مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سود

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۶۰ء تک مختلف اوقات میں سود کے موضوع پر لکھے گئے مضامین کا ایک جامع اور مبسوط مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے "سود" کے نام سے شائع ہونے والی دو جلدوں کے غیر مرتب مواد کو مصنف نے از سرِ نو ترتیب دے کر اس کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔

کتاب میں سب سے پہلے سرمایہ داری، اشتراکیت اور اسلام کے تینوں معاشی نظاموں کا اصولی فرق بیان کیا گیا ہے، پھر اسلامی نظامِ معیشت کے ارکان، سود کی مختلف عقلی توجیہات کا رد، سود کے اخلاقی، تمدنی اور معاشی نقصانات، جدید بینکاری کی تاریخ، اور رِبا سے متعلق تفصیلی فقہی احکام (رِبا الفضل، علتِ تحریم، فقہا کے اختلافات) پر مبسوط بحث کی گئی ہے۔ آخر میں تجدیدِ قانون کی شرائط، غیر سودی مالیات کی متبادل صورتیں اور اسلامی بینکاری کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، نیز ضمیموں میں سید یعقوب شاہ اور مولانا مناظر احسن گیلانی کے ساتھ ہونے والی علمی مراسلت بھی شامل ہے جس میں دارالحرب میں سود کی حیثیت جیسے پیچیدہ مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: سود

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"سود" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ سب سے زیادہ اثر انگیز کام ہے جو بعد میں "اسلامی معاشیات" کے میدان کی بنیاد بنا۔ یہ بلا استثنا یہ دلیل دیتی ہے کہ سود، کسی بھی تجارتی یا بینکاری شکل میں، اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، اور محض دعویٰ کرنے کی بجائے ایک متبادل معاشی فریم ورک تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

کتاب سب سے پہلے اسلام کے معاشی اصولوں کو سرمایہ داری اور اشتراکیت سے ممیز کرتی ہے، اسلامی نظامِ معیشت کے "ارکان" بیان کرتی ہے، پھر حرمتِ سود کی طرف رجوع کرتی ہے — سود کی تعریف، اسے حقیقی شراکت داری (مضاربت/مشارکت) کے جائز منافع سے ممیز کرتے ہوئے، اور اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ تین ضمیمے دلیل کو آگے بڑھاتے ہیں: پہلے دو تجارتی قرضوں سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں؛ تیسرا مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا وہ مضمون شامل کرتا ہے جس میں دارالحرب میں سود کے جواز کی دلیل دی گئی ہے، جس کے فوراً بعد مولانا مودودی کی اپنی تنقید شامل ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ کتاب عالمی اسلامی بینکاری کی صنعت کے براہِ راست فکری اسلاف میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو دو باتیں نوٹ کرنی چاہئیں: پہلی، گیلانی-مودودی مکالمہ ایک زندہ، غیر حل شدہ فقہی بحث ظاہر کرتا ہے؛ دوسری، حقیقی "اسلامی بینکاری" کے عملی تجربے کو خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات عملاً سود ہی کو دہراتی ہیں۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. سود کی تعریف: مولانا مودودی حرام سود کو حقیقی شراکت داری کے جائز منافع سے کیسے ممیز کرتے ہیں؟ کیا یہ لکیر عمل میں اتنی واضح ہے؟
  2. گیلانی-مودودی مباحثہ: دارالحرب میں سود کے جواز کے لیے گیلانیؒ کی دلیل کیا ہے، اور مولانا مودودی اسے کیوں رد کرتے ہیں؟
  3. ضرورت کی دلیل: کتاب اس دعوے کا جواب دیتی ہے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ یہ جواب کتنا مطمئن کن ہے؟
  4. نظریے سے ادارے تک: کیا جدید مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات کتاب کے تصور کو پورا کرتی ہیں، یا ناقدین درست ہیں کہ وہ سود ہی کو دہراتی ہیں؟
  5. سرمایہ داری و اشتراکیت پر تنقید: اس کتاب کا موقف "معاشیاتِ اسلام" میں کیسے آگے بڑھایا گیا؟
  6. عملی اصلاح: کیا سود سے پاک معیشت کی طرف "مرحلہ وار" راستہ حقیقت پسندانہ ہے؟
  7. تاریخی اثر: اس کتاب نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ایک ریاست کے ایک عالم کے نظریے کو پابند قانون بنانے کے کیا خطرات ہیں؟
  8. معاصر معنویت: کیا عالمی "اسلامی مالیات" مولانا کے تصور کردہ نتائج تک پہنچی، یا ایک مختلف راستے پر چل نکلی؟

اسلامی حکومتوں اور ریاستوں کا حکم

مسئلہ ختم کرنے سے پہلے چند باتیں اور بھی قابل ذکر رہ جاتی ہیں، آخر ان کو کیوں چھوڑا جائے۔ جب اسلامی قوانین ہماری رہنمائی ودست گیری کے لیے ہر حال میں تیار ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن اسلامی ممالک میں شرعی قانون کسی نہ کسی وجہ سے اٹھ گیا ہے ان کا کیا حکم ہے؟ ہاں وہاں کے حکام دولاۃ سلاطین و ملوک تو مسلمان ہیں۔ شامی میں اس کا فتویٰ موجود ہے کہ اگر سلاطین اسلام ان ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی قوت رکھتے ہیں اور باوجود اس کے نفاذ نہیں کرتے، تو ایسا ملک دارالسلام ہی رہے گا۔ کہتے ہیں:

<< وَبِھٰذَا ظَھَرَأَنَّ مَا فِی الشَّامِ مِنْ جَبَلٍ تَیْمِ اللّٰہِ الْمُسمّٰیِ بِجَبَلِ الدَّرُ وزِ بَعْضُ الْبِلاَدِ التَّابِعَۃِ کُلُّھَا دَارُالإِسْلامِ لاِّنَّھَا وَإِنْ کَانَتْ لَھَا حُکَّامٌ نَصَارَیٰ وَلَھُمْ قُضَاۃٌ عَلٰی دِیْنِھِمْ وَبَعْضُھُمْ یُعْلِنُونَ بِشَتْمِ اِلْاِسْلاَمِ وَالْمُسْلِمِیْنَ لٰکِنَّھُمْ تَحْتَ حُکْمُ وُلَاۃ أُمُوْرِنَا وَبِلَادُ الْاِسْلَامِ مُحِیْطٌہٌ بِبِلَادِھِمْ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ وَإِذَا أَرَادَ أُولِی الْأَمْرِ تَنْفِیْذُ أَحْکَامِنَا فَیْھِمْ نَقَّذَھَا >>۔[ رد المختار، کتاب الجھاد، باب المستا ٔمن، مطلب فیما تصبریہ دارالاسلام دارحرب وبالعلس]

اور اس سے معلوم ہوا کہ شام کا علاقہ کوہ تیم اللہ جس کا عام نام جبل دروز ہے اور دوسرے شہر جو اس کے تابع ہیں سب دارالاسلام ہیں کیونکہ اگرچہ وہاں دروزیوں کا یا عیسائیوں کا قانون ہے اور ان کے جج و حکام ان ہی کے مذہب کے ہیں اور ان میں بعض علانیہ مسلمانوں کو اور اسلام کو گالیاں دیتے ہیں لیکن چونکہ اسلامی حکومت کے ماتحت ہیں اور اسلامی ممالک ان کو چاروں طرف سے محیط ہیں اور مسلمانوں کا امیر اگر چاہے تو ان میں ہمارے (یعنی اسلامی) احکام نافذ کر سکتا ہے۔

اس سے ظاہر ہے کہ جن ممالک میں مسلمان سلاطین یا ولاۃ اُمور باوجود ارادے کے اسلامی احکام کے نفاذ پر قادر نہ ہوں وہ دارالاسلام باقی نہیں رہ سکتے۔[مولانا کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی مسلمان ریاستیں بھی دارالحرب کی تعریف میں داخل ہیں اور ان کی غیر مسلم رعایا بھی ’’حربی‘‘ ہے جس کے اموال مباح ہیں اس اجتہاد کے لیے کم از کم فقہ حنفی میں تو کوئی گنجائش ہے نہیں۔ فقہا کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔ حواشی اور ردالمحتار للطحاوی میں ہے۔ لو اجریت احکام المسلمین و احکام الشرک لا تکون دارالحرب(ردالمختار، کتاب الجھاد، باب المستا ٔمن ) فتاویٰ بزازیہ میں ہے۔ فاذا وجدت الشرائط کلہا صارت دارالحرب و عند تعارض الدلائل و الشراط یبقی ما کان او یترجح جانب الاسلام احتیاطاً۔ خزانتہ المفتین میں ہے ان دارالاسلام لا تصیر دارالحرب متی لم یبطل جمیع ما صارت بہ دارالاسلام فما بقی علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام۔ ان تصریحات کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ حیدر آباد اور بھوپال اور جونا گڑھ وغیرہ ریاستیں دارالحرب ہوگئی ہیں اور ان کی غیر مسلم رعایا حربی ہے۔ مولانا جانتے ہوں گے کہ فقہ اسلامی میں دارالحرب دارالاباحتہ کا دوسرا نام ہے جہاں عارضی طور پر قانون اسلامی کی اکثر بندشیں ضرورۃً کھول دی جاتی ہیں۔ اگر ان عارضی اباحتوں کو استمراری حیثیت دے دی جائے تو مسلمان کا مسلمان رہنا غیر ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر لارڈولزلی کے سبسیڈیری الاینس میں شریک ہونے کے بعد سے علمائے اسلام حیدر آباد کو دارالحرب قرار دے کر دا رالاباحت بنا دیتے تو ۱۳۶ برس کے اندر اس ریاست کے مسلمان اس قدر مسخ ہو چکے ہوتے کہ آج ممالک اسلامیہ کا کوئی شخص ان کو پہچان بھی نہ سکتا کہ یہ مسلمان ہیں۔ (مودودی)]

<< وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ>>۔

باقی یہ مسئلہ کہ اس قسم کے غیر اسلامی ممالک میں جمعہ، عید وغیرہ کا نظم کس طرح ہوگا۔ شامی میں اس کے متعلق موجود ہے:

<< کُلُّ مِصْرٍ فِیْہَ وال مُسْلِمٌ مِنْ جِھَۃِ اُلکُفَّارِیُجُوز مِنْہٗ إِقَامَۃُ الْجُمَعِ وَالْأَعْیَادِوَ أَخْذُ الْخًراجِ وَ تَقْلِیْدُ الْقَضَائِ وَتَزوِیَجُ الْأَوِیجُ الْأَ الْأیَامٰی>>۔[رد المختار، کتاب الجہاد، باب المستا ٔمن، مطلب فیما تصیربہ دارالاسلام دارحرب و بالعکس]

ہر وہ شہر جہاں کا رئیس کفار کی منظوری سے ہو اس کی جانب سے جمعہ اور عید کا قیام کرنا جائز ہے اور اس ملک کا خراج لینا بھی نیز عدالت کے قضاۃ (حکام) کے تقرر کا بھی اسے اختیار ہے اور بیواؤں کی شادی بھی وہی کر دے۔

لیکن جس غیر اسلامی ملک میں غیر اسلامی حکومت کا کوئی تسلیم شدہ مسلمان رئیس نہ ہو تو اس کے متعلق یہ حکم ہے:

<< وَأَمَّا فِی بِلَادٍ عَلَیْھَا وَلاۃٌ کُفَّارٌ فَیَجْوزُ لِلمُسْلِمِیْنَ إِقَاَمَۃ اِلْجُمَع وَالْأَعْیَادِ و یَصِیْرُ الْقَاضِی قاضِیاً بِتَتَراضِی الْمُسْلِمِیْنَ وَیَجِبُ عَلَیْھِمْ طَلَبُ وَالٍ مُسْلِمٍ>.۔[رد المختار، کتاب الجہاد، باب المستا ٔمن، مطلب فیما تصیربہ دارالاسلام دارحرب و بالعکس]

لیکن ایک ایسا ملک جہاں کے ولاۃ کفار ہیں تو مسلمان کو یہ جائز ہے کہ اس شہر میں بھی خود جمعہ اور عیدین قائم کریں، قاضی مسلمان باہمی سمجھوتہ سے مقرر کر لیں، لیکن ان پر مسلمان رئیس کی تلاش واجب ہے۔

اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن مسائل میں مسلمانوں کو ’’قضائے شرعی‘‘ کی ضرورت پیش آتی ہے‘ ’’دین کامل‘‘ نے غیر اسلامی ممالک میں اس کا کیا چارہ کار بتایا ہے، اور غالباً اس تفصیل کے بعد عہد حاضر کے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کے احکام واضح ہوگئے۔

<< فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْخَاتِم الرُّسُلِ وَعلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔>>

(مولانا کے سابق مضمون کی اشاعت پر بعض اہل علم نے اعتراضات کیے تھے جن کے جواب میں مولانا نے یہ مضمون تحریر فرمایا تھا۔ )مرتب

(۱) مسئلے کی تعبیر میں ضرور مسامحت ہوئی ہے جس سے شدید غلط فہمی کا اندیشہ ارقام فرمایا گیا ہے کہ ’’غیر اسلامی حکومتوں کے ماتحت رِبا رِبا نہیں رہتا۔ الخ۔ اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ فقہ حنفی میں ہر شخص خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، اس کے ساتھ اس قسم کے معاملات جائز ہیں اور ان کے اموال غیر معصوم و مباح ہو جاتے ہیں حالانکہ مقصد یہ نہیں ہے بلکہ یہ حکم صرف ایسی غیر اسلامی اقوام مثلاً یہود و نصاریٰ مجوس و ہنود وغیرہ کے ساتھ مخصوص ہے جن کی ذمہ داری کسی اسلامی حکومت نے نہیں لی ہے‘‘ … میں نے اپنے دعوے کے ثبوت میں امام محمدؒ کی ’’سیر کبیر‘‘ کا مشہور فتویٰ نقل کیا ہے اسی سے غایت اطمینان کے لیے اس قانون کی یہ دفعہ بھی نقل کر دیتا ہوں:

<< وِلَوْ کَانَتْ ھٰذِہ الْمُعَامَلَۃُ بَیْنَ مُسْلِمِیْنَ مُسْتَامِنَیْنَ اُوْأَسِیْرَیْنِ فِی دَارِ الْحَرْبِ کَانَ بَاطِلاً مَرْدُودًا الأِنِھَّمَا یَلْتَزِمَانِ أحْکَامَ الْاِسْلَامِ فِی کُلَّ مَکَانٍ>>۔[السرخسی، شرح السیر الکبیر، ابواب سھمان الخیل و الرجالۃ فی الغنائم، باب مایحل فی دارالحرب ممالا یجوز مثلہ، رقم: 2909]

اور اگر یہ معاملہ دو مسلمانوں کے درمیان ہو جو دارالحرب (غیر اسلامی ملک) میں معاہدہ امن کرکے مقیم ہوں یا قیدی ہوں تو یہ معاملہ باطل و مردود ہوگا کیونکہ یہ دونوں اسلامی قوانین کے ہر جگہ ذمہ دار ہیں۔‘‘[اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کے دو شہری علاقہ غیر میں ایک دوسرے سے سود نہیں لے سکتے لیکن دارالاسلام کی رعایا کا کوئی مسلمان فرد اگر دارالحرب میں امان لے کر جائے تو وہ دارالحرب کے مسلمان باشندے سے سود لے سکتا ہے کیونکہ فقہ حنفی میں کافر حربی کی طرح اس مسلمان کا مال بھی معصوم نہیں ہے۔ بحر الرائق میں ہے<< وَحُکُم مَنْ أَسْلَمَ فِی دَارِ الْحَرْبِ وَلَمْ یُھَاجِرْ کَالْحَرْبِی عِنْدا أَبِی حَنِیفَۃ لِأَنَّ مَاَلَہُ غَیْرُ مَعْصُوْمٍ عِنْدَہٗ فَیَجُوزُ لِلْمُسْلِمِ الرَّبَا مَعَہٗ>> (الحرالرائق شرح کنر الدقائق، کتاب البیع، باب بیع الربا لدقیق اوبالسویق) اس لحاظ سے مولانا کی تعبیر کے مطابق اگر ہندوستان دارالحرب ہے تو سرحدی پٹھانوں کے لیے ہندوستان کے نہ صرف ہندوؤں سے بلکہ مسلمانوں سے بھی سود لینا حلال و طیب ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ وہ یہاں کے مسلمانوں سے جوا بھی کھیل سکتے ہیں اور حرام چیزیں بھی ان کے ہاتھ فروخت کر سکتے ہیں، کما نی الفتح ج ۵ ص ۳۰۰۔ (مودودی)]

قیدی اسیر کے لیے فقہی طور پر ضروری نہیں کہ وہ جیل خانے میں ہو بلکہ ہر وہ شخص جو کسی ملک سے دوسرے ملک میں بغیر اجازت یا پاسپورٹ کے نہیں جا سکتا وہ اسیر[ اگر اسیر کی تعریف صرف اتنی ہی ہے تو ہندوستان کے تمام مسلمان مستا ٔمن نہیں بلکہ اسیر قرار پائیں گے، اور اسیر کے احکام مستا ٔمن کے احکام سے بالکل مختلف ہیں۔ اسیر جنگ کے لیے قانونِ مِلک کی پابندی بھی لازم نہیں۔ وہ چوری اور قتل اور رشوت دہی کا بھی حق رکھتا ہے۔ بحر الرائق میں ہے لان الا سیر یباح لہ التعرض و ان اطلقوہ طوعًا لانہ غیر مستامن فہو کالبلصص فیجوزلہ اخذ المال و قتل النفس دون استباحۃ الفرج (کتاب السیر، باب المستا ٔمن) اگر قانون کے مقاصد سے قطع نظر کرکے صرف اس کے الفاظ سے غرض رکھی جائے تو آزادی عمل کی اس سے بھی زیادہ گنجائشیں نکل سکتی ہیں۔ (مودودی)]ہے والتفصیل ان شاء اللّٰہ فی وقت اخر۔

(۲) دوسری بات مجھے یہ کہنی ہے کہ بلا شبہ میں نے ذرا عجلت سے کام لے کر اس مضمون کو قبل از مشورہ شائع کرا دیا۔ اس عبد خاطی و عاجز کو اپنے اس قصور کا اعتراف ہے لیکن میں نے جن جذبات اور ہیجانات سے مجبور ہو کر اس مضمون کو لکھا تھا اس سے خدائے خیبر و بصیر خوب واقف ہے۔ ماسوا اس کے اس مسئلے کی بنیاد جن مقدمات پر ہے وہ کل دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہندوستان دارالکفر ہے۔ دوسرے یہ کہ دار الکفر میں عقود فاسدہ فی الاسلام کے ذریعے سے اموال غیر معصومہ کا لینا مباح ہے۔

ان میں سے پہلے مقدمے کے متعلق میں نے ہندوستان کے اکثر علمائے ثقات و ارباب فہم و تقویٰ کو متفق پایا۔ البتہ دوسرے مقدمے کے متعلق میں نے ان کرام و اکابر علما سے بالتفصیل نہیں دریافت کیا، جن کے اسمائے گرامی آپ نے درج کیے ہیں اور جن میں سے اکثر اس خاکسار کے اساتذہ یا فی حکم الاستاذہ ہیں۔ صرف مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہ العالی کی رائے گرامی کا مجھے علم تھا کہ وہ اس مسئلے میں فقہ حنفی کے اس جزئیہ کے متعلق مطمئن نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے فتاویٰ نیز تفسیر میں دوسرے مقدمے کی صحت میں حدیثاً و اصولاً کلام کیا ہے‘ لیکن جہاں تک اس ناچیز کی رسائی تھی امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کو میں نے اوفق بالکتاب والسنہّ پایا۔ امام صاحب نے یہ سمجھا ہے کہ جس طرح <<’’لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ‘‘>>(النسائ 4:29) ’’اپنی جانوں کو نہ مارو‘‘ کا منصوص اور بظاہر عام حکم صرف مسلمانوں تک محدود ہے ورنہ قانون جہاد بے معنی ہو جاتا ہے، اسی طرح <<’’لاَتَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ‘‘>>(البقرہ2: 188) تم اپنے مالوں کو اپنے درمیان ناجائز ذرائع سے نہ کھایا کرو۔ اور اسی کی ایک ذیلی تفصیل <<’’لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰو>>(آل عمران3: 130)‘‘ سود نہ کھاؤ، کا بظاہر عام حکم بھی صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص[مولانا کے اس بیان سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خون کا احترام اور کسب اموال میں حرام و حلال کی تمیز، اور سود کی حرمت سب کچھ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہے۔دائرہ اسلام کے باہر نہ تو غیر مسلم انسانوں کے خون کی کوئی وقعت ہے اور نہ ان سے مالی معاملات میں حلال و حرام کی کوئی تمیز۔ اس سے بڑھ کر اسلامی قانون کی غلط نمائندگی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ قرآن میں ارشاد ہے کہ<< وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ>>۔(الانعام6: 151) اس آیت کی رو سے ہر انسان کی جان اصلاً قابل احترام ہے۔ اس کے حلال ہونے کی صورت صرف یہ ہے کہ حق اس پر قائم ہو جائے۔ جہاد میں یہ حرام اسی طرح ’’حق‘‘ کی خاطر حلال ہو جاتا ہے جس طرح قصاص میں خود مسلمان کا حرام خون بھی حلال ہو جاتا ہے۔ اگر اصولاً کافر غیر ذمی کو اسلام نے ’’حربی‘‘ قرار دیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ امام اور جماعت سے الگ ہو کر ہر مسلمان ہر غیر ذمی کافر پر جب چاہے ’’حق‘‘ قائم کر دے اور جہاں چاہے قتل کر دے اور لوٹ لے۔ اگر ایسا ہو تو ایک مسلمان اور ایک انارکسٹ میں کیا فرق باقی رہا؟ اسی طرح مال کمانے اور خرچ کرنے کے جو طریقے اسلام نے حرام کیے ہیں وہ سب قطعی طور پر حرام ہیں۔ان میں یہ امتیاز نہیں ہے کہ مسلمان سے مال لینے کا جو طریقہ حرام ہو، کافر سے مال لینے کا وہی طریقہ حلال ہو۔<< وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَا اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ>>(البقرہ2:188) اور << اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰو>>(البقرہ2: 275) اور << اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ>>۔(المائدہ5: 90) ان احکام میں سے کس حکم کو صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات کے ساتھ مخصوص کیا جا سکتا ہے؟ اگر مسلمانوں کا یہی مسلک ہو کہ شراب کو حرام بھی کہیں اور پھر غیر مسلموں کے ہاتھ بیچیں بھی‘ جوئے کو حرام بھی کہیں اور غیر قوموں سے کھیلیں بھی، سور کو حرام بھی کہیں اور سور کھانے والوں کے ہاتھ فروخت بھی کریں، سود کی حرمت میں تقریر بھی کریں اور پھر غیر مسلم قوموں سے سودی لین دین کو حلال و طیب بھی سمجھیں، تو دین اسلام ایک مضحکہ بن جائے گا اور کوئی صاحب عقل ایسے مذہب کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوگا۔ افسوس یہ ہے کہ مولانا اس غلط تعبیر کو امام ابوحنیفہؒ کی طرف منسوب کر رہے ہیں حالانکہ انھوں نے ان عام احکام میں جو استثنا تجویز کیا ہے وہ صرف خاص جنگی ضروریات میں ان لوگوں کے لیے ہے جو مبتلائے جنگ ہوں۔ اس کا یہ منشا ہرگز نہیں ہے کہ مسلمانوں کی پوری پوری آبادیاں مستقل طور پر غیر قوموں کے ساتھ تجارتی و مالی معاملات میں حرام و حلال کی تمیز اڑا دیں اور نسل در نسل اور پشت در پشت اسی حرام خوری پر زندگی بسر کرتی رہیں۔ (مودودی)] ہے۔ خصوصاً جب ’’اموال مُحرَّمہ‘ کے حکم نہی میں ’’بینکم‘‘ کی تصریح بھی ہے تو وہ قانون قتل کی عمومیت سے اور بھی زیادہ خاص ہو جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ’’ربوٰ‘‘ کا قانون سخت ہے لیکن کیا قتل سے بھی زیادہ سخت؟ قرآن نے ایک شخص کا قتل عام بنی آدم کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے جس کی جزا میں جہنم کے عذاب، خلود ابدی کی دھمکی دی گئی ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ اسلام نے اس سخت قانون کے ایک رُخ کو (اسی رخ کو جو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ’’اموال‘‘ کے متعلق ہے) ثواب اور بڑا ثواب قرار دیا ہے۔ آخر امام صاحبؒ کیا کرتے؟ قرآن مجید میں کہا گیا ہے:

<< وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَہَا>>(الفتح 48: 20)

اللہ تم سے مغانم کا وعدہ کرتا ہے جنھیں تم لو گے۔

(کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ) یہ اموال مسلمان خریدیں گے؟ یا وراثت میں پائیں گے؟ یا ان کو کوئی ہبہ کرے گا؟ پھر بزور ہی نہیں بغیر زور و قوت کے بھی جو مال ملے اس کے متعلق تصریح ہے کہ یہ وہ چیز ہے کہ:

<< وَمَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْہِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللہَ يُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ>>( الحشر59:6)

جو پلٹایا خدا نے اپنے رسولؐ کے پاس تو تم نے نہ اس پر اونٹ دوڑائے نہ گھوڑے لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے۔

صرف جنگ کے موقع پر اس کا وعدہ نہیں کیا گیا، بلکہ سب کو معلوم ہے کہ:

<< اِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ اَنَّہَا لَکُمْ۔>> (الانفال8: 7)

جب اللہ نے تم سے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کے متعلق یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ تمھارے لیے ہے۔

ان طائفوں میں کون نہیں جانتا کہ خدا نے اس طائفے کا بھی وعدہ کیا تھا جو ’’عیر‘‘ یعنی قافلہ تجارت تھا؟ اور کیا وعدہ کیا تھا؟ <<’’انہالکم‘‘>> وہ تمھارے لیے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے وہ بذریعہ بیع و فروخت، تجارت ، ہبہ، وراثت ، ہدیہ، صدقہ، خیرات، آخر کس طور پر وعدہ کیے گئے تھے؟[یہ ایک برسر جنگ قوم کا تجارتی قافلہ تھا، گوبالفعل مقاتل نہ تھا۔ غنیم کی تجارت میں مزاحمت کرنا، اس کے تجارتی جہازوں یا قافلوں کو پکڑ لینا اور اس کے اموال پر قبضہ کر لینا قانونِ جنگ میں بالکل جائز ہے۔ مولانا کوئی ایسی مثال پیش فرمائیں جس میں ماسوا حالت جنگ کے غیر ذمی کافروں کو رسولؐ اللہ کے عہد میں مطلقاً مباح الدم و الاموال قرار دیا گیا ہو، اور فرداً فرداً ہر مسلمان کو یہ حق بخشا گیا ہو کہ جس غیر ذمی کو وہ جب اور جہاں پائے لوٹ لے۔ (مودودی)]یہی ذریعہ اگر مسلمانوں کے لیے اموال کے حصول کا قرار دیا جائے تو کیا وہ ذریعہ باطل اور<< لا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل>> کے نیچے داخل ہوگا؟ بخاری میں ہے کہ حضرت ابوبصیر صحابیؓ کو صلح حدیبیہ کی رو سے جب مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ ملی تو وہ سمندر کے کنارے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جم گئے اور ان کا مشغلہ کیا تھا؟ امام بخاریؒ راوی ہیں:

<< فَوَ اللّٰہِ مَا یَسْمَعُوْنَ بِعِیْرٍ خَرَجَتْ لِقُرَیْشٍ اِلَی الشَّامِ اِلاَّ اِعْتَرَضُوْا لَہَا فَقَتَلُوْہُمْ وَاَخَذُوْا اَمْوَالَہُمْ>>۔[صحیح البخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ، حدیث:2529]

بخدا قریش کے جس قافلے کے متعلق وہ سنتے کہ شام کی طرف نکلا ہے اس سے وہ تعرض کرتے اور اہل قافلہ کو قتل کرکے ان کے اموال چھین لیتے۔

کیا اس سے بھی زیادہ تشریح کی ضرورت ہے؟[یہ ایک شدید حالتِ اضطرار کی مثال ہے۔ قریش ایک طرف تو ان مسلمانوں کو ظلم و ستم سے مارے ڈال رہے تھے۔ دوسری طرف صلح حدیبیہ کی رُو سے انھوں نے ان کے لیے مدینہ جانے کی راہ بھی بند کردی تھی۔ ایسی حالت میں یہ اپنی جان بچانے اور زندہ رہنے کے لیے بے قاعدہ جنگ پر مجبور تھے اور قریش نے خود ہی اپنے ظلم سے ان کو حفاظتِ خود اختیاری میں سب کچھ کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس مثال سے اباحتِ اموال کے اس وسیع نظریئے کی تائید کیوں کر نکلتی ہے جسے مولانا پیش فرما رہے ہیں۔ (مودودی)]قرآن میں تو صرف ’’عیر‘‘ کا وعدہ تھا، لیکن یہاں تو وقوع ہوا ۔کیا یہ قانون فقہ حنفی کا ہے یا نصوص بینہ کا مقتضی ہے؟ عجیب بات ہے کہ جس قانون کے ذیل میں امام صاحب نے اس جزئیہ یا دفعہ کو پیدا فرمایا ہے (یعنی قانونِ غنیمت) وہ تو صرف امت محمدیہ کے لیے بروئے روایات صحیحہ مخصوص مانا جاتا ہے، لیکن پھر بھی لوگ کہے جاتے ہیں کہ اگر ’’رِبا‘‘ کا کاروبار غیر اقوام کے ساتھ جائز ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے متعلق قرآن مجید میں کیوں فرمایا:

<< وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْہُ وَاَكْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ۝۰ۭ >>( النسائ 161:4)

اور یہودیوں کے سود لینے کی وجہ سے جس سے وہ روکے گئے اور لوگوں کے اموال کو باطل و ناجائز ذرائع سے کھانے پر۔

جب یہودیوں پر غنیمت ہی حرام تھی تو پھر کس بنا پر ان کے لیے سود جائز ہوتا[یہودیوں کے لیے غنیمت حلال ہو یا نہ ہو‘ مگر فَے کے حلال ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔قرآن شاہد ہے کہ ایک پورا ملک اﷲ نے ان کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہاں کے تمام اموال ان کے لیے فَے ہوں گے۔ ورنہ ارشاد ہو کہ ارضِ موعود کے اموال پر یہودیوں کا قبضہ کس طرح جائز ہوا؟ بیع و شرا یا ہبہ یا صدقہ یا ہدیہ تو نہ تھا۔(مودودی)] اور یہ بھی اسی وقت کہا جائے گا جب یہ ثابت ہو لے کہ وہ صرف غیر یہودیوں سے اس کا کاروبار کرتے تھے۔[ یہ ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ قرآن میں مطلقاً اموال الناس کہا گیا ہے۔ خود آپ کے بیان کردہ قاعدے پر جبکہ اموالہم بینھم نہیں کہا گیا تو اس کے معنی یہی ہوں گے کہ وہ یہودی اور غیر یہودی سب سے سود کھاتے تھے جس طرح اب تک کھا رہے ہیں۔ (مودودی)] مولانا شبلی نے اپنی سیرت میں ابوداؤد کی روایت کو متعد د بار نقل فرمایا ہے۔ اس سے غلط فہمی میں نہ پڑ جانا چاہیے کیونکہ اس تشدد کی بنیاد مسئلہ غلول (یعنی قبل تقسیم کے اموالِ غنیمت میں تصرف کرنے) پر ہے جیسا کہ خود حضرت[ عبدالرحمان بن سمرہؓ] نے ’’کابل‘‘ کی جنگ میں اس کی توضیح فرما دی۔ ابولبید راوی ہیں کہ ہم لوگ کابل میں [عبدالرحمان بن سمرہؓ] کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو مالِ غنیمت ہاتھ آیا تو لگے لوٹنے۔ حضرت [عبدالرحمان بن سمرہؓ] اس پر تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریمؐ سے سنا کہ آپؐ نے ’’نہبٰی‘‘ سے منع فرمایا۔ لوگوں نے سب مال واپس کر دیا۔ پھر حسبِ تقسیم ِ شرعی انھوں نے بانٹ دیا [سنن أبی دائود، کتاب الجہاد، کتاب فی النھی عن النھبیٰ، حدیث 2328] اس میں یہ نہیں ہے کہ اصل مالکوں کو واپس دے دیا بلکہ قبل تقسیم کے لوٹ مار کرنے سے ممانعت کی گئی تھی جو غلول تھا۔

’’رِبا‘‘ کا قانون کب سے نازل ہوا، یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ <<’’لَا تَاْکُلُوا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً‘‘ >>تو بہت پہلے نازل ہوا‘ لیکن اس کو شراب کی طرح تدریجی غیر قطعی حکم قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ’’ربوٰ‘‘ کی جزئی فروع کی حرمت پر عمل درآمد مسلمانوں میں ۷ھ سے شروع ہوگیا تھا۔ موطا ٔ امام مالکؒ میں ہے کہ آنحضرتؐ نے خیبر میں چاندی کے ایک برتن کی فروخت کے معاملے میں فرمایا:

<< اَرْبِیْتُمَا فَرَدُّوْا>>[موطأ مالک، کتاب البیوع، باب بیع الذھب بالففۃ تبراً و عینا، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبیؐ ، حدیث:1143]

تم دونوں نے رِبا کا معاملے کیا۔ پس انھوں نے واپس کر دیا۔

اس سے ثابت ہوا کہ ’’دارالاسلام‘‘ میں یہ قانون ۷ھ سے نافذ ہو چکا تھا‘ لیکن سارے عرب میں کب نافذ ہوا؟ سب کو معلوم ہے کہ عام فتح میں بھی نہیں بلکہ حجتہ الوداع میں ربا الجاہلیہ کے سقوط کا اعلان حکومت نبویہ کی جانب سے کیا گیا … اس سے کیا یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ جس ملک میں اسلامی اقتدار قائم نہ ہو وہاں ان معاملات کی نوعیت وہ نہیں رہ سکتی جو اسلامی اقتدار کے بعد ہو جاتی ہے۔[اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کسی ملک میں سودی کاروبار کی ممانعت کا عام حکم صرف اسی وقت جاری کریں گے، جب کہ وہ اس ملک پر قابض و متصرف ہوں اور اپنے احکام کو غیر مسلموں پر بھی نافذ کرنے کی قوت رکھتے ہوں۔ ہر ذی فہم سمجھ سکتا ہے کہ ملک پر قبضہ ہونے سے پہلے ملک میں قانون کے نفاذ کا حکم دینا صریح غیر معقول بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ربا الجاہلیت کے سقوط کا اعلان فرما دیتے جب کہ درحقیقت ربا الجاہلیت لینے اور دینے والے آپؐ کے تحت حکم آئے ہی نہ ہوں۔ البتہ جو لوگ آپؐ کے تحت حکم تھے (یعنی مسلمان) ان کو آپؐ نے سودی لین دین سے منع فرما دیا تھا قبل اس کے کہ ملک عرب میں سودی کاروبار مسدود ہو۔ (مودودی)] ورنہ کم از کم حضرت عباس ؓ جو حجتہ الوداع سے بہت پہلے مسلمان ہو چکے تھے، ان کے ربوٰ کو قطعاً ۷ھ سے پہلے ساقط ہو جانا چاہیے تھا نہ کہ حجۃ الوداع[حضرت عباسؓ کے متعلق ہے کہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ واپس چلے گئے تھے اور وہاں مسلمان ہونے کے بعد وہ سود کا جو کاروبار کر رہے تھے اس کی کوئی اطلاع رسولؐ اللہ کو نہ تھی المبسوط، کتاب الصرف، باب الصرف فی داراطرب) یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضورؐ کو کب اس کی اطلاع ہوئی۔ بہرحال جب حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے احکام الٰہی کے تحت ربا کی عام ممانعت کا اعلان فرمایا تو سب کے ساتھ حضرت عباسؓ کے سودی بقایا بھی ساقط کیے گئے۔ یہ واقعہ اس باب میں قطعی الثبوت نہیں ہے کہ رسولؐ اللہ نے حضرت عباس ؓ کے اس سودی کاروبار کو جائز رکھا تھا۔ (مودودی)] میں۔ تعجب یہ ہے کہ بعض اکابر کو اسی حجۃ الوداع کی روایت سے شبہ ہوا کہ اگر غیر مسلموں سے رِبا جائز ہوتا تو قبل اسلام کا جو سودی بقایا تھا اس کو شارع علیہ السلام نے کیوں ساقط کیا؟

بلاشبہ اگر مسئلہ یہ ہوتا کہ نفس عقد ربوٰ سے سود کا مستحق سود خوار ہو جاتا ہے تو یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ حقوق ثابتہ کے اسقاط کے کیا معنی ہو سکتے ہیں‘ لیکن مسئلے کی بنیاد استحقاق بواسطہ الربوٰ پر نہیں ہے اباحت کا حکم باقی رہے گا۔ جب ملک اسلامی ہو جائے گا تو غیر معصوم معصوم ہو جائے گا۔ پھر اس معصوم کو غیر معصوم کس طرح قرار دیا جاتا [حکم قرآنی کی یہ توجیہہ درست نہیں۔ اباحت کے مسئلے کا اس مسئلے سے کیا واسطہ؟ قرآن میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ یہ ہے:<< فَمَنْ جَآئَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ>>(البقرہ2: 2275)جو شخص خدا کی نصیحت مان کر سود خواری سے باز آجائے وہ پہلے جو کچھ سود کھا چکا ہے وہ اس کے لیے معاف ہے، اب وہ اس سے واپس نہیں دلایا جائے گا۔<< وَذَرُوْ مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰو>> (البقرہ2: 278)اور اب جو سود تمھارے لوگوں پر چڑھے ہوئے ہیں ان کو تم چھوڑ دو۔ << فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ >>(البقرہ2: 279) اگر اس حکم کی پابندی تم نے نہ کی تو اللہ تعالیٰ اور رسولؐ سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ یہ بات سراسر حکمت عملی پر مبنی تھی اور ہر حکومت کسی معاملے میں احکام امتناعی نافذ کرتے وقت ایسا ہی کیا کرتی ہے۔ قانون کے اعلان سے قبل جو سود لیا اور دیا جا چکا تھا اگر اس کی واپسی کا حکم دیا جاتا تو مقدمات کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا جو کبھی ختم ہی نہ ہو سکتا۔ اور اگر اعلان کے بعد پچھلے سودی بقایا وصول کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو قانون بے اثر ہو کر رہ جاتا اور نہ معلوم کب تک ان کے بقایا کی تحصیل کا سلسلہ جاری رہتا۔ لہٰذا بیک وقت سود اور اس کے معاملات کا سلسلہ منقطع کر دینا ہی حکمت تشریع کے نقطۂ نظر سے ایک کارگر تدبیر ہو سکتا تھا۔ (مودودی)]اور یہی وجہ ہے کہ جب نجران کے لوگوں نے اسلامی حکومت کی ذمہ داری قبول کر لی تو ان کو حکم دیا گیا کہ اب اس کاروبار کو ترک کر دیں، کیونکہ عہد ذمہ کی وجہ سے ان کے اموال معصوم ہو چکے تھے۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا صحابہ کے طرزِ عمل میں بھی ایسا کوئی خصوصی اثر ہے جس سے معلوم ہو کہ انھوں نے غیر مسلموں سے ربوٰ کا خاص کرکے معاملے کیا ہو؟ امام محمدؒ نے اس کے جواب میں ’’سیر کبیر‘‘ میں حضرت عباسؓ کا عمل پیش کیا ہے کہ وہ فتح مکہ سے پیشتر اسی کاروبار کے لیے مدینہ سے مکہ جاتے تھے جو اس وقت تک دارالاسلام نہ تھا۔[بالفرض اگر حضرت عباسؓ کا یہ سودی کاروبار نبی ؐ کے علم و اجازت سے بھی ہو تب بھی یہ حقیقت ہے کہ عام الفتح سے پہلے تک مکہ اور اس کے اطراف کے تمام قبائل مسلمانوں سے برسر جنگ تھے۔ عام الفتح کے بعد اگرچہ مکہ اسلامی حکومت کے ماتحت آ گیا مگر نواحی علاقوں میں جو مشرکین آباد تھے ان سے جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ پس یہ مثال زیادہ سے زیادہ اس امر کے ثبوت میں پیش کی جا سکتی ہے کہ حالت جنگ میں دشمن سے عقود فاسدہ پر معاملہ ہو سکتا ہے۔(مودودی)] اسی طرح ربوٰ تو نہیں، لیکن یہ تو حدیثوں سے ثابت ہے کہ قمار کا معاملہ ابوبکر صدیقؓ نے کیا اور بدر کے بعد اس کی آمدنی انھوں نے لی۔ یہ کہنا کہ یہ فعل[یہ ’’فعل‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس فعل کے دو جز ہیں ایک شرط کرنا۔ دوسرے شرط کا مال وصول کرنا۔ پہلا جز تو یقینا میسر و قمار کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا ہے کیونکہ وہ ہجرت سے چھ سات سال قبل کا واقعہ ہے اور میسر و قمار کی حرمت کے احکام ہجرت کے بعد نازل ہوئے ہیں۔ رہا دوسرا جز یعنی شرط کے اونٹ وصول کرنا تو یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ غالباً تحریم قمار کا حکم نازل ہونے کے بعد ہی کا ہے۔ مگر اس کا کیا جواب ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو یہ مال اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہ دی بلکہ صدقہ کرنے کا حکم دیا؟ (مودودی)] حکم ’’میسر و قمار‘‘ کے نزول سے پہلے کا ہے، بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ ایران نے روم سے شکست انھی ایام میں کھائی جب کفار قریش کو مسلمانوں سے ہزیمت ہوئی۔ حضرت صدیقؓ کا اس معاملے میں فریق ثانی اُمیہ ابن خلف تھا جو بدر میں مارا گیا۔ شرط سو اونٹوں کی تھی۔ حضرت صدیقؓ نے اس کے ورثے پر دعویٰ کیا اور وہ دعویٰ مسموع ہوا۔ سو اونٹ اُن کو ملے۔ مدینہ آئے۔ یہ صحیح ہے کہ ٹھیک طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ اونٹ بدر سے کتنے سال بعد وصول کیے گئے لیکن بعید از قیاس ہے کہ غم و غصے کے بھرے ہوئے قریش نے ٹھیک بدر کے بعد انصاف کو اتنی راہ د ی ہوگی کہ سو اونٹ اصل شرط لگانے والے سے نہیں بلکہ اس کے ورثے سے حضرت صدیقؓ کو دلوائے ہوں گے بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات اگر طے ہوئی ہوگی تو صلح حدیبیہ کے بعد طے ہوئی ہوگی اور یہ مسلم ہے کہ خمر (شراب) اور میسر (قمار) کی تحریم کا حکم اُحد کے قریب قریب نازل ہوا تھا۔ بخاری کی روایتوں سے یہ ثابت ہے۔ پس غالب قرینہ یہی ہے کہ واقعہ حرمت قمار کے نزول کے بعد کا ہے۔ تاریخی طور پر اگر ان واقعات کی جستجو کسی کے مدنظر ہو تو سیرۃ النبی، مولانا شبلی مرحوم سے میرے بیان کی توثیق کر سکتے ہیں، خصوصاً جن لوگوں کی عربی تک رسائی نہیں ہے۔ بہرحال سیر و آثار نہ بھی ہوں تو کیا اثر سے زیادہ وزن دار آنحضرتؐ کا فعل نہیں بلکہ قانونی قول نہ ہوگا جس کے راوی خود امام ابوحنیفہؒ ہیں؟ امام شافعیؒ نے قاضی ابویوسفؒ کے حوالے سے بروایت ابوحنیفہؒ اس روایت کو نقل کیا ہے:

<<عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبٰو کَذا۔۔۔ لَارِبَا بین أَھْلِ الْحَرْبِ۔۔۔ وأَھْلِ الْاِ بَاسْلَامِ بَیْنِ الْمُسْلِمِ وَالْحَرْبِیْ>>۔ [الشافعی، محمد بن ادریس، الا ٔم، بیروت، دارالفکر، 1983م، ج3، ص30]

مکحول سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ سے مروی ہے کہ مسلمان اور حربی کے درمیان ربوٰ نہیں۔

میں مانتا ہوں کہ یہ روایت مرسل ہے لیکن کیا اثر صحابہ کے ڈھونڈنے والوں کے لیے ایک مرسل حدیث میں تسلی نہیں ہے؟ عجیب بات ہے کہ’’ ابن سعد‘‘ یا’’اِصابہ‘‘ سے اگر کوئی اثر نقل کر دیا جائے تو لوگ اس کی وقعت کرتے ہیں لیکن امام ابوحنیفہؒ اپنے اعتماد پر ایک مرفوع مرسل قولی حدیث پیش کرتے ہیں تو اس کو صرف مرسل کہہ کر ٹالنا چاہتے ہیں۔ اس روایت کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خبر واحد ہے اس سے نص کی تخصیص جائز نہیں لیکن کیا نص کی تائید بھی اس سے نہیں ہو سکتی؟ کیا اس کی وقعت آثار صحابہ کے برابر بھی نہیں؟ غالباً اس تفصیل کے بعد یہ مسئلہ صرف فقہ حنفی کا نہیں رہ جاتا۔ بہرحال میں اور بھی تفصیل کرتا لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ ذرا ان لوگوں کا انتظار ہے جو امام ابوحنیفہؒ کے فتویٰ کو اس مسئلے میں مضمحل بنانا چاہتے ہیں۔

اسی کے ساتھ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ اپنے فتاویٰ میں ایک سے زائد مقامات پر اس کے متعلق صریح فتویٰ صادر فرما چکے تھے۔ اگر ان کے فتویٰ میں کلام ہے تو کیا ہندوستان میں کسی کے پاس حدیث کی سند محفوظ رہ سکتی ہے؟ جمعیۃ العلما کے اخبار ’’الجمعیتہ‘‘ میں بھی اس کا فتویٰ شائع ہو چکا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے خواہ کسی وجہ سے ہو لیکن بینک کے سود لے لینے کا فتویٰ دیا تھا۔ حرام مال لے کر صدقہ کرنے کی اجازت کون دے سکتا ہے؟ جہاں تک میرا خیال ہے ان کے سامنے مسئلے کی وسعت موجود تھی۔ ورنہ کم از کم میں ان کے اس فتویٰ کی توجیہہ سے عاجز ہوں۔ مولانا عبدالحئی صاحبؒ مرحوم نے اپنے فتاویٰ میں گو ہندوستان کی تصریح نہیں کی لیکن مطلقاً دارالکفر میں انھوں نے جواز کا فتویٰ دیا ہے اور متعدد بار دیا ہے۔ بریلی اور بدایوں کے علما کو بھی اس سے کم از کم میرے علم میں اختلاف نہیں۔ باایں ہمہ میں نے اپنے مضمون میں افتاء کا رنگ نہیں اختیار کیا ہے بلکہ مسئلے کی تشریح کرنے کے بعد استفتاء کیا ہے علما سے پوچھا ہے کہ کیا ہندوستان میں اس مسئلے کے نفاذ کا وقت آ گیا ہے؟

مگر سچ پوچھتے ہیں تو ذاتی طور پر اسی شبہے کی وجہ سے جسے آپ نے نقل فرمایا ہے میں اس کے لکھنے میں متردد تھا۔ پھر کیا کہوں کن مظالم بے جانے آخر میرے ہاتھ سے صبر کے دامن کو چھڑا لیا۔ مسلمان جلائے گئے، لوٹے گئے، برباد کیے گئے اور کیے جا رہے ہیں۔[آگے چل کر مولانا نے خود ہی اپنے اس ارشاد کا جواب دے دیا ہے۔ (مودودی)] میں ان حالات کو دیکھ دیکھ کر بے اختیار ہوگیا۔ کوئی اور صورت نظر کے سامنے نہ تھی۔ مالی مدافعت یا مالی حملے کی صورت سامنے تھی، پیش کر دی گئی اور اسی وجہ سے اس کا نام میں نے فَے رکھا، کیونکہ شامی میں جزئیہ موجود تھا:

<< وَمَا أُخِذَ مِنْہُمْ بِلَا حَرْبٍ وَلاَ قَہْرٍ کَالْہَدْیَّۃِ وَالصُّلْحِ فَہُوَ لَا غَنِیْمَۃَ وَلاَ فَیْ ئٌ وَحُکْمُہٗ حُکْمُ الْفَی ئِ>>۔ [ردالمختار، کتاب الجہاد، باب المخنم و قسمتہ]

اور ان سے جو کچھ بغیر جنگ اور قہر کے لیا جائے مثلاً مال صلح تو وہ غنیمت ہے اور نہ فَے البتہ اس کا حکم فَے کا حکم ہے۔

پس جو حکم فَے میں ہو اگر مجازاً اسے ’’فَے‘‘ کہا جائے تو کیا حرج ہے؟ اور اگر اجازت ہو تو کیا اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ ’’زنا‘‘ کے خطرے سے کیا ترک نکاح کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے؟ واقعی مسلمان جو بعد میں باہم لڑ پڑے کیا وہ قانون قتال کا نتیجہ تھا؟ کیا یہ خطرات بھی واقعی ہیں؟

لیکن اس کے ساتھ مجھے ان مولویوں سے ضرور خطرہ ہے جو زوال حکومت کے بعد معمولی معمولی باتوں پر تکفیر کا فتویٰ صادر کرکے فسخ نکاح و ناجوازیٔ اولاد کا حکم لگا رہے ہیں۔ اس صورت میں بالکل ممکن ہے کہ ہر مسلمان دوسرے کے کفر کا فتویٰ لے کر آپس ہی میں اس فعل کو شروع کر دے گا جو اس کے لیے قطعاً مورث عذاب جہنم ہے لیکن کاش اس فتویٰ کو عملی شکل دینے کے لیے یہ علما ان مکروہ طریقوں سے باز آئیں، ورنہ ہر شخص اپنی نیتوں کا خود ذمہ دار ہے۔

<< بِالنِّیَۃِ إِنَّمَا إِمْرِئٍ مَانَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلٰی دُنْیَارٍ بُصِیْبُہَا : اَوْ امْرَاۃٍ تَنْکِحُہَا فَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ہَاجَرَا اِلَیْہَا>>۔[صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب من ھاجرأ و عمل خیرا، حدیث:4682]

ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔ چنانچہ جس کی ہجرت خدا اور رسول کی طرف ہو، اور جس کی ہجرت دنیا کے فائدے کی خاطر ہو اور جس کی ہجرت کسی عورت کی خاطر ہو ان میں سے ہر ایک کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی اس نے نیت کی ہے۔

یوں تو نماز بھی دوزخ کی کلید بن سکتی ہے۔ اگر اسی طرح فتویٰ دے کر لوگ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگیں تو کیا اس کی وجہ سے قانون جہاد کی حرمت کا فتویٰ صحیح ہوگا؟

ایک شبہ اور بھی ہے کہ سیونگ بینک میں تو نہیں لیکن عام بینکوں اور کوآپریٹو بینکوں کے مالکوں میں بعض بعض مسلمان بھی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا؟ یہ صحیح ہے کہ بینک کا کاروباری عملہ جس سے لوگ لین دین کرتے ہیں عموماً غیر اقوام کے لوگ ہوتے ہیں، لیکن مالکوں کی جماعت میں جب مسلمان بھی ہیں تو عمل کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟

کاش علما غور کرتے۔ مسئلہ جوائز السلاطین میں فقہا نے کیا لکھا ہے؟ بہرحال میری غرض کچھ نہیں۔ صرف ایک مسئلے کے متعلق علما کو چونکانا ہے۔ یا تو وہ انسداد سود کے لیے ایسی آواز بلند کریں جیسی کہ ’’مانع مسکرات‘‘ کی سوسائٹی نے بلند کی ہے۔ یا کم از کم قانونی حدود میں رہ کر اتنا تو کریں جتنا گائے والے کرتے ہیں۔ شاید حکومت توجہ کرے یا وطن والے کچھ رحم کھائیں۔ ہو سکتا ہے کہ ’’سود‘‘ کا تصفیہ قربانی گاؤ کی قربانی سے ہو جائے۔ ورنہ پھر سرمایہ دار مسلمانوں کو کسی باضابطہ نظام کے تحت اس پر آمادہ کیا جائے کہ جو سلوک غیر اقوام کے لوگ غریب مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں وہی وہ دوسروں کے ساتھ کریں۔

<< فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْل مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ>> (البقرہ2: 194)

پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جتنی کہ اس نے کی۔

مقصد صرف اس قدر ہے ورنہ جو لوگ محض شکم پروری یا دولت مندی کے لیے اس مسئلے کے جوا زکی فکر میں ہیں اور اس فکر میں اتنے دیوانے ہو رہے ہیں کہ صحیح، غلط، جس طرح بن پڑتا ہے قرآن کے ایک منصوص حکم کے توڑنے میں زور لگا رہے ہیں، ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کی بنیاد امارۃ و دولت پر نہیں بلکہ اس کا فخر ’’فقر‘‘ تھا، اسی حقیقتِ مقدسہ کبریٰ نے اس کے ستون قائم کیے ہیں۔ بلندی صرف ایمان کے ساتھ ہے۔ <<ا نتم الاعلون >>کا وعدہ محض ’’<<ان کنتم مؤمنین>>‘‘ کے ساتھ مشروط ہے ‘ثروت دولت والے پہلے بھی وہی تھے جواب ہیں۔ اس وقت بھی قرآن کی یہی ہدایت تھی:

<< فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ۝۰ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ كٰفِرُوْنَo >>( التوبہ 55:9)

پھر ان کے اموال اور اولاد (مردم شماری) تم کو پسندیدہ نہ معلوم ہوں۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے ذریعے سے انھیں دکھ پہنچائے اور ان کی جان فرسودہ ہو کر نکلے ایسی حالت میں کہ وہ ناشکرے ہوں۔

اور اب بھی ہم مسلمانوں کے لیے اسی حکم میں قوت ہے۔ ہم امتیوں کو کیا، خود ہمارے پیشوا اور سردار آقا و امامؐ کو حکم دیا گیا:

<< وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۥۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِيْہِ۝۰ۭ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّاَبْقٰيo>>( طہ131:20)

اور اپنی آنکھیں ان کی طرف اونچی نہ کرو جنھیں میں نے قسم قسم کی تازگی دے رکھی ہے۔ میں اس میں انھیں آزماتا ہوں۔ تیرے رب کی روزی تیرے لیے بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔

آج جو یورپ کے خداؤں کو دیکھ دیکھ کر چیخ رہے ہیں کہ ہمارے لیے بھی اس قسم کے ’’اِلٰہ‘‘ ہونے چاہییں کیا ان کو یہ سنایا نہ جائے کہ تم جس کی اُمت کے لیے روتے ہو، اس نے ارشاد فرمایا اور قسم کھا کر فرمایاہے۔ بخاری میں ہے:

<<فَوَ اللّٰہِ لَاالْفَقْرَ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ وَلٰـکِنْ اَخْشٰی اَنْ تُبْسُطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَنَافَسُوْہَا کَمَاتَنَافَسُوْہَا وَ تُلْہِیْکُمْ کَمَا اَلْہَتْہُمْ>>۔ [صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب مایحذر من زھرۃ الدنیا و التنافس فیما، حدیث:5945]

پس قسم خدا کی میں فقر یا افلاس سے تمھارے لیے نہیں ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا پھیلائی جائے گی جس طرح تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی پھر جس طرح انھوں نے اس میں باہم رشک و تنافس کیا۔ اسی طرح کہیں تم بھی نہ کرو اور تم بھی غافل نہ ہو جاؤ جس طرح وہ ہوئے۔

تم کہتے ہو کہ مسلمانوں کے پاس روپیہ نہیں ہے، گنیاں نہیں ہیں، عمدہ کوٹ نہیں ہیں، عمدہ کپڑے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے‘ لیکن مسلمان جن کے ہیں انھوں نے جو فرمایا ہے، دیوانو! اس کی تمھیں خبر بھی نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا ، بخاری میں ہے:

<< تَعِسَ عَبْدُ الدَّیْنَارِ وَ الدِّرْہَمِ وَالْقَطِیْفَۃِ وَالْخَمِیْصَۃِ >>۔[صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب مایتقیٰ من فتنۃ المال، حدیث:5955]

اشرفیوں اور روپوں والے جھالر دار لباس والے سیاہ عبا والے سب گرے، ہلاک ہوئے۔

تم کہتے ہو کہ مفلس قوم تباہ ہوئی جاتی ہے لیکن جس کی قوم ہے وہ فرماتا ہے کہ درہم و دینار کے بندے تباہ ہوئے۔ اب تم ہی بتاؤ کہ ہم مسلمان کس کی سنیں؟ اور سچ ہے کہ جس قوم میں افلاس کا رونا ہے انھوں نے جب سود کھایا اور خوب پیٹ بھر کر کھایا، تیرہ تیرہ برس کے اندر بائیس بائیس روپیہ کو بائیس بائیس لاکھ روپیہ تک بنا کر رہے ان کے افلاس کے مرثیہ خوانوں کی دنیا میں کیا کمی ہے۔ کیا دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا اسی قوم کو پہنچ جاتا ہے جو سود کے میدان میں بازی مارے ہوئے ہے؟ فی کس تین پیسے کن قوموں کی آمدنی ہے؟ اور ان کو تو جانے دو، حکومت کے زور سے جو سود کھا رہے ہیں ان کے مزدوروں کا حال اخبارات میں کیا تمھاری نظروں سے نہیں گزرتاہے، سچ فرمایا اُمت کے ہادیؐ نے:

<< لَوْ کَانَ لِاِبْنِ اٰدَمَ وَاِدْیَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغٰی ثَالِثًا وَلاَ یَمْلاَئُ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ[صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب مایتقیٰ من فتنۃ المال، حدیث:5956]عَیْنِ ابْنِ اٰدم اِلاَّ التُّرَابَ>>۔[ایضاً، حدیث: 5957]

اگر آدم کے بچوں کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں مصروف ہوگا اور آدم کے بچے کا پیٹ (یا آنکھ) مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔

سر منزل قناعت نتواں زدست دادن

اے سارباں فردکش کیں رہ کراں ندارد!

[منزل کے قریب بھی قناعت کا دامن چھوڑنا ممکن نہیں اے ساربان قافلہ روک لو کہ اس راستے کا کوئی کنارہ نہیں۔]

مسلمان کے لیے تو وہی نغمہ کافی ہے جو آج سے تیرہ سو برس پیشتر گایا گیا۔

<<اللہم لا عیش الا عیش الاخرۃ>>

[ اے اللہ! زندگی نہیں ہے مگر آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔]

(ترجمان القرآن ‘ شعبان‘ رمضان ۵۵ھ ‘نومبر‘دسمبر ۱۹۳۶ء)