مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قادیانی مسئلہ

اشاعت: 1952ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "قادیانی مسئلہ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی، عقیدتی اور سیاسی تحریر ہے جس میں انہوں نے قادیانی فرقے کو اسلامی امت سے خارج قرار دینے کے مطالبے کی فکری، عقیدتی، معاشرتی اور آئینی بنیادیں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی اختلاف کی وضاحت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کا جامع تجزیہ ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلم معاشرے میں تقسیم، تفریق اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ قادیانیت صرف کسی فرعی مسلکی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقائد—خاص طور پر ختمِ نبوت—کے خلاف ایک منظم، منطقی اور عملی ردِّ عمل ہے، جس کے نتیجے میں قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے عقیدتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی سطح پر الگ شناخت اختیار کر لی ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جو دراصل باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ یہ کتابچہ عقل، دلیل اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں قادیانی مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کے ارکان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی موقف کو یا تو دلیل سے مانا جائے یا دلیل کے ذریعے منوایا جائے؛ محض عددی اکثریت یا طاقت کی بنیاد پر معقول مطالبات کو مسترد کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ دیباچہ نہ صرف موضوع کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تأکید کرتا ہے کہ عقیدتی مسائل کا فیصلہ عقل و دلیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا اکثریت کے زور سے۔

کتاب کا باب اول اصل مسئلے کی بنیاد رکھتا ہے: مرزا غلام احمد کے دعوٰیِ نبوت، قادیانیوں کے ایک علیحدہ امت بن جانے، اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کے پیچھے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب دوم اور باب سوم دراصل 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بعد مولانا مودودی پر چلائے گئے فوجی مقدمے اور سزائے موت کے پس منظر کو بیان کرتے ہیں—بشمول ان کے وہ عدالتی بیانات جو فسادات کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے دیے گئے، جن میں لاہور میں مارشل لا کے اسباب، جماعتِ اسلامی کے طرزِ عمل، اور اسلامی ریاست، ارتداد کی سزا اور ڈائریکٹ ایکشن جیسے متعلقہ آئینی و فقہی سوالات کا جواب بھی شامل ہے۔

کتاب کا اختتام متعدد ضمائم پر ہوتا ہے جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، ظہورِ مہدی اور ختمِ نبوت سے متعلق احادیث اور فقہاء و مفسرین کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، نیز علامہ اقبالؒ کا قادیانیت کے بارے میں نقطۂ نظر بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ عقیدے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کو علمی و تاریخی شہادتوں سے مزید مستحکم کیا جا سکے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ضمیمہ نمبر ۷

(مرزا غلام احمد صاحب کی تحریک کے مختلف مراحل ، ان میں مرزا صاحب کے مختلف دعوے اور قادیانی عقیدہ وعمل پر ان دعوؤں کے اثرات )

مرزا غلام احمد صاحب۱۸۸۰ء میں ایک مبلغ اور مناظر اسلام کی حیثیت سے مسلمانوں میں نمودار ہوئے۔ اس وقت سے لے کر اپنی وفات (۲۶مئی ۱۹۰۸ ء ) تک اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں انھوں نے جن عقائد اور خیالات کااظہار کیا ان کو بیان کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتاہے کہ ہم ان مراحل کو تاریخی ترتیب کے لحاظ سے مرتب کردیں تاکہ ہر مرحلے کے بیانات سے ان کا فرق اچھی طرح سمجھاجاسکے ۔

تاریخی ترتیب :

(۱) ۱۸۸۰ء تا ۱۸۸۸ء : اس دور میں مرزا صاحب محض ایک مبلغ اسلام اور غیر مسلم حملہ آوروں کے مقابلے میں اسلام کی مدافعت کرنے والے مناظرتھے۔ ان کو پورا اصرار تھاکہ ان کے عقائد تمام مسائل میں وہی ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں۔ اگرچہ ان کی تحریروں میں طرح طرح کے مخفی دعوے دیکھ کر مسلمان کھٹکتے تھے ، مگر مرزا صاحب اپنے اقوال کی توجیہات کرکے مسلمانوں کو مطمئن کردیتے تھے۔

(۲) دسمبر ۱۸۸۸ء میں انھوں نے بیعت کے لیے اشتہار دیا اور ۱۸۸۹ء کے آغاز سے بیعت لینی شروع کی ۔ اس وقت انھوں نے صرف ’’مجدد وقت‘‘ اور ’’مامور من اللہ ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا اور مسیح علیہ السلام سے اس بنا پر اپنی مماثلت ظاہر کی کہ جس فروتنی اور مسکینی کی حالت میں وہ تھے، اسی حالت میں مرزا صاحب بھی دعوت وتبلیغ کا کام کررہے ہیں۔ اس زمانہ میں عام مسلمان مرزا صاحب کے متعلق اچھے خیالات رکھتے تھے ۔ البتہ یہ دیکھ کر کھٹکتے تھے کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو تمام اولیائے اُمت سے افضل کہتے تھے ۔

(سیرۃ المہدی مصنف صاحب زادہ بشیر احمد صاحب حصہ اول صفحہ ۱۴۔۳۱۔۸۹ ، تبلیغ رسالت جلد اول ص۱۱۔۱۲و۱۵)

(۳) ۱۸۹۱ء میں انھوں نے مسیح علیہ السلام کی موت کا اعلان اور خود مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا جس سے مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ (سیرۃ المہدی صفحہ ۳۱،۸۹) اس دورکے آغاز میں مرزا صاحب خود لکھتے ہیں کہ ’’پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے ، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہاکہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے براہین (یعنی براہین احمدیہ) میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدے پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارے میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے ۔ ‘‘ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ ۷) دوسری جگہ لکھتے ہیں :’’اگرچہ خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھااور یہ بھی مجھے فرمایاکہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسولﷺ نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہواتھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھاکہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لیے میں نے خدا کی وحی کے ظاہر پر عمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کاتھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شامل کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحی نازل ہوتی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والاہے تو ہی ہے۔ ‘‘ (حقیقتہ الوحی،ص ۱۴۹)

(۴) ۱۹۰۰ء میں مرزا صاحب کے خاص خاص مریدوں نے ان کو صاف صاف نبی کہنا شروع کیا اور ان کو وہی حیثیت دینی شروع کردی جو قرآن کی رو سے انبیا علیہم السلام کی ہے۔ مرزا صاحب کبھی ان کے اس قول کی تصدیق و تائید کرتے تھے اور کبھی نبوت کے الفاظ کی توجیہ ناقص نبی ، جزوی نبی ، محدث وغیرہ الفاظ سے کرکے ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے تھے جو نبوت کے دعوے پر ایمان لانے میں متامل تھے۔اس دور میں ۷ / اگست ۱۹۰۰ء کو مرزا صاحب کے ایک مرید خاص مولوی عبدالکریم صاحب نے خود مرزا صاحب کی موجودگی میں ایک خطبہ جمعہ پڑھا جس میں انھوں نے احمدیوں کو مخاطب کرکے کہاکہ ’’اگر تم مسیح موعود کو ہرایک امر میں حکم نہیں ٹھہراؤ گے اور اس پر ایمان نہیں لاؤ گے جیساکہ صحابہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائے تو تم بھی ایک گونہ غیر احمدیوں کی طرح اللہ کے رسولوں میں تفریق کرنے والے ہوگے ۔ ‘‘مرزا صاحب نے جمعہ کے بعد ان الفاظ میں اس کی توثیق کی کہ ’’یہ بالکل میرا مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل ، صاحبزادہ بشیر احمد صاحب ، صفحہ ۱۶۷) مگر اس توثیق کے باوجود مرزا صاحب خود نبوت کے صریح دعوے سے مجتنب رہے ۔ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کے بقول اس زمانہ میں مرزا صاحب کاعقیدہ یہ تھاکہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور آپ کو جو نبی کہا جاتاہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت ۔ (القول الفصل ،ص ۲۴)۔ نیز مزید توضیح کے لیے ملاحظہ ہو۔ (منکرین خلافت کاانجام از جلال الدین صاحب شمس ،ص ۱۹)

(۵) ۱۹۰۱ ء میں مرزا صاحب نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا صاف صاف اعلان کیا اور اپنی اکثر تحریروں میں اس نبوت و رسالت کو ’’ناقص‘‘ ، ’’جزوی ‘‘ اور ’’محدثیت‘‘ وغیرہ الفاظ سے محدود کرنا ترک کردیا۔ (سیرۃ المہدی حصہ اول، ص ۳۱) جلال الدین شمس اپنی کتاب ’’منکرین خلافت کا انجام ‘‘ میں اس کے متعلق یہ تشریح کرتے ہیں کہ ’’۱۹۰۱ ء سے پہلے کی بعض تحریرات میں حضرت اقدس (یعنی مرزا صاحب) نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا اور لکھاکہ آپ نبی نہیں بلکہ محدث ہیں لیکن ۱۹۰۱ء کے بعد کی تحریرات میں آپ نے اپنی نبوت کو نہ جزئی قرار دیا نہ ناقص، نہ محدثیت والی نبوت، بلکہ صاف الفاظ میں اپنے آپ کو نبی لکھتے رہے۔ ‘‘(صفحہ ۱۹) اسی کے متعلق مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فرماتے ہیں ’’۱۹۰۱ء میں اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے …پس یہ ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ ء سے پہلے کے حوالے ، جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیاہے ، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔ ‘‘ (حقیقۃالنبوت ،ص ۱۲۱)

(۶) ۱۹۰۴ء میں مرزا صاحب نے منجملہ اور دعاوی کے ایک دعویٰ یہ بھی کیا کہ وہ کرشن ہیں۔ (لیکچر سیالکوٹ از مرزا صاحب ،مورخہ ۲ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۳۴)

ان مختلف مراحل میں مرزا صاحب نے ان مسائل کے متعلق جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان مابہ النزاع رہے ہیں ، کیا بیانات دئیے اور ان کی جماعت کاکیا موقف رہا، اس کو ہم علیحدہ علیحدہ عنوانات کے تحت ذیل میں درج کرتے ہیں۔

ابتدائی عقیدہ ختم نبوت:

(۷) ختم نبوت کے متعلق مرزا صاحب کا ابتدائی عقیدہ وہی تھا جو تمام مسلمانوں کاہے ، یعنی یہ کہ محمدﷺ پر نبوت ختم ہوگئی اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، چنانچہ وہ اپنی متعدد کتابوں میں اس کی یوں تصریح کرتے ہیں:

۱۔ ’’کیا تو نہیں جانتاکہ پروردگار رحیم و صاحب فضل نے ہمارے نبیؐ کا بغیر استثنا کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لیے اس کی تفسیر اپنے قول لانبی بعدی میں واضح طور پر فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی اکرم ؐکے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کاکھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں جیساکہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول اللہ ؐکے بعد نبی کیونکر آسکتاہے درآنحالیکہ آپؐ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر نبیوں کا خاتمہ فرمادیا۔ ‘‘

(حمامۃ البشریٰ ، مرزا غلام احمد صاحب، ص ۳۴)

۲۔’’آنحضرت ؐنے باربارفرمایاتھاکہ میرے بعدکوئی نبی نہیں آئے گااورحدیث لانبی بعدی ایسی مشہورتھی کہ کسی کواس کی صحت میں کلام نہ تھااورقرآن شریف جس کالفظ لفظ قطعی ہے‘اپنی آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتاتھاکہ فی الحقیقت ہمارے نبیؐ پرنبوت ختم ہوچکی ہے۔‘‘

(کتاب البریہ‘مرزاغلام احمدصاحب، ص۱۷۴)

۳۔’’کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی اکرمؐ کے بعدہرگزنہیں آسکتا۔‘‘

(ازالہ اوہام‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص ۵۷۷)

۴۔’’قرآن کریم بعدخاتم النبیین کسی رسول کاآناجائزنہیں رکھتا‘خواہ وہ نیاہویا پرانا۔‘‘ (ازالہ اوہام‘ص۷۶۱)

۵۔’’پس یہ کس قدرجرات اوردلیری اورگستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کرکے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیا کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔ ‘‘ (ایام الصلح ، مرزا غلام احمد صاحب، ص ۱۴۶)

۶۔’’میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیساکہ سنت جماعت کاعقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتاہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا محمدؐ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کافر اور کاذب جانتاہوں۔ ‘‘(اشتہار مورخہ ۲ / اکتوبر ۱۸۹۱ء از مرزا صاحب مندرجہ تبلیغ رسالت ،جلد دوم ص ۲)

۷۔’’اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا (جامع مسجد دہلی ) میں کرتاہوں کہ میں جناب خاتم الانبیا کی ختم نبوت کاقائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(تحریری بیان از مرزا غلام احمد صاحب جو ۲۳اکتوبر ۱۸۹۱ء کو جامع مسجد دہلی میں پڑھا گیا۔ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ ۴۴)

(ب) ابتدائی دعوؤں کی توجیہات :

(۸) مرزا صاحب کی جن تحریرات سے مسلمانوں کے دلوں میں یہ شبہ پیداہواتھا کہ وہ نبوت کے مدعی ہیں یا دعویٰ کرنے والے ہیں، ان کی حسب ذیل توجیہات کرکے ابتداً وہ مسلمانوں کو مطمئن کرتے رہے۔‘‘

۱۔ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ؐکی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وہ وحی ولایت، جو زیرسایہ نبوت محمدیہ اور باتباع آں حضرت محمد ؐاولیاء اللہ کو ملتی ہے، اس کے ہم قائل ہیں… غرض نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔

(اشتہار از مرزا غلام احمد صاحب، مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ۶،ص ۳۰۲)

۲۔’’یہ عاجزنہ نبی ہے اور نہ رسول ہے ، صرف اپنے نبی معصوم محمد مصطفی ﷺکا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے۔ ‘‘

(ارشاد مرزا غلام احمد صاحب مندرجہ قمر الہدیٰ ، مولفہ قمر الدین صاحب جہلمی ، ص۵۸)

۳۔’’یہ سچ ہے کہ وہ الہام جو خدا نے اس بندے پر نازل فرمایااس میں اس بندے کی نسبت نبی اور رسول اور مرسل کے لفظ بکثرت موجود ہیں۔ سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں …ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے بعد آنحضرت ؐنہ کوئی نیا نبی آسکتاہے اور نہ پرانا۔ قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے ۔ مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا رسول کے لفظ سے یاد کرے۔

(سراج منیر، مرزا غلام احمد صاحب ،ص ۳۰۲)

۴۔ ’’اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کو الہام ہواہے اکثر دفعہ ان میں رسول یانبی کا لفظ آگیاہے ، لیکن وہ شخص غلطی کرتاہے جو ایسا سمجھتاہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے …سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارے کے رنگ میں ہیں، اسلام میں فتنہ پڑتاہے اور اس کانتیجہ سخت بدنکلتاہے ، اس لیے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہییں۔

مرزا صاحب کا خط مندرجہ اخبار ۔ الحکم قادیان ، مورخہ ۱۷ / اگست ۱۸۹۹ء ۔منقول از مسیح موعود اور ختم نبوت، مولوی محمد علی صاحب ایم اے ، ص ۴)

۵۔ ’’میں نبی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں۔ ‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، مرزا غلام احمد صاحب ، ص ۳۸۳)

۶۔ میں نے ہرگز نبوت کادعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہاہے کہ میں نبی ہوں لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی …میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھاہے اور کچھ نہیں کہاکہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتاہے جس طرح محدثین سے ۔

(حمامتہ البشریٰ ،مرزا غلام احمد صاحب، ص ۹۶)

۷۔ ’’محدث جو مرسلین میں سے اُمتی بھی ہوتاہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ ‘‘

(ازالہ اوہام ، مرزا غلام احمد صاحب، ص ۵۶۹)

۸۔ ’’محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتاہے ، گواس کے لیے نبوت تامہ نہیں، مگر جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتاہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جاتے ہیں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیاجاتاہے۔ ‘‘ (توضیح مرام، مرزا غلام احمد صاحب، ص ۱۸)

۹۔ ’’اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت بھی حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیرحقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اورلغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں ،مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے۔ ‘‘ (انجام آتھم ، مرزا غلام احمد صاحب ، ص ۲۷)

۱۰۔ ’’پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی ، یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں، اس کی کثرت کانام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتاہوں ، ولکل ان یصطلع ‘‘

(تتمہ حقیقۃ الوحی، مرزا غلام احمد ، ص ۶۸)

۱۱۔ ’’تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح المرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے ، یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے ، یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں میں محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کیے گئے ہیں ، ورنہ حاشاوَکَلاَّ مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے …سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرماکر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں ، کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے …بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹاہوا خیال فرمالیں ۔ ‘‘

(تحریری بیان مورخہ ۳ فروری ۱۸۹۲ء جو جلسہ عام میں پڑھا گیا ۔ مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد ۲ ، ص ۹۵)

(ج)نبوت کے مختلف دعوے:

۶۔پھرمرزاصاحب نے نبوت کادعویٰ کیااوراس دعوے کی بھی ایک شکل نہ تھی بلکہ مختلف مواقع پرمتعددشکلیں تھیں۔

۱۔اُمتی نبی:

’’بعدمیں خداکی وحی بارش کی طرح میرے پرنازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پرقائم نہ رہنے دیااورصریح طورپرنبی کاخطاب مجھے دیاگیا۔ مگراس طرح سے کہ ایک پہلوسے نبی اورایک پہلوسے اُمتی۔‘‘ (حقیقتہ الوحی‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص ۱۴۹)

(تتمہ حقیقتہ الوحی‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص ۸۴)

۲۔غیرصاحب شریعت:

’’اب بجزمحمدی نبوت کے سب نبوتیں بندہیں۔ شریعت والانبی کوئی نہیں آسکتااور بغیرشریعت کے نبی ہونہیں سکتامگروہی جوپہلے سے امتی ہے‘ پس اس بناپرمیں امتی بھی ہوں اورنبی بھی۔‘‘ (تجلیات الٰہیہ‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص ۲۴)

۳۔صاحب شریعت:

’’یہ بھی توسمجھوکہ شریعت کیاچیزہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چندامرونہی بیان کیے اوراپنی امت کے لیے ایک قانون مقررکیاوہی صاحب شریعت ہوگیا… میری وحی میں امربھی ہے اورنہی بھی… اوراگرکہوکہ شریعت سے وہ شریعت مرادہے جس میں نئے احکام ہوں تویہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے : اِنَّ ہٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰىo صُحُفِ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰىo الاعلیٰ 18-19:87 یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجودہے۔‘‘

(اربعین نمبر۴‘مرزاغلام احمدصاحب ص ۷۔۸۳)

۴-ظلی وبروزی نبی:

’’جس طرح حقیقی اورمستقل نبوتیں، نبوت کی اقسام ہیں اسی طرح ظلی اوربروزی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے… مسیح موعودکاظلی نبی ہونامسیح موعودسے نبوت کونہیں چھینتابلکہ صرف نبوت کی قسم ظاہرکرتاہے… اورجوحقیقی اورمستقل نبیوں کوحقوق حاصل ہیں ظلی نبی کوبھی حاصل ہیں‘ کیونکہ نفس نبوت میں کوئی فرق نہیں۔ (کلمتہ الفصل ،ص ۱۱۸)

۵۔بروزمحمدﷺ:

’’میں بموجب آیت واخرین منھم لمایلحقوابھم بروزی طورپروہی خاتم الانبیا ہوں اورخدانے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرانام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ؐکاہی وجودقراردیاہے۔‘‘ (ایک غلطی کاازالہ‘مرزاغلام احمدصاحب)

۶۔تمام انبیا کامجموعہ:

’’دنیامیں کوئی نبی نہیں گزراجس کانام مجھے نہیں دیاگیا۔سوجیساکہ براہین احمدیہ میں خدانے فرمایاہے میں آدم ہوں‘میں نوح ہوں‘میں ابراہیم ہوں‘میں اسحاق ہوں‘ میں یعقوب ہوں‘میں اسماعیل ہوں‘میں موسیٰ ہوں‘میں داؤدہوں‘میں عیسیٰ ابن مریم ہوں‘ میں محمدؐ ہوں‘یعنی بروزی طورپر۔‘‘

(ز) نبوت مرزا صاحب پر ختم :

(۱) اس امت میں نبی کانام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔ (حقیقۃ الوحی ،مرزا غلام احمد صاحب ، ص ۳۹۱)

(۲) امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں آسکتے ، چنانچہ نبی اکرم ؐنے اپنی امت میں سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کانام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا اور نہ کسی اور کے آنے کی آپ نے خبر دی ہے بلکہ لا نبی بعدی فرما کر اور وں کی نفی کردی اور کھول کر بیان فرمادیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ ‘‘ (تشحیذ الاذہان، جلد ۹نمبر۳، ص۳۰تا۳۲)

(د) ختم نبوت کی مختلف تاویلیں :

(۱۰) ان مختلف دعوؤں کو نبھانے کے لیے مرزا صاحب نے اور ان کی جماعت نے مختلف مواقع پر ختم نبوت کی جو مختلف تاویلیں کی ہیں وہ درج ذیل ہیں :

پہلی تاویل :

۱۔ ’’اگر ایک امتی کو ، جو محض پیروی آنحضرت ؐسے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا پاتاہے ، نبی کے نام کااعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی ، کیونکہ وہ اُمتی ہے …مگر کسی ایسے نبی کا آنا جو اُمتی نہیں ہے ختم نبوت کے منافی ہے ۔‘‘

(چشمہ مسیحی ، مرزا غلام احمد صاحب ،ص ۴۱)

۲۔ (آنحضرت ؐ) ’’ان معنوں سے خاتم الانبیا ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو۔ ‘‘ (چشمہ معرفت ، مرزا غلام احمد صاحب،ضمیمہ ، ص ۹)

دوسری تاویل :

۳۔ ’’اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا ، یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لیے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوی بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش نہیں ہے۔ ‘‘ (حقیقۃ الوحی، مرزا غلام احمد صاحب ، ص ۹۶)

۴۔ خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت تصدیق نہیں ہوسکتی ۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہوجاتاہے اور مصدقہ سمجھا جاتاہے ۔ اسی طرح آنحضرت ؐکی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے۔ ‘‘ (ملفوظات احمدیہ ، محمد منظور الٰہی ، حصہ پنجم، ص ۲۹۰)

تیسری تاویل :

۵۔ ’’خدا نے ایسا کیاکہ اپنی حکمت اور لطف سے آپ کے (یعنی محمدؐ کے) بعد تیرہ سو برس تک اس لفظ (یعنی نبوت ) کو آپ کی امت سے اٹھادیا تاکہ آپ کی نبوت کی عظمت کا حق ادا ہوجائے (یعنی آپ کے بعد ہی دوسرے لوگوں کے نبی کہلانے سے آپ کی نبوت کی ہتک نہ ہو ) اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پر آنحضرت ؐکے بعد لفظ نبی اللہ بولا جائے اور پہلے سلسلے سے( یعنی موسوی انبیا کے سلسلے ) مماثلت پوری ہو ، آخری زمانے میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوا دیا ۔ ‘‘

(ارشاد مرزا غلام احمد صاحب مندرجہ اخبار الحکم قادیان ، مورخہ ۷ / اپریل ۱۹۰۳ ء منقول از رسالہ ختم نبوت از فخر الدین ملتانی ، ص ۱۰)

چوتھی تاویل:

۶۔’’میں ظلی طورمحمدؐہوں‘ پس اس طورسے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمدؐکی نبوت محمد تک ہی محدودرہی ‘ یعنی بہرحال محمدؐہی نبی رہانہ اورکوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرتؐ ہوں اوربروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں توپھرکون ساالگ انسان ہواجس نے علیحدہ طور پر نبوت کادعویٰ کیا۔‘‘

(ایک غلطی کاازالہ‘مرزاغلام احمدصاحب)

وحی

(۱۱)ختم نبوت کی طرح وحی اورنزول جبرئیل کے متعلق مرزاصاحب کاموقف مختلف مراحل میں پیہم بدلتارہاہے جس کی کیفیت ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

ابتدائی موقف:

۱۔’’اگرہم اپنے نبیؐ کے بعدکسی نبی کاظہورجائزقراردیں توگویاہم باب وحی بندہو جانے کے بعداس کاکھلناجائزقراردیں گے اوریہ صحیح نہیں‘ جیساکہ مسلمانوں پر ظاہر ہے۔ اورہمارے رسول اللہ ؐکے بعدنبی کیونکرآسکتاہے درآنحالیکہ آپ کی وفات کے بعدوحی منقطع ہوگئی۔‘‘ (حمامتہ ابشریٰ مرزاغلام احمدصاحب ‘ص۳۴)

۲۔’’ظاہرہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کانزول فرض کیاجائے اورصرف ایک ہی فقرہ جبرئیل لادیں اورپھرچپ ہوجائیں‘ یہ امربھی ختم نبوت کے منافی ہے کیونکہ جب ختمیت کی مہرہی ٹوٹ گئی اوروحی رسالت پھرنازل ہونی شروع ہوگئی توپھرتھوڑا یابہت نازل ہونا برابرہے… اب جبرئیل کوبعدوفات رسول اللہؐ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت لانے سے منع کیاگیاہے۔‘‘ (ازالہ اوہام‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص ۵۷۷)

۳۔‘‘قرآن کریم بعدخاتم النبیین رسول کاآناجائزنہیں رکھتاخواہ وہ نیاہویاپرانا کیونکہ رسول کاعلم دین بتوسط جبرئیل ملتاہے اورباب نزول جبرئیل یہ پیرایہ وحی رسالت مسدودہے اوریہ بات ممتنع ہے کہ رسول توآوے مگرسلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ‘ص۷۶۱)

۴۔’’رسول کی حقیقت اورماہیت میںیہ امرداخل ہے کہ دینی علوم کو… بذریعہ جبرئیل حاصل کرے اورابھی ثابت ہوچکاہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ‘ص۶۱۴)

۵۔’’پس یہ کس قدرجرأت اوردلیری اورگستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کوعمداًچھوڑدیاجائے اورخاتم الانبیا کے بعدایک نبی کاآنامان لیا جائے اوربعداس کے جووحی نبوت منقطع ہوچکی تھی پھرسلسلہ وحی نبوت کاجاری کر دیا جائے۔ کیونکہ جس میںشان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔‘‘

(ایام صلح ‘ مرزاغلام احمدصاحب‘ص۱۴۶)

دوسراموقف:

۶۔’’ہم بھی نبوت کے مدعی پرلعنت بھیجتے ہیں اورلاالہ الاّاللہ محمدرسول اللہ کے قائل ہیں اورآنحضرتؐ کی ختم نبوت پرایمان رکھتے ہیں اوروحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اورباتباع آنحضرت ؐاولیاء اللہ کوملتی ہے‘اس کے قائل ہیں۔‘‘

(اشتہارمرزاغلام احمدصاحب تبلیغ رسالت، جلد۶‘ص۳۰۲)

۷۔’’کیایہ ضروری ہے کہ جوالہٰام کادعویٰ کرتاہے وہ نبی بھی ہوجائے۔‘‘

(جنگ مقدس‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص۶۷)

۸۔’’میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اوراللہ کاکلیم ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام‘مرزاغلام احمدصاحب‘ص۳۸۳)

تیسراموقف:

۹۔’’یہ کس قدرلغواورباطل عقیدہ ہے کہ ایساخیال کیاجائے کہ بعدآنحضورؐکے وحی الٰہی کادروازہ ہمیشہ کے لیے بندہوگیااورآئندہ کوقیامت تک اس کی کوئی بھی امیدنہیں۔ صرف قصوں کی پوجاکرو۔ پس کیاایسامذہب کچھ مذہب ہوسکتاہے جس میں براہ راست خداتعالیٰ کاکچھ پتہ نہیں لگتا۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم‘صفحہ ۱۸۳۔واضح رہے کہ براہین احمدیہ کاحصہ پنجم ۱۹۰۸ء میںشائع ہواتھا۔)

۱۰۔’’اورمیں جیساکہ قرآن شریف کی آیات پرایمان رکھتاہوں ایساہی بغیرفرق ایک ذرہ کے خداکی اس کھلی وحی پرایمان لاتاہوں جومجھے‘ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پرکھل گئی ہے اورمیں بیت اللہ میں کھڑے ہوکریہ قسم کھاسکتاہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پرنازل ہوتی ہے وہ اسی خداکاکلام ہے جس نے حضرت موسیٰ ؑاور حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت محمدمصطفیٰ ؐپراپناکلام نازل کیاتھا۔‘‘ (ایک غلطی کاازالہ ‘مرزاغلام احمدصاحب)

۱۲۔’’مجھے اپنی وحی پرایساہی ایمان ہے جیساکہ تورات اورانجیل اورقرآن کریم پر۔‘‘

(اربعین نمبر۴‘مرزاغلام احمدصاحب‘ص۲۵)

۱۳۔’’آمدنزدمن جبرئیل علیہ السلام ومرابرگزیدوگردش دادنگشت خودراواشارہ کروخدا ترازدشمناں نگہ خواہدداشت۔‘‘ (مواہب الرحمان‘مرزاغلام احمدصاحب‘ ص۲۳)

مسیح اورنزول مسیح کامسئلہ

مسیح علیہ السلام اوران کی آمدثانی اورخوداپنے مسیح موعودہونے کے باب میں مرزاصاحب کاموقف مختلف مراحل میں مختلف رہاہے۔ اس کانقشہ ذیل میں ملاحظہ ہو۔

پہلاموقف:

۱۔’’اس عاجزنے جومثیل موعودہونے کادعویٰ کیاہے‘جس کوکم فہم لوگ مسیح موعودخیال کربیٹھے ہیں‘یہ کوئی نیادعویٰ نہیں ہے جوآج ہی میرے منہ سے سناگیا ہو… میں نے یہ دعویٰ ہرگزنہیں کیاکہ میں مسیح ابن مریم ہوں‘ جوشخص میرے پرالزام لگائے وہ سراسرمفتری اورکذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات آٹھ سال سے برابریہی شائع ہورہاہے کہ میں مثیل ہوں۔‘‘ (ازالہ اوہام‘مرزاغلام احمدصاحب‘ص۱۹۰)

۲۔’’ممکن اوربالکل ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کوئی ایسامسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔‘‘ (ازالہ اوہام‘مرزاغلام احمدصاحب‘ص۱۹۹)

۳۔’’اس عاجزپرظاہرکیاگیاہے کہ یہ خاکساراپنی غربت اورانکساراورتوکل اور ایثار اورآیات وانوارکی روسے مسیح کی پہلی زندگی کانمونہ ہے اوراس عاجزکی فطرت اورمیسح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص ۴۹۹)

۴۔’’مصنف کواس بات کابھی علم دیاگیاہے کہ وہ مجدووقت ہے اورروحانی طورپراس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔‘‘

(اشتہارمرزاغلام احمدصاحب ‘تبلیغ رسالت ‘جلداول ، ص۱۵)

۵۔’’اگریہ اعتراض پیش کیاجائے کہ مسیح کامثل بھی نبی (ہونا) چاہیے کیونکہ مسیح نبی تھا‘ تواس کااول جواب تویہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لیے ہمارے سیدومولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طورپریہی لکھاہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگااورعام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کاپابندہوگااوراس سے زیادہ کچھ بھی ظاہرنہیں کرے گا۔‘‘

(توضیح المرام‘مرزاغلام احمدصاحب ‘ص۱۹)

دوسراموقف:

۶۔’’اوریہی عیسیٰ ہے جس کاانتظارتھا‘اورالہامی عبارتوں میں مریم اورعیسیٰ سے میں ہی مرادہوں۔ میری نسبت ہی کہاگیاکہ ہم اس کونشان بنادیں گے اورنیزکہاگیاکہ یہ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے جوآنے والاتھاجس میں لوگ شک کرتے ہیں یہی حق ہے اورآنے والایہی ہے اورشک محض نافہمی سے ہے۔‘‘ (کشتی نوح‘مرزاغلام احمدصاحب‘ص ۴۸)

۷۔’’اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرانام مریم رکھا‘ پھر جیسا براہین احمدیہ سے ظاہرہے‘ دوبرس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہاپھر…… مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اوراستعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایاگیا‘ اورآخرکئی مہینے کے بعد‘ جودس مہینے سے زیادہ نہیں‘ بذریعہ اس الہام کے جوسب سے آخربراہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے‘ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایاگیا۔ پس اس طورسے میں ابن مریم ٹھہرااورخدانے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سر خفی کی مجھے خبرنہ دی۔‘‘ (کشتی نوح‘ص۴۶)

۸۔’’سویقیناًسمجھوکہ نازل ہونے والاابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانے میں کسی ایسے شخص والدروحانی کونہ پایاجواس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔ تب خداتعالیٰ خوداس کامتولی ہوااورتربیت کی کنارمیں لیااوراپنے بندے کانام ابن مریم رکھا… پس مثالی صورت کے طورپریہی عیسیٰ ابن مریم ہے جوبغیرباپ کے پیداہوا۔ کیاتم ثابت کرسکتے ہوکہ اس کاکوئی والدروحانی ہے؟ کیاتم ثبوت دے سکتے ہوکہ تمہارے سلاسل اربع میں سے کسی سلسلے میں یہ داخل ہے؟ پھریہ ابن مریم نہیں توکون ہے؟‘‘

(ازالہ اوہام مرزاغلام احمدصاحب، ص ۶۵۹)

۹۔’’اب یہ بھی جانناچاہیے کہ دمشق کالفظ جو’’مسلم‘‘کی حدیث میں واردہے‘ یعنی صحیح مسلم میں یہ جولکھاہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفیدمشرقی کے پاس اتریں گے۔ یہ لفظ ابتدا سے محقق لوگوں کوحیران کرتاچلاآیاہے [واضح رہے کہ دمشق کے لفظ پر مرزا صاحب سے پہلے کسی صاحب علم کو حیرانی نہیں پیش آئی۔ علم حدیث کے جتنے شارحین ہیں ان میں سے کسی کے کلام میں بھی حیرانی کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ البتہ مرزا صاحب کو ضرور یہ حیرانی لاحق رہی ہو گی کہ حدیث میں ایک مشہور و معروف مقام کی تصریح ہونے کے باوجود وہ کس طرح مسیح موعود بنیں]۔ واضح ہوکہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پرمنجانب اللہ یہ ظاہرکیاگیاہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کانام دمشق رکھاگیاہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جویزیدی الطبع اوریزیدپلیدکی عادات اورخیالات کے پیروہیں … خدا تعالیٰ نے مجھ پریہ ظاہرفرمادیاہے کہ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثریزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں، دمشق سے ایک مناسبت اورمشابہت رکھتاہے۔‘‘

(حاشیہ ازالہ اوہام‘صفحہ ۶۳تا۷۳)

۱۰۔’’مجھے اس خداکی قسم جس نے مجھے بھیجاہے اورجس پرافترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعودبناکرمجھے بھیجاہے۔‘‘ (ایک غلطی کاازالہ ‘تبلیغ رسالت جلد۱۰‘ص۱۸)

قادیانی جماعت کاایک ’’امت‘‘ہونا

مرزاصاحب نے خودیہ اصول بھی بصراحت بیان کیاہے کہ ایک نبی ایک امت وجودمیں لاتاہے اورپھرانھوں نے خودہی اپنی جماعت کوامت کہابھی ہے۔ اس کے ثبوت میں چندعبارات درج ذیل ہیں۔

۱۔’’جوشخص نبوت کادعویٰ کرے گااس دعوے میں ضروری ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی ہستی کااقرارکرے اورنیزیہ بھی کہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے میرے پروحی نازل ہوتی ہے اورنیزخلق اللہ کووہ کلام بھی سنادے جواس پرخداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہواہے اورایک امت بنادے جواس کونبی سمجھتی ہواوراس کی کتاب کوکتاب اللہ جانتی ہو۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ‘مرزاغلام احمدصاحب‘ص۳۴۴)

۲۔’’یہ بھی توسمجھو کہ شریعت کیاچیزہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چندامرونہی بیان کیے اوراپنی امت کے لیے ایک قانون مقررکیاوہی صاحب شریعت ہوگیا…… میری وحی میں امربھی ہے اورنہی بھی۔‘‘ ( اربعین نمبر۴‘مرزاغلام احمدصاحب‘ص۷/۸۳)

۳۔’’پہلامسیح صرف مسیح تھا‘ اس لیے اُس کی امت گمراہ ہوگئی اورموسوی سلسلے کاخاتمہ ہوگیا۔ اگر میں بھی صرف مسیح ہوتاتوایساہی ہوتا۔ لیکن میں مہدی اورمحمدؐ کابروزبھی ہوں اس لیے میری امت کے دوحصے ہوں گے۔ ایک وہ جومسیحیت کارنگ اختیارکریں گے اوریہ تباہ ہو جائیں گے اوردوسرے وہ جومہددیت کارنگ اختیارکریں گے۔‘‘

(ارشاد‘مرزاغلام احمدصاحب‘مندرجہ الفضل،۲۶جنوری۱۹۱۶ء)

مرزاصاحب کونہ ماننے کے نتائج ‘اعتقادی حیثیت سے:

اس امر میں بھی مرزا صاحب کاموقف مختلف رہا ہے کہ جو لوگ ان کو نہ مانیں ان کی پوزیشن کیاہے۔ اس سلسلے میں مختلف مراحل پر انھوں نے اور ان کی جماعت کے اکابر نے جو مختلف موقف اختیار کیے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

ابتدائی موقف :

۱۔ ’’یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لیے محدث ہو کر آیاہے او رمحدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتاہے۔ گو اس کے لیے نبوت نامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے …اور انبیا کی طرح اس پر فرض ہوتاہے کہ اپنے تئیں باآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہراتاہے۔ ‘‘

(توضیح مرام ، مرزا غلام احمد صاحب صفحہ ۱۸)

۲۔ ’’ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا ، ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہوگا [یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدید لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں ، گو وہ جناب الٰہی میں کیسی ہی اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ، ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن سکتا]اور میں اس کانام بے ایمان نہیں رکھتا۔ (تریاق القلوب ، مرزا غلام احمد صاحب ،صفحہ ۱۳۰)

۳۔’’اور ہر ایک مسلمان جس کو میری تبلیغ کی گئی ہے ، گو وہ مسلمان ہے ،مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتاہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتاہے ، وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے۔ ‘‘ (تحفہ الندوہ، مرزا غلام احمد صاحب، ص ۴)

۴۔’’جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا، یاماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرض رسالت سے بے خبر محض ہے اور وہ اس بات کا حق دار نہیں ہے کہ اس کو سچا مسلمان، خدا اور اس کے رسول کا سچا تابع دار اور فرماں بردار کہہ سکیں …اس کے نہ ماننے والوں اور اس سے انحراف کرنے والوں کانام فاسق رکھاہے۔ ‘‘

(حجۃ اللہ ، تقریر لاہوراز مرزا غلام احمد صاحب ، منقول از النبوۃ فی الاسلام مولوی محمد علی ایم اے ، ص ۲۱۴)

آخری موقف :

۵۔ ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا ، وہ خدااور رسول کی نا فرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔ ‘‘

(اشتہار معیار الاخیار از مرزا غلام احمد صاحب، مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء،منقول از کلمۃ الفصل، صاحب زادہ بشیر احمد صاحب، ص ۱۲۹)

۶۔’’اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل ، ص ۱۲۹)

۷۔’’حضرت (مرزا صاحب) نے جہاں کہیں بھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہہ کر پکارا ہے وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ، ورنہ آپ حسب حکم الٰہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھیے ۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل ، ص ۱۲۶)

۸۔ ’’حضرت مسیح موعود کی اس تحریر سے بہت سی باتیں حل ہوجاتی ہیں۔ اول یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ۔ دوسرے یہ کہ حضرت صاحب نے عبدالحکیم خان کو جماعت سے اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتاتھا۔ تیسرے یہ کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہنے کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔ چوتھے یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے اس کے لیے رحمت الٰہی کادروازہ بند ہے۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل ،صفحہ ۱۲۵)

۹۔ ’’کفر دو قسم پر ہے ۔ ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتاہے اور آنحضرت ؐکو رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتاہے …اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی ، مرزا غلام احمد صاحب ، ص ۱۷۹)

۱۰۔ ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ‘‘

(آئینہ صداقت ، مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ، ص ۳۵)

۱۱۔’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتاہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتاہے مگر محمد ؐکو نہیں مانتا یا محمدکو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰)

۱۲۔’’قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدؐ کو اتاراتاکہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرے۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل ص ۱۰۵)

۱۳۔’’پس مسیح موعود خود رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیامیں تشریف لائے۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل، ص ۱۸۵)

۱۴۔’’اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریمؐ کا انکار کفر ہے تو مسیح موعودکا انکار بھی کفر ہونا چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم ؐسے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل ص ۱۴۷)

۱۵۔’’جو شخص ظاہر کرتاہے کہ میں نہ ادھر کا ہوں نہ ادھر کا ہوں ، اصل میں وہ بھی ہمارا مکذب ہے اور جو ہمارا مصدق نہیں اور کہتاہے کہ میں ان کو اچھا جانتاہوں ، وہ بھی مخالف ہے۔ ‘‘

(ارشاد مرزا غلام احمد صاحب، مندرجہ اخبار بدرمورخہ ۲۴ / اپریل ۱۹۰۳ء منقول از منکرین خلافت کاانجام ص ۸۲)

مرزا صاحب کو نہ ماننے کے نتائج، عملی حیثیت سے :

۱۶۔’’اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں ۔جب ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا ۔‘‘

(کلمۃ الفصل۱۸جون۱۹۱۶)

۱۷۔’’حضور مرزا صاحب فرماتے ہیں غیر احمدیوں کی لڑکی لینے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے۔ ‘‘

(کلمۃ الفصل،۱۶دسمبر۱۹۲۰)

۱۸۔’’یہ اعلان بغرض آگاہی عام شائع کیاجاتاہے کہ احمدی لڑکیوں کے نکاح غیر احمدیوں سے کرنے ناجائز ہیں۔ آئندہ احتیاط کی جائے۔ ‘‘

(اعلان ناظر امور عامہ قادیان ، الفضل ،۱۴فروری ۱۹۳۳ء )

۱۹۔’’حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے (مرزا فضل احمد مرحوم ) کا جنازہ محض اس لیے نہیں پڑھاکہ وہ غیر احمدی تھا۔ ‘‘

(الفضل ، ۱۵دسمبر ۱۹۲۱ء)

۲۰۔’’پس یاد رکھو کہ جیساکہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے ، تمہارے پر حرام ہے کہ کسی کافر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو ۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘

(اربعین نمبر۳،مرزا غلام احمد صاحب، ص ۳۴)

۲۱۔’’میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کا جنازہ جائز نہیں۔ کیونکہ میرے نزدیک وہ احمدی نہیں ہیں ، اسی طرح جو لوگ غیر احمدیوں کو لڑکی دے دیں اور وہ اپنے اس فعل سے توبہ کیے بغیر فوت ہوجائیں ، ان کاجنازہ بھی جائز نہیں۔‘‘

(مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا خط، الفضل ،۱۳اپریل۱۹۲۶ء)

۲۲۔’’حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھاہے جو نبی کریم ؐنے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیارہ گیاہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کرسکتے ہیں ؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی ۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کااکٹھا ہونا ہے۔ اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ وناطہ ہے ۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دئیے گئے ۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتاہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کیاجاتاہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ بعض اوقات نبی کریم ؐنے یہود تک کو سلام کا جواب دیاہے ۔‘‘

(کلمۃ الفصل ،ص ۱۶۹)