پہلی صلیبی جنگ میں جولائی 1099ء میں یروشلم پر قبضے کے بعد قائم ہونے والی یورپی ریاست؛ قبضے کے وقت شہر کے مسلم اور یہودی باشندوں کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہوا۔ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے معرکۂ حطین کے بعد یروشلم واپس لیا، اور 1291ء میں مملوکوں نے عکہ فتح کر کے آخری صلیبی ٹھکانہ ختم کر دیا۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- دولتِ اغالبہ 800ء–909ء
- خلافتِ فاطمیہ 910ء–1171ء
- صلیبی مملکتِ یروشلم
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
عروج کے اسباب
پوپ اربن دوم کی 1095ء کی اپیل پر یورپی فوجیں مشرق کی طرف بڑھیں؛ سلجوقیوں اور فاطمیوں کی کشمکش اور مسلم دنیا کی تقسیم سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے 1099ء میں یروشلم پر قبضہ کیا، جو اس وقت فاطمیوں کے پاس تھا۔
زوال کے اسباب
عماد الدین زنگی، نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی کی مزاحمت؛ 1187ء میں حطین کی فیصلہ کن شکست کے بعد مملکت ساحلی شہروں تک محدود ہو گئی، اور 1291ء میں سقوطِ عکہ کے ساتھ ختم ہوئی۔
حکمران (2)
گاڈفری آف بویون
1099ء – 1100ءیروشلم کے پہلے حاکم؛ بادشاہ کا لقب اختیار نہیں کیا۔
بالڈون اول
1100ء – 1118ءمملکت کے پہلے بادشاہ۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
1229ء–1244ء میں یروشلم ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر دوبارہ صلیبیوں کے پاس رہا۔ 638ء سے 1099ء تک اور 1187ء کے بعد فلسطین خلفائے راشدین، امویوں، عباسیوں، فاطمیوں، ایوبیوں، مملوکوں اور عثمانیوں کے زیرِ حکومت رہا — وہ ادوار انہی سلطنتوں کی پٹیوں میں شامل ہیں۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔