا۔ اس کے متعلق ہماری راے یہ ہے کہ :
الف) یہ ڈائریکٹ ایکشن حق بجانب نہ تھا۔
(ب) مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اس معاملے میں حق حکومت کی جانب تھا۔
اس راے کے دونوں اجزا ایک دوسرے کے ساتھ منطقی ربط رکھتے ہیں اور محترم عدالت کو ایک منصفانہ اور متوازن رائے قائم کرنے میں مدد دینے کے لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ان دونوں اجزا کو پوری وضاحت کے ساتھ پیش کردیں ۔ یہ توضیح خصوصیت کے ساتھ اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کا گہر ا تعلق فسادات کے اسباب سے ہے اور فسادات کے اسباب کاگہراتعلق ذمہ داری کی تشخیص کے ساتھ ہے۔ لہٰذا اگر اس مسئلے کے متعلق کوئی متوازن اور جامع اور مبنی برحقیقت رائے قائم نہ کی گئی تو ذمہ داری کی تشخیص میں غلطی ہوجانے کااندیشہ ہے جو لامحالہ انصاف پر اثر انداز ہوگی۔
(۲۳)ہم جن وجوہ سے اس ڈائریکٹ ایکشن کو حق بجانب نہیں سمجھتے، وہ یہ ہے کہ اس میں وہ شرائط تمام و کمال پوری نہیں ہوئی تھیں جو ہمارے نزدیک ایک حق بجانب ڈائریکٹ ایکشن میں پوری ہونی چاہئیں۔ جیساکہ ہم پیرا گراف نمبر۸ کے آخری حصے میں بیان کرچکے ہیں۔ ’’تمام و کمال ‘‘ کے لفظ کو خاص طور پر نوٹ فرمایا جائے، اس سے ہمارا منشا یہ ہے کہ وہ شرائط اس میں جزوی طور پر تو ضرورپوری ہوئی ہیں مگر جیساکہ ان کے پورے ہونے کا حق ہے اس طرح پوری نہ ہوئی تھیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر جوشیلی اور جذباتی تقریروں اور تحریروں سے کام لینے کے بجائے دلائل کی طاقت سے حکومت کو پوری طرح غیر مسلح کردیا جاتا ، اور اگر پنجاب کی طرح پاکستان کے دوسرے صوبوں کی ، خصوصاً بنگال کی راے عام کو مطالبات کی تائید میں متحرک کردیا جاتا اور اگر آئینی تدابیر کو محض وزیراعظم سے وفود کی ملاقاتوں تک محدود نہ رکھاجاتا بلکہ دوسری تدابیر بھی اختیار کی جاتیں ، تو اغلب یہی تھاکہ ڈائریکٹ ایکشن کی ضرورت ہی نہ پیش آتی۔ یہی بات تھی جو میں اس تحریک کے لیڈروں کو سمجھانا چاہتاتھا۔ اسی غرض کے لیے میں نے جنوری ۱۹۵۳ء کے کنونشن کے آخری اجلاس میں ایک مرکزی مجلس عمل کے سپرد سارا معاملہ کردینے کی تجویز پیش کی تھی ۔ میرے پیش نظر یہ تھاکہ جو بات کنونشن کے گرم ماحول میں عام لوگ نہیں سمجھ سکتے، اسے مرکزی مجلس عمل کے چند معاملہ فہم ارکان بآسانی سمجھ لیں گے اور ان کو ڈائریکٹ ایکشن سے باز رہنے پر آمادہ کیاجاسکے گا۔ مگر افسوس ہے کہ اس مجلس کااجلاس ہی منعقد نہ ہوا۔
(۲۵) دوسری طرف ہم جن وجوہ سے یہ راے رکھتے ہیں کہ حکومت اس پورے قضیے میں حق بجانب نہ تھی وہ حسب ذیل ہیں :
الف۔ اس وقت کی حکومت کے ذمہ دار لوگوں نے صاف اس امر کا اعتراف کیاہے کہ ان مطالبات کو عوام کی بہت بڑی اکثریت کی تائید حاصل تھی۔ اس موضوع پر متعدد صریح شہادتیں اس محترم عدالت کے سامنے آچکی ہیں ۔ مثال کے طور پر چند شہادتوں کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں۔