مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قادیانی مسئلہ

اشاعت: 1952ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "قادیانی مسئلہ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی، عقیدتی اور سیاسی تحریر ہے جس میں انہوں نے قادیانی فرقے کو اسلامی امت سے خارج قرار دینے کے مطالبے کی فکری، عقیدتی، معاشرتی اور آئینی بنیادیں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی اختلاف کی وضاحت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کا جامع تجزیہ ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلم معاشرے میں تقسیم، تفریق اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ قادیانیت صرف کسی فرعی مسلکی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقائد—خاص طور پر ختمِ نبوت—کے خلاف ایک منظم، منطقی اور عملی ردِّ عمل ہے، جس کے نتیجے میں قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے عقیدتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر الگ شناخت اختیار کر لی ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جو دراصل باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ یہ کتابچہ عقل، دلیل اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں قادیانی مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی موقف کو یا تو دلیل سے مانا جائے یا دلیل کے ذریعے منوایا جائے؛ محض عددی اکثریت یا طاقت کی بنیاد پر معقول مطالبات کو مسترد کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ دیباچہ نہ صرف موضوع کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تأکید کرتا ہے کہ عقیدتی مسائل کا فیصلہ عقل و دلیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا اکثریت کے زور سے۔

کتاب کا باب اول اصل مسئلے کی بنیاد رکھتا ہے: مرزا غلام احمد کے دعوٰیِ نبوت، قادیانیوں کے ایک علیحدہ امت بن جانے، اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے پیچھے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب دوم اور باب سوم دراصل 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بعد مولانا مودودی پر چلائے گئے فوجی مقدمے اور سزائے موت کے پس منظر کو بیان کرتے ہیں—بشمول ان کے وہ عدالتی بیانات جو فسادات کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے دیے گئے، جن میں لاہور میں مارشل لا کے اسباب، جماعتِ اسلامی کے طرزِ عمل، اور اسلامی ریاست، ارتداد کی سزا اور ڈائریکٹ ایکشن جیسے متعلقہ آئینی و فقہی سوالات کا جواب بھی شامل ہے۔

کتاب کا اختتام متعدد ضمائم پر ہوتا ہے جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، ظہورِ مہدی اور ختمِ نبوت سے متعلق احادیث اور فقہاء و مفسرین کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، نیز علامہ اقبالؒ کا قادیانیت کے بارے میں نقطۂ نظر بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ عقیدے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کو علمی و تاریخی شہادتوں سے مزید مستحکم کیا جا سکے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ضمیمہ نمبر۹: قادیانیت ۔ علامہ محمد اقبالؒ کی نظر میں:

۱۔ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی تقاریر اور بیانات سے چند اقتباسات

’’تاریخی طور پر اسلام کے اندر سے اٹھنے والا ہر وہ مذہبی گروہ جس کی بنیاد ایک نئی نبوت کے دعوے پر رکھی گئی ہو اور جو اس نبوت کے نام نہاد الہامات پر ایمان نہ لانے والے تمام مسلمانوں کو کھلم کھلا کافر قرار دیتاہو ،ہر مسلمان کی نظر میں اسلام کی سالمیت کے لیے ایک زبردست خطرہ سمجھاجاتاہے …اور ایسا لازماً ہوناہی چاہیے۔ اس لیے کہ مسلم معاشرہ کا اتحاد و سالمیت صرف ایک ہی عقیدے ، ختم نبوت سے محفوظ ہے۔‘‘ (ص ۹۴)

’’پس جدید عمرانیات کا ایک طالب علم اس شدت جذبات کو جس کامظاہرہ ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کی مخالفت میں کیاہے بخوبی سمجھ سکتاہے۔ ایک عام مسلمان کی طرف سے ، جس پر پچھلے دن سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ’’ملازدہ‘‘کی پھبتی کسی ہے ، قادیانی تحریک کی مخالفت میں اتنا دخل عقیدہ ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں کے تفصیلی ادراک کو نہیںجتناکہ تحفظ کے احساس کو ہے ، ہمارے ’’نام نہاد،روشن خیال ‘‘ مسلمان نے عقیدہ ختم نبوت کی حقیقی تہذیبی اہمیت کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ اس پر مستزادیہ کہ مغرب زدگی کے خاموش اور غیر محسوس عمل نے انہیں تحفظ ذات کے احساس سے محروم کردیا ہے۔ یہاں تک کہ ان روشن خیال حضرات میں سے بعض حضرات تو اب اپنے ہم مذہبوں کو روا داری کا درس بھی دینے لگے ہیں۔ گورنر پنجاب سرہربرٹ ایمرسن اگرمسلمانوں کو رواداری کی تلقین کریں تو میں انہیں معذور سمجھ سکتاہوں، کیونکہ ایک جدید یورپین جس نے بالکل مختلف تہذیبی ماحول میں آنکھ کھولی ہو اور نشوونما پائی ہو، نہ وہ بصیرت رکھتاہے اور نہ لا سکتا ہے جس کے ذریعے سے وہ ایک ایسے اہم مسئلہ کے مضمرات سمجھ سکے جو اس کی اپنی قوم سے بالکل مختلف ، تمدنی نظریات رکھنے والی ایک دوسری قوم کے نظام میں بنیادی اہمیت رکھتاہو۔ ‘‘ (ص ۹۶)

’’حکومت کو موجودہ صورت حالات پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اس مسئلہ پر جسے ایک عام مسلمان اپنی ملت کی سالمیت کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے عوام کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرناچاہیے۔ کیونکہ اگر کسی ملت کی سالمیت ہی کو خطرہ پیش ہوجائے تو اس کے لیے انتشار پیداکرنے والی قوتوں کے مقابلے میں اپنی مدافعت کرنا ہی آخری چارۂ کار رہ جاتاہے۔

اب سوال پیداہوتاہے کہ اس مدافعت کے لیے کون سے ذرائع مؤثر ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ طریقہ یہی ہوسکتاہے کہ سواد اعظم جس شخص کو ایک مذہبی طالع آزما سمجھتاہو، اس کے دعاوی کی تردید قلم وزبان کے ذریعہ سے کی جائے۔ اس صورت میں کیایہ مناسب ہوگا کہ سواد اعظم کو جس کی یک جہتی اور سالمیت خطرہ میں ہو،رواداری کی تلقین کی جائے اور اس باغی گروہ کو اپنے پراپیگنڈے کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔ خصوصاً اس حالت میں بھی جب کہ یہ پروپیگنڈا انتہائی دشنام طراز ی سے پر ہو۔ اگر کوئی گروہ جو سواد اعظم کے نقطۂ نظر سے باغی ہو، حکومت کے لیے کسی خاص افادیت کا حامل ہو ، تو حکومت اس کو اس کی خدمات کابہترین معاوضہ دینے میں آزاد ہے۔ دوسرے فرقے اس پر خفا نہیں ہوں گے ۔ لیکن یہ توقع کرنا زیادتی ہو گی کہ کوئی قوم ان قوتوں کو خاموشی کے ساتھ نظر انداز کردے جواس کی اجتماعی زندگی پر گہرا اثر ڈالنے والی ہوں۔ انفرادی زندگی کی مانند اجتماعی زندگی بھی انتشار کے خطرے سے بڑی جلد متاثر ہوتی ہے۔ اس ضمن میں یہ بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ مسلمان فرقوں کی باہمی علمی آویزشیں ان بنیادی اصولوں کو متاثر نہیں کرتیں جن پر یہ تمام فرقے اپنے باہمی اختلافات بلکہ ایک دوسرے کی تکفیر کے باوجود متفق ہیں۔

ایک اور بات بھی حکومت کی خاص توجہ کی متقاضی ہے اور وہ یہ کہ وسعت نظری کے جدید فلسفہ کی بنیادپر ہندوستان میں مذہبی طالع آزماؤں کی حوصلہ افزائی لوگوں کو مذہب کی طرف سے دن بدن زیادہ بیگانہ کررہی ہے اور آخرکار اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ ہندی قوموں کی زندگی سے مذہب جیسا اہم عنصر بالکل خارج ہوجائے گا۔ پھر ہندوستانی ذہن مذہب کا کوئی دوسرا بدل تلاش کرے گا اور اغلب یہ ہے کہ یہ بدل اس ملحدانہ مادیت سے مختلف نہ ہوگا جو روس میں ظاہر ہوئی ہے۔ (ص ۹۸)

میرے نزدیک ہندوستان کے حکمرانوں کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ قوم قرار دے دیں ۔ یہ چیز قادیانیوں کی اپنی روش کے بھی عین مطابق ہوگی اور ہندوستانی مسلمان بھی ان کو اسی طرح برداشت کرلیں گے۔ جس طرح وہ دوسرے مذاہب کو برداشت کررہے ہیں۔ (ص ۱۰۰)

۲۔ روزنامہ اسٹیٹسمین کے نام ایک خط:

(روزنامہ اسٹیٹسمین نے ڈاکٹر محمد اقبال کا ایک مضمون بعنوان ’’قادیانی اور راسخ العقیدہ مسلمان ‘‘ ادارتی تنقید کے ساتھ شائع کیاتھا۔ مندرجہ ذیل خط اس تنقید کے جواب میں اسٹیٹسمین کو لکھاگیاتھا اور اس کے شمارہ مورخہ ۱۰ جون ۱۹۳۵ء میں شائع ہواتھا)۔

’’میں آپ کے اس تنقیدی اداریے پر آپ کابہت شکرگزار ہوں جو آپ نے میرے مضمون شائع شدہ اسٹیٹسمین مورخہ ۱۴مئی کے بارے میں سپرد قلم کیاہے۔ اس اداریے میں آپ نے جو سوال اٹھایاہے وہ نہایت ہی اہم ہے۔ درحقیقت میں خوش ہوں کہ آپ نے یہ سوال اٹھایا۔ میں نے اپنے مضمون میں اس سوال کو نہیں چھیڑاتھا۔ کیونکہ میں محسوس کرتاتھاکہ فی الحقیقت یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کی علیحدگی پسندی کی اس روش پر جو انھوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں مسلسل اس وقت سے اختیار کررکھی ہے۔ جب سے ایک مد مقابل نبوت کی بنیاد پر ایک نئی قوم تعمیر کرنے کاخیال ان میں پیدا ہوا ہے۔ اور ان کی اس روش کے خلاف عام مسلمانوں کے شدید جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے رسمی مطالبہ کا انتظار کیے بغیر ، خود ہی قادیانیوں اور مسلمانوں کے اس بنیادی اختلاف کا انتظامی طور پر نوٹس لے۔ سکھوں کے معاملے میں حکومت کے رویہ سے میرے اس احساس کو تقویت حاصل ہوئی تھی ۔ سکھ قوم کو ۱۹۱۹ء تک انتظامی طور پر ایک جداگانہ سیاسی وحدت شمار نہیں کیاجاتا تھا۔ لیکن اس کے بعد سکھوں کی طرف سے کسی رسمی مطالبہ کے بغیر انہیں ایک علیحدہ سیاسی وحدت قرار دیا گیا۔

تاہم اب جب کہ آپ نے اس سوال کو چھیڑا ہے میں اس اہم مسئلہ کے بارے میں جسے میں مسلمانوں اور حکومت برطانیہ دونوں کے نقطۂ ہائے نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتاہوں، چند معروضات پیش کروں گا۔

آپ کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اس امر کی پوری پوری وضاحت کروں کہ میں ایک قوم کے باہمی مذہبی اختلافات میں سرکاری مداخلت کب اور کس مرحلہ پر برداشت کرسکتا ہوں؟

میری طرف سے اس کا جواب سنیے:

سب سے پہلی بات جو پیش نظر رہنی ضروری ہے ،یہ ہے کہ اسلام ایک ایسی مذہبی قوت کا علم بردار ہے جس کے حدود کا ملاً متعین ہیں۔ اور وہ حدود ہیں (۱) اللہ کی وحدانیت پر ایمان(۲) تمام انبیا علیہم السلام پر ایمان اور (۳) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے خاتم النبیین ہونے پر ایمان۔موخر الذکر عقیدہ فی الحقیقت ایک ایسا عنصر ہے جو مسلم اور غیرمسلم کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دیتاہے اور صرف اسی کی بنیاد پر ایک آدمی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون سا گروہ یا فرد ملت میں شامل ہے اور کون سانہیں ؟ مثلاً برہمو سماج کو لیجیے۔ یہ لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ محمد (ﷺ)کو بھی اللہ تعالیٰ کے انبیا میں سے ایک نبی خیال کرتے ہیں۔ لیکن ہم انہیں اسلام کاجزو نہیں سمجھتے اس لیے کہ وہ بھی قادیانیوں کی طرح وحی نبوت کے تسلسل کے نظریے کے قائل ہیں۔ اور حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر ایمان نہیں رکھتے۔میرے علم کی حد تک اسلام کے اندر ایسا کوئی فرقہ آج تک نہیں اٹھا جس نے اس خط امتیازکوپھاندنے کی کوشش کی ہو۔ ایران میں بہائیوں نے کھلم کھلا ختم نبوت کے عقیدہ کو مستردکردیا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے صا ف طور پر یہ بھی تسلیم کیاہے کہ وہ ایک نئی ملت ہیں اور اصطلاحاً مسلمان نہیں ہیں۔ ہمارے عقائد کے مطابق اسلام بطور ایک دین ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی نازل کیاگیاتھا ۔ لیکن اس کے ایک ملت اور سوسائٹی کی حیثیت سے زندہ رہنے کاانحصار کلیتہً حضور ﷺ کی ذات گرامی پر ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے لیے صرف وہی دو راستے کھلے ہیں۔یا تو وہ سیدھی طرح بہائیوں کے طرز عمل کو اختیار کریں یا ختم نبوت کے عقیدے کی خود ساختہ تاویلات سے دستبردار ہو کر اس عقیدہ کو اس کے تمام تر مضمرات کے ساتھ قبول کرلیں۔ ان کی عیارانہ تاویلات دراصل ان کی محض اس خواہش کی بنا پر ہیں کہ واضح سیاسی مفادات کے حصول کے لیے وہ اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کاایک حصہ شمار کراتے رہیں۔

دوم: یہ کہ دنیائے اسلام کے ساتھ خودقادیانیوں کے اپنے رویے اورطرزعمل کو ہمیں نہیں بھولناچاہیے۔ اس تحریک کے بانی نے ملت اسلامیہ کوسڑے ہوئے دودھ سے اور اپنے متبعین کوتازہ دودھ سے تشبیہ دی ہے۔اورموخرالذکرکواول الذکر(مسلمانوں) کے ساتھ گھلنے ملنے سے خبردارکیاہے۔

مزیدبرآں ان کابنیادی اصولوں کوماننے سے انکارکرنا، ان کااپنے آپ کوایک نیا قومی نام(احمدی)دینا، ان کامسلمانوں کی نمازباجماعت میں شریک نہ ہونا، بیاہ شادی وغیرہ میں ان کی طرف سے مسلمانوں کاسماجی مقاطعہ کرنااوران سب سے بڑھ کران کا پوری دنیائے اسلام کوکافرقراردینا… یہ سب باتیں خودان کی طرف سے اس امر کا واشگاف الفاظ میں اعلان ہے کہ وہ ملت اسلامیہ سے ایک علیحدہ قوم ہیں۔

مندرجہ بالاحقائق اس بات کوپوری طرح واضح کردیتے ہیں کہ قادیانیت اور اسلام کا بُعداس سے کہیں زیادہ ہے جوسکھ مذہب اورہندومت میں ہے۔ اس لیے کہ سکھ اگرچہ ہندوؤں کے مندروں میں عبادت نہیں کرتے لیکن ان کے ساتھ کم ازکم بیاہ شادی کے تعلقات توقائم کرلیتے ہیں۔

سوم: یہ بات سمجھنے کے لیے کچھ زیادہ غوروفکرکرنے کی ضرورت نہیں کہ قادیانی حضرات مذہبی اورسماجی معاملات میں علیحدگی کی روش پرگامزان رہنے کے ساتھ ساتھ ملت مسلمہ کاایک جزوشمارکیے جانے پرکیوں مصرہیں۔

ملت اسلامیہ کے اندررہنے کاپھل جوانہیں سرکاری ملازمتوں کے دائرہ میں سیاسی مفادات کے حصول کی صورت میں ملتاہے‘ اس سے قطع نظر‘یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ان کی موجودہ آبادی کی بنیادپرجوتازہ ترین مردم شماری کے اعدادوشمارکی روشنی میں صرف چھپن ہزارہے، انہیں ملک کی کسی مقننہ میں ایک نشست کابھی استحقاق حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ان معنوں میں سیاسی اقلیت قرارنہیں دیے جاسکتے جن معنوں میں آپ اس اصطلاح کو استعمال کرتے معلوم ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت کہ قادیانیوں نے ابھی تک ایک الگ سیاسی وحدت کی حیثیت سے علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیاہے، یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ موجودہ حالت میں وہ خودبھی اپنے آپ کوکسی مجلس مقننہ میں نمائندگی حاصل کرنے کامستحق نہیں سمجھتے۔ نیاآئین ایسی اقلیتوں (جیسی کہ قادیانی ہیں) کے تحفظ کی دفعات خالی نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ بات یقینی ہے کہ قادیانی حکومت سے یہ مطالبہ کرنے میں کبھی پہل نہیں کریں گے کہ انہیں ملت اسلامیہ سے الگ ایک وحدت قرردیاجائے۔ (اس لیے) خودملت اسلامیہ ان کوجسدملت سے علیحدہ کرنے کے مطالبہ میں بالکل حق بجانب ہے۔ حکومت کی طرف سے اس مطالبہ کوفی الفورتسلیم نہ کرنے سے ہندی مسلمانوں کے ذہن میں لازماًیہ شبہ پیداہوگاکہ حکومت برطانیہ اس نئے مذہب کوکسی آڑے وقت کے لیے رکھناچاہتی ہے،جیساکہ وہ رکھتی رہی ہے اور علیحدگی کے مسئلہ کے حل میں محض اس لیے تاخیرکررہی ہے کہ اس مذہب کے پیروکار تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے اس وقت ایک ایسی چوتھی قومیت کی حیثیت سے صوبہ کی سیاست میں نہیں ابھرسکتے جوپنجابی مسلمانوں کی مجلس مقننہ میں معمولی سی اکثریت کوکاری ضرب لگا سکے۔ ۱۹۱۹ء میں سکھوں کی ہندوؤں سے علیحدگی کے معاملہ میں حکومت نے کسی رسمی مطالبہ کا انتظارنہیں کیاتھاتوپھرقادیانیوں کی طرف سے رسمی مطالبہ کاانتظارکیوں؟ (ص،۱۰۷)

۳۔پنڈت جواہرلال نہروکی طرف سے اٹھائے ہوئے سوالات کاجواب:

’’میراذہن یہ سوچنے پرمجبورہے کہ قادیانیت پرمیرے مضمون سے‘جومحض ایک مذہبی اصول کی جدیدطرزپرتشریح سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔پنڈت جی اورقادیانی حضرات دونوںشایداس لیے بوکھلاگئے ہیں کہ یہ دونوں مختلف وجوہ کی بناپرمسلمانوں… بالخصوص ہندی مسلمانوں کے مذہبی اورسیاسی استحکام کے امکانات کودلی طورپرناپسندکرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک ہندی قوم پرست جوسیاسی نصب العین کی وجہ سے حقائق کوسمجھنے کی صلاحیت کھوچکاہے۔ شمال مغربی ہندکے مسلمانوں کے دلوں میں حق خودارادیت کی امنگ تک پیداہونے کوبرداشت نہیں کرسکتا۔ وہ یہ سمجھتاہے اورمیرے نزدیک غلط سمجھتاہے کہ ہندوستانی قومیت کے ارتقا کاصرف یہی ایک راستہ ہے کہ ملک کی مختلف ثقافتی وحدتوں کی اپنی حیثیت کوبالکل کچل دیاجائے اورپھران کے منصوبے سے ہندوستان میں پاک صحت منداورپائیدارثقافت پیداکی جائے۔ ایسے طریقوں سے حاصل شدہ قومیت کانتیجہ مسلسل تلخی اور جبرکے سواکچھ نہیں ہوسکتا۔ بالکل اسی طرح قادیانی حضرات بھی ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی وقار میں اضافہ ہونے سے نبی عربی(ﷺ)کی امت میں سے ایک ہندی نبی کی امت تشکیل دینے کامنصوبہ خاک میں مل جائے گا۔ میرے لیے یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ میری طرف سے تاریخ ہندکے موجودہ نازک مرحلہ میں ہندوستانی مسلمانوں پران کے اندرونی اتحادکی ضرورت واضح کرنے اورانہیں ان انتشار پسند عناصر سے جومصلحین کالبادہ اوڑھے ہوئے ہیں‘خبردارکرنے کی کوشش سے پنڈت جی کوانہی عناصرکے ساتھ اظہارہمدردی کاموقع مل گیاہے۔

اس طرح ہندوستانی مسلمان اس میں حق بجانب ہیں کہ قادیانی تحریک کوجوتمام دنیائے اسلام کوکافرقراردیتی اوراس کاسماجی مقاطعہ کرتی ہے، ہندوستان میں اسلام کی اجتماعی زندگی کے لیے اس سے کہیں زیادہ خطرناک قراردیں، جتنی خطرناک کہ اسپائنوزاکی مابعدالطبیعاتی تحریک یہودیوں کے حق میں تھی۔ میں یقین رکھتاہوں کہ ایک مسلمان وجدانی طورپران حالات کے مخصوص مزاج کواچھی طرح سمجھتاہے۔ جن میں وہ گھراہوا ہے اور اس لیے وہ کسی دوسرے ملک کے مسلمانوں کی بہ نسبت انتشارپسندانہ عناصرکے متعلق زیادہ حساس واقع ہواہے۔ ایک عام مسلمان کایہ فطری احساس میرے نزدیک بالکل صحیح ہے اوراس کی جڑیں بلاشبہ اس کے ضمیرمیں نہایت گہری ہیں۔ جولوگ ایسے معاملہ میں روا داری کی باتیں کرتے ہیں،وہ لفظ ’’رواداری‘‘کے استعمال میں نہایت بے پرواہ واقع ہوئے ہیں اورمجھے خدشہ ہے کہ وہ اس لفظ کاصحیح مفہوم ہی نہیں سمجھتے۔ انسان کی بالکل مختلف ذہنی کیفیتیں جذبہ رواداری کوجنم دے سکتی ہیں جیساکہ گبن نے کہاہے: ’’ایک رواداری اس فلسفی کی ہے جوتمام مذاہب کوسچاسمجھتاہے۔ ایک اس مورخ کی ہے جوسب کو یکساں جھوٹا خیال کرتاہے اورایک اس سیاسی شخص کی ہے جودسرے طرزہائے فکروعمل کے معاملہ میں محض اس لیے روادارواقع ہواہے کہ وہ خودتمام نظریوں اورمسلکوں سے لاتعلق رہاہے۔ پھرایک رواداری اس کمزورشخص کی ہے جومحض اپنی کمزوری کی بناپرہراس اصول یاشخصیت کی ہرقسم کی توہین برداشت کرلیتاہے جس کووہ عزیزرکھتاہے۔‘‘

ظاہرہے کہ رواداری کی یہ اقسام کوئی قدروقیمت نہیں رکھتیں بلکہ اس کے برعکس یہ اس شخص کے روحانی افلاس کاپتہ دیتی ہیں جوان میں مبتلاہو۔ سچی رواداری وسعت قلب و نظرکانتیجہ ہوتی ہے۔ رواداری تواس شخص میں ہوتی ہے جوروحانی طورپرمضبوط ہواور جو اپنے عقائدکی حدودکی سختی سے حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے لیے مختلف قسم کے عقائدکوبھی برداشت کرتابلکہ وقعت کی نظرسے دیکھتاہو۔ ہمارے رواداری کے مبلغین کی بوالعجبی ملاحظہ فرمایئے کہ وہ ان لوگوں کوغیررواداربتاتے ہیں جواپنے عقائدکی حدودکاتحفظ کررہے ہوں۔ وہ غلط طورپراس رویہ کواخلاقی گھٹیاپن کی ایک علامت سمجھتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ رویہ فی الاصل تحفظ ذات کے نظریہ پرمبنی ہے۔ اگرایک گروہ کے افرادفطری‘وجدانی یاعقلی دلائل پریہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے معاشرہ کی ہئیت اجتماعی کوخطرہ ہے توان کی مدافعانہ روش کی جانچ پرکھ تحفظ ذات کے فطری اصول کے معیار کو سامنے رکھ کرہونی چاہیے۔ اس سلسلے کے ہرقول وفعل کے بارے میں کوئی رائے قائم کرتے وقت تحفظ زندگی کی اس قدر کو سامنے رکھناہوگا‘ جواس میں پنہاں ہوتی ہے۔ ایسے معاملہ میں سوال یہ نہیں ہوتاکہ ایک قوم کا کسی شخص کوکافرقراردینے کارویہ اخلاقاًاچھاہے یابرا۔ بلکہ سوال یہ ہوتاہے کہ یہ رویہ (اس کی ہیئت اجتماعیہ کے لیے) زندگی بخش ہے یاتباہ کن؟