متحدہ عیسائی ریاستوں نے موحدین کی فوج کو شکست دی، جس سے اندلس میں مسلمانوں کی پسپائی (ریکونکوئسٹا) تیز ہوئی۔
موحدین کے خلیفہ محمد الناصر نے اندلس میں مسیحی ریاستوں کے خلاف 1195ء کی الارکوس کی فتح کے بعد کئی برس تک فوجی برتری قائم رکھی۔ 1212ء میں قشتالہ کے الفانسو ہشتم کی اپیل پر پوپ نے صلیبی مہم کا اعلان کیا اور قشتالہ، اراگون، نوارا اور پرتگال کی فوجیں متحد ہو گئیں، جن میں یورپی رضاکار بھی شامل ہوئے۔
16 جولائی 1212ء کو لاس ناواس دے تولوسا (مسلم مؤرخین کے ہاں 'العقاب') کے مقام پر موحدین کی فوج کو شکست ہوئی۔ اس شکست کے اسباب میں فوجی تدبیر کی کمزوری، اندرونی اختلاف اور مقامی راہ نماؤں کا استعمال شامل بتائے جاتے ہیں۔
اس کے بعد موحدین کی طاقت تیزی سے کمزور پڑی اور مسیحی ریاستوں نے قرطبہ (1236ء) اور اشبیلیہ (1248ء) جیسے بڑے شہر فتح کر لیے۔ مسلم اندلس سمٹ کر غرناطہ کی نصری امارت تک محدود رہ گیا۔