سود
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۶۰ء تک مختلف اوقات میں سود کے موضوع پر لکھے گئے مضامین کا ایک جامع اور مبسوط مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے "سود" کے نام سے شائع ہونے والی دو جلدوں کے غیر مرتب مواد کو مصنف نے از سرِ نو ترتیب دے کر اس کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔
کتاب میں سب سے پہلے سرمایہ داری، اشتراکیت اور اسلام کے تینوں معاشی نظاموں کا اصولی فرق بیان کیا گیا ہے، پھر اسلامی نظامِ معیشت کے ارکان، سود کی مختلف عقلی توجیہات کا رد، سود کے اخلاقی، تمدنی اور معاشی نقصانات، جدید بینکاری کی تاریخ، اور رِبا سے متعلق تفصیلی فقہی احکام (رِبا الفضل، علتِ تحریم، فقہا کے اختلافات) پر مبسوط بحث کی گئی ہے۔ آخر میں تجدیدِ قانون کی شرائط، غیر سودی مالیات کی متبادل صورتیں اور اسلامی بینکاری کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، نیز ضمیموں میں سید یعقوب شاہ اور مولانا مناظر احسن گیلانی کے ساتھ ہونے والی علمی مراسلت بھی شامل ہے جس میں دارالحرب میں سود کی حیثیت جیسے پیچیدہ مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: سود
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"سود" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ سب سے زیادہ اثر انگیز کام ہے جو بعد میں "اسلامی معاشیات" کے میدان کی بنیاد بنا۔ یہ بلا استثنا یہ دلیل دیتی ہے کہ سود، کسی بھی تجارتی یا بینکاری شکل میں، اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، اور محض دعویٰ کرنے کی بجائے ایک متبادل معاشی فریم ورک تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
کتاب سب سے پہلے اسلام کے معاشی اصولوں کو سرمایہ داری اور اشتراکیت سے ممیز کرتی ہے، اسلامی نظامِ معیشت کے "ارکان" بیان کرتی ہے، پھر حرمتِ سود کی طرف رجوع کرتی ہے — سود کی تعریف، اسے حقیقی شراکت داری (مضاربت/مشارکت) کے جائز منافع سے ممیز کرتے ہوئے، اور اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ تین ضمیمے دلیل کو آگے بڑھاتے ہیں: پہلے دو تجارتی قرضوں سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں؛ تیسرا مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا وہ مضمون شامل کرتا ہے جس میں دارالحرب میں سود کے جواز کی دلیل دی گئی ہے، جس کے فوراً بعد مولانا مودودی کی اپنی تنقید شامل ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ کتاب عالمی اسلامی بینکاری کی صنعت کے براہِ راست فکری اسلاف میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو دو باتیں نوٹ کرنی چاہئیں: پہلی، گیلانی-مودودی مکالمہ ایک زندہ، غیر حل شدہ فقہی بحث ظاہر کرتا ہے؛ دوسری، حقیقی "اسلامی بینکاری" کے عملی تجربے کو خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات عملاً سود ہی کو دہراتی ہیں۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- سود کی تعریف: مولانا مودودی حرام سود کو حقیقی شراکت داری کے جائز منافع سے کیسے ممیز کرتے ہیں؟ کیا یہ لکیر عمل میں اتنی واضح ہے؟
- گیلانی-مودودی مباحثہ: دارالحرب میں سود کے جواز کے لیے گیلانیؒ کی دلیل کیا ہے، اور مولانا مودودی اسے کیوں رد کرتے ہیں؟
- ضرورت کی دلیل: کتاب اس دعوے کا جواب دیتی ہے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ یہ جواب کتنا مطمئن کن ہے؟
- نظریے سے ادارے تک: کیا جدید مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات کتاب کے تصور کو پورا کرتی ہیں، یا ناقدین درست ہیں کہ وہ سود ہی کو دہراتی ہیں؟
- سرمایہ داری و اشتراکیت پر تنقید: اس کتاب کا موقف "معاشیاتِ اسلام" میں کیسے آگے بڑھایا گیا؟
- عملی اصلاح: کیا سود سے پاک معیشت کی طرف "مرحلہ وار" راستہ حقیقت پسندانہ ہے؟
- تاریخی اثر: اس کتاب نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ایک ریاست کے ایک عالم کے نظریے کو پابند قانون بنانے کے کیا خطرات ہیں؟
- معاصر معنویت: کیا عالمی "اسلامی مالیات" مولانا کے تصور کردہ نتائج تک پہنچی، یا ایک مختلف راستے پر چل نکلی؟
مباحث گزشتہ کا خلاصہ
یہ تمام قانونی تصریحات آپ کے سامنے ہیں ان پر غور کرنے سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں:
(۱) دارالحرب اگر مطلقاً دارالکفر (foreign territory) کے معنی میں لیا جائے تو اس کے اموال مباح نہیں بلکہ صرف غیر معصوم ہیں اور عدم عصمت کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ اسلامی حکومت اس دار میں کسی جان یا مال کے تحفظ کی ذمہ دار نہیں ہے۔ وہاں اگر کوئی مسلمان کسی مسلم یا غیر مسلم کو جان و مال کا نقصان پہنچائے گا یا اس کی مِلک سے کوئی چیز حرام طریقے سے نکال لے گا تو یہ اس کے اور خدا کے درمیان ہے۔ اسلامی حکومت اس سے کوئی مواخذہ نہیں کرے گی۔
(۲) دارالحرب سے مراد اگر ایسے کفار کا دار لیا جائے جن کے نفوس و اموال مباح ہیں تو اس معنی میں ہر دارالکفر دارالحرب نہیں ہے، بلکہ صرف وہ علاقہ دار الحرب ہے جس سے بالفعل دارالاسلام کی جنگ ہو۔ اس خاص نوع کے دارالکفر کے سوا کسی دوسرے دارالکفر کے باشندے نہ مباح الدم ہیں اور نہ مباح المال‘ اگرچہ وہ ذمی نہیں ہیں اور ان کے نفوس و اموال غیر معصوم ہیں۔
(۳) جس ملک سے مسلمانوں کی بالفعل جنگ ہو اس کے نفوس و اموال بھی مطلقاً ایسے مباح نہیں ہیں کہ ہر شخص وہاں لوٹ مار کرنے اور کفار کی املاک پر قبضہ کرنے کا مختار ہو بلکہ اس کے لیے بھی کچھ شرائط اور قیود ہیں:
(الف) امام مسلمین باقاعدہ اعلانِ جنگ کرکے اس ملک کو دارالحرب قرار دے اور
(ب) وہاں جنگ کرنے والوں کو امام کا ’’اذن‘‘ اور اس کی ’’حمایت‘‘ حاصل ہو۔
(۴) غنیمت صرف اس جائیداد منقولہ کو کہتے ہیں جو دشمن کے عساکر سے لڑ کر حاصل کی جائے۔ یا بالفاظ دیگر اشرف جہات سے حاصل ہو اور جس میں دین کا اعزاز ہو۔ اس مال میں پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔
(۵) فَے ان اموال منقولہ و غیر منقولہ کو کہتے ہیں جو نتیجۂ فتح کے طور پر حکومت اسلامی کے قبضے میں آئیں۔ خراجِ اور مال صلح وغیرہ کا شمار بھی فَے ہی میں ہے‘ لیکن یہ بالکلیہ اسلامی حکومت کی مِلک ہے اور کسی شخص خاص کو اس پر حقوقِ ملکیت حاصل نہیں ہو سکتے۔
(۶) فَے اور غنیمت کے اموال پر فاتحین کو پورے حقوقِ ملکیت صرف اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب کہ وہ ان کو دارالحرب سے دارالاسلام منتقل کر لائیں یا دارالحرب کو دارالاسلام بنا لیں۔ اس سے پہلے ان اموال میں تصرف کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا مکروہ ہے۔
(۷) اسلامی قانون حربی کفار کے اموال پر ان کے حقوق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے اور ان کی ملک سے کوئی مال مسلمانوں کی مِلک میں جائز طور پر انھی صورتوں سے منتقل ہو سکتا ہے جن کو اللہ اور رسولؐ نے حلال کیا ہے ، یعنی بیع یا صلح یا جنگ۔