مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سود

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۶۰ء تک مختلف اوقات میں سود کے موضوع پر لکھے گئے مضامین کا ایک جامع اور مبسوط مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے "سود" کے نام سے شائع ہونے والی دو جلدوں کے غیر مرتب مواد کو مصنف نے از سرِ نو ترتیب دے کر اس کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔

کتاب میں سب سے پہلے سرمایہ داری، اشتراکیت اور اسلام کے تینوں معاشی نظاموں کا اصولی فرق بیان کیا گیا ہے، پھر اسلامی نظامِ معیشت کے ارکان، سود کی مختلف عقلی توجیہات کا رد، سود کے اخلاقی، تمدنی اور معاشی نقصانات، جدید بینکاری کی تاریخ، اور رِبا سے متعلق تفصیلی فقہی احکام (رِبا الفضل، علتِ تحریم، فقہا کے اختلافات) پر مبسوط بحث کی گئی ہے۔ آخر میں تجدیدِ قانون کی شرائط، غیر سودی مالیات کی متبادل صورتیں اور اسلامی بینکاری کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، نیز ضمیموں میں سید یعقوب شاہ اور مولانا مناظر احسن گیلانی کے ساتھ ہونے والی علمی مراسلت بھی شامل ہے جس میں دارالحرب میں سود کی حیثیت جیسے پیچیدہ مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: سود

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"سود" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ سب سے زیادہ اثر انگیز کام ہے جو بعد میں "اسلامی معاشیات" کے میدان کی بنیاد بنا۔ یہ بلا استثنا یہ دلیل دیتی ہے کہ سود، کسی بھی تجارتی یا بینکاری شکل میں، اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، اور محض دعویٰ کرنے کی بجائے ایک متبادل معاشی فریم ورک تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

کتاب سب سے پہلے اسلام کے معاشی اصولوں کو سرمایہ داری اور اشتراکیت سے ممیز کرتی ہے، اسلامی نظامِ معیشت کے "ارکان" بیان کرتی ہے، پھر حرمتِ سود کی طرف رجوع کرتی ہے — سود کی تعریف، اسے حقیقی شراکت داری (مضاربت/مشارکت) کے جائز منافع سے ممیز کرتے ہوئے، اور اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ تین ضمیمے دلیل کو آگے بڑھاتے ہیں: پہلے دو تجارتی قرضوں سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں؛ تیسرا مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا وہ مضمون شامل کرتا ہے جس میں دارالحرب میں سود کے جواز کی دلیل دی گئی ہے، جس کے فوراً بعد مولانا مودودی کی اپنی تنقید شامل ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ کتاب عالمی اسلامی بینکاری کی صنعت کے براہِ راست فکری اسلاف میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو دو باتیں نوٹ کرنی چاہئیں: پہلی، گیلانی-مودودی مکالمہ ایک زندہ، غیر حل شدہ فقہی بحث ظاہر کرتا ہے؛ دوسری، حقیقی "اسلامی بینکاری" کے عملی تجربے کو خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات عملاً سود ہی کو دہراتی ہیں۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. سود کی تعریف: مولانا مودودی حرام سود کو حقیقی شراکت داری کے جائز منافع سے کیسے ممیز کرتے ہیں؟ کیا یہ لکیر عمل میں اتنی واضح ہے؟
  2. گیلانی-مودودی مباحثہ: دارالحرب میں سود کے جواز کے لیے گیلانیؒ کی دلیل کیا ہے، اور مولانا مودودی اسے کیوں رد کرتے ہیں؟
  3. ضرورت کی دلیل: کتاب اس دعوے کا جواب دیتی ہے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ یہ جواب کتنا مطمئن کن ہے؟
  4. نظریے سے ادارے تک: کیا جدید مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات کتاب کے تصور کو پورا کرتی ہیں، یا ناقدین درست ہیں کہ وہ سود ہی کو دہراتی ہیں؟
  5. سرمایہ داری و اشتراکیت پر تنقید: اس کتاب کا موقف "معاشیاتِ اسلام" میں کیسے آگے بڑھایا گیا؟
  6. عملی اصلاح: کیا سود سے پاک معیشت کی طرف "مرحلہ وار" راستہ حقیقت پسندانہ ہے؟
  7. تاریخی اثر: اس کتاب نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ایک ریاست کے ایک عالم کے نظریے کو پابند قانون بنانے کے کیا خطرات ہیں؟
  8. معاصر معنویت: کیا عالمی "اسلامی مالیات" مولانا کے تصور کردہ نتائج تک پہنچی، یا ایک مختلف راستے پر چل نکلی؟

پہلا سوال

پہلا سوال

( عہدِ نبوی میں قرض لینے دینے کی شکل)

پہلے سوال میں دراصل تنقیح طلب امور یہ ہیں:

(۱) نزولِ قرآن کے زمانے میں تجارتی، صنعتی، زراعتی اور ریاستی اغراض کے لیے قرض کے لین دین کا دنیا میں عام رواج تھا یا نہیں؟

(۲) ان قرضوں پر سود لگایا جاتا تھا یا نہیں؟

(۳) اہل عرب میں یہ بات پوری طرح معروف تھی یا نہیں کہ ان اغراض کے لیے بھی قرض کا لین دین ہوتا ہے؟ اور

(۴) اس نوعیت کے قرضوں پر اصل سے زائد جو کچھ وصول کیا جاتا تھا اس کے لیے رِبا ہی کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی یا لغت عرب میں اس کے لیے کوئی دوسرا لفظ مستعمل تھا؟

ان تنقیحات پر کلام کرنے سے پہلے ہمیں قبل اسلام کے عرب کی معاشی تاریخ اور بیرونی دنیا سے اس کے تعلقات پر ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے تاکہ یہ غلط فہمی نہ رہے کہ عرب دنیا سے الگ تھلگ پڑا ہوا ایک ملک تھا جس کے باشندے اپنی وادیوں اور صحراؤں سے باہر کی دنیا کو کچھ نہ جانتے تھے۔

(قبل نبوت عرب کی معاشی تاریخ اور بیرونی دنیا سے تعلقات)

زمانہ قدیم کی تاریخ سے متعلق جو مواد آج دنیا میں موجود ہے، اس سے یہ بات پوری طرح ثابت ہے کہ اس زمانے میں چین، ہندوستان اور دوسرے مشرقی ممالک کی اور اسی طرح مشرقی افریقہ کی جتنی تجارت بھی مصر، شام، ایشیائے کوچک، یونان اور روم کے ساتھ ہوتی تھی وہ سب عرب کے واسطے سے ہوتی تھی۔ اس تجارت کے تین بڑے راستے تھے۔ ایک ایران سے خشکی کا راستہ جو عراق اور شام ہوتا ہوا جاتا تھا۔ دوسرا خلیج فارس کا بحری راستہ جس سے تمام تجارتی سامان عرب کے مشرقی سوا حل پر اترتا اور دومۃ الجندل یا تدمر (Palmyra) ہوتا ہوا آگے جاتا تھا۔ تیسرا بحر ہند کا راستہ جس سے آنے جانے والے تمام اموالِ تجارت حضرموت اور یمن سے گزرتے تھے۔ یہ تینوں راستے وہ تھے جن پر عرب آباد تھے۔ عرب خود بھی ایک طرف سے مال خرید کر لے جاتے اور دوسری طرف اسے فروخت کرتے تھے۔ حمل و نقل کا کاروبار (carrying trade) بھی کرتے تھے۔ اور اپنے علاقے سے گزرنے والے قافلوں سے بھاری ٹیکس لے کر انھیں بحفاظت گزارنے کا ذمہ بھی لیتے تھے۔ ان تینوں صورتوں سے ہمیشہ بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ان کا گہرا تعلق رہا۔ ۲۷۰۰ برس قبل مسیح سے یمن اور مصر کے تجارتی تعلقات کا صاف ثبوت ملتا ہے۔ ۱۷۰۰ برس قبل مسیح میں بنی اسماعیل کے تجارتی قافلوں کی سرگرمیوں پر توراۃ شہادت دیتی ہے۔ شمالی حجاز میں مدین (مِدیان) اور دِدان کی تجارت ڈیڑھ ہزار برس قبل مسیح اور اس کے بعد کئی صدی تک چلتی نظر آتی ہے۔ حضرت سلیمانؑ و دائودؑ کے زمانے (ایک ہزار سال قبل مسیح) سے یمن کے سبائی قبائل اور ان کے بعد حمیری قبیلے ابتدائی مسیحی صدیوں تک مسلسل تجارتی نقل و حرکت کرتے رہے ہیں۔ مسیح علیہ السلام سے لگ بھگ زمانے میں فلسطین کے یہودی عرب آ کر یثرب، خیبر، وادی القریٰ (موجودہ العلاء) تیماء اور تبوک میں آباد ہوئے اور ان کے دائمی تعلقات، مذہبی بھی اور ثقافتی بھی، شام و فلسطین اور مصر کے یہودیوں کے ساتھ برقرار رہے۔ عرب میں شام اور مصر سے غلہ اور شراب درآمد کرنے کا کام زیادہ تر یہی یہودی کرتے تھے۔ پانچویں صدی سے قریش نے عرب کی بیرونی تجارت میں غالب حصہ لینا شروع کیا اور نبیؐ کے عہد تک ایک طرف یمن اور حبش سے ، دوسری طرف عراق سے، اور تیسری طرف مصر و شام سے ان کے نہایت وسیع تجارتی تعلقات تھے۔ مشرقی عرب میں ایران کی جتنی تجارت یمن کے ساتھ تھی اس کا بہت بڑا حصہ حیرہ سے یمامہ (موجودہ ریاض) اور پھر بنی تمیم کے علاقے سے گزرتا ہوا نجران اور یمن جاتا تھا۔ صدہا برس کے ان وسیع تجارتی روابط کی موجودگی میں یہ فرض کرنا بالکل خلاف عقل ہے کہ بیرونی دنیا کے ان ممالک میں جو مالی معاملات اور کاروباری طریقے مروّج تھے ان کی عرب کے لوگوں کو خبر نہ ہو۔

ان تجارتی تعلقات کے علاوہ سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے بھی عرب کے لوگوں کا اپنے گردوپیش کی مہذب دنیا سے گہرا رابطہ تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں شمالی حجاز کے مقام تیماء کو بابل کے بادشاہ نیبو نیدوس (Nabonidus) نے اپنا گرمائی دارالسلطنت بنایا تھا۔ کیسے ممکن تھا کہ بابل میں جو معاشی قوانین اور طریقے رائج تھے ان سے حجاز کے لوگ بے خبر رہ گئے ہوں۔ تیسری صدی قبل مسیح سے نبیؐ کے عہد تک پہلے پطرا (Petra) کی نبطی ریاست، پھر تدمر کی شامی ریاست اور اس کے بعد حیرہ اور غسان کی عربی ریاستیں عراق سے مصر کے حدود تک اور حجاز نجد کے حدود سے الجزیرہ اور شام کے حدود تک مسلسل قائم رہیں۔ ان ریاستوں کا ایک طرف یونان و روم سے اور دوسری طرف ایران سے نہایت گہرا سیاسی، تمدنی، تہذیبی اور معاشی تعلق رہا ہے۔ پھر نسلی رشتوں کی بنا پر اندرون عرب کے قبائل بھی ان کے ساتھ وسیع تعلقات رکھتے تھے۔ مدینہ کے انصار اور شام کے غسانی فرماں روا ایک ہی نسل سے تھے اور ان کے درمیان پیہم تعلقات قائم رہے۔ نبیؐ کے عہد میں خود آپ کے خاص شاعر حضرت حسانؓ بن ثابت غسانی امرا کے ہاں آتے جاتے تھے۔ حیرہ کے امرا سے قریش والوں کا بہت میل جول تھا۔ حتیٰ کہ قریش کے لوگوں نے لکھنا پڑھنا بھی انھی سے سیکھا اور حیرہ ہی سے وہ رسم الخط انھیں ملا جو بعد میں خط کوفی کے نام سے مشہور ہوا۔ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ ان تعلقات کے ہوتے یہ لوگ یونان و روم اور مصر و شام اور عراق و ایران کے مالی و معاشی معاملات سے بالکل ناواقف رہ گئے ہوں۔

مزید برآں عرب کے ہر حصے میں شیوخ، اشراف اور بڑے بڑے تاجروں کے پاس رومی، یونانی اور ایرانی لونڈیوں اور غلاموں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ایران و روم کی لڑائیوں میں دونوں طرف کے جو جنگی قیدی غلام بنائے جاتے تھے، ان میں سے زائد از ضرورت تعداد کو کھلے بازار میں فروخت کر دیا جاتا تھا، اور عرب اس مال کی بڑی منڈیوں میں سے ایک تھا۔ ان غلاموں میں اچھے خاصے پڑھے لکھے مہذب لوگ بھی ہوتے تھے اور صنعت پیشہ اور تجارت پیشہ لوگ بھی۔ عرب کے شیوخ اور تجاران سے بہت کام لیتے تھے۔ مکہ، طائف، یثرب اور دوسرے مرکزوں میں ان کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور یہ کاریگروں کی حیثیت سے یا تجارتی کارکنوں کی حیثیت سے اپنے آقاؤں کی قیمتی خدمات بجا لاتے تھے۔ آخر یہ کس طرح ممکن تھا کہ اپنے ان مددگاروں کے ذریعے سے کسی عرب تاجر کے کان میں کبھی یہ بات نہ پڑی ہو کہ گرد وپیش کی دنیا میں مالی و کاروباری معاملات کے کیا طریقے رائج ہیں۔

اس کے ساتھ عرب کی معاشی تاریخ کا ایک اور پہلو بھی نگاہ میں رہنا چاہیے۔ عرب کسی زمانے میں بھی نہ تو خوراک کے معاملے میں خود کفیل رہا ہے، اور نہ وہاں ایسی صنعتوں کو فروغ نصیب ہوا ہے جن سے تمام ضرورت کے سامان ملک ہی میں فراہم ہو جاتے ہوں۔ اس ملک میں ہمیشہ اشیائے خوردنی بھی باہر سے درآمد ہوتی رہی ہیں اور ہر طرح کی مصنوعات بھی، حتیٰ کہ پہننے کے کپڑے تک زیادہ تر باہر ہی سے آتے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب کے عہد میں یہ درآمدی تجارت زیادہ تر دو گروہوں کے ہاتھ میں تھی۔ ا یک قریش اور ثقیف دوسرے یہود‘ لیکن یہ لوگ مال درآمد کرکے صرف تھوک فروشی ہی کرتے تھے۔ اندرونِ ملک کی چھوٹی چھوٹی بستیوں اور قبائلی ٹھکانوں میں خردہ فروشی کرنا ان کا کام نہ تھا، نہ ہو سکتا تھا اور نہ قبائل اس بات کو کبھی گوارا کر سکتے تھے کہ سارے تجارتی فائدے یہی لوگ لوٹ لے جائیں اور ان کے اپنے آدمیوں کو اس اجارہ داری میں گھسنے کا کسی طرف سے راستہ نہ ملے۔ اس لیے تھوک فروش کی حیثیت سے یہ لوگ اندرون ملک کے خردہ فروش تاجروں کے ہاتھ لاکھوں روپے کا مال فروخت کرتے تھے اور اس کا ایک معتدبہ حصہ ادھار فروخت ہوتا تھا۔ شاید دنیا میں تھوک فروش اور خردہ فروش کے درمیان کبھی اور کہیں خالص نقد لین دین کا طریقہ رائج نہیں رہا ہے۔ اس لین دین میں ادھار بالکل ناگزیر ہے جس سے کبھی مفر نہ تھا۔ اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ صرف عرب ہی میں اس وقت یہ لین دین بالکل نقد انقد کی شرط پر ہوتا تھا اور قرض کا اس میں کوئی دخل نہ تھا تو عقلاً بھی یہ قابل قبول نہیں ہے، اور تاریخی طور پر بھی یہ غلط ہے، جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا۔

اب میں تنقیحات کو لیتا ہوں جن کا ذکر میں نے آغاز میں کیا تھا۔

یہ امر کہ قدیم زمانے میں قرض صرف ذاتی و شخصی ضرورتوں ہی کے لیے نہیں لیا جاتا تھا بلکہ تجارتی، صنعتی اور زراعتی اغراض کے لیے بھی اس کا عام رواج تھا اور حکومتیں بھی اپنی ریاستی اغراض کے لیے قرض لیتی تھیں، تاریخ سے بالکل ثابت ہے اور یہ دعویٰ کرنے کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے کہ پرانی دنیا میں قرض کا لین دین صرف شخصی حاجتوں کے لیے ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ قرض پر اصل سے زائد ایک طے شدہ مقدارِ مال لینے کا طریقہ، شخصی اور کاروباری معاملات کے درمیان کسی قسم کا امتیاز کیے بغیر ہر قسم کے قرضوں کی صورت میں رائج تھا۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۴۶ء) کے مضمون (banks) میں بیان کیا گیا ہے کہ بابل اور مصر کے مندر صرف عبادت گاہ ہی نہ تھے بلکہ بینک بھی تھے۔ بابل کے آثار قدیمہ میں جو گِلی تختیاں (clay tablets) ملی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ زمیندار فصل سے پہلے اپنی زرعی ضروریات کے لیے مندروں سے قرضے لیتے تھے اور فصل کاٹنے کے بعد مع سود یہ قرض ادا کرتے تھے۔ یہ ساہو کاری نظام دو ہزار برس قبل مسیح میں پایا جاتا تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں پرائیویٹ بینک بھی بابل میں کام کرتے پائے جاتے ہیں۔ ۵۷۵ ق م میں بابل کے (Igibi bank) کا وجود ملتا ہے جو زمینداروں کو زرعی اغراض کے لیے قرض دیتا تھا۔ نیز یہ بینک لوگوں کے ڈیپازٹ اپنے پاس رکھ کر ان پر سود ادا بھی کرتا تھا۔ یاد رہے کہ یہ وہی زمانہ تھا جب شمالی حجاز کا شہر تیما بابل کی سلطنت کا گرمائی دارالسلطنت تھا۔

ول ڈورانٹ اپنی کتاب (A story of civilization)[Will durant, Arial Durant, the story of civilization united states, Simon and schuster] (Vol:1-11)]میں بابل کے متعلق لکھتا ہے:

’’ملک میں ازروئے قانون ۲۰ فیصدی نقد روپے کے قرضوں پر اور ۳۳ فیصدی سالانہ اجناس کی صورت میں قرضوں پر سود مقرر تھا۔ بعض طاقتور خاندان نسلاً بعد نسلٍ ساہوکاری کا کام کرتے اور صنعت پیشہ لوگوں کو سود پر قرضے دیتے تھے۔ ان کے علاوہ مندروں کے پروہت فصلوں کی تیاری کے لیے زمینداروں کو قرض دیا کرتے تھے۔‘‘

اس سلسلے میں آگے چل کر یہی مصنف لکھتا ہے:۔

ایک وبا کی طرح پھیلی ہوئی سود خواری وہ قیمت تھی جو ہماری صنعت کی طرح بابل کی صنعت بھی ایک پیچیدہ نظام قرض کے ذریعے سے سیراب ہونے کے بدلے میں ادا کر رہی تھی۔ بابل کا تمدن اصلاً ایک تجارتی تمدن تھا۔ جتنی دستاویزیں بھی اس کے آثار سے اس زمانے میں برآمد ہوئی ہیں وہ زیادہ تر کاروباری نوعیت کی ہیں۔ فروخت، قرضے، ٹھیکے، شراکت، دلالی، مبادلے، اقرار نامے، تمسکات اور اسی طرح کے دوسرے امور۔ [جلد اوّل ص ۲۹۔۲۲۸]

سیریا کی حالت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں سینا کریب کے زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے ول ڈورانٹ لکھتا ہے:۔

’’صنعت اور تجارت کو ایک حد تک نجی کاروبار کرنے والے ساہو کار سرمایہ فراہم کرکے دیتے اور ان قرضوں پر ۲۵ فیصدی سالانہ سود وصول کرتے تھے۔[جلد اول ص ۶۳،۲۶۲]

یونان کے متعلق انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مضمون (banks) میں بیان کیا گیا ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح سے وہاں بینک کاری کے باقاعدہ نظام کا ثبوت ملتا ہے۔ اس نظام میں ایک قسم کے بینک وہ تھے جو لوگوں کے مال بطور امانت اپنے پاس رکھتے تھے اور اس پر سود دیتے تھے۔

ول ڈورانٹ لکھتا ہے کہ پانچویں صدی قبل مسیح ڈلفی کا اپالو مندر تمام یونانی دنیا کا بین الاقوامی بینک تھا۔ اس سے اشخاص کو بھی اور ریاستوں کو بھی معتدل شرح سود پر قرضے حاصل ہوتے تھے۔ اسی طرح پرائیویٹ صراف ۱۲ سے ۳۰ فیصدی تک شرح سود پر تاجروں کو قرضے دیتے تھے۔ یونانیوں نے یہ طریقے مشرقِ قریب (بابل و مصر اور شام) سے سیکھے اور بعد میں رُوم نے ان طریقوں کو یونان سے سیکھا۔ پانچویں صدی کے آخر میں بعض بڑے بڑے پرائیویٹ بینک یونان میں قائم ہو چکے تھے۔ انھی کے ذریعے سے ایتھنز کی تجارت پھیلنی شروع ہوئی۔[ جلد اول ص ۶۳،۲۶۲] اس کے بعد روم کا دور آتا ہے۔ ول ڈورانٹ لکھتا ہے کہ:

دوسری صدی قبل مسیح میں روم کی بینک کاری پورے عروج پر تھی۔ ساہو کار لوگوں کے ڈیپازٹ رکھتے تھے اور ان پر سود ادا کرتے تھے۔ قرض لیتے بھی تھے اور دیتے بھی تھے۔ کاروبار میں اپنا روپیہ بھی لگاتے تھے اور دوسروں کا بھی لگواتے تھے۔[ جلد سوم۔ ص ۸۸] پہلی صدی عیسوی میں رومی سلطنت کے ہر حصے میں بینک قائم ہو چکے تھے۔ بینک کاری کے دوسرے کاموں کے ساتھ یہ لوگوں کے ڈیپازٹ رکھ کر سود دیتے اور آگے روپیہ قرض دے کر سود وصول کرتے تھے۔ یہ کاروبار زیادہ تر یونانیوں اور شامیوں کے ہاتھ میں تھا۔ گال (gall) میں تو شامی اور ساہوکار، دونوں ہم معنی لفظ ہوگئے تھے۔ اس زمانے میں سرکاری خزانہ بھی زمینداروں کو فصل کی کفالت پر سودی قرضے دیتا تھا۔ آگسٹس کے زمانے میں شرح سود ۴ فیصدی تک گر گئی تھی۔ اس کے مرنے کے بعد شرح ۶ فیصدی تک اور قسطنطین کے زمانے میں ۱۲ فیصدی تک چڑھ گئی۔[ جلد سوم ۔ ص ۳۶،۲۳۱]

اس پہلی صدی عیسوی کے متعلق بیرن (baron) اپنی کتاب (a religious and social history of the jews) میں بیان کرتا ہے کہ اسکندریہ کے یہودی بینکرز الیگزینڈر اور ڈیمسٹریوس نے یہودیہ کے بادشاہ اگریپا اوّل کو دو لاکھ درہم (تقریباً ۳۰ ہزار ڈالر) قرض دیئے تھے۔[جلد اوّل، ص ۲۶۱ ] Solow Baran , A social and Religious History of the Jews, New york, Columbia University

نبیؐ سے بالکل قریب کے زمانے میں قیصر روم جسٹینین نے (جس کی وفات آنحضرتﷺ کی پیدائش سے صرف پانچ برس قبل ہوئی تھی) تمام بیزنطینی سلطنت میں ازروئے قانون زمینداروں اور کاشت کاروں کے قرضوں پر چار فیصدی، شخصی قرضوں پر چھ فیصدی، تجارتی اور صنعتی قرضوں پر آٹھ فیصدی اور بحری تجارت کے قرضوں پر بارہ فیصدی شرح سود مقرر کی تھی۔ یہ قانون جسٹینین کے بعد بھی ایک مدت تک بیز نطینی سلطنت میں رائج رہا۔[دل ڈورانٹ، جلد چہارم، ص ۱۲۰، ۴۳۶۔ گبن ، زوال، سقوطِ دولت روم، ج ۲۔ ص ۷۱۶] یہ بات فراموش نہ کرنی چاہیے کہ جس بیزطینی سلطنت میں سود کا یہ قانون رائج تھا اس کی سرحدیں شمالی حجاز سے ملی ہوئی تھیں۔ شام، فلسطین اور مصر کے تمام علاقے اس کے زیر نگین تھے۔ قریش کے تاجر ان علاقوں کی منڈیوں میں پیہم آمدورفت رکھتے تھے۔ اور خود نبیؐ بچپن سے آغازِ نبوت تک مسلسل تجارتی قافلوں کے ساتھ ان منڈیوں میں جاتے رہتے تھے۔ آخر یہ بات کیسے فرض کی جا سکتی ہے کہ قریش کے ان تاجروں کو اور خود آنحضرتﷺ کو ان بازاروں میں کاروبار کرتے ہوئے کبھی یہ پتہ نہ چلا کہ بیز نطینی سلطنت میں تجارت، صنعت اور زراعت کی اغراض کے لیے بھی قرض کے لین دین کا رواج ہے اور اس پر ازروئے قانون سود کی شرحیں مقرر ہیں۔[ حجاز سے قریش کے جو قافلے تجارت کے لیے فلسطین و شام جاتے تھے ان کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر ابوسفیان کی قیادت میں جو قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا تھا اس میں ڈھائی ہزار اونٹ تھے۔ ظاہر ہے کہ اتنے بڑے قافلے کو لے کر جو لوگ گئے ہوں گے ان کی تعداد دو ڈھائی ہزار سے کیا کم ہوگی۔ اب کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ جہاں اتنی بڑی تعداد میں ایک شہر کے تاجر کسی دوسرے ملک کو جاتے ہوں، وہاں کے باشندے اس بات سے بالکل بے خبر رہتے تھے کہ اس دوسرے ملک میں مالی معاملات کے کیا طریقے رائج ہیں۔]

عین زمانۂ نبوت میں روم اور ایران کے درمیان وہ زبردست لڑائی ہو رہی تھی جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ روم میں کیا گیا ہے۔ اس لڑائی میں جب ہر قل نے خسرو پرویز کے مقابلے پرہجومی جنگ کا آغاز کیا، اس وقت اپنی جنگی ضروریات کے لیے اسے کلیساؤں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض لینی پڑی تھی۔[(Cambridge Economic History of Europe Cambridge University Press, Vol-2 Page-90) (Gibbon Decline and Fall of the Roman Empire, Vol-2 Page-791)]اب کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ جس عظیم الشان لڑائی نے عراق سے مصر تک عرب کے سارے بالائی حصے کو تہ و بالا کرکے رکھ دیا تھا، جس میں ایران کی زبردست فتوحات کے ہر طرف چرچے ہو رہے تھے، اور جس میں سلطنت روم کے گرتے ہوئے قصر کو بچانے کے بعد اب قیصر نے یکایک خسرو کے مقابلے پر وہ حیرت انگیز پیش قدمی کی تھی جو ساسانی دارالسلطنت، مدائن کی تباہی پر جا کر ختم ہوئی، اس لڑائی کا یہ واقعہ عرب کے لوگوں سے بالکل پوشیدہ رہ گیا ہوگا کہ قیصر نے اپنی اس پیش قدمی کے لیے سرمایہ کلیساؤں سے سود پر حاصل کیا ہے؟ مجوسیوں سے عیسائیت کو بچانے اور بیت المقدس ہی کو نہیں مقدس صلیب کو بھی مشرکین کے قبضے سے نکالنے کے لیے جنگ کی جائے اور کلیسا کے پادری اس کارِ خیر کے لیے سود پر قرض دیں، یہ عجیب و غریب واقعہ آخر ان لوگوں کے علم میں آنے سے کیسے بچ سکتا تھا جن کی نگاہیں دنیا کی ان دو عظیم ترین سلطنتوں کی جنگ کے نتیجے پر لگی ہوئی تھیں؟ خصوصاً قریش اس سے کیسے ناواقف ہو سکتے تھے جب کہ سورۂ روم کے نازل ہونے پر اسی جنگ روم و ایران کے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ اور سردارانِ قریش کے درمیان باقاعدہ شرط لگ چکی تھی؟

یہاں تک جو کچھ میں نے عرض کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہل عرب کے نہایت قریبی تعلقات مشرق اوسط کی معاشی و تمدنی اور سیاسی زندگی کے ساتھ قدیم ترین زمانے سے وابستہ رہے ہیں اور اس خطہ زمین میں ڈھائی ہزار سال سے تجارتی، صنعتی، زراعتی اور ریاستی اغراض کے لیے قرض کے لین دین اور اس پر سود وصول کرنے کا رواج رہا ہے، اور اہل عرب کا اس رواجِ عام سے بے خبر اور غیر متاثر رہنا قطعاً قابل تصور نہیں ہے۔

عہد نبوت میں عربوں کے مالی معاملات

اب خود عرب کے مالی معاملات کو دیکھیے جو نبیؐ کے عہد میں تھے۔ میں پہلے یہ بتا چکا ہوں کہ عرب کی ضروریات کے لیے غلہ اور شراب زیادہ تر یہودی درآمد کرتے تھے اور باقی دوسرا سامان زیادہ تر مکہ اور طائف کے تاجر بیرونی علاقوں سے لاتے تھے۔ میں یہ بھی عرض کر چکا ہوں کہ قریش اور ثقیف اور یہود کا سارا کاروبار تھوک فروشی کی حد تک تھا۔ اندرونِ ملک میں خردہ فروشی دوسرے لوگ کرتے تھے اور وہ ان تھوک فروشوں سے مال خرید کر لے جایا کرتے تھے۔ میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ تھوک فروشوں اور خردہ فروشوں کے درمیان بالکل نقد انقد کی شرط پر کاروبار دنیا میں کبھی نہیں ر ہا ہے۔ اور عرب میں بھی نہیں تھا۔ اس کے بعد ذرا ان روایات کو ملاحظہ فرمایئے جو آیت ربوٰ کی تفسیر میں عہد رسالت سے قریب زمانے کے مفسرین سے منقول ہوئی ہیں۔ <<ضحاکؓ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا >>کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

<<کَانَ رِبًا یَتَبَایَعُوْنَ بِہٖ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ >>۔[جامع البیان فی تأویل القرآن، تفسیر سورہ البقرہ2:279]

یہ وہ سود تھا جس کے ساتھ جاہلیت میں لوگ خریدوفروخت کرتے تھے۔

قتادہؓ کہتے ہیں:

<<اِنَّ رِبَا اَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبِیْعُ الرَّجُلُ یَبِیْعُ الرَّجُلُ الْبَیْعَ اِلٰی اُجَلٍ مُسَمّٰی فَاِذَا حَلَّ الْاُجَلَ وَلَمْ یَکُنْ عِنْدَ صَاحِبِہٖ قَضَاء زَادَہٗ وَاَخَّرَ عَنْہُ >>۔[ایضاً، تفسیر سورۃ البقرہ2:275]

اہل جاہلیت کا ربا یہ تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کے ہاتھ مال فروخت کرتا اور قیمت ادا کرنے کے لیے ایک مدت طے ہو جاتی۔ اب اگر وہ مدت پوری ہوگئی اور خریدار کے پاس اتنا مال نہ ہوا کہ قیمت ادا کرے تو بیچنے والا اس پر زائد رقم عائد کر دیتا اور مہلت بڑھا دیتا۔ [ ان الفاظ سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ابتدائی مہلت جو قیمت کی ادائیگی کے لیے دی جاتی تھی اس پر کوئی سود نہیں لگایا جاتا تھا، البتہ جب اس مہلت کے خاتمے تک قیمت ادا نہ ہوتی تب مزید مہلت سود لگا کر دی جاتی تھی۔ اس طرح کی رعایت سود خوار معاشرے کے عموماً بڑے تاجر چھوٹے تاجروں کو اپنا مستقل گاہک بنا کر رکھنے کے لیے دیا کرتے ہیں۔ فاقہ کش خریداروں کو ایسی رعایت کہیں بھی نہیں دی جاتی۔( کتاب اللقطہ، کتاب الاستیذان اور کتاب البیوع (باب التجارۃ فی البحر، السنائی، الکبریٰ، کتاب اللقطۃ، باب النھی عن لقطۃ الحاج)]

سدیؒ کہتے ہیں:

<<نَزَلَتْ ہٰذِہ الآیۃ فی العباس بن عبدالمطلب و رجل من بنی المغیرۃ کانا شریکین فی الجاہلیۃ یسلفان فی الربا الی اناس من ثقیف من بنی عمرو فجاء الاسلام ولہما اموالٌ عظیمۃٌ فی الربا۔>>[جامع البیان تا ٔویل القرآن، سورۃ البقرہ:278، رقم: 6258]

آیت وذروا ما بقی من الربا عباس بن عبدالمطلب اور بنی المغیرہ کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ دونوں جاہلیت کے زمانے میں شریک تھے اور انھوں نے ثقیف کے بنی عمرو میں لوگوں کو سودی قرض پر مال دے رکھے تھے۔ جب اسلام آیا تو ان دونوں کا بڑا سرمایہ سود میں لگا ہوا تھا۔

یہ سب روایات خردہ فروشوں کے ہاتھ ادھار پر مال فروخت کرنے اور اس پر سود لگانے کی خبر دیتی ہیں اور یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس تجارتی سود کے لیے بھی الربا کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی، کوئی دوسرا لفظ ایسا نہ تھا جو تجارتی قرضوں کے لیے مستعمل ہو اور الریا صرف ان قرضوں کے سود پر بولا جاتا ہو جو خالص شخصی حاجات کے لیے حاصل کیے جاتے تھے۔

پھر بخاری میں سات مقامات پر اور نسائی میں ایک مقام پر صحیح سندوں کے ساتھ یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ نبی ؐ نے بیان فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے تجارت کے لیے ایک ہزار دینار قرض لیے[اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ روایت میں ’’تجارت کے لیے‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں‘ لیکن یہ اعتراض کئی وجوہ سے غلط ہوگا۔ اوّل یہ کہ روایت میں قرض کے لیے اسلف یسلف کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جو قریب قریب روپیہ ’’ایڈوانس‘‘ کرنے کا ہم معنی ہے اور زیادہ تر تجارتی معاملات کے بارے میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ پھر قرض بھی اس نے ایک ہزار دینار (تقریباً دس ہزار روپیہ) لیا۔ ظاہر ہے کہ اتنی بڑی رقم فاقہ کشی دور کرنے یا بے گوروکفن مردہ دفن کرنے کے لیے تو نہ لی گئی ہوگی۔ مزید برآں وہ یہ رقم لے کر بحری سفر پر روانہ ہوا اور وہاں اس نے اتنا روپیہ کمایا کہ ایک ہزار دینار تو اس نے لکڑی کے لٹھے میں رکھ کر قرض خواہ کو بھیجے اور پھر مزید ایک ہزار دینار لے کر خود اس کے پاس پہنچا۔ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ عیاشی کے لیے نہیں بلکہ تجارت کے لیے روپیہ لے کر گیا تھا؟] اور کہا کہ میرے اور تیرے درمیان اللہ گواہ اور اللہ ہی کفیل ہے۔ پھر وہ بحری سفر پر چلا گیا۔ وہاں جب وہ اپنے کاروبار سے فارغ ہوا تو واپسی کے لیے اسے کوئی جہاز نہ ملا اور وہ مدت پوری ہوگئی جس کی قرارداد کرکے اس نے قرض لیا تھا۔ آخر اس نے یہ کیا کہ ایک لکڑی کے اندر سوراخ کرکے ایک ہزار دینار اس میں رکھ دیے اور قرض خواہ کے نام ایک خط بھی لکھ کر ساتھ رکھا اور سوراخ بند کرکے لکڑی سمندر میں چھوڑ دی اور اللہ سے دعا کی کہ میں نے تجھی کو گواہ اور کفیل بنا کر یہ رقم اس شخص سے قرض لی تھی۔ اب تو ہی اسے اس تک پہنچا دے۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ قرض خواہ ایک روز اپنے ملک میں سمندر کے کنارے کھڑا تھا، یکایک لکڑی کا ایک لٹھا اس کے سامنے آ کر رُکا۔ اس نے لکڑی کو اٹھا کر دیکھا تو قرض دار کا خط بھی اسے ملا اور ایک ہزار دینار بھی مل گئے۔ بعد میں جب یہ شخص اپنے وطن واپس پہنچا تو ایک ہزار دینار لے کر اپنا قرض ادا کرنے کے لیے دائن کے پاس گیا۔ مگر اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ مجھے میری رقم مل گئی ہے۔[ صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، باب مایستخرج من البحر، کتاب الشروط، کتاب الاستقراض، کتاب الکفالہ]

یہ روایت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ تجارت کے لیے قرض لینے کا تخیل اس وقت عربوں میں غیر معروف نہ تھا۔

ابن ماجہ اور نسائی میں روایت ہے کہ نبیؐ نے جنگ حنین کے موقع پر عبداللہ بن ربیعہ مخزومی سے ۳۰ یا ۴۰ ہزار درہم قرض لیے تھے اور جنگ سے واپسی پر یہ قرض آپؐ نے ادا فرمایا۔[سنن ابن ماجہ، کتاب الا ٔحکام، باب حسن القضائ، حدیث:2415، سنن النسائی، البیوع، باب الاستقراض، حدیث:4604] یہ ریاستی اغراض کے لیے قرض کی صریح مثال ہے۔

ایک دوست نے دو اور واقعات کی طرف بھی مجھے توجہ دلائی ہے جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ پہلا واقعہ ہندؓ بنت عتبہ کا ہے کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیت المال کا چار ہزار روپیہ (غالباً درہم) تجارت کے لیے قرض حاصل کیا تھا۔[موطا ٔ ،کتاب القراض وباب ماجائ فی القراض، حدیث: 1195]

دوسرا واقعہ بھی حضرت عمرؓ ہی کے عہد کا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری (بصرہ کے گورنر) نے بیت المال کا روپیہ حضرت عمرؓ کے دوصاحبزادوں عبداللہ اور عبید اللہ کو تجارت کے لیے قرض دیا۔ مگر بعد میں حضرت عمرؓ نے اس قرض کو قابل اعتراض قرار دے کر اصل کے علاوہ پورے منافع کا بھی صاحبزادوں سے مطالبہ کیا، اور آخر کار لوگوں کے مشورے سے اس کو قرض کے بجائے قراض (مضاربت) قرار دے کر آدھا منافع وصول کیا۔[ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، واقعات23ھ، ذکر بعض سیریۃؓ]

یہ دونوں مثالیں زمانۂ جاہلیت سے بہت قریب کے دور کی ہیں۔ عرب میں ۹ھ تک سودی کاروبار چلتا رہا۔ یہ واقعات اس کی آخری بندش سے صرف دس بارہ سال بعد کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنی قلیل مدت میں تصورات نہیں بدل جاتے ہیں۔ اس لیے ان واقعات سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ قرض پر سرمایہ لے کر تجارت کرنے کا تصور عہد جاہلیت میں بھی موجود تھا۔[اس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہیں، دوسرے بہت سے تخیلات ایسے ہیں جو اسلام کی آمد کے بعد پیدا ہوئے اور جاہلیت میں موجود نہ تھے، انھی کی طرح یہ نیا تخیل بھی اسلام کے بعد کی پیداوار ہے‘ لیکن اگر کوئی ایسا کہے تو ہم اس سے کہیں گے کہ بہت اچھا، یہ زمانہ اسلام ہی کی پیداوار سہی مگر اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ قرض پر سرمایہ لے کر تجارت میں لگانے کا طریقہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں شروع ہو چکا تھا، اور اس کے بعد جیسا کہ ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں، امام ابوحنیفہؒ کے زمانہ تک نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ تنہا امام صاحب کی اپنی تجارت میں پانچ کروڑ روپے کا سرمایہ قرض لگا ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین اور آئمہ مجتہدین میں سے کسی کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ قرآن کا منشا تو صرف شخصی حاجات کے قرض میں سود کو حرام کرنا تھا، نفع آور قرضوں پر سود حرام نہیں ہے؟]

رہی یہ بات کہ اسلامی عہد کے مورخین اور محدثین و مفسرین نے شخصی حاجات اور تجارتی و کاروباری قرضوں کا واضح طور پر الگ الگ کیوں ذکر نہ کیا، تو اس کا ظاہر سبب یہ ہے کہ ان کے ہاں قرض‘ خواہ جس غرض کے لیے بھی ہو قرض ہی سمجھا جاتا تھا اور اس پر سود کی حیثیت بھی ان کی نگاہ میں یکساں تھی۔ انھوں نے نہ اس تصریح کی کوئی خاص ضرورت محسوس کی کہ بھوکے مرتے ہوئے لوگ پیٹ بھرنے کے لیے قرض لیتے تھے اور نہ خاص طور پر اسی بات کو تفصیل سے بیان کرنا ضروری سمجھا کہ کاروبار کے لیے لوگ قرض لیا کرتے تھے۔

ان امور کی تفصیلات خال خال ہی کہیں ملتی ہیں جن سے صحیح صورتِ حال سمجھنے کے لیے عرب کے حالات کو اس وقت کی دنیا کے مجموعی حالات میں رکھ کر دیکھنا ناگزیر ہے۔ مختلف قرضوں کے درمیان ان کی اغراض کے لحاظ سے فرق و امتیاز کرکے ایک مقصد کے قرض پر سود کو جائز اور دوسرے مقصد کے قرض پر اس کو ناجائز ٹھیرانے کا تخیل غالباً چودھویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا میں نہ پایا جاتا تھا۔[(Henry Pirenne, Economic and Social History of Medieval Europe) (English translation IV Edition, Butler, London, 1949 Page-140)] اس وقت تک یہودیت ، مسیحیت اور اسلام کے تمام اہل دین اور اسی طرح اخلاقیات کے ائمہ بھی اس بات پر متفق تھے کہ ہر قسم کے قرضوں پر سود ناجائز ہے۔

ایک بات یہ بھی کہی جا تی ہے کہ زمانہ قبل اسلام میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ لوگ قرض کے سرمائے سے تجارت کر سکیں، کیونکہ ملک میں کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی، ہر طرف بدامنی پھیلی ہوئی تھی، تجارتی قافلوں کو بہت بھاری ٹیکس دے دے کر مختلف قبائل کے علاقوں سے گزرنا پڑتا تھا اور ان پر خطر حالات کی وجہ سے شرح سود تین چار سو فیصدی تک پہنچی ہوئی تھی جس پر قرض لے کر کاروبار میں لگانا کسی طرح نفع بخش نہ ہو سکتا تھا‘ لیکن یہ قیاس آرائی اصل تاریخی حالات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ محض ایک مفروضہ ہے جو تاریخ سے بے نیاز ہو کر صرف اس گمان پر قائم کر لیا گیا ہے کہ عرب میں جب کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی اور عام بدامنی پھیلی ہوئی تھی تو ضرور اس کے نتائج یہی ہوں گے۔ حالانکہ تاریخی واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اسلام سے قریب عہد میں ایران و روم کی پیہم لڑائیوں اور سیاسی کش مکش کی بدولت چین، انڈونیشیا، ہندوستان اور مشرقی افریقہ کے ساتھ رومی دنیا کے جتنے بھی تجارتی تعلقات تھے ان کا واسطہ مکہ کے عرب تاجر ہی تھے۔ خصوصاً یمن پر ایران کا قبضہ ہو جانے کے بعد تو رومیوں کے لیے مشرقی تجارت کے سارے راستے بند ہو چکے تھے۔ ان حالات میں مشرق کا سارا مالِ تجارت خلیج فارس اور بحر عرب کی عربی بندرگاہوں پر اترتا اور وہاں سے مکہ پہنچ کر رومی دنیا میں جاتا تھا۔ اور اسی طرح رومی دنیا کے سارے اموالِ تجارت قریش ہی کے قافلے مکہ لاتے اور پھر ان بندرگاہوں تک پہنچاتے تھے جن پر مشرق کے تاجر آیا کرتے تھے۔ اولیاری لکھتا ہے کہ اس زمانے میں ’’مکہ‘‘ بینک کاری کا مرکز بن گیا تھا جہاں دور دراز علاقوں کے لیے ادائیگیاں کی جا سکتی تھیں اور وہ بین الاقوامی تجارت کا گھربنا ہوا تھا۔

(Mecca had become a banking centre where payments could be made to many distant lands and clearing house of International Commerce) [(Arabia before Mohammad, Page-182)]

یہ چمکتی ہوئی تجارت آخر کیسے چل سکتی تھی اگر حالات وہ ہوتے جو فرض کر لیے گئے ہیں۔ معاشی قوانین کی سرسری واقفیت بھی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ جہاں بدامنی کی وجہ سے کاروبار اس قدر کثیر المصارف اور پر خطر ہو کہ تجارتی سود کی شرح تین چار سو فیصدی تک پہنچ جائے۔ وہاں لازماً مال تجارت کی لاگت (cost price) بھی اس حد تک بڑھ جانی چاہیے کہ بیرونی منڈیوں میں لے جا کر انھیں منافع کے ساتھ فروخت کرنا غیر ممکن ہو جائے۔ آخر اتنی چڑھی ہوئی قیمتوں پر یہ مال مصر و شام کے بازاروں میں کیسے بک جاتا تھا؟ دراصل عرب میں اس ساری بدامنی و بدنظمی کے باوجود جس کا ذکر کیا جاتا ہے، بڑے پیمانے کی تجارت وہ قبیلے کرتے تھے جو بجائے خود طاقت ور ہوتے تھے، بڑے بڑے قبیلوں سے جنھوں نے حلیفانہ معاہدات بھی کر رکھے تھے، سود پر لاکھوں روپے کا مال قبیلوں میں پھیلا کر بھی جنھوں نے بکثرت لوگوں کو اپنے کاروبار کی گرفت میں لے لیا تھا، اور سردارانِ قبائل کو ہر طرح کے سامانِ تعیش بہم پہنچا کر بھی جنھوں نے اپنے وسیع اثرات قائم کر لیے تھے۔

اس کے علاوہ خود قبائل کا اپنا مفاد بھی اس کا متقاضی تھا کہ ان کہ وہ ناگزیر ضروریاتِ زندگی، غلہ، کپڑا وغیرہ بہم پہنچائیں جو باہر سے درآمد ہوتی تھیں۔ اس وجہ سے ان طاقت ور قبیلوں کو بڑے بڑے تجارتی قافلے لے کر، جن میں بسا اوقات ڈھائی ڈھائی ہزار اونٹ ہوتے تھے، عرب کے راستوں سے گزرنے کے لیے اس قدر بھاری ٹیکس نہیں دینے پڑتے تھے اور نہ خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے اس قدر خطیر مصارف اٹھانے پڑتے تھے کہ اموالِ تجارت کی قیمتیں ناقابل فروخت حد تک چڑھ جائیں بیرونی تجارت کے علاوہ خود عرب کے مختلف حصوں میں سال کے سال تقریباً ۲۰ مرکزی مقامات پر باقاعدہ ہاٹ (سوق) لگتے تھے جن کا ذکر ہمیں تاریخوں میں ملتا ہے۔ ان ہاٹوں میں عرب کے ہر ہر حصے سے قافلے آ کر خریدوفروخت کرتے اور ان میں سے بعض میں روم و ایران اور چین و ہندوستان تک کے تاجر آیا کرتے تھے۔ یہ پیہم تجارتی نقل و حرکت کیسے جاری رہ سکتی تھی اگر عرب کے حالات اتنے ہی خراب ہوتے جتنے فرض کر لیے گئے ہیں۔ مورخین نے قریش کے تجارتی کاروبار کے متعلق یہ تصریح کی ہے کہ وہ سو فیصدی منافع کمایا کرتے تھے۔ ایسے منافع کے کاروبار کے لیے سودی قرض پر سرمایہ نہ مل سکنا اور شرح سود تین چار سو فیصدی تک ہونا قطعاً خارج از فہم ہے اور اس دعوے کے لیے کوئی تاریخی سند موجود نہیں ہے کہ عرب میں شرح سود اس قدر چڑھی ہوئی تھی۔