مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سود

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۶۰ء تک مختلف اوقات میں سود کے موضوع پر لکھے گئے مضامین کا ایک جامع اور مبسوط مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے "سود" کے نام سے شائع ہونے والی دو جلدوں کے غیر مرتب مواد کو مصنف نے از سرِ نو ترتیب دے کر اس کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔

کتاب میں سب سے پہلے سرمایہ داری، اشتراکیت اور اسلام کے تینوں معاشی نظاموں کا اصولی فرق بیان کیا گیا ہے، پھر اسلامی نظامِ معیشت کے ارکان، سود کی مختلف عقلی توجیہات کا رد، سود کے اخلاقی، تمدنی اور معاشی نقصانات، جدید بینکاری کی تاریخ، اور رِبا سے متعلق تفصیلی فقہی احکام (رِبا الفضل، علتِ تحریم، فقہا کے اختلافات) پر مبسوط بحث کی گئی ہے۔ آخر میں تجدیدِ قانون کی شرائط، غیر سودی مالیات کی متبادل صورتیں اور اسلامی بینکاری کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، نیز ضمیموں میں سید یعقوب شاہ اور مولانا مناظر احسن گیلانی کے ساتھ ہونے والی علمی مراسلت بھی شامل ہے جس میں دارالحرب میں سود کی حیثیت جیسے پیچیدہ مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: سود

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"سود" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ سب سے زیادہ اثر انگیز کام ہے جو بعد میں "اسلامی معاشیات" کے میدان کی بنیاد بنا۔ یہ بلا استثنا یہ دلیل دیتی ہے کہ سود، کسی بھی تجارتی یا بینکاری شکل میں، اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، اور محض دعویٰ کرنے کی بجائے ایک متبادل معاشی فریم ورک تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

کتاب سب سے پہلے اسلام کے معاشی اصولوں کو سرمایہ داری اور اشتراکیت سے ممیز کرتی ہے، اسلامی نظامِ معیشت کے "ارکان" بیان کرتی ہے، پھر حرمتِ سود کی طرف رجوع کرتی ہے — سود کی تعریف، اسے حقیقی شراکت داری (مضاربت/مشارکت) کے جائز منافع سے ممیز کرتے ہوئے، اور اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ تین ضمیمے دلیل کو آگے بڑھاتے ہیں: پہلے دو تجارتی قرضوں سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں؛ تیسرا مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا وہ مضمون شامل کرتا ہے جس میں دارالحرب میں سود کے جواز کی دلیل دی گئی ہے، جس کے فوراً بعد مولانا مودودی کی اپنی تنقید شامل ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ کتاب عالمی اسلامی بینکاری کی صنعت کے براہِ راست فکری اسلاف میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو دو باتیں نوٹ کرنی چاہئیں: پہلی، گیلانی-مودودی مکالمہ ایک زندہ، غیر حل شدہ فقہی بحث ظاہر کرتا ہے؛ دوسری، حقیقی "اسلامی بینکاری" کے عملی تجربے کو خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات عملاً سود ہی کو دہراتی ہیں۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. سود کی تعریف: مولانا مودودی حرام سود کو حقیقی شراکت داری کے جائز منافع سے کیسے ممیز کرتے ہیں؟ کیا یہ لکیر عمل میں اتنی واضح ہے؟
  2. گیلانی-مودودی مباحثہ: دارالحرب میں سود کے جواز کے لیے گیلانیؒ کی دلیل کیا ہے، اور مولانا مودودی اسے کیوں رد کرتے ہیں؟
  3. ضرورت کی دلیل: کتاب اس دعوے کا جواب دیتی ہے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ یہ جواب کتنا مطمئن کن ہے؟
  4. نظریے سے ادارے تک: کیا جدید مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات کتاب کے تصور کو پورا کرتی ہیں، یا ناقدین درست ہیں کہ وہ سود ہی کو دہراتی ہیں؟
  5. سرمایہ داری و اشتراکیت پر تنقید: اس کتاب کا موقف "معاشیاتِ اسلام" میں کیسے آگے بڑھایا گیا؟
  6. عملی اصلاح: کیا سود سے پاک معیشت کی طرف "مرحلہ وار" راستہ حقیقت پسندانہ ہے؟
  7. تاریخی اثر: اس کتاب نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ایک ریاست کے ایک عالم کے نظریے کو پابند قانون بنانے کے کیا خطرات ہیں؟
  8. معاصر معنویت: کیا عالمی "اسلامی مالیات" مولانا کے تصور کردہ نتائج تک پہنچی، یا ایک مختلف راستے پر چل نکلی؟

جواب

جواب: عنایت نامہ مورخہ ۳۱ جولائی مجھے بروقت مل گیا تھا، لیکن اس وقت سے اب تک مسلسل ایسی مصروفیت رہی کہ جواب لکھنے کی مہلت نہ مل سکی۔ اس تاخیر کے لیے معافی چاہتا ہوں۔

آپ نے جن نکات کی طرف توجہ دلائی ہے ان کے متعلق کچھ عرض کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک مرتبہ پھر اصل مسئلے کو نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش فرمائیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’’الرِبا‘‘ جس کو قرآن نے حرام کیا ہے اس کی حقیقت یا بالفاظ دیگر علتِ حرمت کیا ہے۔ آیا یہ کہ ایک شخص اپنے دیے ہوئے مال (رأس المال) سے زیادہ وصول کرے، یا یہ کہ وہ دوسرے شخص کی حاجت مندی سے ناجائز فائدہ اٹھائے؟ میں پہلی چیز کو اس کی حقیقت اور عِلّتِ حرمت کہتا ہوں، اور اس کے دلائل مختصراً یہ ہیں:۔

(۱) قرآن جس چیز کو حرام کر رہا ہے اس کے لیے وہ مطلق لفظ الرِبا استعمال کرتا ہے جس کا مفہوم لغت عرب میں مجرد زیادتی ہے‘ حاجت مند سے زیادہ لینا اس لفظ کے مفہوم میں شامل نہیں ہے۔ غیر حاجت مند کو قرض دے کر یا بار آور اغراض کے لیے قرض دے کر زیادہ واپس لیا جائے تب بھی لغت کے اعتبار سے اس زیادتی پر الرِبا ہی کا اطلاق ہوگا۔

(۲) قرآن خود اس الرِبا کو کسی ایسی قید سے مقید نہیں کرتا جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ وہ اس رِبا کو حرام کرنا چاہتا ہے جو کسی حاجت مند کو قرض دے کر وصول کیا جائے اور اس ربا کو حکم حرمت سے خارج کرنا چاہتا ہے جو غیر حاجت مند لوگوں سے یا بار آور اغراض کے لیے قرض دے کر کاروباری لوگوں سے وصول کیا جائے۔

(۳) اہل عرب قرض پر منافع لینے کو یکساں سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان کا قول تھا کہ <<اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰو >>(البقرہ2: 275) قرآن نے ان دونوں قسم کے منافعوں میں فرق کرکے واضح کر دیا کہ بیع کا منافع حلال اور قرض کا منافع حرام ہے۔<< اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰو>> (البقرہ2: 275) اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ نفع کمانے کے لیے بیع اور شرکت فی البیع کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے مگر قرض کی شکل میں روپیہ لگا کر فائدہ کمانے کا دروازہ بند ہے۔

(۴) قرآن نے <<لَکُمْ رَئُوْسُ اَمْوَالِکُمْ >> کہہ کر اس بات کی وضاحت بھی کر دی کہ قرض دینے والا صرف اتنا ہی واپس لینے کا حق دار ہے جتنا اس نے دیا ہے۔ اس سے زائد لینے کا حق دار نہیں ہے۔ یہاں بھی کوئی اشارہ اس امر کی طرف نہیں ہے کہ جس شخص کو بار آور اغراض کے لیے رأس المال دیا گیا ہو اس سے اصل پر کچھ زائد لینے کا حق دائن کو حاصل ہوتا ہے۔

(۵) لغت اور قرآن کے بعد تیسرا اہم ترین ماخذ سنت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشا معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ علت حکم مجرد زیادتی کو قرار دیا گیا ہے نہ کہ اس زیادتی کو جو کسی حاجت مند سے وصول کی جائے۔ حدیث میں یہ صراحت ہے کہ<< کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً فَہُوَ وَجْہٌ مِّنْ وُّجُوْہِ الرِّبَا>>۔ [ السنن الصغریٰ بیہقی، کتاب البیوع، باب القرض، حدیث:2056] اور <<کُلُّ قَرْضٍ جَرَّبِہٖ نَفْعًا فَہُوَ رِباً >>[ العسقلانی، ابن حجر، فتح الباری، کتاب الایمان، باب تحریم تجارۃ الخمر فی المسجد] یعنی ’’ہر وہ قرض جس سے نفع اٹھایا جائے ربوٰ ہے۔ ‘‘ [ بعض لوگ اس حدیث کی صحت پر اس دلیل سے کلام کرتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے لیکن جو اصول اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے اسے تمام فقہائے امت نے بالا تفاق تسلیم کیا ہے۔ یہ قبول عام حدیث کے مضمون کو قوی کر دیتا ہے خواہ روایت کے اعتبار سے اس کی سند ضعیف ہو۔]

(۶) نبیؐ نے صرف اس رِبا کی حرمت پر اکتفا نہیں فرمایا جو قرض کی صورت میں لیا جاتا ہے، بلکہ دست بدست لین دین کی صورت میں بھی ایک ہی جنس کی اشیا کے درمیان تفاضل کا معاملہ کرنا حرام کر دیا۔ ظاہر ہے کہ اس میں حاجت مندی کا کوئی سوال نہیں ہے اور اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبیؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا جو منشا سمجھا تھا وہ لا محالہ یہی تھا کہ زیادہ ستانی کو اللہ حرام کرنا چاہتا ہے۔ اسی کے رجحانات کو ختم کرنے کے لیے حضورؐ نے قرض کے علاوہ دست بدست لین دین میں بھی زیادہ ستانی سے منع فرما دیا۔

(۷) اُمت کے تمام فقہا نے بالا تفاق اس حکم کا منشا یہی سمجھا ہے کہ قرض کے معاملے میں اصل سے زائد جو کچھ بھی لیا جائے وہ حرام ہے، قطع نظر اس سے کہ قرض لینے والا اپنی شخصی حاجات کے لیے قرض لے، یا کسی نفع آور کام میں لگانے کے لیے ہو<< فِی الشَّرْعِ اَلزِّیَادَۃُ عَلٰی اَصْلِ الْمَالِ مِنْ غَیْرِ عَقْدٍ تَبَایَعَ >> [ابن الا ٔثیر الجزری، النھایۃ فی غریب الا ٔثر، بیروت، المکتبۃ العلمیا1979م، حرف الرائ، ج 2، ص467]یعنی شریعت کی اصطلاح میں ربوٰ سے مراد اصل مال سے زیادہ لینا ہے بغیر اس کے کہ فریقین میں بیع کا معاملہ ہوا ہو۔ اس تعریف کے مطابق تمام فقہا اس نفع کو حرام قرار دیتے ہیں جو قرض دے کر دائن مدیون سے حاصل کرے۔

ان وجوہ کو نظر انداز کرکے آپ جس بنا پر حرمت رِبا کو صرف ان قرضوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں جو حاجت مند لوگ اپنی ضروریات کے لیے لیں اور نفع بخش کاموں پر لگانے کے لیے جو قرض دیا جائے اس کے سود کو اس حرمت سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں، وہ صرف یہ ہے کہ آپ کے نزدیک عرب میں نزولِ قرآن کے وقت پہلی قسم کے معاملہ قرض کا رواج تھا، اور دوسری قسم کے کاروباری قرض کا رواج دنیا میں بہت بعد میں شروع ہوا لیکن آپ کی یہ رائے اس وقت تک قبول نہیں کی جا سکتی جب تک آپ حسب ذیل سوالات کا واضح اور اطمینان بخش جواب نہ دیں۔

(۱) کیا اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے قرضوں کے درمیان نفع آور اور غیر نفع آور کا فرق کرکے صراحتہً یا اشارۃً حرمت رِبا کو صرف دوسری قسم تک محدود اور پہلی قسم کو حرمت کے حکم سے مستثنیٰ کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو اس کا حوالہ ملنا چاہیے کیونکہ حرمت کا حکم جس نے دیا ہے، مستثنیٰ کرنے کا اختیار بھی اسی کو حاصل ہے اور اس کے کسی اشارے کے بغیر ہم اور آپ بطور خود حرام اور حلال کا فیصلہ کر لینے کے مختار نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں غالباً آپ یہ استدلال کریں گے کہ ’’چونکہ اس زمانے میں صرف غیر نفع آور قرضوں ہی پر سود لینے کا رواج تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کے حکم تحریم کو اسی سے متعلق مانا جائے گا۔‘‘ لیکن یہ استدلال اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک یہ بھی فرض نہ کر لیا جائے کہ انسانی معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کا علم بھی بس انھی معاملات تک محدود تھا جو نزولِ قرآن کے دور میں رائج تھے، اور انھیں کچھ پتہ نہ تھا کہ آگے کیا کچھ آنے والا ہے، نیز یہ کہ اسلام صرف ایک وقت خاص تک کے معاملات میں رہنمائی دینے والا ہے، کوئی ازلی و ابدی رہنما نہیں ہے۔ اگر یہ مفروضہ آپ کے استدلال کی بنیاد میں کام نہیں کر رہا ہے تو پھر آپ کو ماننا پڑے گا کہ معاملات کی وہ صورتیں بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تھیں جو بعد میں پیش آنے والی تھیں اور جب یہ مان لیں گے تو آپ کو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا منشا فی الواقع غیر نفع آور قرضوں تک ہی حکم تحریم کو محدود رکھنا ہوتا تو وہ ضرور کسی نہ کسی طریقے سے اپنے اس منشا کو ظاہر فرماتا اور اس کے رسولؐ بھی اس منشا کو اس حد تک کھول دیتے کہ تحریم رِبا کا حکم تمام اقسام قرض پر حاوی نہ ہو سکتا۔

(۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ عرب میں صرف حاجت مند لوگ ہی اپنی ذاتی ضروریات کے لیے قرض لیا کرتے تھے اور کوئی شخص کاروبار میں یا کسی نفع بخش کام میں لگانے کے لیے قرض نہ لیتا تھا؟ صرف یہ بات کہ دنیا میں نفع آورکاموں کے لیے قرض پر سرمایہ جمع کرنے کا رواج عام بہت بعد میں شروع ہوا ہے اس بات کا فیصلہ کر دینے کے لیے کافی دلیل نہیں ہے کہ پہلے کوئی شخص کاروبار کے آغاز میں یا کاروبار کے دوران میں کبھی کاروباری اغراض کے لیے قرض نہ لیا کرتا تھا۔ آپ ایک بہت اہم مسئلے کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی چیز کو مستثنیٰ کرنا کوئی ہلکی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ کو اس سے زیادہ وزنی دلیل لانی چاہیے جو آپ پیش کر رہے ہیں۔ یہ ثبوت لانا ہمارے ذمے نہیں ہے کہ عرب میں اس وقت کاروباری اغراض کے لیے کوئی شخص قرض نہ لیتا تھا۔ اس لیے کہ استثنا کا دعویٰ آپ کر رہے ہیں اور اس کی بنا آپ نے خدا اور رسولؐ کے کسی اشارے یا تصریح پر نہیں رکھی ہے بلکہ اس دلیل پر رکھی ہے کہ عرب میں اس وقت الربوٰ کا اطلاق صرف ان قرضوں پر ہوتا تھا جو غیر نفع بخش اغراض کے لیے لیے جاتے تھے۔

اب میں مختصراً آپ کے پیش کردہ نکات کا جواب عرض کرتا ہوں۔

( 1 ) الرِبا کا مفہوم متعین کرنے اور اس کی علت حرمت معلوم کرنے میں ہمارا انحصار صرف ان معاملات کی نوعیت پر ہی نہیں ہے جو اس وقت عرب میں رائج تھے بلکہ لغت، بیانِ قرآن، حدیث اور فقہائے امت کی توضیحات اس کے اصل مآخذ ہیں اور ان کے ساتھ ایک مددگار چیز یہ بھی ہے کہ اس وقت جن معاملات پر رِبا کا اطلاق ہوتا تھا ان میں قدر مشترک معلوم کی جائے۔

آپ فرماتے ہیں کہ ان میں قدر مشترک صرف اصل سے زائد ایک رقم لینا ہی نہ تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ یہ زائد رقم حاجت مندوں کی ذاتی ضروریات کے لیے قرض دے کر وصول کی جاتی تھی‘ لیکن اوّل تو اس کا اعتبار علت حکم مشخص کرنے میں اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ نہ قرآن نے اس کی طرف کوئی اشارہ کیا ہے اور نہ سنت میں کوئی چیز ایسی ملتی ہے جس کی بنا پر یہ فرض کیا جائے کہ حاجت مندوں سے زائد رقم وصول کرنا وجہ حرمت ہے۔ دوسرے ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اس وقت قرض کے معاملات صرف اسی نوعیت تک محدود تھے۔ جہاں تک عرب کے تجارتی معاملات کا تعلق ہے، ان کے بارے میں نہ یہ تصریح ہمارے علم میں آئی ہے کہ وہ قرض کے سرمائے سے چلتے تھے اور نہ یہ تصریح ہم تک پہنچی ہے کہ ان میں قرض کا عنصر بالکل ہی شامل نہ ہوتا تھا۔ اس لیے کسی ریکارڈ پر نہ ہم مدارِ بحث رکھ سکتے ہیں نہ آپ‘ لیکن یہ بات تو عقل عام سے تعلق رکھتی ہے اور دنیا کے عام تجارتی معاملات کی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی شخص بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ تجارت میں قرض کے سرمائے کو بطور بنیاد استعمال کرنے کا رواج چاہے بعد ہی میں شروع ہوا ہو لیکن تاجروں کو اپنے کاروبار کے دوران میں ایک دوسرے سے بھی اور ساہوکاروں سے بھی قرض لینے کی ضرورت پہلے سے بھی پیش آیا کرتی تھی اور چھوٹے تاجر بڑے تاجروں سے قرض پر مال پہلے بھی حاصل کیا کرتے تھے۔

( 2 )عرب کے متعلق ایسا ریکارڈ اگر موجود نہ ہو تب بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کے متعلق تو ایسا ریکارڈ نزولِ قرآن سے سینکڑوں بلکہ کئی ہزار برس پہلے کا بھی ملتا ہے اور تاریخی طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ پہلے زمانے میں تجارتی کاروبار قرض کے عنصر سے بالکل خالی ہوا کرتا تھا۔ [تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر ۲]

( 3 )آپ کا خیال یہ ہے کہ سود کے معاملات میں ضرر رساں صفت مشترک صرف یہ ہو سکتی ہے کہ حاجت مندوں کی شخصی ضروریات کے لیے قرض دے کر ان سے ظالمانہ شرح سود طے کی جائے‘ لیکن ہمارے نزدیک صرف یہی ایک ضرر رساں صفت اس میں نہیں ہے۔ یہ صفت بھی ضرر رساں ہے کہ ایک شخص یا ادارہ صرف روپیہ دے کر اپنے لیے ایک متعین منافع کی ضمانت حاصل کرے اور وہ سب لوگ جو اس روپے کے ذریعے سے اپنی محنت، قابلیت اور دماغ سوزی کرکے منافع حاصل کرنے کی کوشش کریں ان کے لیے متعین منافع تو درکنار، خود منافع تک کی کوئی ضمانت نہ ہو، قرآن مجید جو قاعدہ تجویز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ قرض کی صورت میں کسی کو مال دو تو تم اصل سے زائد کچھ لینے کے حق دار نہیں ہو اور بیع، یعنی تجارت کا منافع حاصل کرنا چاہو تو پھر سیدھی طرح یا تو خود براہ راست تجارت کرو، یا پھر تجارت میں شریک بن جاؤ۔ قرآن کے اسی منشا کو سمجھ کر اسلام میں مضاربت کو جائز اور سودی قرض کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔

( 4 )<<وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا>> سے آپ نے جو استدلال کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ یہ محض اسی زمانے کے لیے ایک وقتی حکم نہ تھا بلکہ قرآن کے دوسرے احکام کی طرح ایک ابدی حکم تھا۔ جب اور جہاں بھی کوئی آدمی ایمان لائے وہ اس حکم کا مخاطب ہے۔ اسے اگر کسی سے اپنے دیے ہوئے قرض پر سود لینا ہو تو اس کو سود کا مطالبہ چھوڑنا ہوگا اور صرف اپنے دیے ہوئے رأس المال کی واپسی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ علاوہ بریں اس آیت سے آپ کا استدلال اس دعوے پر مبنی ہے کہ اس وقت کی اقسام قرض کاروباری نوعیت کے سود سے خالی تھیں۔ یہ دعویٰ خود محتاج ثبوت ہے‘ اسے دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ جن اقسام قرض کا آپ بار بار حوالہ دیتے ہیں کہ یہ صرف ذاتی نوعیت کے قرض ہی ہو سکتے تھے، خود ان میں یہ احتمال موجود ہے کہ ایک چھوٹا تاجر کسی بڑے تاجر سے قرض پر مال لے کر جاتا ہو اور بڑا تاجر اس پر اصل قیمت کے علاوہ سود بھی عائد کرتا ہو، پھر جب وہ مدتِ مقررہ کے اندر پوری قیمت ادا نہ کرتا ہو تو وہ مزید مہلت دے کر سود میں اور اضافہ کر دیتا ہو۔ اس طرح کے سود کے بقایا بھی تو حکم <<ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰو >>کی زد میں آ جاتے ہیں۔ آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ ان بقایا میں اس نوعیت کے بقایا شامل نہ ہوتے تھے۔

( 5 ) میرے نزدیک اگر تجارتی سود کو حکم رِبا کے تحت لانے یا نہ لانے کی بنا محض گمان ہی پر ہو (اگرچہ واقعہ یہ نہیں ہے) تب بھی گمان پر ایک امکانی حرام کو حلال کر دینا اس سے زیادہ خطرناک ہے کہ اسے حرام مان کر اس سے اجتناب کیا جائے۔ حدیث کا یہ حکم صاف ہے کہ <<دَعُوْا الرَّبَا اوَالرِّیْبَہَ >> [سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، حدیث: 2267] سود کو بھی چھوڑو اور اس چیز کو بھی جس میں سود کا شک ہو۔ یہ بات میں برسبیل تنزل محض آپ کی اس بات کے جواب میں کہہ رہا ہوں کہ تجارتی سود کو حرام قرار دینے کی بنیاد محض گمان ہے۔ ورنہ مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ قطعاً حرمت کے تحت آتا ہے اور اس کے حرام ہونے کی بنا گمان نہیں ہے بلکہ قرآن اور سنت کے محکمات ہیں۔

( 6 )مجھے اس بات کی مسرت ہے کہ آپ نے خود اپنے پراویڈنٹ فنڈ کے سود کے معاملے میں میرا مشورہ قبول فرما لیا ہے آپ سے توقع یہی ہے کہ کم از کم اپنی ذات کو تو مالِ مشکوک کے فائدے سے محفوظ رکھیں گے۔ خدا کرے کہ آپ اسے دوسروں کے لیے حلال کرنے کی فکر بھی چھوڑ دیں اور مالیات کے مسائل پر جو تجربہ و بصیرت آپ کو حاصل ہے اسے ایک غیر سودی نظام مالیات مرتب کرنے میں استعمال کریں۔

( 7 )آپ کے آخری سوال کا جواب یہ ہے کہ میں نے اثم کا ترجمہ نفع کے تقابل کی وجہ سے گناہ کے بجائے نقصان کیا ہے۔ ویسے یہ زبان کے اعتبار سے غلط بھی نہیں ہے، کیونکہ اثم کے اصل معنی خیر مطلوب کو پہنچنے میں قاصر رہ جانے کے ہیں۔ اسی معنی کے لحاظ سے عرب کہتے ہیں اثمت الناقۃ یعنی اونٹنی سست رفتار ہے جو تیز رفتاری اس سے مطلوب ہے اس میں کوتاہی برتتی ہے۔

(ماہنامہ ترجمان القرآن محرم‘ صفر ۱۳۷۷ھ اکتوبر‘ نومبر ۱۹۵۷ء)