سود
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۶۰ء تک مختلف اوقات میں سود کے موضوع پر لکھے گئے مضامین کا ایک جامع اور مبسوط مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے "سود" کے نام سے شائع ہونے والی دو جلدوں کے غیر مرتب مواد کو مصنف نے از سرِ نو ترتیب دے کر اس کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔
کتاب میں سب سے پہلے سرمایہ داری، اشتراکیت اور اسلام کے تینوں معاشی نظاموں کا اصولی فرق بیان کیا گیا ہے، پھر اسلامی نظامِ معیشت کے ارکان، سود کی مختلف عقلی توجیہات کا رد، سود کے اخلاقی، تمدنی اور معاشی نقصانات، جدید بینکاری کی تاریخ، اور رِبا سے متعلق تفصیلی فقہی احکام (رِبا الفضل، علتِ تحریم، فقہا کے اختلافات) پر مبسوط بحث کی گئی ہے۔ آخر میں تجدیدِ قانون کی شرائط، غیر سودی مالیات کی متبادل صورتیں اور اسلامی بینکاری کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، نیز ضمیموں میں سید یعقوب شاہ اور مولانا مناظر احسن گیلانی کے ساتھ ہونے والی علمی مراسلت بھی شامل ہے جس میں دارالحرب میں سود کی حیثیت جیسے پیچیدہ مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: سود
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"سود" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ سب سے زیادہ اثر انگیز کام ہے جو بعد میں "اسلامی معاشیات" کے میدان کی بنیاد بنا۔ یہ بلا استثنا یہ دلیل دیتی ہے کہ سود، کسی بھی تجارتی یا بینکاری شکل میں، اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، اور محض دعویٰ کرنے کی بجائے ایک متبادل معاشی فریم ورک تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
کتاب سب سے پہلے اسلام کے معاشی اصولوں کو سرمایہ داری اور اشتراکیت سے ممیز کرتی ہے، اسلامی نظامِ معیشت کے "ارکان" بیان کرتی ہے، پھر حرمتِ سود کی طرف رجوع کرتی ہے — سود کی تعریف، اسے حقیقی شراکت داری (مضاربت/مشارکت) کے جائز منافع سے ممیز کرتے ہوئے، اور اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ تین ضمیمے دلیل کو آگے بڑھاتے ہیں: پہلے دو تجارتی قرضوں سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں؛ تیسرا مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا وہ مضمون شامل کرتا ہے جس میں دارالحرب میں سود کے جواز کی دلیل دی گئی ہے، جس کے فوراً بعد مولانا مودودی کی اپنی تنقید شامل ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ کتاب عالمی اسلامی بینکاری کی صنعت کے براہِ راست فکری اسلاف میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو دو باتیں نوٹ کرنی چاہئیں: پہلی، گیلانی-مودودی مکالمہ ایک زندہ، غیر حل شدہ فقہی بحث ظاہر کرتا ہے؛ دوسری، حقیقی "اسلامی بینکاری" کے عملی تجربے کو خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات عملاً سود ہی کو دہراتی ہیں۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- سود کی تعریف: مولانا مودودی حرام سود کو حقیقی شراکت داری کے جائز منافع سے کیسے ممیز کرتے ہیں؟ کیا یہ لکیر عمل میں اتنی واضح ہے؟
- گیلانی-مودودی مباحثہ: دارالحرب میں سود کے جواز کے لیے گیلانیؒ کی دلیل کیا ہے، اور مولانا مودودی اسے کیوں رد کرتے ہیں؟
- ضرورت کی دلیل: کتاب اس دعوے کا جواب دیتی ہے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ یہ جواب کتنا مطمئن کن ہے؟
- نظریے سے ادارے تک: کیا جدید مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات کتاب کے تصور کو پورا کرتی ہیں، یا ناقدین درست ہیں کہ وہ سود ہی کو دہراتی ہیں؟
- سرمایہ داری و اشتراکیت پر تنقید: اس کتاب کا موقف "معاشیاتِ اسلام" میں کیسے آگے بڑھایا گیا؟
- عملی اصلاح: کیا سود سے پاک معیشت کی طرف "مرحلہ وار" راستہ حقیقت پسندانہ ہے؟
- تاریخی اثر: اس کتاب نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ایک ریاست کے ایک عالم کے نظریے کو پابند قانون بنانے کے کیا خطرات ہیں؟
- معاصر معنویت: کیا عالمی "اسلامی مالیات" مولانا کے تصور کردہ نتائج تک پہنچی، یا ایک مختلف راستے پر چل نکلی؟
دستوری قانون
دستوری قانون کی رو سے اسلام دنیا کو دو حصوں پر تقسیم کرتا ہے۔ ایک دارالاسلام۔ دوسرے دارالکفر۔ دارالاسلام وہ علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور اس حکومت میں اسلامی قانون بالفعل نافذ ہو، یا حکمرانوں میں اتنی قوت ہو کہ اس قانون کو نافذ کر سکیں۔[دارالاسلام کی یہ تعریف تھوڑی سی تشریح کی محتاج ہے۔ درحقیقت صحیح معنوں میں دارالاسلام صرف وہ علاقہ ہے جہاں اسلام بحیثیت ایک نظام ِ زندگی کے حکمران ہو اور جہاں اسلامی قانون … ملکی قانون کی حیثیت سے نافذ ہو لیکن اگر کبھی ایسی حالت پیدا ہو جائے کہ کسی ملک میں اقتدارِ حکومت ہو تو مسلمانوں ہی کے ہاتھ میں مگر وہ اسلام کے بجائے کوئی اور نظامِ زندگی قائم کر دیں اور اسلامی قانون کے بجائے کوئی اور قانون نافذ کرنے لگیں تو فقہائے اسلام ان سے مایوس ہو کر دفعتاً اس ملک کے ’’دارالکفر‘‘ ہونے کا اعلان کر دینا مناسب نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے بالقوۃ ’’دارالاسلام‘ ‘ ہی قرار دیے چلے جاتے ہیں۔ جب تک کہ وہ مسلمان خود اسلام سے اپنا برائے نام تعلق بھی منقطع نہ کر لیں۔ فقہا کا یہ محتاط طرزِ عمل اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی کسی بااختیار حکومت کا اپنے اصول اور قوانین میں نا مسلمان ہونا لا محالہ دوہی وجوہ میں سے کسی ایک وجہ پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ملک کے مسلمان باشندے تو بدستور اسلام ہی کے معتقد ہوں اور اسی کی پیروی میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں مگر کسی نہ کسی سبب سے ایک گمراہ طبقہ زمام کار پر قابض ہوگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ ملک کے باشندوں میں عام طور پر جہالت اور گمراہی پھیل گئی ہو اور ان کی اپنی پسند سے وہ ضال اور مُضِل طبقہ برسر اقتدار آیا ہو جو غیر اسلامی طریقوں پر قومی معاملات چلا رہا ہو۔ پہلی صورت میں تو یہ عین متوقع ہے کہ عامۂ مسلمین کا اسلامی شعور آخر کار بیدار ہوگا اور وہ اس گروہ کے اقتدار کو الٹ پھینکیں گے جو اسلام کے گھر میں کفر کا کاروبار چلا رہا ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس عارضی غلبہ کفر کو دیکھ کر مایوس ہو جائیں اور جلد بازی سے کام لے کر اس گھر کو خود ہی کفر کا گھر قرار دے بیٹھیں۔ رہی دوسری صورت تو وہ بلاشبہ مایوسی کا مقام ہے، لیکن جس قوم نے جہالت اور گمراہی کے باوجود ابھی تک اسلام سے اپنا تعلق نہیں توڑا ہے اور جو اس قدر بگڑ جانے پر بھی اپنا مذہب ابھی تک اسلام ہی بتائے جا رہی ہے ، اس کی طرف سے اتنے مایوس نہیں ہو سکتے کہ اصلی اور حقیقی اسلام کی طرف اس کی واپسی کی ساری امیدیں منقطع کر لیں۔ لہٰذا ہم اس کے گھر کو بھی دارالکفر نہیں کہیں گے کہ بلکہ دارالاسلام ہی کہتے رہیں گے لیکن یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ عملاً اسلامی قانون کا تعلق صرف دارالاسلام سے ہے جو بالفعل دارالاسلام ہو۔ رہا وہ رعایتی ’’دارالاسلام‘‘ جس نے خود ہی اسلام سے اپنا قانونی تعلق توڑ رکھا ہو تو اسلام اس کے سیاسی نظام کو وہ دستوری حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ہے جو اس نے صرف ’’اسلامی حکومت‘‘ کے لیے مخصوص کر رکھے ہیں۔]اس کے مقابلے میں جہاں مسلمانوں کی حکومت نہیں اور اسلامی قانون نافذ نہیں وہ دارالکفر ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے تمام وہ ممالک جن میں انگریزی حکومت ہے انگریزی علاقہ کہلائیں گے اور جو علاقے ان حدود سے باہر ہوں گے ان کو علاقہ غیر کہا جائے گا۔ اسلامی حکومت اسلام کے احکام کو صرف ان لوگوں پر نافذ کر سکتی ہے جو اس کے اپنے حدودِ عمل (jurisdiction) میں رہتے ہوں۔ اسی طرح وہ صرف انھی اموال اور اعراض اور نفوس کی حفاظت کر سکتی ہے جو اس کے اپنے حدودِ اختیار یا علاقۂ مقبوضہ (territory) میں واقع ہوں۔ ان حدود کے باہر کسی چیز کی حفاظت کی وہ ذمہ دار نہیں ہے۔
اس قانون کے لحاظ سے ہر وہ جان اور مال اور عزت ’’معصوم (protected)‘‘ ہے جو دارالاسلام میں اسلامی حکومت کی حفاظت کے اندر واقع ہو، عام اس سے کہ وہ مسلمان کی ہو یا کافر کی۔ اور ہر وہ جان اور مال اور عزت ’’غیر معصوم‘‘ ہے جو دارالکفر میں ہو اور جس کی محافظ اسلامی حکومت نہ ہو، عام اس سے کہ وہ مسلمان کی ہو یا کافر کی۔ غیر معصوم ہونے کا مآل صرف اس قدر ہے کہ اگر اس کی جان و مال یا عزت پر کسی قسم کا حملہ کیا جائے تو اسلامی حکومت اس پر کوئی مؤاخذہ نہ کرے گی، کیونکہ یہ فعل اس کے حدودِ عمل سے باہر واقع ہوا ہے۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ خدا کے نزدیک وہ فعل گناہ ہو یا نہ ہو اور خدا کے ہاں اس پر مواخذہ ہو یا نہ ہو۔ پس کسی چیز کا غیر معصوم ہونا اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ وہ مباح بھی ہے، نہ اس کی عدم عصمت کو اس معنی میں لیا جا سکتا ہے کہ اسے نقصان پہنچانا یا اس پر قبضہ کر لینا عند اللہ بھی جائز اور حلال ہے۔ اسی طرح دستوری قانون کے نقطۂ نظر سے اگر کسی ایسے فعل کو جائز ٹھیرایا جائے جس کا ارتکاب دارالکفر میں کیا گیا ہو تو اس کا مفہوم صرف اس قدر ہوگا کہ اسلامی حکومت کو اس سے کوئی تعرض نہیں، وہ اس پر کوئی سزا نہیں دے گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس فعل حرام پر خدا کے ہاں بھی کوئی گرفت نہ ہوگی۔
یہاں اعتقادی قانون اور دستوری قانون کے حدود الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ اعتقادی قانون جس مسلمان کو بھائی کہتا ہے اور جس کی جان و مال کو حرام ٹھیراتا ہے وہ دستوری قانون کی نگاہ میں غیر معصوم ہے، اس لیے کہ وہ سلطنت اسلامی کے حدودِ اختیار سے باہر رہتا ہے اور جس کافر کو اعتقادی قانون دشمن قرار دیتا ہے دستوری قانون اسے معصوم ٹھیراتا ہے صرف اس بنا پر کہ وہ اسلامی سلطنت کی حفاظت میں آ گیا ہے۔ جس فعل کو اعتقادی قانون سخت گناہ اور جرم ٹھیراتا ہے، دستوری قانون اس پر کوئی گرفت نہیں کرتا کیونکہ وہ اس کے حدود عمل سے باہر ہوا ہے۔ دونو ںمیں کھلا ہوا فرق یہ ہے کہ اعتقادی قانون کا تعلق آخرت سے ہے اور دستوری قانون کا تعلق صرف دنیا اور اس کے معاملات سے‘ لیکن امام ابوحنیفہؒ کے سوا تمام فقہا نے کم و بیش ان دونوں میں خلط ملط کیا ہے اور وہ ان کے حدود میں پوری طرح تمیز نہیں کر سکے ہیں۔
چند مثالوں سے ہم اس پیچیدہ مسئلے کی توضیح کریں گے۔
(۱) فرض کیجیے کہ ایک مسلمان تاجر امان لے کر دارالحرب میں جاتا ہے اور وہاں سے کچھ مال چرا لاتا ہے۔ یہ فعل اعتقادی قانون اور بین الاقوامی قانون کی رو سے حرام ہے کیونکہ اس شخص نے عہد شکنی کی ہے۔ لیکن دستوری قانون اس شخص کو اس مال کا جائز مالک قرار دیتا ہے اور اس سے کوئی باز پرس نہیں کرتا۔[المرغینانی، الھدایۃ، کتاب السیر، باب المستا ٔمن]
(۲) فرض کیجیے کہ دارالاسلام کی رعایا کا ایک شخص دارالحرب میں قید تھا۔ وہ وہاں قید سے چھوٹ گیا یا چھوڑ دیا گیا۔ اب وہ وہاں خواہ چوری کرے، شراب پیے، زنا کرے، سب کچھ دستوری قانون کی رو سے ناقابل مواخذہ ہے[البحر الرائق، کتاب السیر، باب المستا ٔمن] یعنی اسلامی حکومت اس پر نہ اس کا ہاتھ کاٹے گی، نہ حد زنا و شراب جاری کرے گی نہ قصاص[ واضح رہے کہ بیرونی ممالک میں جا کر دارالاسلام کی رعایا کے جو لوگ جرائم اور بد اخلاقیوں کا ارتکاب کریں ان سے دارالاسلام کی حکومت اس بات پر تو ضرور باز پرس کر سکتی ہے کہ انھوں نے اپنے رویے سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سامان کیا، اور اس بنیاد پر بھی وہ ان سے مواخذہ کر سکتی ہے کہ انھوں نے اپنے غلط طرز عمل سے اپنی ریاست کے لیے بین الاقوامی معاملات میں الجھنیں پیدا کیں لیکن ان پر نفس اس جرم (مثلاً قتل یا چوری) کے بارے میں کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا جس کا ارتکاب انھوں نے دارالاسلام کے حدود سے باہر کیا ہو۔] لے گی۔ مگر اعتقادی قانون کی رو سے وہ خدا کے ہاں گنہگار ہوگا۔
(فرض کیجیے کہ ایک شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا اور وہاں سے ہجرت کرکے دارالاسلام میں نہیں آیا۔ اعتقادی قانون کی رو سے وہ مسلمان کا بھائی ہو چکا ہے۔ اس کا خون اور مال حرام ہو چکا ہے۔ مگر دستوری قانون کی رو سے وہ چونکہ اسلامی سلطنت کے حدودِ عمل سے باہر ہے اس لیے اس کی کوئی چیز معصوم نہیں۔ اس کی حیثیت وہی ہوگی جو دشمن سلطنت کی رعایا کی ہے۔ اگر کوئی مسلمان دارالاسلام کے حدود سے باہر اس کو قتل کر دے تو اسلامی عدالت نہ اس پر قصاص لے گی نہ خوں بہا دلوائے گی … بطور خود وہ کفارہ ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان اس سے سود لے یا اس کے مال پر کسی دوسرے ناجائز طریقے سے قبضہ کر لے تو دستوری قانون کی رو سے یہ ناقابل گرفت ہے کیونکہ اس کا مال غیر معصوم ہے۔ اس باب میں فقہا کی تصریحات نہایت معنی خیز ہیں:
<< وَإِذْ اَسْلَمَ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْحَرْبِ فَقَتَلَہٗ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ قَبْلَ اَنْ یَّخْرُجَ اِلٰی دَارالإِسْلاَمِ خَطَائً فَعَلَیْہِ الْکَفَّاَرۃُ وَلاَدِیَۃَ عَلَیْہِ وَ فِی الإِمْلاءِ عَنْ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ أَنَّہٗ لَا کَفَّارَۃَ عَلَیْہِ اَیْضًا لِاَنَّ وُجُوْبَہَا بِاِعْتِبَارِ تَقَوّمِ الدَّمِ لابِاعْتِبَارِ حُرْمَۃِ الْقَتْلِ … وَتَقَّوُّمُ الدَّمِ یَکُونَ بِالْإِ حْرَازِ بِدَارِ الإِسْلَامِ>>۔اگر اہل حرب میں سے کوئی شخص مسلمان ہو چکا ہو اور قبل اس کے کہ وہ ہجرت کرکے دارالاسلام میں آئے، کسی مسلمان نے اسے بلا ارادہ قتل کر دیا تو اس پر کفارہ ہے مگر خوں بہا واجب نہیں اور ابوحنیفہ رحمہٗ اللہ سے املاء میں یہ مسئلہ منقول ہے کہ اس پر کفارہ بھی نہیں ہے کیونکہ کفارے کا وجوب خون کے با قیمت ہو جانے کے اعتبار سے ہے نہ کہ حرمت قتل کے اعتبار سے … اور خون صرف اس وقت با قیمت ہوتا ہے جب کہ وہ دارالاسلام کی حفاظت میں آ چکا ہو۔
<< وَلَمَّا ثَبَتَ بِمَا قَدَّمْنَا اَنَّہٗ لَا قِیْمَۃَ لِدَمِ الْمُقِیْمِ فِیْ دَارِالْحَرْبِ بَعْدَ اِسْلَامِہٖ قَبْلَ الْھِجْرَۃَ اِلَیْنَا … أَجْرَوْہُ أَصْحَابُنَا مُجْرَی الحَرْبیِّ فِیْ اِسْقَاطِ الضَّمَانِ عَنْ مُتْلِفِ مَالِہٖ … وَاَنْ یَّکُوْنَ مَا لُہ کَمالِ الْحَرْبِیّ مِنْ ہٰذا الْوَجْہِ وَلِذٰلِکَ اَجَازَ اَبُوْحَنِیْفَۃَ مُبَایَعَتَہُ عَلٰی سَبِیْلِ مَا یَجُوْز مُبَایَعَۃَ الْحَرْبِیِّ مِنْ بَیْعِ الدِّرْھَمِ بالدِّرْہَمَیْنِ فِی دَارِالْحَرْبِ>>۔[ أحکام القرآن للجصاص، سورۃ النسائ، باب المسلم یقیم فی دارالحرب فیقتل قبل أن یھا جر الینا]اور جب ہماری پچھلی تقریر سے یہ ثابت ہوگیا کہ جو شخص مسلمان ہو کر ہجرت نہ کرے اور دارالحرب میں مقیم رہے اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔[ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان کسی اسلامی حکومت کی حفاظت میں نہیں ہے بلکہ اس کے حدود اختیار سے باہر رہتا ہے اس کا خون بجائے خود خواہ کتنی ہی بڑی قیمت رکھتا ہو‘ لیکن اسلامی حکومت کے لیے اس کی قانونی قیمت کچھ بھی نہیں ہے۔ اسے کوئی گزند پہنچے تو اسلامی حکومت اس کی کوئی داد رسی نہیں کر سکتی۔ اسے کوئی قتل کر دے تو اسلامی حکومت پر اس کا قصاص یا خوں بہا دلوانے کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اس کے مال یا آبرو سے کوئی بے جا تعرض کرے تو اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا کہ وہ اس ظلم کا تدارک کرے۔ مگر یہ سب کچھ قانونی حیثیت سے ہے ورنہ اعتقادی طور پر تو مسلمان کی جان مال اور آبرو مسلمانوں کے لیے دنیا جہان سے زیادہ قیمتی ہے اور دارالاسلام کے مسلمانوں کی دینی حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دارالکفر کے مسلمانوں کی جتنی اخلاقی مدد کر سکتے ہیں‘ کریں۔] تو اسی بنا پر ہمارے اصحاب (حنفیہ) نے ایسے مسلمان کی حیثیت حربی ہی کی قرار دی ہے یعنی اس کے مال کو تلف کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں … اس حیثیت سے اس کا مال گویا حربی کا مال ہے اور اس بنا پر ابوحنیفہ نے اس کے ساتھ بھی اسی طرح خریدوفروخت کرنا جائز ٹھیرایا ہے جس طرح حربی کے ساتھ جائز ہے۔ یعنی دارالحرب میں ایک درہم کو دو درہم کے عوض بیچنا۔
<< وَقَالَ الْحَسَنُ بنُ صَالِحٍ إِذَا أسْلَمَ الْحَرْبِیّ فَأَقَامَ بِبَلَادِھُمْ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلٰی الْخُرُوْجِ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ یُحْکَمُ فِیِہِ یُحْکُمْ عَلٰی أھْلِ الْحَرْبِ فِی مَالِہِ وَنَفْسِہِ>>۔[أحکام القرآن للجصاص، سورۃ النسائ، باب المسلم یقیم فی دارالحرب فیقتل قبل أن یھا جر الینا]
حسن بن صالح کا قول ہے کہ جب دارالحرب کا ایک باشندہ مسلمان ہونے کے بعد دارالحرب ہی میں رہا۔ در آنحالیکہ وہ ہجرت کی قدرت رکھتا تھا تو اس کی حیثیت مسلمان کی نہیں۔[موجودہ زمانے میں اس حکم کے لیے ’’ہجرت کی قدرت رکھنے‘‘ کے ساتھ ایک شرط اور بھی لگانی ہوگی اور وہ یہ کہ دارالاسلام نے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے ہوں اور اسلامی حکومت کی طرف سے یہ اعلان ہو چکا ہو کہ مطلقاً دارالحرب اور دارالکفر کے یا کسی خاص دارالحرب اور دارالکفر کے مسلمان اس کی طرف سمٹ آئیں۔ اس صورت میں جو لوگ قدرت کے باوجود ہجرت نہ کریں گے ان کے ساتھ دارالاسلام کے مسلمان ہر حیثیت سے وہی معاملہ کریں گے جو اس دارالکفر یا دارالحرب کے دوسرے باشندوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جو لوگ صریح طور پر ہجرت سے معذور ہوں گے اگرچہ دستوری حیثیت سے ان کے حقوق کچھ بھی نہیں ہیں تاہم ان کے ساتھ بالکل غیر مسلم کا سا معاملہ نہیں کیا جائے گا بلکہ فوج کے سپاہیوں اور دوسرے مسلمانوں کو ہدایات دے دی جائیں گی کہ جنگ میں ان کو بچانے کی جس حد تک کوشش ممکن ہو کریں اور حالت صلح میں بھی ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نرمی و رعایت کا برتاؤ کرتے رہیں لیکن جب کہ دارالاسلام کی حکومت کی طرف سے باہر کے مسلمانوں کے لیے نہ تو ہجرت کی دعوت ہو اور نہ اس نے ان کی آمد کے لیے اپنا دروازہ کھلا رکھا ہو تو اس صورتِ حال میں بیرونی مسلمانوں پر حسن بن صالح کا یہ قول چسپاں نہیں ہوتا کہ ان میں سے جو ہجرت کی قدرت رکھتا ہو اور ہجرت نہ کرے ’’اس کی حیثیت مسلمان کی نہیں ہے‘‘ البتہ دستوری قانون کا یہ اصول بہرحال اپنی جگہ اٹل ہے کہ جو مسلمان دارالاسلام کی رعایا نہ ہوں اور اس کے حدود اقتدار سے باہر رہتے ہوں ان کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری دارالاسلام کی حکومت پر نہیں ہے۔] اس کی جان و مال کا وہی حکم ہے جو اہل حرب کی جان و مال کا ہے۔
<<وَاِذَا اَسْلَمَ الْحَرْبِیُ فِیْ دَارِالْحَرْبِ فَقَتَلَہٗ مُسْلِمٌ عَمْدًا اَوْخَطَأً وَلَہٗ وَرَثَۃُ مُسْلِمُوْنَ ہُنَاک فلَاَ شَیْئٍ عَلَیْہِ اِلاَّ الْکُفَّارَۃِ فِی الْخَطَائِ>>۔ [الھدایۃ، کتاب السیر، باب المستا ٔمن، فصل و اذا دخل الحربی البنا مستا ٔمنا]
جب کوئی حربی دارالحرب میں مسلمان ہو چکا ہو اور کوئی مسلمان اسے عمداً یا خطائً قتل کر دے اور اس کے مسلمان ورثا بھی دارالحرب میں موجود ہوں تو اس پر کوئی قصاص یا دیت نہیں ہے۔ خطا کی صورت میں محض کفارہ ادا کر دے۔
<<وَحُکْمُ مَنْ اَسْلَمَ فِیْ دَارِالْحَرْبِ وَلَمْ یُہَاجِرْ کَالْحَرَبِیّ عِنْدَ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ لِاَنَّ مَالَہٗ غَیْرُ مَعْصُوْمٍ عِنْدَہُ>>۔[البحر الرائق، کتاب البیع، باب بیع البر بالدقیق أو بالسویق]
اور جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو اور ہجرت نہ کرے اس کی حیثیت ابوحنیفہؒ کے نزدیک حربی کی ہے کیونکہ اس کا مال ان کی رائے میں غیر معصوم ہے۔
(۴) فرض کرو کہ ایک مسلمان امان لے کر دارالحرب میں گیا اور وہاں اس نے کسی حربی سے قرض لیا یا اس کا مال غصب کر لیا۔ پھر وہ دارالاسلام واپس آ گیا اور وہ حربی بھی دارالاسلام میں امان لے کر آیا۔ یہاں وہ حربی مستامن اس قرض یا اس مال مغصوبہ کے لیے دارالاسلام کی عدالت میں دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اسلامی عدالت اس کو ایک پیسہ واپس نہ دلائے گی۔ اسی طرح اگر دارالحرب میں حربی نے مسلمان کا قرض مار لیا ہو اس کا مال غصب کر لیا ہو، پھر وہ حربی امان لے کر دارالاسلام میں آئے تب بھی اسلامی عدالت اس حربی کے خلاف اس مسلمان کی کوئی داد رسی نہ کرے گی [الجامع الصغیر لامام محمدؐعلی ہامش کتاب الخراج الامام ابی یوسف ص ۷۵]
(۵) اگر باپ دارالاسلام میں ہو اور اس کی نابالغ اولاد دارالحرب میں ہو تو اس اولاد پر سے باپ کی ولایت ساقط ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر مال کا مالک دار الاسلام میں ہو اور مال دارالحرب میں ہو تو مالک کی جان معصوم ہوگی مگر مال معصوم نہ ہوگا۔[فتح القدیر ج ۴۔ ص ۳۵۵]
(۶) دارالاسلام کی رعایا میں سے دو مسلمان امان لے کر دارالحرب میں چلے گئے اور وہاں ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا۔ اگر قاتل دارالاسلام میں واپس آئے تو اس سے قصاص نہ لیا جائے گا۔ صاحب ہدایہ نے اس کی جو وجہ بیان کی ہے وہ قابل غور ہے:
<< وَاِنَّمَا لَا یَجِبُ الْقِصَاصُ لِاَنَّہٗ لَا یُمْکُنُ اِسْتِیْفَائِ ہٗ اِلَّا بِمَنْعَۃٍ وَلاَ مَنْعَہٗ دُوْنَ الْاِمَامِ وَجَمَاعَۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَلَمْ یُوْجَ دُ ذٰلِکَ فِیْ دَارِالْحَرْبِ>>۔[ الھدایۃ، کتاب السیر، باب المستا ٔمن]
اس پر قصاص اس لیے واجب نہیں کہ قصاص بغیر حفاظت (protection) کے واجب نہیں آتا اور حفاظت بغیر امام اور جماعت مسلمین کے نہیں ہوتی۔ اور یہ چیز دارالحرب میں موجود نہیں ہے۔
(۷) دارالاسلام کی رعایا میں سے دو مسلمان دارالحرب میں قید تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا۔ یا کوئی مسلمان امان لے کر دارالحرب گیا اور وہاں اس نے کسی مسلمان اسیر کو قتل کر دیا۔ دونوں صورتوں میں قاتل پر نہ قصاص ہے نہ خون بہا۔ علامہ ابن ہمامؒ نے اس کی جو تشریح کی ہے وہ اور بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ فرماتے ہیں:
<< فَلاَ شَیْئَ علی القَاتِلِ مِنْ اَحْکَامِ الدُّنْیَا اِلاَّ الْکَفَّارَۃَ فِی الْخَطَائِ عِنْدَ اِبْی حَنِیْفَۃَ وَاِنَّمَا عَلَیْہِ عِقَابُ الْاٰخِرَۃِ فِی الْعَمَدِ …أَنَّ بِالأَسْرِ صَارَ تَبعًا لَہُمْ … وَصَارَ کَالْمُسْلِمِ الَّذِیْ لَمْ یُہَاجِرُ اِلَیْنَا فِیْ سُقُوطِ عِصْمَتِہِ الدُّنْیَوَیَّۃِ>>۔[فتح القدیر، کتاب السیر، باب المستا ٔمن]
ابو حنیفہؒ کے نزدیک قاتل پر احکام دنیا میں سے کچھ نہیں بجز اس کے کہ وہ خطا کی صورت میں کفارہ ادا کر دے۔ رہا قتل عمد (تو اس پر کفارہ بھی نہیں، البتہ آخرت کا عذاب ہے … قصاص اور دیت کے ساقط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قید ہونے کی وجہ سے وہ اہل حرب کا تابع ہوگیا … اور اس کی حیثیت اس مسلمان کی سی ہوگئی جس نے ہماری طرف ہجرت نہ کی ہو اور اس حیثیت سے اس کی دنیوی عصمت ساقط ہوگئی۔
دیکھیے ان مثالوں میں اعتقادی قانون اور دستوری قانون کا فرق کس قدر نمایاں ہے۔ اعتقادی قانون مسلمانوں کو ایک قوم اور کفار کو دوسری قوم قرار دیتا ہے اور اس کا اقتضا یہ ہے کہ مسلمان کی جان، مال اور عزت کو کافر کی جان و مال اور عزت پر ترجیح دی جائے لیکن دستوری قانون اس عالمگیر تقسیم کے بجائے اپنے حدود عمل (Jurisdiction) کو حدود ارضی (territorial limits) تک محدود کرتا ہے۔ سلطنت اسلامیہ کے حدود میں جو جان ہے، جو مال ہے جو شے ہے وہ ’’معصوم‘‘ ہے، خواہ وہ مسلمان کی ہو یا کافر کی، کیونکہ سلطنت کا قانون اس کی حفاظت کا ذمہ لے چکا ہے اور ان حدود کے باہر جو چیز ہے ’’غیر معصوم‘‘ ہے، خواہ وہ مسلم کی ہو یا کافر کی۔ اسلامی حدود کے اندر کوئی چوری کرے گا تو ہم ہاتھ کاٹیں گے، قتل کرے گا تو ہم قصاص یا دیت وصول کریں گے، ناجائز ذرائع سے مال لے گا تو واپس دلائیں گے۔ اور ان حدود کے باہر کوئی مسلمان یا ذمی ایسا فعل کرے جو ہمارے قانون کی رو سے جرم ہو تو ہم نہ علاقہ غیر میں اس کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتے ہیں نہ اپنے علاقے میں واپس آنے کے بعد، اس لیے کہ فعل ان حدود میں ہوا ہے جہاں قیام امن اور حفاظت جان و مال کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں لیکن یہ جو کچھ ہے دنیوی حیثیت سے ہے۔ حدودِ اسلامی سے باہر جو گناہ کیا جائے گا وہ دنیوی حکومت کے حدود و عمل سے باہر ہونے کے باعث صرف دنیوی مواخذے سے چھوٹ جائے گا۔ البتہ اللہ کے مواخذے سے نہ چھوٹے گا، کیونکہ اللہ کی عمل داری حدود ارضی سے نا آشنا (ultra territorial) ہے، اس نے جو کچھ حرام ٹھیرایا ہے وہ ہر جگہ حرام ہے۔
یہ امام ابوحنیفہؒ کا من گھڑت قانون نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہی قرآن جو ایک طرف<< فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۰ۭ>> (التوبہ11:9)اور<< وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا>> (النسائ 93:4 ) کہتا ہے، دوسری طرف وہی قرآن حدود اسلامی کے اندر رہنے والے مسلمان اور علاقہ غیر میں رہنے والے مسلمان کے خون میں فرق بھی کرتا ہے۔ اول الذکر کو دانستہ قتل کرنے والے پر کفارہ بھی ہے اور دیت بھی … اور موخر الذکر کے قاتل پر صرف کفارہ [<< وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ مِیْثَاقٌ>> سے یہ مراد ہے کہ اگر علاقہ غیر میں رہنے والا مسلمان کسی ایسی قوم سے ہو جس سے خون بہا کے باب میں مسلمان کا معاہدہ ہو چکا ہو تو جس طرح اس قوم کے ایک غیر مسلم فرد کا خوں بہا دیا جائے گا اسی طرح اس کے ایک مسلمان فرد کا بھی دیا جائے گا۔ پس یہ خون بہا معاہدے کی بنا پر ہے نہ کہ عصمت اسلامی کی بنا پر (ملاحظہ ہو سورۂ نساء رکوع ۱۳)]ہے۔
نبیؐ اسامہ بن زیدؓ کو ایک سریہ کا افسر بنا کر حرقات کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہاں ایک شخص<< لا الٰہ الا اللّٰہ>> کہہ کر جان بچانا چاہتا ہے۔ مگر مسلمان اس کو قتل کر دیتے ہیں۔ حضورؐ کو اس کی اطلاع ہوتی ہے تو اسامہؓ کو بلا کر آپ بار بار فرماتے ہیں:<< مَنْ لَکَ بِلَا اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ >>قیامت کے روز تجھے <<لا الٰہ الا اللّٰہ>> کے مقابلے میں کون بچائے گا۔‘‘[سنن ابی دائود، کتاب الجہاد، باب علی ما یقاتل المشرکون، حدیث: 2272] مگر اس مقتول کی دیت ادا کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ ایسے ہی ایک دوسرے موقع پر حدود اسلامی سے باہر رہنے والے چند مسلمان مارے جاتے ہیں تو حضورؐ فرماتے ہیں ’’<<انا بری من کل مسلم یقیم بین اظہر المشرکین>>‘‘ [ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد،باب النھی عن قتل من اعتصم باسجود، حدیث: 2274 باب مذکور اس دوسرے واقعہ میں حضورؐ نے مقتولوں کی نصف دیت دلوائی تھی۔ اغلب ہے کہ آپ کا یہ فعل اس آیت کے نزول سے پہلے کا ہوگا جس میں ایسے مقتول کی دیت ساقط کی گئی ہے۔]میں ہر ایسے مسلمان کی حفاظت سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو۔‘‘ خود قرآن میں بھی ایسے مسلمان کی ذمہ داری سے برأت کا اظہار کیا گیا ہے:
>> وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۰ۚ>> (الانفال72:8)
اور جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) نہ آ گئے ان سے تمھارا ’’ولایت‘‘ کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک وہ ہجرت کرکے نہ آ جائیں[یہ آیت اسلام کے دستوری قانون کی نہایت اہم دفعات میں سے ہے۔ اس میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ ’’ولایت‘‘ کے تعلقات صرف ان مسلمانوں کے درمیان ہوں گے جو دارالاسلام کے باشندے ہوںیا جو باہر سے دارالاسلام میں ہجرت کرکے آ جائیں۔ باقی رہے وہ مسلمان جو دارالاسلام سے باہر رہتے ہوں ، یا دارالاسلام میں آئیں بھی تو ہجرت کرکے نہ آئیں بلکہ دارالکفر کی رعایا ہونے کی حیثیت سے آئیں تو ان کے اور اہل دارالاسلام کے درمیان ’’ولایت‘‘ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ’’ولایت‘‘ کا لفظ عربی زبان میں حمایت، نصرت، مدد گاری، پشتیبانی، دوستی، قرابت، سرپرستی اور اس سے ملتے جلتے مفہومات پر بولا جاتا ہے اور اس آیت کے سیاق و سباق میں صریح طور پر اس سے مراد وہ رشتہ ہے جو ایک ریاست کا اپنے شہریوں سے اور شہریوں کا اپنی ریاست سے اور خود شہریوں کا آپس میں ایک دوسرے سے ہوتا ہے۔ پس یہ آیت دارالاسلام سے باہر کے مسلمانوں کو (دینی اخوت کے باوجود) سیاسی و تمدنی رشتے سے خارج کر دیتی ہے اور اس سے وسیع قانونی نتائج نکلتے ہیں جن کی تفصیلات فقہ کی مبسوط کتابوں میں موجود ہیں۔ مثلاً اسی ’’عدم ولایت‘‘ کا نتیجہ ہے کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمان آپس میں شادی بیاہ نہیں کر سکتے۔ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے۔ ایک دوسرے کے قانونی ولی (guardian) نہیں بن سکتے۔ اسلامی حکومت کسی ذمہ داری کے منصب پر کسی ایسے مسلمان کو مامور نہیں کر سکتی جس نے رعیت ہونے کا تعلق دارالکفر سے نہ توڑا ہو۔]اس طرح قرآن اور حدیث نے خود ہی دنیوی عصمت کو دینی عصمت سے الگ کر دیا ہے اور دونوں کے حدود بتا دیے ہیں۔ تمام فقہائے اسلام میں صرف امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ ہی ایسے فقیہ ہیں جنھوں نے اس نازک اور پیچیدہ قانونی مسئلے کو ٹھیک ٹھیک سمجھا ہے۔ امام ابویوسفؒ، امام محمد امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ جیسے جلیل القدر مجتہدین بھی ان دونوں قسم کی عصمتوں میں پوری پوری تمیز نہیں کر سکے۔ چنانچہ مثال کے طور پر اگر دارالکفر میں اسلامی رعایا کا ایک فرد دوسرے کو قتل کر دے تو یہ سب حضرات بالاتفاق فرماتے ہیں کہ قاتل سے قصاص لیا جائے گا کیونکہ اس نے ایک شخص کو قتل کیا جو ’’معصوم بالاسلام‘‘ تھا۔[ملاحظہ ہو الجامع الصغیر اور فتاویٰ قاضی خاں۔] پس جب اتنے بڑے بڑے ائمہ اس مسئلے میں مختلط ہوگئے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ فقہ حنفی کے متا ٔخر شارحین کو بھی امام ابوحنیفہؒ کی بات سمجھنے میں یہی خلط پیش آیا ہو۔