بغداد کے سقوط کے دو سال بعد مملوک سلطان سیف الدین قطز اور بیبرس نے فلسطین میں عین جالوت کے مقام پر منگولوں کو پہلی بڑی شکست دی۔
بغداد کی تباہی کے بعد منگولوں نے شام میں حلب اور دمشق کو فتح کیا اور ہلاکو نے مصر کے مملوک سلطان کے نام سرِ تسلیم خم کرنے کا مطالبہ بھیجا۔ سلطان سیف الدین قطز نے منگول سفیروں کو قتل کروا کر واضح جواب دیا اور فوج لے کر فلسطین کی طرف نکلے۔ اسی اثنا میں ہلاکو منگول قاآن کی وفات کی خبر پر اپنی فوج کا بڑا حصہ لے کر واپس چلا گیا تھا۔
3 ستمبر 1260ء (25 رمضان 658 ہجری) کو عین جالوت کے مقام پر قطز اور بیبرس کی قیادت میں مملوک فوج نے منگول دستے کو، جس کی قیادت کتبغا کر رہا تھا، شکست دی۔ مملوکوں نے پسپائی کا دھوکا دے کر منگولوں کو جال میں پھنسایا۔ کتبغا مارا گیا۔
منگولوں کو پہلی بار فیصلہ کن شکست ہوئی اور ان کی مغرب کی طرف پیش قدمی رک گئی، جس سے مصر اور شمالی افریقہ محفوظ رہے۔ قطز واپسی پر بیبرس کے ہاتھوں قتل ہوئے اور بیبرس سلطان بنا، جس نے بعد میں صلیبی ریاستوں کو بھی پسپا کیا۔