سود
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۶۰ء تک مختلف اوقات میں سود کے موضوع پر لکھے گئے مضامین کا ایک جامع اور مبسوط مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے "سود" کے نام سے شائع ہونے والی دو جلدوں کے غیر مرتب مواد کو مصنف نے از سرِ نو ترتیب دے کر اس کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔
کتاب میں سب سے پہلے سرمایہ داری، اشتراکیت اور اسلام کے تینوں معاشی نظاموں کا اصولی فرق بیان کیا گیا ہے، پھر اسلامی نظامِ معیشت کے ارکان، سود کی مختلف عقلی توجیہات کا رد، سود کے اخلاقی، تمدنی اور معاشی نقصانات، جدید بینکاری کی تاریخ، اور رِبا سے متعلق تفصیلی فقہی احکام (رِبا الفضل، علتِ تحریم، فقہا کے اختلافات) پر مبسوط بحث کی گئی ہے۔ آخر میں تجدیدِ قانون کی شرائط، غیر سودی مالیات کی متبادل صورتیں اور اسلامی بینکاری کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، نیز ضمیموں میں سید یعقوب شاہ اور مولانا مناظر احسن گیلانی کے ساتھ ہونے والی علمی مراسلت بھی شامل ہے جس میں دارالحرب میں سود کی حیثیت جیسے پیچیدہ مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: سود
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"سود" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ سب سے زیادہ اثر انگیز کام ہے جو بعد میں "اسلامی معاشیات" کے میدان کی بنیاد بنا۔ یہ بلا استثنا یہ دلیل دیتی ہے کہ سود، کسی بھی تجارتی یا بینکاری شکل میں، اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، اور محض دعویٰ کرنے کی بجائے ایک متبادل معاشی فریم ورک تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
کتاب سب سے پہلے اسلام کے معاشی اصولوں کو سرمایہ داری اور اشتراکیت سے ممیز کرتی ہے، اسلامی نظامِ معیشت کے "ارکان" بیان کرتی ہے، پھر حرمتِ سود کی طرف رجوع کرتی ہے — سود کی تعریف، اسے حقیقی شراکت داری (مضاربت/مشارکت) کے جائز منافع سے ممیز کرتے ہوئے، اور اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ تین ضمیمے دلیل کو آگے بڑھاتے ہیں: پہلے دو تجارتی قرضوں سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں؛ تیسرا مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا وہ مضمون شامل کرتا ہے جس میں دارالحرب میں سود کے جواز کی دلیل دی گئی ہے، جس کے فوراً بعد مولانا مودودی کی اپنی تنقید شامل ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ یہ کتاب عالمی اسلامی بینکاری کی صنعت کے براہِ راست فکری اسلاف میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو دو باتیں نوٹ کرنی چاہئیں: پہلی، گیلانی-مودودی مکالمہ ایک زندہ، غیر حل شدہ فقہی بحث ظاہر کرتا ہے؛ دوسری، حقیقی "اسلامی بینکاری" کے عملی تجربے کو خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات عملاً سود ہی کو دہراتی ہیں۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- سود کی تعریف: مولانا مودودی حرام سود کو حقیقی شراکت داری کے جائز منافع سے کیسے ممیز کرتے ہیں؟ کیا یہ لکیر عمل میں اتنی واضح ہے؟
- گیلانی-مودودی مباحثہ: دارالحرب میں سود کے جواز کے لیے گیلانیؒ کی دلیل کیا ہے، اور مولانا مودودی اسے کیوں رد کرتے ہیں؟
- ضرورت کی دلیل: کتاب اس دعوے کا جواب دیتی ہے کہ جدید معیشت کی قرض کی ضرورت سود کو ناگزیر بناتی ہے۔ یہ جواب کتنا مطمئن کن ہے؟
- نظریے سے ادارے تک: کیا جدید مضاربہ/مرابحہ پر مبنی مصنوعات کتاب کے تصور کو پورا کرتی ہیں، یا ناقدین درست ہیں کہ وہ سود ہی کو دہراتی ہیں؟
- سرمایہ داری و اشتراکیت پر تنقید: اس کتاب کا موقف "معاشیاتِ اسلام" میں کیسے آگے بڑھایا گیا؟
- عملی اصلاح: کیا سود سے پاک معیشت کی طرف "مرحلہ وار" راستہ حقیقت پسندانہ ہے؟
- تاریخی اثر: اس کتاب نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ایک ریاست کے ایک عالم کے نظریے کو پابند قانون بنانے کے کیا خطرات ہیں؟
- معاصر معنویت: کیا عالمی "اسلامی مالیات" مولانا کے تصور کردہ نتائج تک پہنچی، یا ایک مختلف راستے پر چل نکلی؟
کیا عقودِ فاسد صرف مسلمانوں کے درمیان ممنوع ہیں؟
مولانا کے پہلے دعوے کی بنا یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کسب مال کے ناجائز ذرائع سے روکا گیا ہے وہاں ’’بینکم‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں عقود فاسدہ پر معاملات نہ کیا کریں۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ <<يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۰ۣ>>(النساء29:4) اب یہ ظاہر ہے کہ سود بھی کسب مال کے ناجائز طریقوں میں سے ایک طریقہ ہی ہے۔ لہٰذا قرآن میں<< اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰو>>(البقرہ2: 275) جو فرمایا گیا ہے، یہ بھی اگرچہ ظاہر الفاظ کے لحاظ سے عام حکم ہے، مگر جس اصل کی فرع ہے اس کے ساتھ بالتبع اس کو بھی صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات تک ہی محدود سمجھنا چاہیے۔ اس کی مزید تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو مکحول نے نبی ؐ سے روایت کی ہے کہ <<’’لَارِبَا بَیْنَ الْمُسْلِمِ وَ الْحَرْبِی‘‘>> [فتح القدیر، کتاب البیوع، باب الربا] یعنی مسلم اور حربی کافر کے درمیان تفاضل کے ساتھ جو لین دین ہو اس پر لفظ ’’سود‘‘ کا اطلاق ہی نہ ہوگا۔ بالفاظ دیگر لا ربوٰ کے معنی یہ ہیں کہ غیر ذمی کافر سے جو سود لیا جائے وہ سود ہی نہیں۔ پھر وہ حرام کیسے ہوا؟
یہ مولانا کے استدلال کا خلاصہ ہے۔ اس میں پہلی اور بنیادی غلطی یہ ہے کہ قرآن کے مقاصد سے قطع نظر کرکے صرف ظاہر الفاظ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ قرآن کا عام اندازِ بیان یہ ہے کہ وہ اخلاق اور معاملات کے متعلق جتنی ہدایتیں دیتا ہے ان میں صرف اہل ایمان کو مخاطب کرتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ تم آپس میں ایسا کیا کرو یا نہ کیا کرو۔ اس طرزِ بیان میں کچھ دوسری حکمتیں ہیں جن کے ذکر کا یہ موقع نہیں۔ یہاں صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اس قسم کے اندازِ بیان میں اخلاق اور معاملات کے متعلق جتنے احکام اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں، اُن کو فقہائے اُمت میں سے کسی نے بھی صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات تک محدود قرار نہیں دیا ہے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان جو افعال حرام ہیں مسلمان اور کافر کے درمیان وہی حلال یا مستحب ہیں۔ اگر ایسا ہو تو درحقیقت اسلامی اخلاقیات اور اسلامی قانون تمدن کی جڑ ہی کٹ جائے۔ مثلاً:
ارشاد باری ہے:<< وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ >>(النحل94:16)کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ مسلمان صرف مسلمان سے جھوٹی قسم نہ کھائے؟ رہے غیر مسلم تو ان سے دروغ حلفی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں؟
فرمان الٰہی ہے: << يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ>>(انفال27:8 )کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان صرف ان امانتوں کی حفاظت کریں جو مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہوں؟ باقی رہی کافر کی امانت تو اس میں بے تکلف خیانت کر ڈالی جائے؟
پھر یہ جو فرمایا: << فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَــتَہٗ وَلْيَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ۰ۭ >>(البقرہ283:2 )کیا اس کی یہ تاویل کی جائے گی کہ مسلمان کے بجائے کوئی کافر اگر کسی مسلمان پر بھروسہ کرکے بغیر لکھا پڑھی کیے اپنا کچھ مال اس کے پاس رکھوا دے تو وہ ’’پھاؤ‘‘ سمجھ کر اس کو کھا سکتا ہے؟
پھر یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ << وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ >> اور<< وَلَا يَاْبَ الشُّہَدَاۗءُ اِذَا مَا دُعُوْا۰ۭ >>(البقرہ2: 282) اور<<وَلَا تَكْتُمُوا الشَّہَادَۃَ۰ۭ>>(البقرہ2: 283) اور << وَاَشْہِدُوْٓا اِذَا تَبَايَعْتُمْ۰۠ وَلَا يُضَاۗرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَہِيْدٌ۰ۥۭ >> (البقرہ 282:2 ) تو کیا یہ سب احکام صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات ہی کے لیے ہیں؟ کیا کافر کے حق میں شہادت دینے سے انکار کرنا، یا سچی شہادت چھپا کر جھوٹی شہادت دینا یا دستاویز کے غیر مسلم کاتب یا گواہ کو خوفزدہ کرنا یہ سب جائز افعال ہیں؟
اس کے بعد یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ << اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَۃُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰ۙ>>(النور19:2) تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ غیر قوموں کے اندر فحش اور بدکاری پھیلانا مسلمان کے لیے جائز ہے؟
اور یہ جو فرمان ہوا << اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۰۠ >>( النور23:24)تو کیا اس کی یہی تاویل کی جائے گی کہ کفار کی عورتوں پر جھوٹی تہمتیں دل کھول کر لگاؤ۔
اور یہ جو ارشاد ہوا کہ << وَلَا تُكْرِہُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۰ۭ >>(النور33:24 ) تو اس کو یہ معنی پہنائے جائیں گے کہ کافر عورتوں کو حرام کاری پر مجبور کرنا اور ان کی خرچی کھانا جائز ہے؟ کیا اس طرح کی تاویل کرکے کسی مسلمان کے لیے حلال ہوگا کہ پیرس میں سرکاری لائسنس لے کر ایک قحبہ خانہ کھول دے؟
پھر یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ<< وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا۰ۭ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْہِ مَيْتًا فَكَرِہْتُمُوْہُ۰ۭ >>( الحجرات 12:49 )تو کیا اس کی یہ تاویل ہوگی کہ صرف مسلمان کی غیبت ناجائز ہے؟ باقی رہا کافر تو اس کی غیبت کرنے میں کوئی برائی نہیں؟
اگر اسی اصول پر قرآن اور سنت کے احکام کی تاویل کی جائے اور مسلمان اسی کا اتباع شروع کر دیں تو اندازہ فرمایئے کہ یہ قوم کیا سے کیا بن کر رہے گی۔
بالفرض اگر بلا دلیل یہ مان لیا جائے کہ صرف << لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ >>(البقرہ2: 188)ہی کا حکم مسلمانوں کے باہمی معاملات کے لیے مخصوص ہے اور یہ قاعدہ دوسرے احکام میں جاری نہ ہوگا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ذمی کافروں کو سودی لین دین سے کیوں روکا گیا؟ اور نبی ؐ نے غیر مسلم جماعتوں سے اس قسم کے معاہدات کیوں کیے کہ وہ سودی کاروبار چھوڑ دیں ورنہ معاہدہ کالعدم ہو جائے گا؟ اور کتب فقہیہ میں یہ تصریح کیوں ہے کہ اگر کوئی حربی کافر دارالاسلام میں امان لے کر آئے تو اس سے بھی سود پر معاملہ کرنا حرام ہے؟
رہی حدیث<< لا ربوبین المسلم و الحربی>> تو اولاً اس میں لفظ<< حربی>> سے مراد محض غیر ذمی کافر نہیں بلکہ برسر جنگ قوم کافرد ہے جیسا کہ خود فقہائے حنفیہ کی تصریحات سے آگے چل کر ثابت کیا جائے گا۔
ثانیاً<< لا ربٰو>> کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ حربی کافر سے جو سود لیا جائے گا وہ سود ہی نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ گو وہ صورۃًو حقیقتاً سود ہی ہے لیکن اس قانون میں حرمت سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے اور اس کی حیثیت ایسی ہوگئی ہے کہ گویا وہ سود نہیں ہے۔ ورنہ کسی سود کو یہ کہنا کہ وہ سود ہے ہی نہیں، اس قدر مہمل اور بے معنی بات ہے کہ نبی ؐ کی طرف اسے منسوب کرنے کو میں گناہ سمجھتا ہوں۔ یہ بالکل ایک معقول بات ہے کہ کسی خاص حالت میں سود کو تعزیر اور حرمت سے مستثنیٰ کر دیا جائے، جس طرح خود قرآن نے اضطرار کی حالت میں مردار اور سور اور ایسی ہی دوسری حرام چیزیں کھا لینے کو مستثنیٰ کیا ہے لیکن یہ ایک نہایت غیر معقول بات ہے کہ سود کی حقیقت جوں کی توں باقی ہو اور ہم ایک جگہ اس کو رِبا کہیں اور دوسری جگہ سرے سے اس کے رِبا ہونے ہی سے انکار کر دیں۔ اس طرح تو دنیا کے ہر فعل حرام کو محض تغیر اسم سے حلال کیا جا سکتا ہے۔ جس خیانت کو جی چاہے کہہ دیجیے کہ یہ خیانت ہی نہیں۔ جس جھوٹ کو جائز کرنا ہو کہہ دیجیے کہ اس پر لفظ جھوٹ کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ جس غیبت اور فحش اور حرام خوری کی طرف طبیعت مائل ہو، اس کا نام بدل کر سمجھ لیجیے کہ اس کی حقیقت بدل گئی۔ سرکار رسالت مآبؐ کا مرتبہ اس سے بہت بلند تھا کہ آپ اس قسم کے لفظی حیلے اپنی اُمت کو سکھاتے۔
ثالثاً اس حدیث میں جو حکم بیان ہوا ہے اس کی حیثیت محض ایک رخصت اور رعایت کی ہے، نہ یہ کہ اس کو مسلمانوں کا عام دستور العمل بنانا مقصود ہو … میں اس بحث کو بالکل غیر ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ حدیث کس درجے کی ہے کیونکہ حدیثوں کے ردّو قبول میں فقیہ کے اُصول محدث کے اُصول سے ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ امام اعظمؒ اور امام محمدؒ جیسے آئمہ مجتہدین نے جس حدیث کو قابل استناد سمجھا ہو اس کو بالکل ناقابل اعتبار قرار دینا درست نہیں مگر اس مختصر اور غیر واضح اور مختلف فیہ[یہ بات نظر انداز نہ کرنی چاہیے کہ امام ابویوسفؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ اور اکثر اصحاب حدیث نے اس روایت کو ردّ کر دیا ہے۔]خبر واحد کو اتنا پھیلانا بھی درست نہیں کہ قرآن اور حدیث اور آثار صحابہ کی متفقہ شہادت ایک طرف ہو اور دوسری طرف یہ حدیث ہو اور پھر اس ایک حدیث کی تاویل ان سب کے مطابق کرنے کے بجائے، ان سب کو اس ایک حدیث پر ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن اور تمام احادیث صحیحہ میں مطلقاً ربوٰ کو حرام کہا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان نہ آپس میں اس کا لین دین کر سکتے ہیں نہ غیر قوموں کے ساتھ ایسا کاروبار کرنا ان کے لیے جائز ہے۔ نبیؐ نے اہل نجران سے جو معاہدہ کیا تھا اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان نہ صرف خود سودی لین دین سے پرہیز کریں گے بلکہ جن جن غیر مسلموں پر ان کا بس چلے گا ان کو بھی بَجَرَ اس فعل سے روک دیں گے۔ تحریم رِبا کے بعد ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں آیا کہ نبی کے علم و اجازت سے کسی مسلمان نے کسی ذمی یا غیر ذمی کافر کے ساتھ سودی معاملے کیا ہو۔ خلفائے راشدین کے دور میں بھی اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی اور یہ بات صرف سود ہی پر موقوف نہیں ، عقود فاسدہ میں سے کوئی ایک عقد فاسد بھی ایسا نہیں جس کی تحریم کا حکم نازل ہو جانے کے بعد نبیؐ نے اس کے انعقاد کی کسی مسلمان کو اجازت دی ہو۔ نظری اور اصولی اہل حرب تو درکنار، جو لوگ عملاً برسر جنگ تھے، انھوں نے عین معرکۂ جنگ میں رسولؐ اللہ سے ایک عقد فاسد پر معاملہ کرنا چاہا اور کافی رقم پیش کی مگر آپؐ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا۔[یہ واقعہ غزوۂ خندق کا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ اس کے راوی ہیں … مشرکین میں سے ایک بڑے آدمی کی لاش خندق میں گر پڑی تھی۔ انھوں نے مسلمانوں کو روپیہ دے کر وہ لاش ان سے خرید لینی چاہی۔ مسلمانوں نے حضورؐ سے دریافت کیا تو آپؐ نے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ (کتاب الخراج لامام ابی یوسف۔ طبع امیریہ ص ۱۲۳) اس سے معلوم ہوا کہ اگر جنگ کے موقع پر مسلمان کو دشمنوں سے عقود فاسدہ پر معاملہ کرنے کی اجازت دی بھی گئی ہے تو وہ کراہت سے خالی نہیں اور یہ بات مسلمان کے شایان شان نہیں ہے کہ شدید حالت اضطرار کے بغیر اس سے فائدہ اٹھائے۔ اسی بات پر وہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ پیش آیا انھوں نے مکہ میں تحریم قمار سے پہلے مشرکین سے ایک شرط کی تھی۔ پھر اس کا روپیہ انھوں نے اس زمانے میں ان سے وصول کیا جب مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان حالت جنگ قائم تھی اور صرف عارضی التوائے جنگ ہوا تھا لیکن حضور ؐ نے اس کو بھی حلال و طیب نہیں ٹھیرایا اور صدیق اکبرؓ کو حکم دیا کہ اسے صدقہ کر دو۔(أنوار التنزیل و أسرار التا ٔویل، تفسیر سورۃ الروم30: 1-6)]
ایک طرف آیت قرآنی اور نبیؐ کے متعدد صریح و صحیح اقوال اور عہد نبوی کا ثابت شدہ عمل درآمد ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے نہ صرف سود بلکہ تمام عقود فاسدہ مطلقاً ناجائز ہیں اور اس میں مسلم و غیر مسلم یا حربی یا ذمی کا کوئی امتیاز نہیں۔ دوسری طرف صرف ایک مرسل حدیث ہے جو ان سب کے خلاف حربی اور مسلم کے درمیان صرف سود کو حلال ثابت کر رہی ہے۔ آپ نے اس حدیث کو اتنی اہمیت دی کہ اس کی بنیاد پر نہ صرف سود کو بلکہ تمام عقود فاسدہ کو تمام غیر ذمی کفار کے ساتھ عمومیت کے ساتھ حلال کر ڈالا۔ مگر ہم اس کو صحیح تسلیم کرکے اس سے صرف اتنی اجازت نکالتے ہیں کہ جنگ کی اضطراری حالتوں میں اگر کوئی مسلمان دشمن سے سود لے لے یا کسی اور عقد فاسد پر معاملہ کر لے تو اس سے مواخذہ نہ ہوگا۔
یہ محض ایک رخصت ہے اور ایسی رخصت ہے جس سے او لو العزم مسلمانوں نے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اسلامی غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کسی حال میں بھی حرام کی کمائی لینے پر آمادہ نہ ہو۔ خصوصاً کفار اور دشمنوں کے مقابلے میں تو اس کو اپنے قومی اخلاق کی بلندی اور بھی زیادہ شان کے ساتھ ظاہر کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ مسلمان کی لڑائی دراصل تیرو تفنگ کی نہیں اصول اور اخلاق کی لڑائی ہے۔ اس کا مقصد زر و زمین حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ وہ دنیا میں اپنے اصول پھیلانا چاہتا ہے۔ اگر اس نے اپنے مکارم اخلاق ہی کو کھو دیا، اور خود ہی ان اصولوں کو قربان کر دیا جن کو پھیلانے کے لیے وہ کھڑا ہوا ہے تو پھر دوسری قوموں پر اس کی فوقیت ہی کیا باقی رہی؟ کس چیز کی بنا پر اس کو دوسروں پر فتح حاصل ہوگی اور کس طاقت سے وہ دلوں اور روحوں کو مسخر کر سکے گا؟